Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھی، مجاہد کہتے ہیں: اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا، البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ کیا، اور اس کی تعمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی بنیادوں کے مطابق کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے کی اور اس کے ستون بھی نئی لکڑی کے لگائے، مجاہد کی روایت میں «عمده خشبا» کے الفاظ ہیں، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی عمارت میں تبدیلی کی اور اس میں بہت سارے اضافے کئے، اس کی دیواریں منقش پتھروں اور گچ ( چونا ) سے بنوائیں، اس کے ستون منقش پتھروں کے بنوائے اور اس کی چھت ساگوان کی لکڑی کی بنوائی۔ مجاہد کی روایت میں «وسقفه الساج» کے بجائے «وسقفه بالساج» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث میں مذکور ( «قصة» ) کے معنی گچ کے ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، ومجاهد بن موسى، - وهو اتم - قالا حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، حدثنا نافع، ان عبد الله بن عمر، اخبره ان المسجد كان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مبنيا باللبن والجريد - قال مجاهد وعمده من خشب النخل - فلم يزد فيه ابو بكر شييا وزاد فيه عمر وبناه على بنايه في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم باللبن والجريد واعاد عمده - قال مجاهد عمده خشبا - وغيره عثمان فزاد فيه زيادة كثيرة وبنى جداره بالحجارة المنقوشة والقصة وجعل عمده من حجارة منقوشة وسقفه بالساج . قال مجاهد وسقفه الساج . قال ابو داود القصة الجص
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، اس کے اوپر کھجور کی شاخوں سے سایہ کر دیا گیا تھا، پھر وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بوسیدہ ہو گئی تو انہوں نے اس کو کھجور کے تنوں اور اس کی ٹہنیوں سے بنوایا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وہ بھی بوسیدہ ہو گئی تو انہوں نے اسے پکی اینٹوں سے بنوا دیا، جو اب تک باقی ہے۔
حدثنا محمد بن حاتم، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن شيبان، عن فراس، عن عطية، عن ابن عمر، ان مسجد النبي، صلى الله عليه وسلم كانت سواريه على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم من جذوع النخل اعلاه مظلل بجريد النخل ثم انها نخرت في خلافة ابي بكر فبناها بجذوع النخل وبجريد النخل ثم انها نخرت في خلافة عثمان فبناها بالاجر فلم تزل ثابتة حتى الان
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ شہر کے بالائی حصہ میں ایک محلہ میں اترے، جسے بنی عمرو بن عوف کا محلہ کہا جاتا تھا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چودہ دن تک قیام پذیر رہے، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے آئے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنو نجار کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہیں یہاں تک کہ آپ ابوایوب رضی اللہ عنہ کے مکان کے صحن میں اترے، جس جگہ نماز کا وقت آ جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے، بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کا حکم فرمایا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا، ( وہ آئے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے بنو نجار! تم مجھ سے اپنے اس باغ کی قیمت لے لو ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت اللہ ہی سے چاہتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس باغ میں جو چیزیں تھیں وہ میں تمہیں بتاتا ہوں: اس میں مشرکوں کی قبریں تھیں، ویران جگہیں، کھنڈرات اور کھجور کے درخت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا، مشرکوں کی قبریں کھود کر پھینک دی گئیں، ویران جگہیں اور کھنڈر ہموار کر دیئے گئے، کھجور کے درخت کاٹ ڈالے گئے، ان کی لکڑیاں مسجد کے قبلے کی طرف قطار سے لگا دی گئیں اور اس کے دروازے کی چوکھٹ کے دونوں بازو پتھروں سے بنائے گئے، لوگ پتھر اٹھاتے جاتے تھے اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے اور فرماتے تھے: «اللهم لا خير إلا خير الآخره فانصر الأنصار والمهاجره» اے اللہ! بھلائی تو دراصل آخرت کی بھلائی ہے تو تو انصار و مہاجرین کی مدد فرما۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن ابي التياح، عن انس بن مالك، قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة فنزل في علو المدينة في حى يقال لهم بنو عمرو بن عوف فاقام فيهم اربع عشرة ليلة ثم ارسل الى بني النجار فجاءوا متقلدين سيوفهم - فقال انس - فكاني