Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشہد کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ تشہد یہ ہے: «التحيات لله الصلوات الطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته» آداب بندگیاں، اور پاکیزہ صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اس تشہد میں «وبركاته» اور «وحده لا شريك له» کا اضافہ میں نے کیا ہے ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي، حدثني ابي، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، سمعت مجاهدا، يحدث عن ابن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في التشهد " التحيات لله الصلوات الطيبات السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته " . قال قال ابن عمر زدت فيها وبركاته . " السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله " . قال ابن عمر زدت فيها وحده لا شريك له . " واشهد ان محمدا عبده ورسوله
حطان بن عبداللہ رقاشی کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ اخیر نماز میں بیٹھنے لگے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: نماز نیکی اور پاکی کے ساتھ مقرر کی گئی ہے تو جب ابوموسیٰ اشعری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا ( ابھی ) تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: تو لوگ خاموش رہے، پھر انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: لوگ پھر خاموش رہے تو ابوموسیٰ اشعری نے کہا: حطان! شاید تم نے یہ بات کہی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نہیں کہی ہے اور میں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ مجھے ہی سزا نہ دے ڈالیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ایک دوسرے شخص نے کہا: میں نے کہی ہے اور میری نیت خیر ہی کی تھی، اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اپنی نماز میں کیا کہو؟ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہم کو سکھایا اور ہمیں ہمارا طریقہ بتایا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی اور فرمایا: جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو، تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی شخص تمہاری امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا ۱؎ اور جب وہ «الله أكبر» کہے اور رکوع کرے تو تم بھی «الله أكبر» کہو اور رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے برابر ہو گیا ۲؎ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده»کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو، اللہ تمہاری سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی ارشاد فرمایا ہے «سمع الله لمن حمده»یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اور جب تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے برابر ہو جائے گا، پھر جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو اس کی سب سے پہلی بات یہ کہے: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» آداب، بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ احمد نے اپنی روایت میں: «وبركاته» کا لفظ نہیں کہا ہے اور نہ ہی «أشهد» کہا بلکہ «وأن محمدا» کہا ہے۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا ابو عوانة، عن قتادة، ح وحدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا هشام، عن قتادة، عن يونس بن جبير، عن حطان بن عبد الله الرقاشي، قال صلى بنا ابو موسى الاشعري فلما جلس في اخر صلاته قال رجل من القوم اقرت الصلاة بالبر والزكاة . فلما انفتل ابو موسى اقبل على القوم فقال ايكم القايل كلمة كذا وكذا فارم القوم فقال ايكم القايل كلمة كذا وكذا فارم القوم قال فلعلك يا حطان انت قلتها . قال ما قلتها ولقد رهبت ان تبكعني بها . قال فقال رجل من القوم انا قلتها وما اردت بها الا الخير . فقال ابو موسى اما تعلمون كيف تقولون في صلاتكم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطبنا فعلمنا وبين لنا سنتنا وعلمنا صلاتنا فقال " اذا صليتم فاقيموا صفوفكم ثم ليومكم احدكم فاذا كبر فكبروا واذا قرا { غير المغضوب عليهم ولا الضالين } فقولوا امين يجبكم الله واذا كبر وركع فكبروا واركعوا فان الامام يركع قبلكم ويرفع قبلكم " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فتلك بتلك واذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد يسمع الله لكم فان الله تعالى قال على لسان نبيه صلى الله عليه وسلم سمع الله لمن حمده واذا كبر وسجد فكبروا واسجدوا فان الامام يسجد قبلكم ويرفع قبلكم " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فتلك بتلك فاذا كان عند القعدة فليكن من اول قول احدكم ان يقول التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله " . لم يقل احمد " وبركاته " . ولا قال " واشهد " . قال " وان محمدا
حدثنا عاصم بن النضر، حدثنا المعتمر، قال سمعت ابي، حدثنا قتادة، عن ابي غلاب، يحدثه عن حطان بن عبد الله الرقاشي، بهذا الحديث زاد " فاذا قرا فانصتوا " . وقال في التشهد بعد اشهد ان لا اله الا الله زاد " وحده لا شريك له " . قال ابو داود وقوله " فانصتوا " . ليس بمحفوظ لم يجي به الا سليمان التيمي في هذا الحديث
حدثنا عاصم بن النضر، حدثنا المعتمر، قال سمعت ابي، حدثنا قتادة، عن ابي غلاب، يحدثه عن حطان بن عبد الله الرقاشي، بهذا الحديث زاد " فاذا قرا فانصتوا " . وقال في التشهد بعد اشهد ان لا اله الا الله زاد " وحده لا شريك له " . قال ابو داود وقوله " فانصتوا " . ليس بمحفوظ لم يجي به الا سليمان التيمي في هذا الحديث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے، آپ کہا کرتے تھے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله» آداب، بندگیاں، پاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن سعيد بن جبير، وطاوس، عن ابن عباس، انه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا التشهد كما يعلمنا القران وكان يقول " التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا رسول الله
