Loading...

Loading...
کتب
۴۰ احادیث
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لو۔۔۔ ( سورۃ البقرہ: ۱۲۴ ) ( امر کے صیغہ کے ساتھ بکسر خاء ) پڑھا۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا حاتم بن اسماعيل، ح وحدثنا نصر بن عاصم، حدثنا يحيى بن سعيد، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا { واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى}
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رات میں قیام کیا اور ( نماز میں ) بلند آواز سے قرآت کی، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فلاں پر رحم کرے کتنی آیتیں جنہیں میں بھول چلا تھا ۱؎ اس نے آج رات مجھے یاد دلا دیں ۔
حدثنا موسى، - يعني ابن اسماعيل - حدثنا حماد، عن هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها ان رجلا، قام من الليل فقرا فرفع صوته بالقران فلما اصبح قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يرحم الله فلانا كاين من اية اذكرنيها الليلة كنت قد اسقطتها
مقسم مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت: «وما كان لنبي أن يغل» نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خیانت کرے۔۔۔ ( سورۃ آل عمران: ۱۶۱ ) ایک سرخ چادر کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہو گئی تھی تو کچھ لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا ہو تب اللہ تعالیٰ نے: «وما كان لنبي أن يغل» نازل کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يغل» یا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا خصيف، حدثنا مقسم، مولى ابن عباس قال قال ابن عباس رضى الله عنهما نزلت هذه الاية { وما كان لنبي ان يغل } في قطيفة حمراء فقدت يوم بدر فقال بعض الناس لعل رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذها فانزل الله عز وجل { وما كان لنبي ان يغل } الى اخر الاية . قال ابو داود يغل مفتوحة الياء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی اور بڑھاپے سے۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا معتمر، قال سمعت ابي قال، سمعت انس بن مالك، يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " اللهم اني اعوذ بك من البخل والهرم
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بنی منتفق کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، یا بنی منتفق کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «لا تحسبن» ( سین کے زیر کے ساتھ ) پڑھا اور «لا تحسبن» ( سین کو زبر کے ساتھ ) نہیں پڑھا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يحيى بن سليم، عن اسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لقيط بن صبرة، عن ابيه، لقيط بن صبرة قال كنت وافد بني المنتفق - او في وفد بني المنتفق - الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث فقال - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - " لا تحسبن " . ولم يقل لا تحسبن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مسلمان ایک شخص سے ملے جو اپنی بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے السلام علیکم کہا پھر بھی مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا اور وہ ریوڑ لے لیا تو یہ آیت کریمہ: «ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا» جو شخص تمہیں سلام کہے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے تم لوگ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان یعنی ان بکریوں کو چاہتے ہو ( سورۃ النساء: ۹۴ ) نازل ہوئی۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس، قال لحق المسلمون رجلا في غنيمة له فقال السلام عليكم فقتلوه واخذوا تلك الغنيمة فنزلت { ولا تقولوا لمن القى اليكم السلام لست مومنا تبتغون عرض الحياة الدنيا } تلك الغنيمة
زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» کے بعد «غير أولي الضرر» پڑھتے تھے۔ اور سعید بن منصور نے اپنی روایت میں «كان يقرأ» نہیں کہا ہے ۱؎۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا ابن ابي الزناد، ح وحدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن ابي الزناد، - وهو اشبع - عن ابيه، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرا { غير اولي الضرر } ولم يقل سعيد كان يقرا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «والعين بالعين» ( رفع کے ساتھ ) پڑھا ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ومحمد بن العلاء، قالا حدثنا عبد الله بن المبارك، حدثنا يونس بن يزيد، عن ابي علي بن يزيد، عن الزهري، عن انس بن مالك، قال قراها رسول الله صلى الله عليه وسلم { والعين بالعين}
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «وكتبنا عليهم فيها أن النفس بالنفس والعين بالعين» اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے ( سورۃ المائدہ: ۴۵ ) ( عین کے رفع کے ساتھ ) پڑھا۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا ابي، حدثنا عبد الله بن المبارك، حدثنا يونس بن يزيد، عن ابي علي بن يزيد، عن الزهري، عن انس بن مالك، رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا { وكتبنا عليهم فيها ان النفس بالنفس والعين بالعين}
عطیہ بن سعد عوفی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے: «الله الذي خلقكم من ضعف» اللہ وہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا ( سورۃ الروم: ۵۴ ) ( ضاد کے زبر کے ساتھ ) پڑھا تو انہوں نے کہا «مِنْ ضُعْفٍ» ( ضاد کے پیش کے ساتھ ) ہے میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا جیسے تم نے پڑھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گرفت فرمائی جیسے میں نے تمہاری گرفت کی ہے۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا فضيل بن مرزوق، عن عطية بن سعد العوفي، قال قرات على عبد الله بن عمر { الله الذي خلقكم من ضعف } فقال { من ضعف } قراتها على رسول الله صلى الله عليه وسلم كما قراتها على فاخذ على كما اخذت عليك
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «مِنْ ضُعْفٍ» روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى القطعي، حدثنا عبيد، - يعني ابن عقيل - عن هارون، عن عبد الله بن جابر، عن عطية، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم { من ضعف}
