Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جس سے آپ کی پیشانی اور ناک پر مٹی کے نشانات دیکھے گئے۔
حدثنا مومل بن الفضل، حدثنا عيسى، عن معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ريي على جبهته وعلى ارنبته اثر طين من صلاة صلاها بالناس . قال ابو علي هذا الحديث لم يقراه ابو داود في العرضة الرابعة
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں انہیں چاہیئے کہ اس سے باز آ جائیں ورنہ ( ہو سکتا ہے کہ ) ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہ لوٹیں یعنی بینائی جاتی رہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، - وهذا حديثه وهو اتم - عن الاعمش، عن المسيب بن رافع، عن تميم بن طرفة الطايي، عن جابر بن سمرة، - قال عثمان - قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد فراى فيه ناسا يصلون رافعي ايديهم الى السماء - ثم اتفقا - فقال " لينتهين رجال يشخصون ابصارهم الى السماء - قال مسدد في الصلاة - او لا ترجع اليهم ابصارهم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ ، پھر اس سلسلہ میں آپ نے بڑی سخت بات کہی، اور فرمایا: لوگ اس سے باز آ جائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، ان انس بن مالك، حدثهم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما بال اقوام يرفعون ابصارهم في صلاتهم " . فاشتد قوله في ذلك فقال " لينتهن عن ذلك او لتخطفن ابصارهم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس چادر کے نقش و نگار نے نماز سے غافل کر دیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ ( ابوجہم ہی نے وہ چادر آپ کو تحفہ میں دی تھی ) اور ان سے میرے لیے ان کی انبجانی چادر لے آؤ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في خميصة لها اعلام فقال " شغلتني اعلام هذه اذهبوا بها الى ابي جهم واتوني بانبجانيته
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم کی کر دی چادر لے لی، تو آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! وہ ( باریک نقش و نگار والی ) چادر اس ( کر دی چادر ) سے اچھی تھی ۔
حدثني عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا عبد الرحمن، - يعني ابن ابي الزناد - قال سمعت هشاما، يحدث عن ابيه، عن عايشة، بهذا الخبر قال واخذ كرديا كان لابي جهم فقيل يا رسول الله الخميصة كانت خيرا من الكردي
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نماز یعنی فجر کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور آپ گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: آپ نے رات میں نگرانی کے لیے ایک گھڑ سوار گھاٹی کی طرف بھیج رکھا تھا۔
حدثنا الربيع بن نافع، حدثنا معاوية، - يعني ابن سلام - عن زيد، انه سمع ابا سلام، قال حدثني السلولي، - هو ابو كبشة - عن سهل ابن الحنظلية، قال ثوب بالصلاة - يعني صلاة الصبح - فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وهو يلتفت الى الشعب . قال ابو داود وكان ارسل فارسا الى الشعب من الليل يحرس
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نواسی امامہ بنت زینب کو کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے تھے ۱؎۔
حدثنا القعنبي، حدثنا مالك، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن عمرو بن سليم، عن ابي قتادة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي وهو حامل امامة بنت زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا سجد وضعها واذا قام حملها
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ امامہ بنت ابوالعاص بن ربیع کو اپنے کندھے اٹھائے ہوئے تھے، امامہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا تھیں، امامہ ابھی چھوٹی بچی تھیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے پھر جب کھڑے ہوتے تو انہیں دوبارہ اٹھا لیتے، اسی طرح کرتے ہوئے آپ نے اپنی پوری نماز ادا کی۔
حدثنا قتيبة، - يعني ابن سعيد - حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، عن عمرو بن سليم الزرقي، انه سمع ابا قتادة، يقول بينا نحن في المسجد جلوس خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يحمل امامة بنت ابي العاص بن الربيع وامها زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي صبية يحملها على عاتقه فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي على عاتقه يضعها اذا ركع ويعيدها اذا قام حتى قضى صلاته يفعل ذلك بها
ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا اور آپ کی نواسی امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا آپ کی گردن پر سوار تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو انہیں اتار دیتے تھے۔
حدثنا محمد بن سلمة المرادي، حدثنا ابن وهب، عن مخرمة، عن ابيه، عن عمرو بن سليم الزرقي، قال سمعت ابا قتادة الانصاري، يقول رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي للناس وامامة بنت ابي العاص على عنقه فاذا سجد وضعها . قال ابو داود ولم يسمع مخرمة من ابيه الا حديثا واحدا
