Loading...

Loading...
کتب
۴۰ احادیث
اس سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حدیث ۱؎ روایت کی اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے قول«حتى إذا فزع عن قلوبهم» یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے ( سورۃ سبا: ۲۳ ) ۲؎ سے یہی مراد ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة، واسماعيل بن ابراهيم ابو معمر الهذلي، عن سفيان، عن عمرو، عن عكرمة، قال حدثنا ابو هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم - قال اسماعيل عن ابي هريرة رواية - فذكر حديث الوحى قال فذلك قوله تعالى { حتى اذا فزع عن قلوبهم}
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے ( سورۃ الزمر: ۵۹ ) ۱؎ ( واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔
حدثنا محمد بن رافع النيسابوري، حدثنا اسحاق بن سليمان الرازي، سمعت ابا جعفر، يذكر عن الربيع بن انس، عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت قراءة النبي صلى الله عليه وسلم { بلى قد جاءتك اياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين } قال ابو داود هذا مرسل الربيع لم يدرك ام سلمة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «فروح وريحان» تو عیش و آرام ہے ( سورۃ الواقعہ: ۸۹ ) ۱؎ ( راء کے پیش کے ساتھ ) پڑھتے ہوئے سنا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هارون بن موسى النحوي، عن بديل بن ميسرة، عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، - رضى الله تعالى عنها - قالت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقروها { فروح وريحان}
یعلیٰ بن امیہ۔ منیہ۔ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر «ونادوا يا مالك» اور پکار پکار کہیں گے اے مالک! ( سورۃ الزخرف: ۷۷ ) پڑھتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی بغیر ترخیم کے۔
حدثنا احمد بن حنبل، واحمد بن عبدة، قالا حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عطاء، - قال ابن حنبل لم افهمه جيدا - عن صفوان، - قال ابن عبدة ابن يعلى - عن ابيه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر يقرا { ونادوا يا مالك } . قال ابو داود يعني بلا ترخيم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» ۱؎ پڑھایا ہے۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا ابو احمد، اخبرنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، قال اقراني رسول الله صلى الله عليه وسلم { اني انا الرزاق ذو القوة المتين}
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ( سورۃ الذاریات: ۵۸ ) ( یعنی دال کو مشدد ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مُدَّكِّرٍ» میم کے ضمہ دال کے فتحہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقروها { فهل من مدكر } يعني مثقلا . قال ابو داود مضمومة الميم مفتوحة الدال مكسورة الكاف
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «يحسب أن ماله أخلده» ۱؎ پڑھتے دیکھا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الملك بن عبد الرحمن الذماري، حدثنا سفيان، حدثني محمد بن المنكدر، عن جابر، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا { يحسب ان ماله اخلده}
ابوقلابہ ایک ایسے شخص سے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے روایت کرتے ہیں ( کہ یہ آیت کریمہ اس طرح ہے ) «فيومئذ لا يعذب عذابه أحد * ولا يوثق وثاقه أحد» ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک مزید واسطہ داخل کیا ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن خالد، عن ابي قلابة، عمن اقراه رسول الله صلى الله عليه وسلم { فيوميذ لا يعذب عذابه احد * ولا يوثق وثاقه احد } . قال ابو داود بعضهم ادخل بين خالد وابي قلابة رجلا
ابوقلابہ کہتے ہیں: مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے یا جسے ایک ایسے شخص نے پڑھایا ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا یا ہے کہ «فيومئذ لا يعذب» ( مجہول کے صیغہ کے ساتھ ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن علاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے «لا يعذب ولا يوثق» صیغہ معروف کے ساتھ پڑھا ہے مگر مرفوع روایت میں «يعذب» ( ذال کے فتحہ کے ساتھ ) ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، قال انباني من، اقراه النبي صلى الله عليه وسلم او من اقراه من اقراه النبي صلى الله عليه وسلم { فيوميذ لا يعذب } . قال ابو داود قرا عاصم والاعمش وطلحة بن مصرف وابو جعفر يزيد بن القعقاع وشيبة بن نصاح ونافع بن عبد الرحمن وعبد الله بن كثير الداري وابو عمرو بن العلاء وحمزة الزيات وعبد الرحمن الاعرج وقتادة والحسن البصري ومجاهد وحميد الاعرج وعبد الله بن عباس وعبد الرحمن بن ابي بكر { لا يعذب } { ولا يوثق } الا الحديث المرفوع فانه { يعذب } بالفتح
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث بیان فرمائی جس میں جبرائیل و میکال کا ذکر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائل و میکائل پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خلف کا بیان ہے میں چالیس سال سے برابر لکھ رہا ہوں لیکن جبرائل و میکائل لکھنے میں مجھے جتنی دشواری ہوئی ہے کسی اور چیز میں نہیں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ومحمد بن العلاء، ان محمد بن ابي عبيدة، حدثهم قال حدثنا ابي، عن الاعمش، عن سعد الطايي، عن عطية العوفي، عن ابي سعيد الخدري، قال حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا ذكر فيه " جبريل وميكال " . فقرا { جبرايل وميكايل } . قال ابو داود قال خلف منذ اربعين سنة لم ارفع القلم عن كتابة الحروف ما اعياني شىء ما اعياني جبرايل وميكايل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرشتہ کا ذکر کیا جو صور لیے کھڑا ہے تو فرمایا: اس کے داہنی جانب جبرائل ہیں اور بائیں جانب میکائل ہیں ۔
