Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل نجد کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جس کے بال پراگندہ تھے، اس کی آواز کی گنگناہٹ تو سنی جاتی تھی لیکن بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، یہاں تک کہ وہ قریب آیا، تب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اسلام ) دن رات میں پانچ وقت کی نماز پڑھنی ہے ، اس نے پوچھا: ان کے علاوہ اور کوئی نماز مجھ پر واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۱؎ إلا یہ کہ تم نفل پڑھو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ماہ رمضان کے روزے کا ذکر کیا، اس نے پوچھا: اس کے سوا کوئی اور بھی روزے مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، إلا یہ کہ تم نفلی روزے رکھو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکاۃ کا ذکر کیا، اس نے پوچھا: اس کے علاوہ کوئی اور بھی صدقہ مجھ پر واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، إلایہ کہ تم نفلی صدقہ کرو ۔ پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر یہ کہتے ہوئے چلا: قسم اللہ کی! میں نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بامراد رہا اگر اس نے سچ کہا ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عمه ابي سهيل بن مالك، عن ابيه، انه سمع طلحة بن عبيد الله، يقول جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من اهل نجد ثاير الراس يسمع دوي صوته ولا يفقه ما يقول حتى دنا فاذا هو يسال عن الاسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمس صلوات في اليوم والليلة " . قال هل على غيرهن قال " لا الا ان تطوع " . قال وذكر له رسول الله صلى الله عليه وسلم صيام شهر رمضان قال هل على غيره قال " لا الا ان تطوع " . قال وذكر له رسول الله صلى الله عليه وسلم الصدقة . قال فهل على غيرها قال " لا الا ان تطوع " . فادبر الرجل وهو يقول والله لا ازيد على هذا ولا انقص . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افلح ان صدق
اس سند سے بھی ابوسہیل نافع بن مالک بن ابی عامر سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے باپ کی قسم! ۱؎ اگر اس نے سچ کہا تو وہ بامراد رہا، اور اس کے باپ کی قسم! اگر اس نے سچ کہا تو وہ جنت میں جائے گا ۔
حدثنا سليمان بن داود، حدثنا اسماعيل بن جعفر المدني، عن ابي سهيل، نافع بن مالك بن ابي عامر باسناده بهذا الحديث قال " افلح وابيه ان صدق دخل الجنة وابيه ان صدق
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے پاس دو بار میری امامت کی، ظہر مجھے اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ جوتے کے تسمے کے برابر ہو گیا، عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ۱؎ ہو گیا، مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار روزہ کھولتا ہے ( سورج ڈوبتے ہی ) ، عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق ۲؎ غائب ہو گئی، اور فجر اس وقت پڑھائی جب صائم پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے یعنی جب صبح صادق طلوع ہوتی ہے۔ دوسرے دن ظہر مجھے اس وقت پڑھائی، جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ۳؎ ہو گیا، عصر اس وقت پڑھائی، جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار روزہ کھولتا ہے، عشاء تہائی رات میں پڑھائی، اور فجر اجالے میں پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! یہی وقت آپ سے پہلے انبیاء کا بھی رہا ہے، اور نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے ۴؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني عبد الرحمن بن فلان بن ابي ربيعة، - قال ابو داود هو عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن ابي ربيعة - عن حكيم بن حكيم، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امني جبريل عليه السلام عند البيت مرتين فصلى بي الظهر حين زالت الشمس وكانت قدر الشراك وصلى بي العصر حين كان ظله مثله وصلى بي - يعني المغرب - حين افطر الصايم وصلى بي العشاء حين غاب الشفق وصلى بي الفجر حين حرم الطعام والشراب على الصايم فلما كان الغد صلى بي الظهر حين كان ظله مثله وصلى بي العصر حين كان ظله مثليه وصلى بي المغرب حين افطر الصايم وصلى بي العشاء الى ثلث الليل وصلى بي الفجر فاسفر ثم التفت الى فقال يا محمد هذا وقت الانبياء من قبلك والوقت ما بين هذين الوقتين
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے عصر میں کچھ تاخیر کر دی، اس پر عروہ بن زبیر نے آپ سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کا وقت بتا دیا ہے؟ تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو اسے سوچ لو ۱؎۔ عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود کو کہتے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جبرائیل علیہ السلام اترے، انہوں نے مجھے اوقات نماز کی خبر دی، چنانچہ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ اپنی انگلیوں پر پانچوں ( وقت کی ) نماز کو شمار کرتے جا رہے تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سورج ڈھلتے ہی ظہر پڑھی، اور جب کبھی گرمی شدید ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دیر کر کے پڑھتے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر اس وقت پڑھتے دیکھا جب سورج بالکل بلند و سفید تھا، اس میں زردی نہیں آئی تھی کہ آدمی عصر سے فارغ ہو کر ذوالحلیفہ ۲؎ آتا، تو سورج ڈوبنے سے پہلے وہاں پہنچ جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب سورج ڈوبتے ہی پڑھتے اور عشاء اس وقت پڑھتے جب آسمان کے کناروں میں سیاہی آ جاتی، اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء میں دیر کرتے تاکہ لوگ اکٹھا ہو جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فجر غلس ( اندھیرے ) میں پڑھی، اور دوسری مرتبہ آپ نے اس میں اسفار ۳؎ کیا یعنی خوب اجالے میں پڑھی، مگر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر ہمیشہ غلس میں پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کبھی اسفار میں نماز نہیں ادا کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث زہری سے: معمر، مالک، ابن عیینہ، شعیب بن ابوحمزہ، لیث بن سعد وغیرہم نے بھی روایت کی ہے لیکن ان سب نے ( اپنی روایت میں ) اس وقت کا ذکر نہیں کیا، جس میں آپ نے نماز پڑھی، اور نہ ہی ان لوگوں نے اس کی تفسیر کی ہے، نیز ہشام بن عروہ اور حبیب بن ابی مرزوق نے بھی عروہ سے اسی طرح روایت کی ہے جس طرح معمر اور ان کے اصحاب نے روایت کی ہے، مگر حبیب نے ( اپنی روایت میں ) بشیر کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور وہب بن کیسان نے جابر رضی اللہ عنہ سے، جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کے وقت کی روایت کی ہے، اس میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام دوسرے دن مغرب کے وقت سورج ڈوبنے کے بعد آئے یعنی دونوں دن ایک ہی وقت میں آئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل نے مجھے دوسرے دن مغرب ایک ہی وقت میں پڑھائی ۔ اسی طرح عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے یعنی حسان بن عطیہ کی حدیث جسے وہ عمرو بن شعیب سے، وہ ان کے والد سے، وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے، اور عبداللہ بن عمرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سائل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اوقات نماز کے بارے میں ) پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جب صبح صادق کی پو پھٹ گئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر اس وقت پڑھی جب آدمی اپنے ساتھ والے کا چہرہ ( اندھیرے کی وجہ سے ) نہیں پہچان سکتا تھا، یا آدمی کے پہلو میں جو شخص ہوتا اسے نہیں پہچان سکتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت اس وقت کہی جب آفتاب ڈھل گیا یہاں تک کہ کہنے والے نے کہا: ( ابھی تو ) ٹھیک دوپہر ہوئی ہے، اور آپ کو خوب معلوم تھا ( کہ زوال ہو چکا ہے ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی، اس وقت سورج بلند و سفید تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت سورج ڈوبنے پر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب شفق غائب ہو گئی، پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی اور نماز سے فارغ ہوئے، تو ہم لوگ کہنے لگے: کیا سورج نکل آیا؟ پھر ظہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت پڑھی جس وقت پہلے روز عصر پڑھی تھی اور عصر اس وقت پڑھی جب سورج زرد ہو گیا یا کہا: شام ہو گئی، اور مغرب شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی، اور عشاء اس وقت پڑھی جب تہائی رات گزر گئی، پھر فرمایا: کہاں ہے وہ شخص جو نماز کے اوقات پوچھ رہا تھا؟ نماز کا وقت ان دونوں کے بیچ میں ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے، عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے، جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کے بارے میں اسی طرح روایت کی ہے، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی ، بعض نے کہا: تہائی رات میں پڑھی ، بعض نے کہا: آدھی رات میں ، اور اسی طرح یہ حدیث ابن بریدہ نے اپنے والد ( بریدہ ) سے، بریدہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، حدثنا بدر بن عثمان، حدثنا ابو بكر بن ابي موسى، عن ابي موسى، ان سايلا، سال النبي صلى الله عليه وسلم فلم يرد عليه شييا حتى امر بلالا فاقام للفجر حين انشق الفجر فصلى حين كان الرجل لا يعرف وجه صاحبه او ان الرجل لا يعرف من الى جنبه ثم امر بلالا فاقام الظهر حين زالت الشمس حتى قال القايل انتصف النهار . وهو اعلم ثم امر بلالا فاقام العصر والشمس بيضاء مرتفعة وامر بلالا فاقام المغرب حين غابت الشمس وامر بلالا فاقام العشاء حين غاب الشفق فلما كان من الغد صلى الفجر وانصرف فقلنا اطلعت الشمس فاقام الظهر في وقت العصر الذي كان قبله وصلى العصر وقد اصفرت الشمس - او قال امسى - وصلى المغرب قبل ان يغيب الشفق وصلى العشاء الى ثلث الليل ثم قال " اين السايل عن وقت الصلاة الوقت فيما بين هذين " . قال ابو داود رواه سليمان بن موسى عن عطاء عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم في المغرب بنحو هذا قال ثم صلى العشاء قال بعضهم الى ثلث الليل وقال بعضهم الى شطره . وكذلك رواه ابن بريدة عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ عصر کا وقت نہ آ جائے، عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ سورج زرد نہ ہو جائے، مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ شفق کی سرخی ختم نہ ہو جائے، عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے، اور فجر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ سورج نہ نکل آئے ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن قتادة، سمع ابا ايوب، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " وقت الظهر ما لم تحضر العصر ووقت العصر ما لم تصفر الشمس ووقت المغرب ما لم يسقط فور الشفق ووقت العشاء الى نصف الليل ووقت صلاة الفجر ما لم تطلع الشمس
محمد بن عمرو سے روایت ہے (اور وہ حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے لڑکے ہیں) وہ کہتے ہیں کہ ہم نے جابر رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اوقات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سورج ڈھل جانے پر پڑھتے تھے، عصر ایسے وقت پڑھتے کہ سورج زندہ رہتا، مغرب سورج ڈوب جانے پر پڑھتے، اور عشاء اس وقت جلدی ادا کرتے جب آدمی زیادہ ہوتے، اور جب کم ہوتے تو دیر سے پڑھتے، اور فجر غلس ( اندھیرے ) میں پڑھتے تھے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن محمد بن عمرو، - وهو ابن الحسن بن علي بن ابي طالب - قال - سالنا جابرا عن وقت، صلاة النبي صلى الله عليه وسلم فقال كان يصلي الظهر بالهاجرة والعصر والشمس حية والمغرب اذا غربت الشمس والعشاء اذا كثر الناس عجل واذا قلوا اخر والصبح بغلس
