Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دوپہر کو پڑھا کرتے تھے، اور کوئی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر اس سے زیادہ سخت نہ ہوتی تھی، تو یہ آیت نازل ہوئی: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» ۱؎ زید نے کہا: بیشک اس سے پہلے دو نماز ہیں ( ایک عشاء کی، دوسری فجر کی ) اور اس کے بعد دو نماز ہیں ( ایک عصر کی دوسری مغرب کی ) ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثني محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، حدثني عمرو بن ابي حكيم، قال سمعت الزبرقان، يحدث عن عروة بن الزبير، عن زيد بن ثابت، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الظهر بالهاجرة ولم يكن يصلي صلاة اشد على اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم منها فنزلت { حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى } وقال " ان قبلها صلاتين وبعدها صلاتين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز عصر پالی، اور جس شخص نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز فجر پالی ۱؎۔
حدثنا الحسن بن الربيع، حدثني ابن المبارك، عن معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ادرك من العصر ركعة قبل ان تغرب الشمس فقد ادرك ومن ادرك من الفجر ركعة قبل ان تطلع الشمس فقد ادرك
علاء بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم ظہر کے بعد انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ عصر پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے نماز کے جلدی ہونے کا ذکر کیا یا خود انہوں نے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ منافقوں کی نماز ہے کہ آدمی بیٹھا رہے یہاں تک کہ جب سورج زرد ہو جائے اور وہ شیطان کی دونوں سینگوں کے بیچ ہو جائے یا اس کی دونوں سینگوں پر ہو جائے ۱؎تو اٹھے اور چار ٹھونگیں لگا لے اور اس میں اللہ کا ذکر صرف تھوڑا سا کرے ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن العلاء بن عبد الرحمن، انه قال دخلنا على انس بن مالك بعد الظهر فقام يصلي العصر فلما فرغ من صلاته ذكرنا تعجيل الصلاة او ذكرها فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " تلك صلاة المنافقين تلك صلاة المنافقين تلك صلاة المنافقين يجلس احدهم حتى اذا اصفرت الشمس فكانت بين قرنى شيطان او على قرنى الشيطان قام فنقر اربعا لا يذكر الله فيها الا قليلا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی عصر چھوٹ گئی گویا اس کے اہل و عیال تباہ ہو گئے اور اس کے مال و اسباب لٹ گئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبیداللہ بن عمر نے «وتر» ( واؤ کے ساتھ ) کے بجائے «أتر» ( ہمزہ کے ساتھ ) کہا ہے ( دونوں کے معنی ہیں: لوٹ لیے گئے ) ۔ اس حدیث میں «وتر» اور «أتر» کا اختلاف ایوب کے تلامذہ میں ہوا ہے۔ اور زہری نے سالم سے، سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور عبداللہ بن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے «وتر» فرمایا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الذي تفوته صلاة العصر فكانما وتر اهله وماله " . قال ابو داود وقال عبيد الله بن عمر " اتر " . واختلف على ايوب فيه وقال الزهري عن سالم عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " وتر
ابوعمرو یعنی اوزاعی کا بیان ہے کہ عصر فوت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر جو دھوپ ہے وہ تمہیں زرد نظر آنے لگے۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الوليد، قال قال ابو عمرو يعني الاوزاعي وذلك ان ترى، ما على الارض من الشمس صفراء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھتے تھے، پھر تیر مارتے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا۔
حدثنا داود بن شبيب، حدثنا حماد، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، قال كنا نصلي المغرب مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم نرمي فيرى احدنا موضع نبله
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب سورج ڈوبتے ہی پڑھتے تھے جب اس کے اوپر کا کنارہ غائب ہو جاتا۔
حدثنا عمرو بن علي، عن صفوان بن عيسى، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي المغرب ساعة تغرب الشمس اذا غاب حاجبها
مرثد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ جب ابوایوب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس جہاد کے ارادے سے آئے، ان دنوں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مصر کے حاکم تھے، تو عقبہ نے مغرب میں دیر کی، ابوایوب نے کھڑے ہو کر ان سے کہا: عقبہ! بھلا یہ کیا نماز ہے؟ عقبہ نے کہا: ہم مشغول رہے، انہوں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ: میری امت ہمیشہ بھلائی یا فطرت پر رہے گی جب تک وہ مغرب میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ ستارے چمکنے لگ جائیں ۔
حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا محمد بن اسحاق، حدثني يزيد بن ابي حبيب، عن مرثد بن عبد الله، قال لما قدم علينا ابو ايوب غازيا وعقبة بن عامر يوميذ على مصر فاخر المغرب فقام اليه ابو ايوب فقال له ما هذه الصلاة يا عقبة فقال شغلنا . قال اما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تزال امتي بخير - او قال على الفطرة - ما لم يوخروا المغرب الى ان تشتبك النجوم