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے «اما بعد» کے بعد کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب تم نماز کے بیچ میں یا اخیر میں بیٹھو تو سلام پھیرنے سے قبل یہ دعا پڑھو: «التحيات الطيبات والصلوات والملك لله» پھر دائیں جانب سلام پھیرو، پھر اپنے قاری پر اور خود اپنے اوپر سلام کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ صحیفہ ( جسے سمرہ نے اپنے بیٹے کے پاس لکھ کر بھیجا تھا ) یہ بتا رہا ہے کہ حسن بصری نے سمرہ سے سنا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا سليمان بن موسى ابو داود، حدثنا جعفر بن سعد بن سمرة بن جندب، حدثني خبيب بن سليمان ب�� سمرة، عن ابيه، سليمان بن سمرة عن سمرة بن جندب، اما بعد امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كان في وسط الصلاة او حين انقضايها فابدءوا قبل التسليم فقولوا " التحيات الطيبات والصلوات والملك لله ثم سلموا على اليمين ثم سلموا على قاريكم وعلى انفسكم " . قال ابو داود سليمان بن موسى كوفي الاصل كان بدمشق . قال ابو داود دلت هذه الصحيفة على ان الحسن سمع من سمرة
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود و سلام بھیجا کریں، آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللهم صل على محمد وآل محمد كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» یعنی اے اللہ! محمد اور آل محمد پر درود بھیج ۱؎ جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے اور محمد اور آل محمد پر اپنی برکت ۲؎ نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہے، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگ ہے ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، قال قلنا او قالوا يا رسول الله امرتنا ان نصلي عليك وان نسلم عليك فاما السلام فقد عرفناه فكيف نصلي عليك قال " قولوا اللهم صل على محمد وال محمد كما صليت على ابراهيم وبارك على محمد وال محمد كما باركت على ال ابراهيم انك حميد مجيد
اس سند سے بھی شعبہ نے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے: «صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم» اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائی ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا شعبة، بهذا الحديث قال " صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على ابراهيم
اس طریق سے بھی حکم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے، اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام پر اپنی برکت نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زبیر بن عدی نے ابن ابی لیلیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مسعر نے کیا ہے، مگر اس میں یہ ہے: «كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد» اور آگے انہوں نے اسی کے مثل بیان کیا ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن بشر، عن مسعر، عن الحكم، باسناده بهذا قال " اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على ابراهيم انك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ال ابراهيم انك حميد مجيد " . قال ابو داود رواه الزبير بن عدي عن ابن ابي ليلى كما رواه مسعر الا انه قال " كما صليت على ال ابراهيم انك حميد مجيد وبارك على محمد " . وساق مثله
عمرو بن سلیم زرقی انصاری کہتے ہیں کہ مجھے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کہو: «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے اپنی رحمت آل ابراہیم پر نازل فرمائی، اور محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، ح وحدثنا ابن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن ابيه، عن عمرو بن سليم الزرقي، انه قال اخبرني ابو حميد الساعدي، انهم قالوا يا رسول الله كيف نصلي عليك قال " قولوا اللهم صل على محمد وازواجه وذريته كما صليت على ال ابراهيم وبارك على محمد وازواجه وذريته كما باركت على ال ابراهيم انك حميد مجيد
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تشریف لائے تو بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ہم کو آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے آرزو کی کہ کاش انہوں نے نہ پوچھا ہوتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کہو ۔ پھر راوی نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور اس کے اخیر میں «في العالمين إنك حميد مجيد» کا اضافہ کیا ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نعيم بن عبد الله المجمر، ان محمد بن عبد الله بن زيد، - وعبد الله بن زيد هو الذي اري النداء بالصلاة - اخبره عن ابي مسعود الانصاري، انه قال اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم في مجلس سعد بن عبادة فقال له بشير بن سعد امرنا الله ان نصلي عليك يا رسول الله فكيف نصلي عليك فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى تمنينا انه لم يساله ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قولوا " . فذكر معنى حديث كعب بن عجرة زاد في اخره " في العالمين انك حميد مجيد
