Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے اسلام کی کچھ باتیں معلوم ہوئیں چنانچہ جو باتیں مجھے معلوم ہوئیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ جب تمہیں چھینک آئے تو «الحمد الله» کہو اور کوئی دوسرا چھینکے اور«الحمد الله» کہے تو تم «يرحمك الله» کہو۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک نماز میں کھڑا تھا کہ اسی دوران ایک شخص کو چھینک آئی اس نے «الحمد الله» کہا تو میں نے «يرحمك الله» بلند آواز سے کہا تو لوگوں نے مجھے ترچھی نظروں سے دیکھنا شروع کیا تو میں اس پر غصہ میں آ گیا، میں نے کہا: تم لوگ میری طرف کنکھیوں سے کیوں دیکھتے ہو؟ تو ان لوگوں نے «سبحان الله» کہا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ( دوران نماز ) کس نے بات کی تھی؟ ، لوگوں نے کہا: اس اعرابی نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو بلایا اور مجھ سے فرمایا: نماز تو بس قرآن پڑھنے اور اللہ کا ذکر کرنے کے لیے ہے، تو جب تم نماز میں رہو تو تمہارا یہی کام ہونا چاہیئے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر شفیق اور مہربان کبھی کسی معلم کو نہیں دیکھا۔
حدثنا محمد بن يونس النسايي، حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا فليح، عن هلال بن علي، عن عطاء بن يسار، عن معاوية بن الحكم السلمي، قال لما قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم علمت امورا من امور الاسلام فكان فيما علمت ان قال لي " اذا عطست فاحمد الله واذا عطس العاطس فحمد الله فقل يرحمك الله " . قال فبينما انا قايم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة اذ عطس رجل فحمد الله فقلت يرحمك الله رافعا بها صوتي فرماني الناس بابصارهم حتى احتملني ذلك فقلت ما لكم تنظرون الى باعين شزر قال فسبحوا فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة قال " من المتكلم " . قيل هذا الاعرابي فدعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي " انما الصلاة لقراءة القران وذكر الله جل وعز فاذا كنت فيها فليكن ذلك شانك " . فما رايت معلما قط ارفق من رسول الله صلى الله عليه وسلم
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «ولا الضالين» پڑھتے تو آمین کہتے، اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن سلمة، عن حجر ابي العنبس الحضرمي، عن وايل بن حجر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قرا { ولا الضالين } قال " امين " . ورفع بها صوته
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے زور سے آمین کہی اور اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گال کی سفیدی دیکھ لی۔
حدثنا مخلد بن خالد الشعيري، حدثنا ابن نمير، حدثنا علي بن صالح، عن سلمة بن كهيل، عن حجر بن عنبس، عن وايل بن حجر، انه صلى خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فجهر بامين وسلم عن يمينه وعن شماله حتى رايت بياض خده
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کی تلاوت فرماتے تو آمین کہتے یہاں تک کہ پہلی صف میں سے جو لوگ آپ سے نزدیک ہوتے اسے سن لیتے۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا صفوان بن عيسى، عن بشر بن رافع، عن ابي عبد الله ابن عم ابي هريرة، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا تلا { غير المغضوب عليهم ولا الضالين } قال " امين " . حتى يسمع من يليه من الصف الاول
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الامام { غير المغضوب عليهم ولا الضالين } فقولوا " امين " . فانه من وافق قوله قول الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گی اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہتے تھے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن انهما اخبراه عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا امن الامام فامنوا فانه من وافق تامينه تامين الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه " . قال ابن شهاب وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " امين
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم بن راهويه، اخبرنا وكيع، عن سفيان، عن عاصم، عن ابي عثمان، عن بلال، انه قال يا رسول الله لا تسبقني " بامين
ابومصبح مقرائی کہتے ہیں کہ ہم ابوزہیر نمیری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے، وہ صحابی رسول تھے، وہ ( ہم سے ) ا چھی اچھی حدیثیں بیان کرتے تھے، جب ہم میں سے کوئی دعا کرتا تو وہ کہتے: اسے آمین پر ختم کرو، کیونکہ آمین کتاب پر لگی ہوئی مہر کی طرح ہے۔ ابوزہیر نے کہا: میں تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں؟ ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم لوگ ایک شخص کے پاس پہنچے جو نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر سننے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے ( اپنی دعا پر ) مہر لگا لی تو اس کی دعا قبول ہو گئی ، اس پر ایک شخص نے پوچھا: کس چیز سے وہ مہر لگائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آمین سے، اگر اس نے آمین سے ختم کیا تو اس کی دعا قبول ہو گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر وہ شخص ( جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا ) اس آدمی کے پاس آیا جو دعا کر رہا تھا اور اس سے کہا: اے فلاں! تم اپنی دعا پر آمین کی مہر لگا لو اور خوش ہو جاؤ۔