عبدالرحمٰن بن ابزی کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فلتفرحوا» لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیئے ( سورۃ یونس: ۵۸ ) پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( تاء کے ساتھ ) ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن اسلم المنقري، عن عبد الله، عن ابيه عبد الرحمن بن ابزى، قال قال ابى بن كعب { بفضل الله وبرحمته فبذلك فلتفرحوا } . قال ابو داود بالتاء
ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحواء هو خير مما تجمعون» پڑھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله، حدثنا المغيرة بن سلمة، حدثنا ابن المبارك، عن الاجلح، حدثني عبد الله بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن ابى، ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا { بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحوا هو خير مما تجمعون}
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «إنه عمل غير صالح» ( بصیغہ ماضی ) یعنی: اس نے ناسائشہ کام کیا ( سورۃ ہود: ۴۶ ) پڑھتے سنا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت، عن شهر بن حوشب، عن اسماء بنت يزيد، انها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا { انه عمل غير صالح}
شہر بن حوشب کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إنه عمل غير صالح» کیسے پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اسے «إنه عمل غير صالح» ( فعل ماضی کے ساتھ ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ہارون نحوی اور موسیٰ بن خلف نے ثابت سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے عبدالعزیز نے کہا ہے۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن المختار - حدثنا ثابت، عن شهر بن حوشب، قال سالت ام سلمة كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم يقرا هذه الاية { انه عمل غير صالح } فقالت قراها { انه عمل غير صالح } قال ابو داود ورواه هارون النحوي وموسى بن خلف عن ثابت كما قال عبد العزيز
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا فرماتے تو پہلے اپنی ذات سے شروعات کرتے یوں کہتے: اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ پر اگر وہ صبر کرتے تو اپنے ساتھی ( خضر ) کی طرف سے عجیب عجیب چیزیں دیکھتے، لیکن انہوں نے تو کہہ دیا «إن سألتك عن شىء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني» اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا یقیناً آپ میری طرف سے حد عذر کو پہنچ چکے ( سورۃ الکہف: ۷۶ ) ۔ حمزہ نے «لدنی» کے نون کو کھینچ کر بتایا کہ آپ یوں پڑھا کرتے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عيسى، عن حمزة الزيات، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن ابى بن كعب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دعا بدا بنفسه وقال " رحمة الله علينا وعلى موسى لو صبر لراى من صاحبه العجب ولكنه قال { ان سالتك عن شىء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني } " . طولها حمزة
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قد بلغت من لدني» ( نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ) اور انہوں نے اسے مشدّد پڑھ کے بتایا۔
حدثنا محمد بن عبد الرحمن ابو عبد الله العنبري، حدثنا امية بن خالد، حدثنا ابو الجارية العبدي، عن شعبة، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن ابى بن كعب، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قراها { قد بلغت من لدني } وثقلها
مصدع ابویحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے «في عين حمئة» دلدل کے چشمہ میں ( سورۃ الکہف: ۸۶ ) تخفیف کے ساتھ پڑھایا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخفف پڑھایا تھا۔
حدثنا محمد بن مسعود المصيصي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا محمد بن دينار، حدثنا سعد بن اوس، عن مصدع ابي يحيى، قال سمعت ابن عباس، يقول اقراني ابى بن كعب كما اقراه رسول الله صلى الله عليه وسلم { في عين حمية } مخففة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علیین والوں میں سے ایک شخص جنتیوں کو جھانکے گا تو جنت اس کے چہرے کی وجہ سے چمک اٹھے گی گویا وہ موتی سا جھلملاتا ہوا ستارہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں: اسی طرح «دري» دال کے پیش اور یا کی تشدید کے ساتھ حدیث وارد ہے دال کے زیر اور ہمزہ کے ساتھ نہیں اور آپ نے فرمایا ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی انہیں میں سے ہیں بلکہ وہ دونوں ان سے بھی بہتر ہیں۔
حدثنا يحيى بن الفضل، حدثنا وهيب، - يعني ابن عمرو النمري - اخبرنا هارون، اخبرني ابان بن تغلب، عن عطية العوفي، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الرجل من اهل عليين ليشرف على اهل الجنة فتضيء الجنة لوجهه كانها كوكب دري " . قال وهكذا جاء الحديث " دري " . مرفوعة الدال لا تهمز " وان ابا بكر وعمر لمنهم وانعما
فروہ بن مسیک غطیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے تو ہم میں ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! سبا کے متعلق مجھے بتائیے کہ وہ کیا ہے؟ کسی کا نام ہے یا کوئی عورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نہ کوئی سر زمین ہے نہ عورت ہے بلکہ ایک شخص کا نام ہے جس کے دس عرب لڑکے ہوئے جس میں سے چھ نے یمن میں رہائش اختیار کر لی اور چار نے شام میں ۱؎ ۔ عثمان نے غطیفی کے بجائے غطفانی کہا ہے اور «حدثني الحسن بن الحكم النخعي» کے بجائے «حدثنا الحسن بن الحكم النخعي» کہا ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وهارون بن عبد الله، قالا حدثنا ابو اسامة، حدثني الحسن بن الحكم النخعي، حدثنا ابو سبرة النخعي، عن فروة بن مسيك الغطيفي، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث فقال رجل من القوم يا رسول الله اخبرنا عن سبا ما هو ارض ام امراة فقال " ليس بارض ولا امراة ولكنه رجل ولد عشرة من العرب فتيامن ستة وتشاءم اربعة " . قال عثمان الغطفاني مكان الغطيفي وقال حدثنا الحسن بن الحكم النخعي