Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حاکم و سردار ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے؟ یا فرمایا: نماز کو تاخیر سے پڑھیں گے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس سلسلے میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز وقت پر پڑھ لو، پھر اگر تم ان کے ساتھ یہی نماز پاؤ تو ( دوبارہ ) پڑھ لیا کرو ۱؎، یہ تمہارے لیے نفل ہو گی ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن ابي عمران، - يعني الجوني - عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا ذر كيف انت اذا كانت عليك امراء يميتون الصلاة " . او قال " يوخرون الصلاة " . قلت يا رسول الله فما تامرني قال " صل الصلاة لوقتها فان ادركتها معهم فصلها فانها لك نافلة
عمرو بن میمون اودی کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر ہمارے پاس یمن آئے، میں نے فجر میں ان کی تکبیر سنی، وہ ایک بھاری آواز والے آدمی تھے، مجھ کو ان سے محبت ہو گئی، میں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میں نے ان کو شام میں دفن کیا، پھر میں نے غور کیا کہ ان کے بعد لوگوں میں سب سے بڑا فقیہ کون ہے؟ ( تو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ) چنانچہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے ساتھ چمٹا رہا یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حکمراں مسلط ہوں گے جو نماز کو وقت پر نہ پڑھیں گے؟ ، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ایسا وقت مجھے پائے تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اول وقت میں پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا ۱؎ ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، دحيم الدمشقي حدثنا الوليد، حدثنا الاوزاعي، حدثني حسان، - يعني ابن عطية - عن عبد الرحمن بن سابط، عن عمرو بن ميمون الاودي، قال قدم علينا معاذ بن جبل اليمن رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم الينا - قال - فسمعت تكبيره مع الفجر رجل اجش الصوت - قال - فالقيت عليه محبتي فما فارقته حتى دفنته بالشام ميتا ثم نظرت الى افقه الناس بعده فاتيت ابن مسعود فلزمته حتى مات فقال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف بكم اذا اتت عليكم امراء يصلون الصلاة لغير ميقاتها " . قلت فما تامرني ان ادركني ذلك يا رسول الله قال " صل الصلاة لميقاتها واجعل صلاتك معهم سبحة
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جنہیں وقت پر نماز پڑھنے سے بہت سی چیزیں غافل کر دیں گی یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جائے گا، لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھ لیا کرنا ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگر تم چاہو ۔ سفیان نے ( اپنی روایت میں ) یوں کہا ہے: اگر میں نماز ان کے ساتھ پاؤں تو ان کے ساتھ ( بھی ) پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم ان کے ساتھ ( بھی ) پڑھ لو اگر تم چاہو ۔
حدثنا محمد بن قدامة بن اعين، حدثنا جرير، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن ابي المثنى، عن ابن اخت، عبادة بن الصامت عن عبادة بن الصامت، ح وحدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا وكيع، عن سفيان، - المعنى - عن منصور، عن هلال بن يساف، عن ابي المثنى الحمصي، عن ابي ابى ابن امراة، عبادة بن الصامت عن عبادة بن الصامت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها ستكون عليكم بعدي امراء تشغلهم اشياء عن الصلاة لوقتها حتى يذهب وقتها فصلوا الصلاة لوقتها " . فقال رجل يا رسول الله اصلي معهم قال " نعم ان شيت " . وقال سفيان ان ادركتها معهم ااصلي معهم قال " نعم ان شيت
قبیصہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو نماز تاخیر سے پڑھیں گے، یہ تمہارے لیے مفید ہو گی، اور ان کے حق میں غیر مفید، لہٰذا تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا جب تک وہ قبلہ رخ ہو کر پڑھیں ۱؎ ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا ابو هاشم، - يعني الزعفراني - حدثني صالح بن عبيد، عن قبيصة بن وقاص، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يكون عليكم امراء من بعدي يوخرون الصلاة فهي لكم وهي عليهم فصلوا معهم ما صلوا القبلة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت غزوہ خیبر سے لوٹے تو رات میں چلتے رہے، یہاں تک کہ جب ہمیں نیند آنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخیر رات میں پڑاؤ ڈالا، اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”(تم جاگتے رہنا) اور رات میں ہماری نگہبانی کرنا“، ابوہریرہ کہتے ہیں کہ بلال بھی سو گئے، وہ اپنی سواری سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نہ بلال رضی اللہ عنہ، اور نہ آپ کے اصحاب میں سے کوئی اور ہی، یہاں تک کہ جب ان پر دھوپ پڑی تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر بیدار ہوئے اور فرمایا: ”اے بلال!