حدثنا الوليد بن عتبة الدمشقي، ومحمود بن خالد، قالا حدثنا الفريابي، عن صبيح بن محرز الحمصي، حدثني ابو مصبح المقرايي، قال كنا نجلس الى ابي زهير النميري - وكان من الصحابة - فيتحدث احسن الحديث فاذا دعا الرجل منا بدعاء قال اختمه بامين فان امين مثل الطابع على الصحيفة . قال ابو زهير اخبركم عن ذلك خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فاتينا على رجل قد الح في المسالة فوقف النبي صلى الله عليه وسلم يستمع منه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اوجب ان ختم " . فقال رجل من القوم باى شىء يختم قال " بامين فانه ان ختم بامين فقد اوجب " . فانصرف الرجل الذي سال النبي صلى الله عليه وسلم فاتى الرجل فقال اختم يا فلان بامين وابشر . وهذا لفظ محمود . قال ابو داود المقراء قبيل من حمير
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں مردوں کو «سبحان الله» کہنا چاہیئے اور عورتوں کو تالی بجانی چاہیئے ۱؎
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " التسبيح للرجال والتصفيق للنساء
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے، اور نماز کا وقت ہو گیا، مؤذن نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا: کیا آپ نماز پڑھائیں گے، میں تکبیر کہوں؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ( تکبیر کہو میں نماز پڑھاتا ہوں ) ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور لوگ نماز میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے ( پہلی ) صف میں آ کر کھڑے ہو گئے تو لوگ تالی بجانے لگے ۱؎ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ وہ نماز میں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے، لوگوں نے جب زیادہ تالیاں بجائیں تو وہ متوجہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نگاہ پڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اشارہ سے فرمایا: تم اپنی جگہ پر کھڑے رہو ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس بات پر جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا، اللہ کا شکر ادا کیا، پھر پیچھے آ کر صف میں کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب میں نے تمہیں حکم دے دیا تھا تو اپنی جگہ پر قائم رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟ ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابوقحافہ ۲؎ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو کر نماز پڑھائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: کیا بات تھی؟ تم اتنی زیادہ کیوں تالیاں بجا رہے تھے؟ جب کسی کو نماز میں کوئی معاملہ پیش آ جائے تو وہ سبحان اللہ کہے، کیونکہ جب وہ سبحان الله کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور تالی بجانا صرف عورتوں کے لیے ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ فرض نماز کا واقعہ ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي حازم بن دينار، عن سهل بن سعد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ذهب الى بني عمرو بن عوف ليصلح بينهم وحانت الصلاة فجاء الموذن الى ابي بكر - رضى الله عنه - فقال اتصلي بالناس فاقيم قال نعم . فصلى ابو بكر فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس في الصلاة فتخلص حتى وقف في الصف فصفق الناس وكان ابو بكر لا يلتفت في الصلاة فلما اكثر الناس التصفيق التفت فراى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشار اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ان امكث مكانك فرفع ابو بكر يديه فحمد الله على ما امره به رسول الله صلى الله عليه وسلم من ذلك ثم استاخر ابو بكر حتى استوى في الصف وتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلما انصرف قال " يا ابا بكر ما منعك ان تثبت اذ امرتك " . قال ابو بكر ما كان لابن ابي قحافة ان يصلي بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما لي رايتكم اكثرتم من التصفيح من نابه شىء في صلاته فليسبح فانه اذا سبح التفت اليه وانما التصفيح للنساء " . قال ابو داود وهذا في الفريضة
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف کی آپس میں لڑائی ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی، تو آپ ظہر کے بعد مصالحت کرانے کی غرض سے ان کے پاس آئے اور بلال رضی اللہ عنہ سے کہہ آئے کہ اگر عصر کا وقت آ جائے اور میں واپس نہ آ سکوں تو تم ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، چنانچہ جب عصر کا وقت ہوا تو بلال نے اذان دی پھر تکبیر کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کے لیے کہا تو آپ آگے بڑھ گئے، اس کے اخیر میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہیں نماز میں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو مرد سبحان الله کہیں اور عورتیں دستک دیں ۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا حماد بن زيد، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال كان قتال بين بني عمرو بن عوف فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فاتاهم ليصلح بينهم بعد الظهر فقال لبلال " ان حضرت صلاة العصر ولم اتك فمر ابا بكر فليصل بالناس " . فلما حضرت العصر اذن بلال ثم اقام ثم امر ابا بكر فتقدم قال في اخره " اذا نابكم شىء في الصلاة فليسبح الرجال وليصفح النساء
عیسیٰ بن ایوب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد «التصفيح للنساء» سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ کی دونوں انگلیاں اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ماریں۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الوليد، عن عيسى بن ايوب، قال قوله " التصفيح للنساء " . تضرب باصبعين من يمينها على كفها اليسرى
