Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
شعبہ کہتے ہیں: میں نے سلیمان سے کہا کہ جب میں نماز میں خوف دلانے والی آیت سے گزروں تو کیا میں دعا مانگوں؟ تو انہوں نے مجھ سے وہ حدیث بیان کی، جسے انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، سعید نے مستورد سے، مستورد نے صلہ بن زفر سے اور صلہ بن زفر نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے تھے، اور اپنے سجدوں میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے تھے، اور رحمت کی کوئی آیت ایسی نہیں گزری جہاں آپ نہ ٹھہرے ہوں، اور اللہ سے سوال نہ کیا ہو، اور عذاب کی کوئی آیت ایسی نہیں گزری جہاں آپ نہ ٹھہرے ہوں اور عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، قال قلت لسليمان ادعو في الصلاة اذا مررت باية تخوف فحدثني عن سعد بن عبيدة عن مستورد عن صلة بن زفر عن حذيفة انه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم فكان يقول في ركوعه " سبحان ربي العظيم " . وفي سجوده " سبحان ربي الاعلى " . وما مر باية رحمة الا وقف عندها فسال ولا باية عذاب الا وقف عندها فتعوذ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» کہتے تھے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، حدثنا قتادة، عن مطرف، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول في ركوعه وسجوده " سبوح قدوس رب الملايكة والروح
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی رحمت والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور سوال کرتے، اور کسی عذاب والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور اس سے پناہ مانگتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے بقدر لمبا رکوع کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پڑھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے بقدر لمبا سجدہ کیا، سجدے میں بھی آپ نے وہی دعا پڑھی، جو رکوع میں پڑھی تھی پھر اس کے بعد کھڑے ہوئے اور سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ( بقیہ رکعتوں میں ) ایک ایک سورۃ پڑھی۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، حدثنا معاوية بن صالح، عن عمرو بن قيس، عن عاصم بن حميد، عن عوف بن مالك الاشجعي، قال قمت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة فقام فقرا سورة البقرة لا يمر باية رحمة الا وقف فسال ولا يمر باية عذاب الا وقف فتعوذ - قال - ثم ركع بقدر قيامه يقول في ركوعه " سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة " . ثم سجد بقدر قيامه ثم قال في سجوده مثل ذلك - ثم قام فقرا بال عمران ثم قرا سورة سورة
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ تین بار «الله اكبر» ، اور ( ایک بار ) «ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآت شروع کی تو سورۃ البقرہ کی قرآت کی، پھر رکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع قریب قریب آپ کے قیام کے برابر رہا اور آپ اپنے رکوع میں«سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم» کہہ رہے تھے، پھر رکوع سے سر اٹھایا ( اور کھڑے رہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے رکوع کے قریب قریب رہا اور آپ اس درمیان «لربي الحمد» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے اپنا سر اٹھایا اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھے رہے جتنی دیر تک سجدے میں رہے تھے، اور اس درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» کہہ رہے تھے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعتیں ادا کیں اور ان میں بقرہ، آل عمران، نساء اور مائدہ یا انعام پڑھی۔ یہ شک شعبہ کو ہوا ہے۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، وعلي بن الجعد، قالا حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابي حمزة، مولى الانصار عن رجل، من بني عبس عن حذيفة، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل فكان يقول " الله اكبر - ثلاثا - ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة " . ثم استفتح فقرا البقرة ثم ركع فكان ركوعه نحوا من قيامه وكان يقول في ركوعه " سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم " . ثم رفع راسه من الركوع فكان قيامه نحوا من ركوعه يقول " لربي الحمد " . ثم سجد فكان سجوده نحوا من قيامه فكان يقول في سجوده " سبحان ربي الاعلى " . ثم رفع راسه من السجود وكان يقعد فيما بين السجدتين نحوا من سجوده وكان يقول " رب اغفر لي رب اغفر لي " . فصلى اربع ركعات فقرا فيهن البقرة وال عمران والنساء والمايدة او الانعام شك شعبة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، تو ( سجدے میں ) تم بکثرت دعائیں کیا کرو ۔