حدثنا زيد بن اخزم، حدثنا بشر، - يعني ابن عمر - حدثنا محمد بن خازم، قال ذكر كيف قراءة جبرايل وميكايل عند الاعمش فحدثنا الاعمش عن سعد الطايي عن عطية العوفي عن ابي سعيد الخدري قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم صاحب الصور فقال " عن يمينه جبرايل وعن يساره ميكايل
عبدالرزاق کہتے ہیں ہمیں معمر نے زہری کے واسطہ سے خبر دی ہے اور معمر نے کبھی کبھی زہری کے بجائے ابن مسیب کا ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر اور عثمان «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھتے تھے اور «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» سب سے پہلے مروان نے پڑھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل سند زہری کی حدیث سے جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نیز زہری کی اس حدیث سے جو سالم سے مروی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، قال معمر وربما ذكر ابن المسيب قال كان النبي صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر وعثمان يقرءون { مالك يوم الدين } واول من قراها { ملك يوم الدين } مروان . قال ابو داود هذا اصح من حديث الزهري عن انس والزهري عن سالم عن ابيه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا یا اس کے علاوہ راوی نے کوئی اور کلمہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت یوں ہوتی «بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين» آپ ہر ہر آیت الگ الگ پڑھتے تھے ( ایک آیت کو دوسری آیت میں ملاتے نہیں تھے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا ہے کہ پرانی قرآت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ہے۔
حدثنا سعيد بن يحيى الاموي، حدثني ابي، حدثنا ابن جريج، عن عبد الله بن ابي مليكة، عن ام سلمة، انها ذكرت - او كلمة غيرها - قراءة رسول الله صلى الله عليه وسلم { بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين } يقطع قراءته اية اية . قال ابو داود سمعت احمد يقول القراءة القديمة { مالك يوم الدين}
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور غروب شمس کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کہاں ڈوبتا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فإنها تغرب في عين حامية » یہ ایک گرم چشمہ میں ڈوبتا ہے ( سورۃ الکہف: ۸۶ ) ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وعبيد الله بن عمر بن ميسرة، - المعنى - قالا حدثنا يزيد بن هارون، عن سفيان بن حسين، عن الحكم بن عتيبة، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي ذر، قال كنت رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على حمار والشمس عند غروبها فقال " هل تدري اين تغرب هذه " . قلت الله ورسوله اعلم . قال " فانها تغرب في عين حامية
واثلہ بن الاسقع بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مہاجرین کے صفے میں آئے تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا: قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله لا إله إلا هو الحى القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم» اللہ ہی معبود برحق ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند ( سورۃ البقرہ: ۲۵۵ ) ہے۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني عمر بن عطاء، ان مولى، لابن الاسقع - رجل صدق - اخبره عن ابن الاسقع انه سمعه يقول ان النبي صلى الله عليه وسلم جاءهم في صفة المهاجرين فساله انسان اى اية في القران اعظم قال النبي صلى الله عليه وسلم " { الله لا اله الا هو الحى القيوم لا تاخذه سنة ولا نوم}
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے «هَيْتَ لَكَ» ۱؎ پڑھا تو ابووائل شقیق بن سلمہ نے عرض کیا: ہم تو اسے«هِئْتُ لَكَ» پڑھتے ہیں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے اسی طرح پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے۔
حدثنا ابو معمر عبد الله بن عمرو بن ابي الحجاج المنقري، حدثنا عبد الوارث، حدثنا شيبان، عن الاعمش، عن شقيق، عن ابن مسعود، انه قرا { هيت لك } فقال شقيق انا نقروها { هيت لك } يعني فقال ابن مسعود اقروها كما علمت احب الى
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ اس آیت کو «وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ» پڑھتے ہیں تو انہوں نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے ویسے ہی پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے «وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ» ۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، قال قيل لعبد الله ان اناسا يقرءون هذه الاية { وقالت هيت لك } فقال اني اقرا كما علمت احب الى { وقالت هيت لك}
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا: «ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة تغفر لكم خطاياكم» اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوو اور زبان سے «حطة» کہو تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے ( سورۃ البقرہ: ۵۸ ) ۱؎ ( بصیغہ واحد مونث غائب مضارع مجہول ) ۔
حدثنا احمد بن صالح، قال حدثنا ح، وحدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرنا هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قال الله عز وجل لبني اسراييل { ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة تغفر لكم خطاياكم}
اس سند سے بھی ہشام بن سعد سے اسی کے مثل مروی ہے
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا ابن ابي فديك، عن هشام بن سعد، باسناده مثله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ نے ہمیں «سورة أنزلناها وفرضناها» یہ وہ سورت ہے جو ہم نے نازل فرمائی ہے اور مقرر کر دی ہے ( سورۃ النور: ۱ ) پڑھ کر سنایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مخفف پڑھا ۱؎یہاں تک کہ ان آیات پر آئے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا هشام بن عروة، عن عروة، ان عايشة، - رضى الله عنها - قالت نزل الوحى على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقرا علينا { سورة انزلناها وفرضناها } . قال ابو داود يعني مخففة حتى اتى على هذه الايات