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اشارہ کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن محمد بن شبوية المروزي، ومحمد بن رافع، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يشير في الصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان الله کہنا مردوں کے لیے ہے یعنی نماز میں اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہیں، جس نے اپنی نماز میں کوئی ایسا اشارہ کیا کہ جسے سمجھا جا سکے تو وہ اس کی وجہ سے اسے لوٹائے یعنی اپنی نماز کو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث وہم ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، عن يعقوب بن عتبة بن الاخنس، عن ابي غطفان، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " التسبيح للرجال " . يعني في الصلاة " والتصفيق للنساء من اشار في صلاته اشارة تفهم عنه فليعد لها " . يعني الصلاة . قال ابو داود هذا الحديث وهم
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کا سامنا کرتی ہے، لہٰذا وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي الاحوص، - شيخ من اهل المدينة - انه سمع ابا ذر، يرويه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قام احدكم الى الصلاة فان الرحمة تواجهه فلا يمسح الحصى
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز پڑھنے کی حالت میں ( کنکریوں پر ) ہاتھ نہ پھیرو، یعنی انہیں برابر نہ کرو، اگر کرنا ضروری ہو تو ایک دفعہ برابر کر لو ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن معيقيب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تمسح وانت تصلي فان كنت لا بد فاعلا فواحدة تسوية الحصى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں «الاختصار» سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں:«الاختصار» کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ اپنی کمر پر رکھے ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن كعب، حدثنا محمد بن سلمة، عن هشام، عن محمد، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الاختصار في الصلاة . قال ابو داود يعني يضع يده على خاصرته
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ میں رقہ ۱؎ آیا تو میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہیں کسی صحابی سے ملنے کی خواہش ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ ( ملاقات ہو جائے تو ) غنیمت ہے، تو ہم وابصہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں نے اپنے ساتھی سے کہا: پہلے ہم ان کی وضع دیکھیں، میں نے دیکھا کہ وہ ایک ٹوپی سر سے چپکی ہوئی دو کانوں والی پہنے ہوئے تھے اور خز ریشم کا خاکی رنگ کا برنس ۲؎اوڑھے ہوئے تھے، اور کیا دیکھتے ہیں کہ وہ نماز میں ایک لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر ہم نے سلام کرنے کے بعد ان سے ( نماز میں لکڑی پر ٹیک لگانے کی وجہ ) پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھ سے ام قیس بنت محصن نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر جب زیادہ ہو گئی اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں ایک ستون بنا لیا جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے۔
حدثنا عبد السلام بن عبد الرحمن الوابصي، حدثنا ابي، عن شيبان، عن حصين بن عبد الرحمن، عن هلال بن يساف، قال قدمت الرقة فقال لي بعض اصحابي هل لك في رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال قلت غنيمة فدفعنا الى وابصة قلت لصاحبي نبدا فننظر الى دله فاذا عليه قلنسوة لاطية ذات اذنين وبرنس خز اغبر واذا هو معتمد على عصا في صلاته فقلنا بعد ان سلمنا . فقال حدثتني ام قيس بنت محصن ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما اسن وحمل اللحم اتخذ عمودا في مصلاه يعتمد عليه
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے جو چاہتا نماز میں اپنے بغل والے سے باتیں کرتا تھا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی«وقوموا لله قانتين» اللہ کے لیے چپ چاپ کھڑے رہو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۸ ) تو ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا هشيم، اخبرنا اسماعيل بن ابي خالد، عن الحارث بن شبيل، عن ابي عمرو الشيباني، عن زيد بن ارقم، قال كان احدنا يكلم الرجل الى جنبه في الصلاة فنزلت { وقوموا لله قانتين } فامرنا بالسكوت ونهينا عن الكلام
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: بیٹھ کر پڑھنے والے شخص کی نماز آدھی نماز ہے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے ( تعجب سے ) اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عبداللہ بن عمرو! کیا بات ہے؟ ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو نصف ثواب ملتا ہے اور آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں سچ ہے، لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں ۱؎۔
حدثنا محمد بن قدامة بن اعين، حدثنا جرير، عن منصور، عن هلال، - يعني ابن يساف - عن ابي يحيى، عن عبد الله بن عمرو، قال حدثت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الرجل قاعدا نصف الصلاة " . فاتيته فوجدته يصلي جالسا فوضعت يدى على راسي فقال ما لك يا عبد الله بن عمرو قلت حدثت يا رسول الله انك قلت " صلاة الرجل قاعدا نصف الصلاة " . وانت تصلي قاعدا قال " اجل ولكني لست كاحد منكم