Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء: چہرہ ۱؎، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا بكر، - يعني ابن مضر - عن ابن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن عامر بن سعد، عن العباس بن عبد المطلب، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا سجد العبد سجد معه سبعة اراب وجهه وكفاه وركبتاه وقدماه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جیسے چہرہ سجدہ کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو چاہیئے کہ دونوں ہاتھ بھی رکھے اور جب چہرہ اٹھائے تو چاہیئے کہ انہیں بھی اٹھائے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن ابراهيم - عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، رفعه قال " ان اليدين تسجدان كما يسجد الوجه فاذا وضع احدكم وجهه فليضع يديه واذا رفع فليرفعهما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز میں آؤ اور ہم سجدہ میں ہوں تو تم بھی سجدہ میں چلے جاؤ اور تم اسے کچھ شمار نہ کرو، اور جس نے رکعت پالی تو اس نے نماز پالی ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، ان سعيد بن الحكم، حدثهم اخبرنا نافع بن يزيد، حدثني يحيى بن ابي سليمان، عن زيد بن ابي العتاب، وابن المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا جيتم الى الصلاة ونحن سجود فاسجدوا ولا تعدوها شييا ومن ادرك الركعة فقد ادرك الصلاة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر ( شب قدر میں ) اس نماز کی وجہ سے جو آپ نے لوگوں کو پڑھائی، مٹی کا اثر دیکھا گیا۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ريي على جبهته وعلى ارنبته اثر طين من صلاة صلاها بالناس
اس سند سے بھی معمر سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، نحوه
ابواسحاق کہتے ہیں کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ہمیں سجدہ کرنے کا طریقہ بتایا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک لگائی اور اپنی سرین کو بلند کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح سجدہ کرتے تھے۔
حدثنا الربيع بن نافع ابو توبة، حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، قال وصف لنا البراء بن عازب فوضع يديه واعتمد على ركبتيه ورفع عجيزته وقال هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسجد
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدے میں اعتدال کرو ۱؎ اور تم میں سے کوئی شخص اپنے ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اعتدلوا في السجود ولا يفترش احدكم ذراعيه افتراش الكلب
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ ( بغل سے ) جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے دونوں ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان، عن عبيد الله بن عبد الله، عن عمه، يزيد بن الاصم عن ميمونة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا سجد جافى بين يديه حتى لو ان بهمة ارادت ان تمر تحت يديه مرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے پیچھے سے آیا ( اور آپ سجدے میں تھے ) تو میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح سجدہ کئے ہوئے تھے کہ اپنے دونوں بازو پسلیوں سے جدا کئے ہوئے تھے اور اپنا پیٹ زمین سے اٹھائے ہوئے تھے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، عن التميمي الذي، يحدث بالتفسير عن ابن عباس، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم من خلفه فرايت بياض ابطيه وهو مجخ قد فرج بين يديه
احمر بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے یہاں تک کہ ہمیں ( آپ کی تکلیف و مشقت پر ) رحم آ جاتا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا عباد بن راشد، حدثنا الحسن، حدثنا احمر بن جزء، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا سجد جافى عضديه عن جنبيه حتى ناوي له
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے اور چاہیئے کہ اپنی دونوں رانوں کو ملا کر رکھے ۔
حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، حدثنا ابن وهب، حدثنا الليث، عن دراج، عن ابن حجيرة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا سجد احدكم فلا يفترش يديه افتراش الكلب وليضم فخذيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زانو ( گھٹنے ) سے مدد لے لیا کرو ۱؎ ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال اشتكى اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم الى النبي صلى الله عليه وسلم مشقة السجود عليهم اذا انفرجوا فقال " استعينوا بالركب
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بغل میں نماز پڑھی، اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو کہا: یہ ( کمر پر ہاتھ رکھنا ) نماز میں صلیب ( سولی ) کی شکل ہے ۱؎، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے تھے۲؎۔
حدثنا هناد بن السري، عن وكيع، عن سعيد بن زياد، عن زياد بن صبيح الحنفي، قال صليت الى جنب ابن عمر فوضعت يدى على خاصرتى فلما صلى قال هذا الصلب في الصلاة وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عنه
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ کے سینے سے رونے کی وجہ سے چکی کی آواز کے مانند آواز آتی تھی۔
حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن سلام، حدثنا يزيد، - يعني ابن هارون - اخبرنا حماد، - يعني ابن سلمة - عن ثابت، عن مطرف، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وفي صدره ازيز كازيز الرحى من البكاء صلى الله عليه وسلم
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے ان میں وہ بھولے نہیں ۱؎ تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا هشام، - يعني ابن سعد - عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن زيد بن خالد الجهني، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من توضا فاحسن وضوءه ثم صلى ركعتين لا يسهو فيهما غفر له ما تقدم من ذنبه
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے اور اپنے دل اور چہرے کو پوری طرح سے متوجہ کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا معاوية بن صالح، عن ربيعة بن يزيد، عن ابي ادريس الخولاني، عن جبير بن نفير الحضرمي، عن عقبة بن عامر الجهني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما من احد يتوضا فيحسن الوضوء ويصلي ركعتين يقبل بقلبه ووجهه عليهما الا وجبت له الجنة
مسور بن یزید مالکی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآت کر رہے تھے، ( یحییٰ کی روایت میں ہے کبھی مسور نے یوں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں قرآت کر رہے تھے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آیتیں چھوڑ دیں، انہیں نہیں پڑھا ( نماز کے بعد ) ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں آیتیں چھوڑ دی ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا؟ ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ: میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں -سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے یحییٰ بن کثیر ازدی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے مسور بن یزید اسدی مالکی نے بیان کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، اس میں قرآت کی تو آپ کو شبہ ہو گیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ ، ابی نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ( لقمہ دینے سے ) کس چیز نے روک دیا؟ ۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! تم نماز میں امام کو لقمہ مت دیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابواسحاق نے حارث سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں اور حدیث ان میں سے نہیں ہے۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا محمد بن يوسف الفريابي، عن يونس بن ابي اسحاق، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، - رضى الله عنه - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا علي لا تفتح على الامام في الصلاة " . قال ابو داود ابو اسحاق لم يسمع من الحارث الا اربعة احاديث ليس هذا منها
ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال سمعت ابا الاحوص، يحدثنا في مجلس سعيد بن المسيب قال قال ابو ذر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزال الله عز وجل مقبلا على العبد وهو في صلاته ما لم يلتفت فاذا التفت انصرف عنه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آدمی کے نماز کے ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بندے کی نماز سے شیطان کا اچک لینا ہے ( یعنی اس کے ثواب میں سے ایک حصہ اڑا لیتا ہے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، عن الاشعث، - يعني ابن سليم - عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التفات الرجل في الصلاة فقال " انما هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد