Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: آدمی کا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ہے ۱؎ اور لیٹ کر پڑھنے میں بیٹھ کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ملتا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن حسين المعلم، عن عبد الله بن بريدة، عن عمران بن حصين، انه سال النبي صلى الله عليه وسلم عن صلاة الرجل قاعدا فقال " صلاته قايما افضل من صلاته قاعدا وصلاته قاعدا على النصف من صلاته قايما وصلاته نايما على النصف من صلاته قاعدا
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ناسور تھا ۱؎، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہو کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو ( لیٹ کر ) پہلو کے بل پڑھو ۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا وكيع، عن ابراهيم بن طهمان، عن حسين المعلم، عن ابن بريدة، عن عمران بن حصين، قال كان بي الناصور فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " صل قايما فان لم تستطع فقاعدا فان لم تستطع فعلى جنب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ عمر رسیدہ ہو گئے تو اس میں بیٹھ کر قرآت کرتے تھے پھر جب تیس یا چالیس آیتیں رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر سجدہ کرتے۔
حدثنا احمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، قالت ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في شىء من صلاة الليل جالسا قط حتى دخل في السن فكان يجلس فيها فيقرا حتى اذا بقي اربعون او ثلاثون اية قام فقراها ثم سجد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھ کر قرآت کرتے تھے، پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرآت رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے، پھر انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے، پھر رکوع کرتے اور سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں ( بھی ) اسی طرح کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث علقمہ بن وقاص نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن عبد الله بن يزيد، وابي النضر، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي جالسا فيقرا وهو جالس واذا بقي من قراءته قدر ما يكون ثلاثين او اربعين اية قام فقراها وهو قايم ثم ركع ثم سجد ثم يفعل في الركعة الثانية مثل ذلك . قال ابو داود رواه علقمة بن وقاص عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کبھی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر، جب کھڑے ہو کر پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، قال سمعت بديل بن ميسرة، وايوب، يحدثان عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي ليلا طويلا قايما وليلا طويلا قاعدا فاذا صلى قايما ركع قايما واذا صلى قاعدا ركع قاعدا
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری سورت ایک رکعت میں پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: ( ہاں ) مفصل کی، پھر میں نے پوچھا: کیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جس وقت لوگوں ( کے کثرت معاملات ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکستہ ( یعنی بوڑھا ) کر دیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا كهمس بن الحسن، عن عبد الله بن شقيق، قال سالت عايشة اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا السورة في ركعة قالت المفصل . قال قلت فكان يصلي قاعدا قالت حين حطمه الناس
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے تو قبلہ کا استقبال کیا پھر تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ انہیں پھر اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا پھر اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑا، پھر جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں پھر اسی طرح اٹھایا، ( رفع یدین کیا ) وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی کو اپنی داہنی ران سے اٹھائے رکھا اور دونوں انگلیاں ( یعنی چھنگلیا اور اس کے قریب کی انگلی ) بند کر لی اور ( بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے ) حلقہ بنا لیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ اور بشر ( راوی ) نے بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال قلت لانظرن الى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يصلي فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستقبل القبلة فكبر فرفع يديه حتى حاذتا باذنيه ثم اخذ شماله بيمينه فلما اراد ان يركع رفعهما مثل ذلك - قال - ثم جلس فافترش رجله اليسرى ووضع يده اليسرى على فخذه اليسرى وحد مرفقه الايمن على فخذه اليمنى وقبض ثنتين وحلق حلقة ورايته يقول هكذا وحلق بشر الابهام والوسطى واشار بالسبابة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نماز کی سنت یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پیر کھڑا رکھو اور بایاں پیر موڑ کر رکھو۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن عبد الله بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر، قال سنة الصلاة ان تنصب، رجلك اليمنى وتثني رجلك اليسرى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نماز کی سنت میں سے یہ ہے کہ تم اپنا بایاں پیر بچھائے رکھو اور داہنا پیر کھڑا رکھو۔
حدثنا ابن معاذ، حدثنا عبد الوهاب، قال سمعت يحيى، قال سمعت القاسم، يقول اخبرني عبد الله بن عبد الله، انه سمع عبد الله بن عمر، يقول من سنة الصلاة ان تضجع رجلك اليسرى وتنصب اليمنى
اس طریق سے بھی یحییٰ سے اسی سند سے اسی کے مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے یحییٰ سے «من السنة» کا لفظ روایت کیا ہے جیسے جریر نے کہا ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن يحيى، باسناده مثله . قال ابو داود قال حماد بن زيد عن يحيى، ايضا من السنة كما قال جرير