صحابی رسول ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ ظہر یا عصر میں نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کے لیے بلا چکے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف لائے اور اس حال میں کہ ( آپ کی نواسی ) امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہما جو آپ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں آپ کی گردن پر سوار تھیں تو آپ اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور ہم لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور وہ اپنی جگہ پر اسی طرح بیٹھی رہیں، جیسے بیٹھی تھیں، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا تو ہم لوگوں نے بھی «الله أكبر» کہا یہاں تک کہ جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں اتار کر نیچے بٹھا دیا، پھر رکوع اور سجدہ کیا، یہاں تک کہ جب آپ سجدے سے فارغ ہوئے پھر ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا کر ( اپنی گردن پر ) اسی جگہ بٹھا لیا، جہاں وہ پہلے بیٹھی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا محمد، - يعني ابن اسحاق - عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن عمرو بن سليم الزرقي، عن ابي قتادة، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بينما نحن ننتظر رسول الله صلى الله عليه وسلم للصلاة في الظهر او العصر وقد دعاه بلال للصلاة اذ خرج الينا وامامة بنت ابي العاص بنت ابنته على عنقه فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم في مصلاه وقمنا خلفه وهي في مكانها الذي هي فيه قال فكبر فكبرنا قال حتى اذا اراد رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يركع اخذها فوضعها ثم ركع وسجد حتى اذا فرغ من سجوده ثم قام اخذها فردها في مكانها فما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع بها ذلك في كل ركعة حتى فرغ من صلاته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں دونوں کالوں ( یعنی ) سانپ اور بچھو کو ( اگر دیکھو تو ) قتل کر ڈالو ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن ضمضم بن جوس، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقتلوا الاسودين في الصلاة الحية والعقرب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے ( حالت نماز میں ) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی ( نماز کی جگہ ) پر واپس لوٹ گئے ۱؎۔ اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔
حدثنا احمد بن حنبل، ومسدد، - وهذا لفظه - قال حدثنا بشر، - يعني ابن المفضل - حدثنا برد، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال احمد - يصلي والباب عليه مغلق فجيت فاستفتحت - قال احمد - فمشى ففتح لي ثم رجع الى مصلاه . وذكر ان الباب كان في القبلة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے اس حال میں کہ آپ نماز میں ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی ( بادشاہ حبشہ ) کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایا: نماز ( خود ) ایک شغل ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابن فضيل، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال كنا نسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في الصلاة فيرد علينا فلما رجعنا من عند النجاشي سلمنا عليه فلم يرد علينا وقال " ان في الصلاة لشغلا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( پہلے ) ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کر لیتے تھے، تو ( ایک بار ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہو گئی ۱؎، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، نیا حکم نازل کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ نماز میں باتیں نہ کرو ، پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا عاصم، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال كنا نسلم في الصلاة ونامر بحاجتنا فقدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فسلمت عليه فلم يرد على السلام فاخذني ما قدم وما حدث فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة قال " ان الله يحدث من امره ما يشاء وان الله جل وعز قد احدث من امره ان لا تكلموا في الصلاة " . فرد على السلام
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس حال میں آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اشارہ سے سلام کا جواب دیا۔ نابل کہتے ہیں: مجھے یہی معلوم ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے«إشارة بأصبعه» کا لفظ کہا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کے اشارہ سے سلام کا جواب دیا، یہ قتیبہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔
حدثنا يزيد بن خالد بن موهب، وقتيبة بن سعيد، ان الليث، حدثهم عن بكير، عن نابل، صاحب العباء عن ابن عمر، عن صهيب، انه قال مررت برسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فسلمت عليه فرد اشارة . قال ولا اعلمه الا قال اشارة باصبعه وهذا لفظ حديث قتيبة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بنی مصطلق کے پاس بھیجا، میں ( وہاں سے ) لوٹ کر آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ سے بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اس طرح سے اشارہ کیا، میں نے پھر آپ سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا یعنی خاموش رہنے کا حکم دیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآت کرتے سن رہا تھا اور آپ اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: میں نے تم کو جس کام کے لیے بھیجا تھا اس سلسلے میں تم نے کیا کیا؟، میں نے تم سے بات اس لیے نہیں کی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو الزبير، عن جابر، قال ارسلني نبي الله صلى الله عليه وسلم الى بني المصطلق فاتيته وهو يصلي على بعيره فكلمته فقال لي بيده هكذا ثم كلمته فقال لي بيده هكذا وانا اسمعه يقرا ويومي براسه فلما فرغ قال " ما فعلت في الذي ارسلتك فانه لم يمنعني ان اكلمك الا اني كنت اصلي
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے قباء گئے، تو آپ کے پاس انصار آئے اور انہوں نے حالت نماز میں آپ کو سلام کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت نماز میں سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح جواب دیتے ہوئے دیکھا؟ بلال رضی اللہ عنہ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کر رہے تھے، اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلائے ہوئے تھے، جعفر بن عون نے اپنی ہتھیلی پھیلا کر اس کو نیچے اور اس کی پشت کو اوپر کر کے بتایا۔