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سورج ڈھل جانے پر پڑھتے اور عصر اس وقت پڑھتے کہ ہم میں سے کوئی آدمی مدینہ کے آخری کنارے پر جا کر وہاں سے لوٹ آتا، اور سورج زندہ رہتا ( یعنی صاف اور تیز رہتا ) اور مغرب کو میں بھول گیا، اور عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، پھر انہوں نے کہا: آدھی رات تک مؤخر کرنے میں ( کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ) فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے ۱؎ کو اور عشاء کے بعد بات چیت کو برا جانتے تھے ۲؎، اور فجر پڑھتے اور حال یہ ہوتا کہ ہم میں سے ایک اپنے اس ساتھی کو جسے وہ اچھی طرح جانتا ہوتا، اندھیرے کی وجہ سے پہچان نہیں پاتا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساٹھ آیتوں سے لے کر سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي المنهال، عن ابي برزة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الظهر اذا زالت الشمس ويصلي العصر وان احدنا ليذهب الى اقصى المدينة ويرجع والشمس حية ونسيت المغرب وكان لا يبالي تاخير العشاء الى ثلث الليل . قال ثم قال الى شطر الليل . قال وكان يكره النوم قبلها والحديث بعدها وكان يصلي الصبح وما يعرف احدنا جليسه الذي كان يعرفه وكان يقرا فيها من الستين الى الماية
حدثنا احمد بن حنبل، ومسدد، قالا حدثنا عباد بن عباد، حدثنا محمد بن عمرو، عن سعيد بن الحارث الانصاري، عن جابر بن عبد الله، قال كنت اصلي الظهر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخذ قبضة من الحصى لتبرد في كفي اضعها لجبهتي اسجد عليها لشدة الحر
حدثنا احمد بن حنبل، ومسدد، قالا حدثنا عباد بن عباد، حدثنا محمد بن عمرو، عن سعيد بن الحارث الانصاري، عن جابر بن عبد الله، قال كنت اصلي الظهر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخذ قبضة من الحصى لتبرد في كفي اضعها لجبهتي اسجد عليها لشدة الحر
اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( نماز ظہر ) کا اندازہ گرمی میں تین قدم سے پانچ قدم تک اور جاڑے میں پانچ قدم سے سات قدم تک تھا ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبيدة بن حميد، عن ابي مالك الاشجعي، سعد بن طارق عن كثير بن مدرك، عن الاسود، ان عبد الله بن مسعود، قال كانت قدر صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصيف ثلاثة اقدام الى خمسة اقدام وفي الشتاء خمسة اقدام الى سبعة اقدام
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، اخبرني ابو الحسن، - قال ابو داود ابو الحسن هو مهاجر - قال سمعت زيد بن وهب، يقول سمعت ابا ذر، يقول كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فاراد الموذن ان يوذن الظهر فقال " ابرد " . ثم اراد ان يوذن فقال " ابرد " . مرتين او ثلاثا حتى راينا فىء التلول ثم قال " ان شدة الحر من فيح جهنم فاذا اشتد الحر فابردوا بالصلاة
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، اخبرني ابو الحسن، - قال ابو داود ابو الحسن هو مهاجر - قال سمعت زيد بن وهب، يقول سمعت ابا ذر، يقول كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فاراد الموذن ان يوذن الظهر فقال " ابرد " . ثم اراد ان يوذن فقال " ابرد " . مرتين او ثلاثا حتى راينا فىء التلول ثم قال " ان شدة الحر من فيح جهنم فاذا اشتد الحر فابردوا بالصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈی کر کے پڑھو، ( ابن موہب کی روایت میں «فأبردوا عن الصلاة» کے بجائے «فأبردوا بالصلاة» ہے ) ، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۱؎۔
حدثنا يزيد بن خالد بن موهب الهمداني، وقتيبة بن سعيد الثقفي، ان الليث، حدثهم عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اشتد الحر فابردوا عن الصلاة " . قال ابن موهب " بالصلاة فان شدة الحر من فيح جهنم
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، ان بلالا، كان يوذن الظهر اذا دحضت الشمس
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج سفید، بلند اور زندہ ہوتا تھا، اور جانے والا ( عصر پڑھ کر ) عوالی مدینہ تک جاتا اور سورج بلند رہتا تھا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، انه اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر والشمس بيضاء مرتفعة حية ويذهب الذاهب الى العوالي والشمس مرتفعة
زہری کا بیان ہے کہ عوالی مدینہ سے دو یا تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ راوی کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے چار میل بھی کہا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، قال والعوالي على ميلين او ثلاثة . قال واحسبه قال او اربعة
خیثمہ کہتے ہیں کہ سورج کے زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کی تپش اور گرمی محسوس کرو۔