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد نے ( اپنے ساتھیوں کو ) تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت دکھائی پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، ان القاسم بن محمد، اراهم الجلوس في التشهد فذكر الحديث
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں ( تشہد کے لیے ) بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر بچھاتے یہاں تک کہ آپ کے قدم کی پشت سیاہ ہو گئی تھی۔
حدثنا هناد بن السري، عن وكيع، عن سفيان، عن الزبير بن عدي، عن ابراهيم، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا جلس في الصلاة افترش رجله اليسرى حتى اسود ظهر قدمه
محمد بن عمرو کہتے کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں سنا، اور احمد بن حنبل کی روایت میں ہے کہ محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں، جن میں ابوقتادہ بھی تھے، ابوحمید کو یہ کہتا سنا کہ میں تم لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کو جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: تو آپ پیش کیجئے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو پاؤں کی انگلیاں کھلی رکھتے پھر «الله أكبر» کہتے اور سجدے سے سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے اور اس پر بیٹھتے پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرتے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( آخری ) سجدے سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام پھیرنا رہتا ہے تو بایاں پاؤں ایک طرف نکال لیتے اور بائیں سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے۔ احمد نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے: پھر لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے سچ کہا، آپ اسی طرح نماز پڑھتے تھے، لیکن ان دونوں نے یہ نہیں ذکر کیا کہ دو رکعت پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح بیٹھے تھے؟ ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو عاصم الضحاك بن مخلد، اخبرنا عبد الحميد يعني ابن جعفر، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، حدثنا عبد الحميد، - يعني ابن جعفر - حدثني محمد بن عمرو، عن ابي حميد الساعدي، قال سمعته في، عشرة من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم - وقال احمد قال اخبرني محمد بن عمرو بن عطاء قال سمعت ابا حميد الساعدي في عشرة من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم منهم ابو قتادة - قال ابو حميد انا اعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالوا فاعرض . فذكر الحديث . قال ويفتح اصابع رجليه اذا سجد ثم يقول الله اكبر ويرفع ويثني رجله اليسرى فيقعد عليها ثم يصنع في الاخرى مثل ذلك فذكر الحديث . قال حتى اذا كانت السجدة التي فيها التسليم اخر رجله اليسرى وقعد متوركا على شقه الايسر . زاد احمد قالوا صدقت هكذا كان يصلي ولم يذكرا في حديثهما الجلوس في الثنتين كيف جلس
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ ( ایک مجلس میں ) بیٹھے ہوئے تھے، پھر انہوں نے یہی مذکورہ حدیث بیان کی، اور ابوقتادہ کا ذکر نہیں کیا کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت کے بعد ( تشہد کے لیے ) بیٹھتے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھتے اور جب اخیر رکعت کے بعد بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر ( دائیں جانب ) آگے نکال لیتے اور اپنے سرین پر بیٹھتے۔
حدثنا عيسى بن ابراهيم المصري، حدثنا ابن وهب، عن الليث، عن يزيد بن محمد القرشي، ويزيد بن ابي حبيب، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن محمد بن عمرو بن عطاء، انه كان جالسا مع نفر من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث ولم يذكر ابا قتادة قال فاذا جلس في الركعتين جلس على رجله اليسرى فاذا جلس في الركعة الاخيرة قدم رجله اليسرى وجلس على مقعدته
محمد بن عمرو عامری کہتے ہیں کہ میں ایک مجلس میں تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی جس میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں قدم کے تلوے پر بیٹھتے اور اپنا داہنا پیر کھڑا رکھتے پھر جب چوتھی رکعت ہوتی تو اپنی بائیں سرین کو زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کو ایک طرف نکال لیتے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن يزيد بن ابي حبيب، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن محمد بن عمرو العامري، قال كنت في مجلس بهذا الحديث قال فيه فاذا قعد في الركعتين قعد على بطن قدمه اليسرى ونصب اليمنى فاذا كانت الرابعة افضى بوركه اليسرى الى الارض واخرج قدميه من ناحية واحدة
عباس بن سہل یا عیاش بن سہل ساعدی سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد سہل ساعدی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے تو اس مجلس میں انہوں نے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر اور اپنے دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کے سروں پر سہارا کیا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سجدے سے سر اٹھا کر ) بیٹھے تو تورک کیا یعنی سرین پر بیٹھے اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر «الله أكبر» کہہ کر کھڑے ہوئے اور تورک نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور دوسری رکعت پڑھی تو اسی طرح «الله أكبر» کہا، پھر دو رکعت کے بعد بیٹھے یہاں تک کہ جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرنے لگے تو «الله أكبر» کہہ کر اٹھے، پھر آخری دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر جب سلام پھیرا تو اپنی دائیں جانب اور بائیں جانب پھیرا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن عبداللہ نے اپنی روایت میں تورک اور دو رکعت پڑھ کر اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا ہے، جس کا ذکر عبدالحمید نے کیا ہے۔