حدثنا الحسين بن عيسى الخراساني الدامغاني، حدثنا جعفر بن عون، حدثنا هشام بن سعد، حدثنا نافع، قال سمعت عبد الله بن عمر، يقول خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى قباء يصلي فيه - قال - فجاءته الانصار فسلموا عليه وهو يصلي . قال فقلت لبلال كيف رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرد عليهم حين كانوا يسلمون عليه وهو يصلي قال يقول هكذا وبسط كفه . وبسط جعفر بن عون كفه وجعل بطنه اسفل وجعل ظهره الى فوق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں نقصان اور کمی نہیں ہے اور نہ سلام میں ہے ۱؎ ، احمد کہتے ہیں: جہاں تک میں سمجھتا ہوں مطلب یہ ہے کہ ( نماز میں ) نہ تو تم کسی کو سلام کرو اور نہ تمہیں کوئی سلام کرے اور نماز میں نقصان یہ ہے کہ آدمی نماز سے اس حال میں پلٹے کہ وہ اس میں شک کرنے والا ہو۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن ابي مالك الاشجعي، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا غرار في صلاة ولا تسليم " . قال احمد يعني فيما ارى ان لا تسلم ولا يسلم عليك ويغرر الرجل بصلاته فينصرف وهو فيها شاك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ سلام میں نقص ہے اور نہ نماز میں ۔ معاویہ بن ہشام کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ سفیان نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ابن فضیل نے ابن مہدی کی طرح «لا غرار في تسليم ولا صلاة» کے لفظ کے ساتھ روایت کی ہے اور اس کو مرفوع نہیں کہا ہے ( بلکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول بتایا ہے ) ۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا معاوية بن هشام، عن سفيان، عن ابي مالك، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال - اراه رفعه - قال " لا غرار في تسليم ولا صلاة " . قال ابو داود ورواه ابن فضيل على لفظ ابن مهدي ولم يرفعه
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، قوم میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے ( حالت نماز میں ) «يرحمك الله» کہا، اس پر لوگ مجھے گھورنے لگے، میں نے ( اپنے دل میں ) کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس پر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے رانوں کو تھپتھپانا شروع کر دیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ لوگ مجھے خاموش رہنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، میرے ماں باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف اتنا فرمایا: نماز میں اس طرح بات چیت درست نہیں، یہ تو بس تسبیح، تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے ، یا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ( ابھی ) نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ تعالیٰ نے ہم کو ( جاہلیت اور کفر سے نجات دے کر ) دین اسلام سے مشرف فرمایا ہے، ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس مت جاؤ ۔ میں نے کہا: ہم میں سے بعض لوگ بد شگونی لیتے ہیں؟ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے دلوں کا وہم ہے، یہ انہیں ان کے کاموں سے نہ روکے ۔ پھر میں نے کہا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیر ( خط ) کھینچتے ہیں؟ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی خط ( لکیریں ) کھینچا کرتے تھے، اب جس کسی کا خط ان کے خط کے موافق ہوا، وہ صحیح ہے ۔ میں نے کہا: میرے پاس ایک لونڈی ہے، جو احد اور جوانیہ کے پاس بکریاں چراتی تھی، ایک بار میں ( اچانک ) پہنچا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری کو لے کر چلا گیا ہے، میں بھی انسان ہوں، مجھے افسوس ہوا جیسے اور لوگوں کو افسوس ہوتا ہے تو میں نے اسے ایک زور کا طمانچہ رسید کر دیا تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزری، میں نے عرض کیا: کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آؤ ، میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس لونڈی سے ) پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ ، اس نے کہا: آسمان کے اوپر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ ، اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آزاد کر دو یہ مؤمنہ ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، - المعنى - عن حجاج الصواف، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن هلال بن ابي ميمونة، عن عطاء بن يسار، عن معاوية بن الحكم السلمي، قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فعطس رجل من القوم فقلت يرحمك الله فرماني القوم بابصارهم فقلت واثكل امياه ما شانكم تنظرون الى فجعلوا يضربون بايديهم على افخاذهم فعرفت انهم يصمتوني - فقال عثمان - فلما رايتهم يسكتوني لكني سكت قال فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم - بابي وامي - ما ضربني ولا كهرني ولا سبني ثم قال " ان هذه الصلاة لا يحل فيها شىء من كلام الناس هذا انما هو التسبيح والتكبير وقراءة القران " . او كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم . قلت يا رسول الله انا قوم حديث عهد بجاهلية وقد جاءنا الله بالاسلام ومنا رجال ياتون الكهان . قال " فلا تاتهم " . قال قلت ومنا رجال يتطيرون . قال " ذاك شىء يجدونه في صدورهم فلا يصدهم " . قلت ومنا رجال يخطون . قال " كان نبي من الانبياء يخط فمن وافق خطه فذاك " . قال قلت جارية لي كانت ترعى غنيمات قبل احد والجوانية اذ اطلعت عليها اطلاعة فاذا الذيب قد ذهب بشاة منها وانا من بني ادم اسف كما ياسفون لكني صككتها صكة فعظم ذاك على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت افلا اعتقها قال " ايتني بها " . قال فجيته بها فقال " اين الله " . قالت في السماء . قال " من انا " . قالت انت رسول الله . قال " اعتقها فانها مومنة