“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی اسی چیز نے گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، پھر وہ لوگ اپنی سواریاں ہانک کر آگے کچھ دور لے گئے ۱؎، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز پڑھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب بھی یاد آئے اسے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نماز قائم کرو جب یاد آئے“۔ یونس کہتے ہیں: ابن شہاب اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے (یعنی «للذكرى» لیکن مشہور قرأت: «أقم الصلاة للذكرى» (سورۃ طہٰ: ۱۴) ہے)۔ احمد کہتے ہیں: عنبسہ نے یونس سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث میں «للذكرى» کہا ہے۔ احمد کہتے ہیں: «الكرى» «نعاس» (اونگھ) کو کہتے ہیں
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قفل من غزوة خيبر فسار ليلة حتى اذا ادركنا الكرى عرس وقال لبلال " اكلا لنا الليل " . قال فغلبت بلالا عيناه وهو مستند الى راحلته فلم يستيقظ النبي صلى الله عليه وسلم ولا بلال ولا احد من اصحابه حتى اذا ضربتهم الشمس فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اولهم استيقاظا ففزع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا بلال " . فقال اخذ بنفسي الذي اخذ بنفسك بابي انت وامي يا رسول الله فاقتادوا رواحلهم شييا ثم توضا النبي صلى الله عليه وسلم وامر بلالا فاقام لهم الصلاة وصلى بهم الصبح فلما قضى الصلاة قال " من نسي صلاة فليصلها اذا ذكرها فان الله تعالى قال { اقم الصلاة للذكرى } " . قال يونس وكان ابن شهاب يقروها كذلك . قال احمد قال عنبسة - يعني عن يونس - في هذا الحديث لذكري . وقال احمد الكرى النعاس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اس جگہ سے جہاں تمہیں یہ غفلت لاحق ہوئی ہے کوچ کر چلو ، وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان ۱؎ دی اور تکبیر کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مالک، سفیان بن عیینہ، اوزاعی اور عبدالرزاق نے معمر اور ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، مگر ان میں سے کسی نے بھی زہری کی اس حدیث میں اذان ۲؎ کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز ان میں سے کسی نے اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ہے سوائے اوزاعی اور ابان عطار کے، جنہوں نے اسے معمر سے روایت کیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، في هذا الخبر قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تحولوا عن مكانكم الذي اصابتكم فيه الغفلة " . قال فامر بلالا فاذن واقام وصلى . قال ابو داود رواه مالك وسفيان بن عيينة والاوزاعي وعبد الرزاق عن معمر وابن اسحاق لم يذكر احد منهم الاذان في حديث الزهري هذا ولم يسنده منهم الا الاوزاعي وابان العطار عن معمر
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، تو آپ ایک طرف مڑے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرف مڑ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو، ( یہ کون آ رہے ہیں ) ؟ ، اس پر میں نے کہا: یہ ایک سوار ہے، یہ دو ہیں، یہ تین ہیں، یہاں تک کہ ہم سات ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہماری نماز کا ( یعنی نماز فجر کا ) خیال رکھنا ، اس کے بعد انہیں نیند آ گئی اور وہ ایسے سوئے کہ انہیں سورج کی تپش ہی نے بیدار کیا، چنانچہ لوگ اٹھے اور تھوڑی دور چلے، پھر سواری سے اترے اور وضو کیا، بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو سب نے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں، پھر دو رکعت فرض ادا کی، اور سوار ہو کر آپس میں کہنے لگے: ہم نے اپنی نماز میں کوتاہی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سو جانے میں کوئی کوتاہی اور قصور نہیں ہے، کوتاہی اور قصور تو جاگنے کی حالت میں ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز بھول جائے تو جس وقت یاد آئے اسے پڑھ لے اور دوسرے دن اپنے وقت پر پڑھے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت البناني، عن عبد الله بن رباح الانصاري، حدثنا ابو قتادة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في سفر له فمال رسول الله صلى الله عليه وسلم وملت معه فقال " انظر " . فقلت هذا راكب هذان راكبان هولاء ثلاثة حتى صرنا سبعة . فقال " احفظوا علينا صلاتنا " . يعني صلاة الفجر فضرب على اذانهم فما ايقظهم الا حر الشمس فقاموا فساروا هنية ثم نزلوا فتوضيوا واذن بلال فصلوا ركعتى الفجر ثم صلوا الفجر وركبوا فقال بعضهم لبعض قد فرطنا في صلاتنا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انه لا تفريط في النوم انما التفريط في اليقظة فاذا سها احدكم عن صلاة فليصلها حين يذكرها ومن الغد للوقت
خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ مدینہ سے عبداللہ بن رباح انصاری جنہیں انصار مدینہ فقیہ کہتے تھے ہمارے پاس آئے اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ مجھ سے ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار تھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجا ( اور پھر یہی قصہ بیان کیا ) ، اس میں ہے: تو سورج کے نکلنے ہی نے ہمیں جگایا، ہم گھبرائے ہوئے اپنی نماز کے لیے اٹھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، ٹھہرو، یہاں تک کہ جب سورج چڑھ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو لوگ فجر کی دو رکعت سنت پڑھا کرتے تھے پڑھ لیں ، چنانچہ جو لوگ سنت پڑھا کرتے تھے اور جو نہیں پڑھتے تھے، سبھی سنت پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور سبھوں نے دو رکعت سنت ادا کی، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے اذان دینے کا حکم فرمایا، اذان دی گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم دنیا کے کسی کام میں نہیں پھنسے تھے، جس نے ہم کو نماز سے باز رکھا ہو، ہماری روحیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں، جب اس نے چاہا انہیں چھوڑا، تم میں سے جو شخص کل فجر ٹھیک وقت پر پائے وہ اس کے ساتھ ایسی ہی ایک اور نماز پڑھ لے ۔
حدثنا علي بن نصر، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا الاسود بن شيبان، حدثنا خالد بن سمير، قال قدم علينا عبد الله بن رباح الانصاري من المدينة وكانت الانصار تفقهه - فحدثنا قال حدثني ابو قتادة الانصاري فارس رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم جيش الامراء بهذه القصة . قال فلم توقظنا الا الشمس طالعة فقمنا وهلين لصلاتنا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " رويدا رويدا " . حتى اذا تعالت الشمس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان منكم يركع ركعتى الفجر فليركعهما " . فقام من كان يركعهما ومن لم يكن يركعهما فركعهما ثم امر رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينادى بالصلاة فنودي بها فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بنا فلما انصرف قال " الا انا نحمد الله انا لم نكن في شىء من امور الدنيا يشغلنا عن صلاتنا ولكن ارواحنا كانت بيد الله عز وجل فارسلها انى شاء فمن ادرك منكم صلاة الغداة من غد صالحا فليقض معها مثلها
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یوں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا روکے رکھا، اور جب چاہا انہیں چھوڑ دیا، تم اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو ، چنانچہ سب اٹھے اور سب نے وضو کیا یہاں تک کہ جب سورج چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا خالد، عن حصين، عن ابن ابي قتادة، عن ابي قتادة، في هذا الخبر قال فقال " ان الله قبض ارواحكم حيث شاء وردها حيث شاء قم فاذن بالصلاة " . فقاموا فتطهروا حتى اذا ارتفعت الشمس قام النبي صلى الله عليه وسلم فصلى بالناس
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں ہے: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا جس وقت سورج چڑھ گیا پھر انہیں نماز پڑھائی ۔
حدثنا هناد، حدثنا عبثر، عن حصين، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه قال فتوضا حين ارتفعت الشمس فصلى بهم
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سو جانے میں کوتاہی نہیں ہے، بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ تم جاگتے ہوئے کسی نماز میں اس قدر دیر کر دو کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے ۔
حدثنا العباس العنبري، حدثنا سليمان بن داود، - وهو الطيالسي - حدثنا سليمان، - يعني ابن المغيرة - عن ثابت، عن عبد الله بن رباح، عن ابي قتادة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس في النوم تفريط انما التفريط في اليقظة ان توخر صلاة حتى يدخل وقت اخرى
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے، یہی اس کا کفارہ ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کفارہ نہیں ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا همام، عن قتادة، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من نسي صلاة فليصلها اذا ذكرها لا كفارة لها الا ذلك
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کہ لوگ نماز فجر میں سوئے رہ گئے، سورج کی گرمی سے وہ بیدار ہوئے تو تھوڑی دور چلے یہاں تک کہ سورج چڑھ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے اذان دی تو آپ نے فجر ( کی فرض نماز ) سے پہلے دو رکعت سنت پڑھی، پھر ( مؤذن نے ) تکبیر کہی اور آپ نے فجر پڑھائی۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن يونس بن عبيد، عن الحسن، عن عمران بن حصين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في مسير له فناموا عن صلاة الفجر فاستيقظوا بحر الشمس فارتفعوا قليلا حتى استقلت الشمس ثم امر موذنا فاذن فصلى ركعتين قبل الفجر ثم اقام ثم صلى الفجر
عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ فجر میں سوئے رہ گئے، یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے اور فرمایا: اس جگہ سے کوچ کر چلو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی پھر لوگوں نے وضو کیا اور فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فجر پڑھائی۔
حدثنا عباس العنبري، ح وحدثنا احمد بن صالح، - وهذا لفظ عباس - ان عبد، الله بن يزيد حدثهم عن حيوة بن شريح عن عياش بن عباس - يعني القتباني - ان كليب بن صبح حدثهم ان الزبرقان حدثه عن عمه عمرو بن امية الضمري قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره فنام عن الصبح حتى طلعت الشمس فاستيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " تنحوا عن هذا المكان " . قال ثم امر بلالا فاذن ثم توضيوا وصلوا ركعتى الفجر ثم امر بلالا فاقام الصلاة فصلى بهم صلاة الصبح
ذی مخبر حبشی رضی اللہ عنہ (خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے اس واقعے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اتنے پانی سے ) وضو کیا کہ مٹی اس سے بھیگ نہیں سکی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے دو رکعتیں ادا کیں، پھر بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: نماز کے لیے تکبیر کہو تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کیا۔ حجاج کی روایت میں «عن يزيد بن صليح حدثني ذو مخبر رجل من الحبشة» ہے اور عبید کی روایت میں «يزيد بن صليح» کے بجائے «يزيد بن صالح.» ہے۔
حدثنا ابراهيم بن الحسن، حدثنا حجاج، - يعني ابن محمد - حدثنا حريز، ح وحدثنا عبيد بن ابي الوزير، حدثنا مبشر، - يعني الحلبي - حدثنا حريز، - يعني ابن عثمان - حدثني يزيد بن صالح، عن ذي، مخبر الحبشي وكان يخدم النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الخبر قال فتوضا - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - وضوءا لم يلث منه التراب ثم امر بلالا فاذن ثم قام النبي صلى الله عليه وسلم فركع ركعتين غير عجل ثم قال لبلال " اقم الصلاة " . ثم صلى الفرض وهو غير عجل . قال عن حجاج عن يزيد بن صليح حدثني ذو مخبر رجل من الحبشة وقال عبيد يزيد بن صالح
اس سند سے بھی ذی مخبر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے بغیر جلد بازی کے ٹھہر ٹھہر کر اذان دی۔
حدثنا مومل بن الفضل، حدثنا الوليد، عن حريز، - يعني ابن عثمان - عن يزيد بن صالح، عن ذي، مخبر بن اخي النجاشي في هذا الخبر قال فاذن وهو غير عجل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم صلح حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، آپ نے فرمایا: رات میں ہماری نگرانی کون کرے گا؟ ، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، پھر لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ویسے ہی کرو جیسے کیا کرتے تھے ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہم لوگوں نے ویسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی سو جائے یا ( نماز پڑھنی ) بھول جائے تو وہ اسی طرح کرے ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن جامع بن شداد، سمعت عبد الرحمن بن ابي علقمة، سمعت عبد الله بن مسعود، قال اقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يكلونا " . فقال بلال انا . فناموا حتى طلعت الشمس فاستيقظ النبي صلى الله عليه وسلم فقال " افعلوا كما كنتم تفعلون " . قال ففعلنا . قال " فكذلك فافعلوا لمن نام او نسي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسجدوں کے بلند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تم مسجدیں اسی طرح سجاؤ گے جس طرح یہود و نصاریٰ سجاتے تھے۔
حدثنا محمد بن الصباح بن سفيان، اخبرنا سفيان بن عيينة، عن سفيان الثوري، عن ابي فزارة، عن يزيد بن الاصم، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما امرت بتشييد المساجد " . قال ابن عباس لتزخرفنها كما زخرفت اليهود والنصارى
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر و مباہات نہ کرنے لگیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله الخزاعي، حدثنا حماد بن سلمة، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس، وقتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى يتباهى الناس في المساجد
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طائف کی مسجد ایسی جگہ بنانے کا حکم دیا، جہاں طائف والوں کے بت تھے۔
حدثنا رجاء بن المرجى، حدثنا ابو همام الدلال، محمد بن محبب حدثنا سعيد بن السايب، عن محمد بن عبد الله بن عياض، عن عثمان بن ابي العاص، ان النبي صلى الله عليه وسلم امره ان يجعل مسجد الطايف حيث كان طواغيتهم