حدثنا احمد بن صالح، واحمد بن عمرو بن السرح، ومحمد بن سلمة، قالوا حدثنا ابن وهب، اخبرنا عمرو، - يعني ابن الحارث - عن عمارة بن غزية، عن سمى، مولى ابي بكر انه سمع ابا صالح، ذكوان يحدث عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد فاكثروا الدعاء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں اپنے کمرہ کا ) پردہ اٹھایا، ( دیکھا کہ ) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے ہوئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! نبوت کی بشارتوں ( خوشخبری دینے والی چیزوں ) میں سے اب کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے سلسلہ میں کوئی دوسرا دیکھتا ہے، مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کر دیا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں تم اپنے رب کی بڑائی بیان کیا کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں تم دعا میں کوشاں رہو کیونکہ یہ تمہاری دعا کی مقبولیت کے لیے زیادہ موزوں ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن سليمان بن سحيم، عن ابراهيم بن عبد الله بن معبد، عن ابيه، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كشف الستارة والناس صفوف خلف ابي بكر فقال " يا ايها الناس انه لم يبق من مبشرات النبوة الا الرويا الصالحة يراها المسلم او ترى له واني نهيت ان اقرا راكعا او ساجدا فاما الركوع فعظموا الرب فيه واما السجود فاجتهدوا في الدعاء فقمن ان يستجاب لكم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدوں میں کثرت سے «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي» کہتے تھے اور قرآن کی آیت «فسبح بحمد ربك واستغفره» ( سورة النصر: ۳ ) کی عملی تفسیر کرتے تھے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر ان يقول في ركوعه وسجوده " سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي " . يتاول القران
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدوں میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم اغفر لي ذنبي كله دقه وجله وأوله وآخره» یعنی اے اللہ! تو میرے تمام چھوٹے بڑے اور اگلے پچھلے گناہ بخش دے ۔ ابن السرح نے اپنی روایت میں «علانيته وسره» کی زیادتی کی ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، ح حدثنا احمد بن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني يحيى بن ايوب، عن عمارة بن غزية، عن سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول في سجوده " اللهم اغفر لي ذنبي كله دقه وجله واوله واخره " . زاد ابن السرح " علانيته وسره
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات ( اپنے پاس بستر پر ) نہیں پایا تو میں نے آپ کو نماز پڑھنے کی جگہ میں ٹٹولا تو کیا دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں ہیں اور آپ کے دونوں پاؤں کھڑے ہیں اور آپ یہ دعا کر رہے ہیں: «أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» یعنی اے اللہ! میں تیرے غصے سے تیری رضا مندی کی پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عذاب سے تیری بخشش کی پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا عبدة، عن عبيد الله، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فلمست المسجد فاذا هو ساجد وقدماه منصوبتان وهو يقول " اعوذ برضاك من سخطك واعوذ بمعافاتك من عقوبتك واعوذ بك منك لا احصي ثناء عليك انت كما اثنيت على نفسك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم»یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح ( کانے ) دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جب قرض دار ہوتا ہے، بات کرتا ہے، تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے، تو اس کے خلاف کرتا ہے ۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا بقية، حدثنا شعيب، عن الزهري، عن عروة، ان عايشة، اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو في صلاته " اللهم اني اعوذ بك من عذاب القبر واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال واعوذ بك من فتنة المحيا والممات اللهم اني اعوذ بك من الماثم والمغرم " . فقال له قايل ما اكثر ما تستعيذ من المغرم فقال " ان الرجل اذا غرم حدث فكذب ووعد فاخلف
ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں ایک نفل نماز پڑھی تو میں نے آپ کو «أعوذ بالله من النار ويل لأهل النار» میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور جہنم والوں کے لیے خرابی ہے کہتے سنا۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن ابن ابي ليلى، عن ثابت البناني، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابيه، قال صليت الى جنب رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة تطوع فسمعته يقول " اعوذ بالله من النار ويل لاهل النار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، ایک دیہاتی نے نماز میں کہا: «اللهم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا» اے اللہ! تو مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو اس دیہاتی سے فرمایا: تم نے ایک وسیع چیز کو تنگ کر دیا ، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی رحمت مراد لے رہے تھے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الصلاة وقمنا معه فقال اعرابي في الصلاة اللهم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا احدا فلما سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال للاعرابي " لقد تحجرت واسعا " . يريد رحمة الله عز وجل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تو «سبحان ربي الأعلى»کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں وکیع کی مخالفت کی گئی اور اسے ابو وکیع اور شعبہ نے ابواسحاق سے ابوسحاق نے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا قرا { سبح اسم ربك الاعلى } قال " سبحان ربي الاعلى " . قال ابو داود خولف وكيع في هذا الحديث ورواه ابو وكيع وشعبة عن ابي اسحاق عن سعيد بن جبير عن ابن عباس موقوفا