اس سند سے بھی عقبہ بن عمرو (ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ) سے یہی حدیث مروی ہے ا اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں کہو «اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد» اے اللہ! نبی امی محمد اور آپ کی آل پر اپنی رحمت نازل فرما ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا محمد بن اسحاق، حدثنا محمد بن ابراهيم بن الحارث، عن محمد بن عبد الله بن زيد، عن عقبة بن عمرو، بهذا الخبر قال " قولوا اللهم صل على محمد النبي الامي وعلى ال محمد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ اسے پورا پیمانہ بھر کر دیا جائے تو وہ ہم اہل بیت پر جب درود بھیجے تو کہے: «اللهم صل على محمد النبي وأزواجه أمهات المؤمنين وذريته وأهل بيته كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حبان بن يسار الكلابي، حدثني ابو مطرف، عبيد الله بن طلحة بن عبيد الله بن كريز حدثني محمد بن علي الهاشمي، عن المجمر، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من سره ان يكتال بالمكيال الاوفى اذا صلى علينا اهل البيت فليقل اللهم صل على محمد النبي وازواجه امهات المومنين وذريته واهل بيته كما صليت على ال ابراهيم انك حميد مجيد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني حسان بن عطية، حدثني محمد بن ابي عايشة، انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا فرغ احدكم من التشهد الاخر فليتعوذ بالله من اربع من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن شر المسيح الدجال
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے بعد یہ کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیری پناہ چاہتا ہوں دجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے ۔
حدثنا وهب بن بقية، اخبرنا عمر بن يونس اليمامي، حدثني محمد بن عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن طاوس، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقول بعد التشهد " اللهم اني اعوذ بك من عذاب جهنم واعوذ بك من عذاب القبر واعوذ بك من فتنة الدجال واعوذ بك من فتنة المحيا والممات
محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی نماز پوری کر لی، اور تشہد میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے: «اللهم إني أسألك يا الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» اے تنہا و اکیلا، باپ بیٹا سے بے نیاز، بے مقابل ولا مثیل اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے، بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے یہ سن کر آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا: اسے بخش دیا گیا، اسے بخش دیا گیا ۔
حدثنا عبد الله بن عمرو ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا الحسين المعلم، عن عبد الله بن بريدة، عن حنظلة بن علي، ان محجن بن الادرع، حدثه قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد فاذا هو برجل قد قضى صلاته وهو يتشهد وهو يقول اللهم اني اسالك يا الله الاحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد ان تغفر لي ذنوبي انك انت الغفور الرحيم . قال فقال " قد غفر له قد غفر له " . ثلاثا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ تشہد آہستہ پڑھی جائے۔
حدثنا عبد الله بن سعيد الكندي، حدثنا يونس، - يعني ابن بكير - عن محمد بن اسحاق، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، عن عبد الله، قال من السنة ان يخفى التشهد
علی بن عبدالرحمٰن معاوی کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے اس سے منع کیا اور کہا: تم نماز میں اسی طرح کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، میں نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی تمام انگلیاں سمیٹ لیتے اور شہادت کی انگلی جو انگوٹھے سے متصل ہوتی ہے، اشارہ کرتے ۱؎ اور اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن مسلم بن ابي مريم، عن علي بن عبد الرحمن المعاوي، قال راني عبد الله بن عمر وانا اعبث بالحصى في الصلاة فلما انصرف نهاني وقال اصنع كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع . فقلت وكيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع قال كان اذا جلس في الصلاة وضع كفه اليمنى على فخذه اليمنى وقبض اصابعه كلها واشار باصبعه التي تلي الابهام ووضع كفه اليسرى على فخذه اليسرى
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں داہنی ران اور پنڈلی کے نیچے کرتے اور داہنا پاؤں بچھا دیتے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے، عبدالواحد نے ہمیں شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم البزاز، حدثنا عفان، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عثمان بن حكيم، حدثنا عامر بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قعد في الصلاة جعل قدمه اليسرى تحت فخذه اليمنى وساقه وفرش قدمه اليمنى ووضع يده اليسرى على ركبته اليسرى ووضع يده اليمنى على فخذه اليمنى واشار باصبعه . وارانا عبد الواحد واشار بالسبابة
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے ۱؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے۔
حدثنا ابراهيم بن الحسن المصيصي، حدثنا حجاج، عن ابن جريج، عن زياد، عن محمد بن عجلان، عن عامر بن عبد الله، عن عبد الله بن الزبير، انه ذكر ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يشير باصبعه اذا دعا ولا يحركها . قال ابن جريج وزاد عمرو بن دينار قال اخبرني عامر عن ابيه انه راى النبي صلى الله عليه وسلم يدعو كذلك ويتحامل النبي صلى الله عليه وسلم بيده اليسرى على فخذه اليسرى
اس طریق سے بھی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ کی نظر اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی اور حجاج کی حدیث ( یعنی پچھلی حدیث ) زیادہ مکمل ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى، حدثنا ابن عجلان، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، بهذا الحديث قال لا يجاوز بصره اشارته . وحديث حجاج اتم