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جرير، عن منصور، عن خيثمة، قال حياتها ان تجد، حرها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ دھوپ میرے کمرے میں ہوتی، ابھی دیواروں پر چڑھی نہ ہوتی۔
حدثنا القعنبي، قال قرات على مالك بن انس عن ابن شهاب، قال عروة ولقد حدثتني عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر والشمس في حجرتها قبل ان تظهر
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے تو دیکھا کہ آپ عصر کو مؤخر کرتے جب تک کہ سورج سفید اور صاف رہتا تھا۔
حدثنا محمد بن عبد الرحمن العنبري، حدثنا ابراهيم بن ابي الوزير، حدثنا محمد بن يزيد اليمامي، حدثني يزيد بن عبد الرحمن بن علي بن شيبان، عن ابيه، عن جده، علي بن شيبان قال قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة فكان يوخر العصر ما دامت الشمس بيضاء نقية
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے روز فرمایا: ہم کو انہوں نے ( یعنی کافروں نے ) نماز وسطیٰ ( یعنی عصر ) سے روکے رکھا، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو جہنم کی آگ سے بھر دے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، ويزيد بن هارون، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن عبيدة، عن علي، - رضى الله عنه - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم الخندق " حبسونا عن صلاة الوسطى صلاة العصر ملا الله بيوتهم وقبورهم نارا
قعقاع بن حکیم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابویونس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں اور کہا کہ جب تم آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» پر پہنچنا تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے مجھ سے اسے یوں لکھوایا: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» ۱؎ ۲؎، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي يونس، مولى عايشة - رضي الله عنها - انه قال امرتني عايشة ان اكتب لها مصحفا وقالت اذا بلغت هذه الاية فاذني { حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى } فلما بلغتها اذنتها فاملت على { حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين } ثم قالت عايشة سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم
حدثنا محمد بن سلمة المرادي، حدثنا ابن وهب، عن اسامة بن زيد الليثي، ان ابن شهاب، اخبره ان عمر بن عبد العزيز كان قاعدا على المنبر فاخر العصر شييا فقال له عروة بن الزبير اما ان جبريل صلى الله عليه وسلم قد اخبر محمدا صلى الله عليه وسلم بوقت الصلاة فقال له عمر اعلم ما تقول . فقال عروة سمعت بشير بن ابي مسعود يقول سمعت ابا مسعود الانصاري يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نزل جبريل صلى الله عليه وسلم فاخبرني بوقت الصلاة فصليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه " . يحسب باصابعه خمس صلوات فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الظهر حين تزول الشمس وربما اخرها حين يشتد الحر ورايته يصلي العصر والشمس مرتفعة بيضاء قبل ان تدخلها الصفرة فينصرف الرجل من الصلاة فياتي ذا الحليفة قبل غروب الشمس ويصلي المغرب حين تسقط الشمس ويصلي العشاء حين يسود الافق وربما اخرها حتى يجتمع الناس وصلى الصبح مرة بغلس ثم صلى مرة اخرى فاسفر بها ثم كانت صلاته بعد ذلك التغليس حتى مات ولم يعد الى ان يسفر . قال ابو داود وروى هذا الحديث عن الزهري معمر ومالك وابن عيينة وشعيب بن ابي حمزة والليث بن سعد وغيرهم لم يذكروا الوقت الذي صلى فيه ولم يفسروه وكذلك ايضا رواه هشام بن عروة وحبيب بن ابي مرزوق عن عروة نحو رواية معمر واصحابه الا ان حبيبا لم يذكر بشيرا وروى وهب بن كيسان عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم وقت المغرب قال ثم جاءه للمغرب حين غابت الشمس - يعني من الغد - وقتا واحدا . قال ابو داود وكذلك روي عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ثم صلى بي المغرب يعني من الغد وقتا واحدا وكذلك روي عن عبد الله بن عمرو بن العاص من حديث حسان بن عطية عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم