احادیث
#972
سنن ابی داؤد - Prayer
حطان بن عبداللہ رقاشی کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ اخیر نماز میں بیٹھنے لگے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: نماز نیکی اور پاکی کے ساتھ مقرر کی گئی ہے تو جب ابوموسیٰ اشعری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا ( ابھی ) تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: تو لوگ خاموش رہے، پھر انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: لوگ پھر خاموش رہے تو ابوموسیٰ اشعری نے کہا: حطان! شاید تم نے یہ بات کہی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نہیں کہی ہے اور میں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ مجھے ہی سزا نہ دے ڈالیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ایک دوسرے شخص نے کہا: میں نے کہی ہے اور میری نیت خیر ہی کی تھی، اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اپنی نماز میں کیا کہو؟ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہم کو سکھایا اور ہمیں ہمارا طریقہ بتایا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی اور فرمایا: جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو، تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی شخص تمہاری امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا ۱؎ اور جب وہ «الله أكبر» کہے اور رکوع کرے تو تم بھی «الله أكبر» کہو اور رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے برابر ہو گیا ۲؎ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده»کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو، اللہ تمہاری سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی ارشاد فرمایا ہے «سمع الله لمن حمده»یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اور جب تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے برابر ہو جائے گا، پھر جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو اس کی سب سے پہلی بات یہ کہے: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» آداب، بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ احمد نے اپنی روایت میں: «وبركاته» کا لفظ نہیں کہا ہے اور نہ ہی «أشهد» کہا بلکہ «وأن محمدا» کہا ہے۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا ابو عوانة، عن قتادة، ح وحدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا هشام، عن قتادة، عن يونس بن جبير، عن حطان بن عبد الله الرقاشي، قال صلى بنا ابو موسى الاشعري فلما جلس في اخر صلاته قال رجل من القوم اقرت الصلاة بالبر والزكاة . فلما انفتل ابو موسى اقبل على القوم فقال ايكم القايل كلمة كذا وكذا فارم القوم فقال ايكم القايل كلمة كذا وكذا فارم القوم قال فلعلك يا حطان انت قلتها . قال ما قلتها ولقد رهبت ان تبكعني بها . قال فقال رجل من القوم انا قلتها وما اردت بها الا الخير . فقال ابو موسى اما تعلمون كيف تقولون في صلاتكم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطبنا فعلمنا وبين لنا سنتنا وعلمنا صلاتنا فقال " اذا صليتم فاقيموا صفوفكم ثم ليومكم احدكم فاذا كبر فكبروا واذا قرا { غير المغضوب عليهم ولا الضالين } فقولوا امين يجبكم الله واذا كبر وركع فكبروا واركعوا فان الامام يركع قبلكم ويرفع قبلكم " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فتلك بتلك واذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد يسمع الله لكم فان الله تعالى قال على لسان نبيه صلى الله عليه وسلم سمع الله لمن حمده واذا كبر وسجد فكبروا واسجدوا فان الامام يسجد قبلكم ويرفع قبلكم " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فتلك بتلك فاذا كان عند القعدة فليكن من اول قول احدكم ان يقول التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله " . لم يقل احمد " وبركاته " . ولا قال " واشهد " . قال " وان محمدا
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Prayer
- Hadith Index
- #972
- Book Index
- 583
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih
- Shuaib Al ArnautSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim (404)