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ اس نماز یعنی عشاء کے وقت کو جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز تیسری رات کا چاند ڈوب جانے کے وقت پڑھتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن بشير بن ثابت، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، قال انا اعلم الناس، بوقت هذه الصلاة صلاة العشاء الاخرة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصليها لسقوط القمر لثالثة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک رات ہم عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا انتظار کرتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف لائے جب تہائی رات یا اس سے زیادہ گزر گئی، ہم نہیں جانتے کہ کسی چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشغول کر رکھا تھا یا کوئی اور بات تھی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تو فرمایا: کیا تم لوگ اس نماز کا انتظار کر رہے ہو؟ اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا تو میں انہیں یہ نماز اسی وقت پڑھاتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے نماز کے لیے تکبیر کہی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن الحكم، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، قال مكثنا ذات ليلة ننتظر رسول الله صلى الله عليه وسلم لصلاة العشاء فخرج الينا حين ذهب ثلث الليل او بعده فلا ندري اشىء شغله ام غير ذلك فقال حين خرج " اتنتظرون هذه الصلاة لولا ان تثقل على امتي لصليت بهم هذه الساعة " . ثم امر الموذن فاقام الصلاة
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عشاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا لیکن آپ نے تاخیر کی، یہاں تک کہ گمان کرنے والوں نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں نکلیں گے، اور ہم میں سے بعض کہنے والے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں، ہم اسی حال میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، لوگوں نے آپ سے بھی وہی بات کہی جو پہلے کہہ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم لوگ اس نماز کو دیر کر کے پڑھو، کیونکہ تمہیں اسی کی وجہ سے دوسری امتوں پر فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی ۔
حدثنا عمرو بن عثمان الحمصي، حدثنا ابي، حدثنا حريز، عن راشد بن سعد، عن عاصم بن حميد السكوني، انه سمع معاذ بن جبل، يقول ارتقبنا النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة العتمة فاخر حتى ظن الظان انه ليس بخارج والقايل منا يقول صلى فانا لكذلك حتى خرج النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا له كما قالوا فقال لهم " اعتموا بهذه الصلاة فانكم قد فضلتم بها على ساير الامم ولم تصلها امة قبلكم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھنی چاہی تو آپ باہر نکلے ہی نہیں یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی ( اس کے بعد نکلے ) اور فرمایا: تم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو، ہم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے نماز پڑھ لی اور اپنی خواب گاہوں میں جا کر سو رہے، اور تم برابر نماز ہی میں رہے جب تک کہ تم نماز کا انتظار کرتے رہے، اگر مجھے کمزور کی کمزوری، اور بیمار کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرتا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا داود بن ابي هند، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال صلينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة العتمة فلم يخرج حتى مضى نحو من شطر الليل فقال " خذوا مقاعدكم " . فاخذنا مقاعدنا فقال " ان الناس قد صلوا واخذوا مضاجعهم وانكم لن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة ولولا ضعف الضعيف وسقم السقيم لاخرت هذه الصلاة الى شطر الليل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز صبح ( فجر ) ادا فرماتے، پھر عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی واپس لوٹتیں تو اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، - رضى الله عنها - انها قالت ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي الصبح فينصرف النساء متلفعات بمروطهن ما يعرفن من الغلس
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر ( نماز صبح ) اس وقت پڑھو جب اچھی طرح صبح ( صادق ) ہو جائے، کیونکہ یہ چیز تمہارے ثوابوں کو زیادہ کرنے والی ہے ( یا کہا: ثواب کو زیادہ کرنے والی ہے ) ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل، حدثنا سفيان، عن ابن عجلان، عن عاصم بن عمر بن قتادة بن النعمان، عن محمود بن لبيد، عن رافع بن خديج، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصبحوا بالصبح فانه اعظم لاجوركم " . او " اعظم للاجر
عبداللہ بن صنابحی نے کہا کہ ابومحمد کا کہنا ہے کہ وتر واجب ہے تو اس پر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: ابومحمد نے غلط کہا ۱؎، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ نے پانچ نماز فرض کی ہیں، جو شخص ان کے لیے اچھی طرح وضو کرے گا، اور انہیں ان کے وقت پر ادا کرے گا، ان کے رکوع و سجود کو پورا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کا اس سے وعدہ ہے کہ اسے بخش دے گا، اور جو ایسا نہیں کرے گا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں چاہے تو اس کو بخش دے، چاہے تو عذاب دے ۔