موسی بن ابی عائشہ کہتے ہیں ایک صاحب اپنی چھت پر نماز پڑھا کرتے تھے، جب وہ آیت کریمہ «أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى» ( سورة القيامة: ۴۰ ) پر پہنچتے تو «سبحانك» کہتے پھر روتے، لوگوں نے اس سے ان کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد نے کہا: مجھے بھلا لگتا ہے کہ آدمی فرض نماز میں وہ دعا کرے جو قرآن میں ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثني محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن موسى بن ابي عايشة، قال كان رجل يصلي فوق بيته وكان اذا قرا { اليس ذلك بقادر على ان يحيي الموتى } قال سبحانك فبلى فسالوه عن ذلك فقال سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود قال احمد يعجبني في الفريضة ان يدعو بما في القران
سعدی کے والد یا چچا کہتے ہیں کہ میں نے نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ رکوع اور سجدہ میں اتنی دیر تک رہتے جتنی دیر میں تین بار: «سبحان الله وبحمده» کہہ سکیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا سعيد الجريري، عن السعدي، عن ابيه، او عن عمه، قال رمقت النبي صلى الله عليه وسلم في صلاته فكان يتمكن في ركوعه وسجوده قدر ما يقول " سبحان الله وبحمده " . ثلاثا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اسے چاہیئے کہ تین بار: «سبحان ربي العظيم» کہے، اور یہ کم سے کم مقدار ہے، اور جب سجدہ کرے تو کم سے کم تین بار: «سبحان ربي الأعلى»کہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، عون نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔
حدثنا عبد الملك بن مروان الاهوازي، حدثنا ابو عامر، وابو داود عن ابن ابي ذيب، عن اسحاق بن يزيد الهذلي، عن عون بن عبد الله، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ركع احدكم فليقل ثلاث مرات سبحان ربي العظيم وذلك ادناه واذا سجد فليقل سبحان ربي الاعلى ثلاثا وذلك ادناه " . قال ابو داود هذا مرسل عون لم يدرك عبد الله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص سورۃ «والتين والزيتون» پڑھے اسے چاہیئے کہ جب اس کی آخری آیت «والتين والزيتون» پر پہنچے تو: «بلى وأنا على ذلك من الشاهدين» کہے، اور جو سورۃ «لا أقسم بيوم القيامة» پڑھے اور «أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى» پر پہنچے تو «بلى» کہے، اور جو سورۃ «والمرسلات» پڑھے اور آیت«فبأى حديث بعده يؤمنون» پر پہنچے تو «آمنا بالله» کہے۔ اسماعیل کہتے ہیں: ( میں نے یہ حدیث ایک اعرابی سے سنی ) ، پھر دوبارہ اس کے پاس گیا تاکہ یہ حدیث پھر سے سنوں اور دیکھوں شاید؟ ( وہ نہ سنا سکے ) تو اس اعرابی نے کہا: میرے بھتیجے! تم سمجھتے ہو کہ مجھے یہ یاد نہیں؟ میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور ہر حج میں جس اونٹ پر میں چڑھا تھا اسے پہچانتا ہوں۔
حدثنا عبد الله بن محمد الزهري، حدثنا سفيان، حدثني اسماعيل بن امية، سمعت اعرابيا، يقول سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قرا منكم { والتين والزيتون } فانتهى الى اخرها { اليس الله باحكم الحاكمين } فليقل بلى وانا على ذلك من الشاهدين ومن قرا { لا اقسم بيوم القيامة } فانتهى الى { اليس ذلك بقادر على ان يحيي الموتى } فليقل بلى ومن قرا { والمرسلات } فبلغ { فباى حديث بعده يومنون } فليقل امنا بالله " . قال اسماعيل ذهبت اعيد على الرجل الاعرابي وانظر لعله فقال يا ابن اخي اتظن اني لم احفظه لقد حججت ستين حجة ما منها حجة الا وانا اعرف البعير الذي حججت عليه
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو سعید بن جبیر کہتے ہیں: تو ہم نے ان کے رکوع اور سجدہ میں دس دس مرتبہ تسبیح کہنے کا اندازہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح کا بیان ہے: میں نے عبداللہ بن ابراہیم بن عمر بن کیسان سے پوچھا: ( وہب کے والد کا نام ) مانوس ہے یا مابوس؟ تو انہوں نے کہا: عبدالرزاق تو مابوس کہتے تھے لیکن مجھے مانوس یاد ہے، یہ ابن رافع کے الفاظ ہیں اور احمد نے ( اسے «سمعت» کے بجائے «عن» سے یعنی: «عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالك» روایت کی ہے ) ۔
حدثنا احمد بن صالح، وابن، رافع قالا حدثنا عبد الله بن ابراهيم بن عمر بن كيسان، حدثني ابي، عن وهب بن مانوس، قال سمعت سعيد بن جبير، يقول سمعت انس بن مالك، يقول ما صليت وراء احد بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم اشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم من هذا الفتى يعني عمر بن عبد العزيز . قال فحزرنا في ركوعه عشر تسبيحات وفي سجوده عشر تسبيحات . قال ابو داود قال احمد بن صالح قلت له مانوس او مابوس قال اما عبد الرزاق فيقول مابوس واما حفظي فمانوس وهذا لفظ ابن رافع . قال احمد عن سعيد بن جبير عن انس بن مالك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے – حماد بن زید کی روایت میں ہے: تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے – اور یہ کہ آپ نہ بال سمیٹیں اور نہ کپڑا ۱؎۔
حدثنا مسدد، وسليمان بن حرب، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " امرت " . قال حماد امر نبيكم صلى الله عليه وسلم - ان يسجد على سبعة ولا يكف شعرا ولا ثوبا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور کبھی راوی نے کہا: تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا شعبة، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " امرت " . وربما قال امر نبيكم صلى الله عليه وسلم ان يسجد على سبعة اراب