حدثنا علي بن الحسين بن ابراهيم، حدثنا ابو بدر، حدثني زهير ابو خيثمة، حدثنا الحسن بن الحر، حدثنا عيسى بن عبد الله بن مالك، عن عباس، - او عياش - بن سهل الساعدي انه كان في مجلس فيه ابوه فذكر فيه قال فسجد فانتصب على كفيه وركبتيه وصدور قدميه وهو جالس فتورك ونصب قدمه الاخرى ثم كبر فسجد ثم كبر فقام ولم يتورك ثم عاد فركع الركعة الاخرى فكبر كذلك ثم جلس بعد الركعتين حتى اذا هو اراد ان ينهض للقيام قام بتكبير ثم ركع الركعتين الاخريين فلما سلم سلم عن يمينه وعن شماله . قال ابو داود لم يذكر في حديثه ما ذكر عبد الحميد في التورك والرفع اذا قام من ثنتين
فلیح کہتے ہیں: عباس بن سہل نے مجھے خبر دی ہے کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ اکٹھا ہوئے، پھر انہوں نے یہی حدیث ذکر کی اور دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی بیٹھنے کا، وہ کہتے ہیں: یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو گئے پھر بیٹھے اور اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنے داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی جانب کیں۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الملك بن عمرو، اخبرني فليح، اخبرني عباس بن سهل، قال اجتمع ابو حميد وابو اسيد وسهل بن سعد ومحمد بن مسلمة فذكر هذا الحديث ولم يذكر الرفع اذا قام من ثنتين ولا الجلوس قال حتى فرغ ثم جلس فافترش رجله اليسرى واقبل بصدر اليمنى على قبلته
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو یہ کہتے تھے «السلام على الله قبل عباده السلام على فلان وفلان» یعنی اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں پر سلام سے پہلے یا اس کے بندوں کی طرف سے اور فلاں فلاں شخص پر سلام ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا مت کہا کرو کہ اللہ پر سلام ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ خود سلام ہے، بلکہ جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو یہ کہے «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» آداب، بندگیاں، صلاتیں اور پاکیزہ خیرات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو ہر نیک بندے کو خواہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو یا دونوں کے بیچ میں ہو اس ( دعا کے پڑھنے ) کا ثواب پہنچے گا ( پھر یہ کہو ) : «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں پھر تم میں سے جس کو جو دعا زیادہ پسند ہو، وہ اس کے ذریعہ دعا کرے ۔
حدثنا مسدد، اخبرنا يحيى، عن سليمان الاعمش، حدثني شقيق بن سلمة، عن عبد الله بن مسعود، قال كنا اذا جلسنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة قلنا السلام على الله قبل عباده السلام على فلان وفلان فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقولوا السلام على الله فان الله هو السلام ولكن اذا جلس احدكم فليقل التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين فانكم اذا قلتم ذلك اصاب كل عبد صالح في السماء والارض - او بين السماء والارض - اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله ثم ليتخير احدكم من الدعاء اعجبه اليه فيدعو به
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ جب ہم نماز میں بیٹھیں تو کیا کہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ شریک کہتے ہیں: ہم سے جامع یعنی ابن شداد نے بیان کیا کہ انہوں نے ابووائل سے اور ابووائل نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے اس میں ( اتنا اضافہ ) ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں چند کلمات سکھاتے تھے اور انہیں اس طرح نہیں سکھاتے تھے جیسے تشہد سکھاتے تھے اور وہ یہ ہیں: «اللهم ألف بين قلوبنا وأصلح ذات بيننا واهدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات إلى النور وجنبنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن وبارك لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرياتنا وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم واجعلنا شاكرين لنعمتك مثنين بها قابليها وأتمها علينا» اے اللہ! تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے، اور ہماری حالتوں کو درست فرما دے، اور راہ سلامتی کی جانب ہماری رہنمائی کر دے اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر روشنی عطا کر دے، آنکھوں، دلوں اور ہماری بیوی بچوں میں برکت عطا کر دے، اور ہماری توبہ قبول فرما لے تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے، اور ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار و ثنا خواں اور اسے قبول کرنے والا بنا دے، اور اے اللہ! ان نعمتوں کو ہمارے اوپر کامل کر دے ۔
حدثنا تميم بن المنتصر، اخبرنا اسحاق، - يعني ابن يوسف - عن شريك، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال كنا لا ندري ما نقول اذا جلسنا في الصلاة وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد علم فذكر نحوه . قال شريك وحدثنا جامع، - يعني ابن شداد - عن ابي وايل، عن عبد الله، بمثله قال وكان يعلمنا كلمات ولم يكن يعلمناهن كما يعلمنا التشهد " اللهم الف بين قلوبنا واصلح ذات بيننا واهدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات الى النور وجنبنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن وبارك لنا في اسماعنا وابصارنا وقلوبنا وازواجنا وذرياتنا وتب علينا انك انت التواب الرحيم واجعلنا شاكرين لنعمتك مثنين بها قابليها واتمها علينا
قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا ( اور انہیں نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کو نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے، پھر راوی نے اعمش کی حدیث کی دعا کے مثل ذکر کیا، اس میں ( اتنا اضافہ ) ہے کہ جب تم نے یہ دعا پڑھ لی یا پوری کر لی تو تمہاری نماز پوری ہو گئی، اگر کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہو جاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا الحسن بن الحر، عن القاسم بن مخيمرة، قال اخذ علقمة بيدي فحدثني ان عبد الله بن مسعود اخذ بيده وان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذ بيد عبد الله فعلمه التشهد في الصلاة فذكر مثل دعاء حديث الاعمش " اذا قلت هذا او قضيت هذا فقد قضيت صلاتك ان شيت ان تقوم فقم وان شيت ان تقعد فاقعد