حدثنا محمد بن حرب الواسطي، حدثنا يزيد، - يعني ابن هارون - حدثنا محمد بن مطرف، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله بن الصنابحي، قال زعم ابو محمد ان الوتر، واجب، فقال عبادة بن الصامت كذب ابو محمد اشهد اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " خمس صلوات افترضهن الله تعالى من احسن وضوءهن وصلاهن لوقتهن واتم ركوعهن وخشوعهن كان له على الله عهد ان يغفر له ومن لم يفعل فليس له على الله عهد ان شاء غفر له وان شاء عذبه
ام فروہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا ۔ خزاعی کی روایت میں ہے کہ انہوں نے ( قاسم نے ) اپنی پھوپھی ( جنہیں ام فروہ کہا جاتا تھا اور جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ) سے روایت کی ہے، اس میں «سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم» کی بجائے «أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل» ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله الخزاعي، وعبد الله بن مسلمة، قالا حدثنا عبد الله بن عمر، عن القاسم بن غنام، عن بعض، امهاته عن ام فروة، قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم اى الاعمال افضل قال " الصلاة في اول وقتها " . قال الخزاعي في حديثه عن عمة له يقال لها ام فروة قد بايعت النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل
عمارہ بن رویبہ کہتے ہیں کہ اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: آپ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: وہ آدمی جہنم میں داخل نہ ہو گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی ، اس شخص نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ یہ جملہ اس نے تین بار کہا، انہوں نے کہا: ہاں، ہر بار وہ یہی کہتے تھے: میرے دونوں کانوں نے اسے سنا ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے، پھر اس شخص نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے فرماتے سنا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن اسماعيل بن ابي خالد، حدثنا ابو بكر بن عمارة بن رويبة، عن ابيه، قال ساله رجل من اهل البصرة فقال اخبرني ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يلج النار رجل صلى قبل طلوع الشمس وقبل ان تغرب " . قال انت سمعته منه ثلاث مرات . قال نعم . كل ذلك يقول سمعته اذناى ووعاه قلبي . فقال الرجل وانا سمعته صلى الله عليه وسلم يقول ذلك
فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو باتیں سکھائیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ پانچوں نماز پر محافظت کرو، میں نے کہا: یہ ایسے اوقات ہیں جن میں مجھے بہت کام ہوتے ہیں، آپ مجھے ایسا جامع کام کرنے کا حکم دیجئیے کہ جب میں اس کو کروں تو وہ مجھے کافی ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عصرین پر محافظت کرو ، عصرین کا لفظ ہماری زبان میں مروج نہ تھا، اس لیے میں نے پوچھا: عصرین کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو نماز: ایک سورج نکلنے سے پہلے، اور ایک سورج ڈوبنے سے پہلے ( فجر اور عصر ) ۱؎۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا خالد، عن داود بن ابي هند، عن ابي حرب بن ابي الاسود، عن عبد الله بن فضالة، عن ابيه، قال علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان فيما علمني " وحافظ على الصلوات الخمس " . قال قلت ان هذه ساعات لي فيها اشغال فمرني بامر جامع اذا انا فعلته اجزا عني فقال " حافظ على العصرين " . وما كانت من لغتنا فقلت وما العصران فقال " صلاة قبل طلوع الشمس وصلاة قبل غروبها
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں ہیں، جو انہیں ایمان و یقین کے ساتھ ادا کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: جس نے وضو کے ساتھ ان پانچوں نماز کی، ان کے رکوع اور سجدوں کی اور ان کے اوقات کی محافظت کی، رمضان کے روزے رکھے، اور بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھنے کی صورت میں حج کیا، خوش دلی و رضا مندی کے ساتھ زکاۃ دی، اور امانت ادا کی ۔ لوگوں نے پوچھا: ابوالدرداء! امانت ادا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے کہا: اس سے مراد جنابت کا غسل کرنا ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحمن العنبري، حدثنا ابو علي الحنفي، عبيد الله بن عبد المجيد حدثنا عمران القطان، حدثنا قتادة، وابان، كلاهما عن خليد العصري، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمس من جاء بهن مع ايمان دخل الجنة من حافظ على الصلوات الخمس على وضويهن وركوعهن وسجودهن ومواقيتهن وصام رمضان وحج البيت ان استطاع اليه سبيلا واعطى الزكاة طيبة بها نفسه وادى الامانة " . قالوا يا ابا الدرداء وما اداء الامانة قال الغسل من الجنابة
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میں نے آپ کی امت پر پانچ ( وقت کی ) نماز فرض کی ہیں اور میری طرف سے یہ وعدہ ہے کہ جو ان کے وقتوں پر ان کی محافظت کرتے ہوئے میرے پاس آئے گا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جس نے ان کی محافظت نہیں کی، میرا اس سے کوئی وعدہ نہیں ۔
حدثنا حيوة بن شريح المصري، حدثنا بقية، عن ضبارة بن عبد الله بن ابي سليك الالهاني، اخبرني ابن نافع، عن ابن شهاب الزهري، قال قال سعيد بن المسيب ان ابا قتادة بن ربعي اخبره قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قال الله تعالى اني فرضت على امتك خمس صلوات وعهدت عندي عهدا انه من جاء يحافظ عليهن لوقتهن ادخلته الجنة ومن لم يحافظ عليهن فلا عهد له عندي