انظر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم على راحلته وابو بكر ردفه وملا بني النجار حوله حتى القى بفناء ابي ايوب وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي حيث ادركته الصلاة ويصلي في مرابض الغنم وانه امر ببناء المسجد فارسل الى بني النجار فقال " يا بني النجار ثامنوني بحايطكم هذا " . فقالوا والله لا نطلب ثمنه الا الى الله عز وجل . قال انس وكان فيه ما اقول لكم كانت فيه قبور المشركين وكانت فيه خرب وكان فيه نخل فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقبور المشركين فنبشت وبالخرب فسويت وبالنخل فقطع فصفوا النخل قبلة المسجد وجعلوا عضادتيه حجارة وجعلوا ينقلون الصخر وهم يرتجزون والنبي صلى الله عليه وسلم معهم وهو يقول اللهم لا خير الا خير الاخره فانصر الانصار والمهاجره
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی جگہ پر قبیلہ بنو نجار کا ایک باغ تھا، اس میں کچھ کھیت، کچھ کھجور کے درخت اور مشرکوں کی قبریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: مجھ سے اس کی قیمت لے لو ، انہوں نے کہا: ہم اس کی قیمت نہیں چاہتے، تو کھجور کے درخت کاٹے گئے، کھیت برابر کئے گئے اور مشرکین کی قبریں کھدوائی گئیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، مگر اس حدیث میں لفظ «فانصر» کی جگہ لفظ «فاغفر» ہے ( یعنی اے اللہ! تو انصار و مہاجرین کو بخش دے ) ۔ موسیٰ نے کہا: ہم سے عبدالوارث نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اور عبدالوارث «خرث» کے بجائے «خرب» ( ویرانے ) کی روایت کرتے ہیں، عبدالوارث کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہی حماد سے یہ حدیث بیان کی ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي التياح، عن انس بن مالك، قال كان موضع المسجد حايطا لبني النجار فيه حرث ونخل وقبور المشركين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثامنوني به " . فقالوا لا نبغي به ثمنا . فقطع النخل وسوي الحرث ونبش قبور المشركين وساق الحديث وقال " فاغفر " . مكان " فانصر " . قال موسى وحدثنا عبد الوارث بنحوه وكان عبد الوارث يقول خرب وزعم عبد الوارث انه افاد حمادا هذا الحديث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر اور محلہ میں مسجدیں بنانے، انہیں پاک صاف رکھنے اور خوشبو سے بسانے کا حکم دیا ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا حسين بن علي، عن زايدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت امر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببناء المساجد في الدور وان تنظف وتطيب
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے ( سلیمان ) کو لکھا: حمد و صلاۃ کے بعد معلوم ہونا چاہیئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھروں اور محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں درست اور پاک و صاف رکھنے کا حکم دیتے تھے
حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثنا يحيى، - يعني ابن حسان - حدثنا سليمان بن موسى، حدثنا جعفر بن سعد بن سمرة، حدثني خبيب بن سليمان، عن ابيه، سليمان بن سمرة عن ابيه، سمرة انه كتب الى ابنه اما بعد فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يامرنا بالمساجد ان نصنعها في ديارنا ونصلح صنعتها ونطهرها
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بیت المقدس کے سلسلے میں ہمیں حکم دیجئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہاں جاؤ اور اس میں نماز پڑھو ، اس زمانے میں ان شہروں میں لڑائی پھیلی ہوئی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم وہاں نہ جا سکو اور نماز نہ پڑھ سکو تو تیل ہی بھیج دو کہ اس کی قندیلوں میں جلایا جا سکے ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا مسكين، عن سعيد بن عبد العزيز، عن زياد بن ابي سودة، عن ميمونة، مولاة النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت يا رسول الله افتنا في بيت المقدس فقال " ايتوه فصلوا فيه " . - وكانت البلاد اذ ذاك حربا - فان لم تاتوه وتصلوا فيه فابعثوا بزيت يسرج في قناديله
ابوالولید سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مسجد کی کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ایک رات بارش ہوئی، زمین گیلی ہو گئی تو لوگ اپنے کپڑوں میں کنکریاں لا لا کر اپنے نیچے بچھانے لگے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا: کتنا اچھا کام ہے یہ ۔
حدثنا سهل بن تمام بن بزيع، حدثنا عمر بن سليم الباهلي، عن ابي الوليد، سالت ابن عمر عن الحصى الذي، في المسجد فقال مطرنا ذات ليلة فاصبحت الارض مبتلة فجعل الرجل ياتي بالحصى في ثوبه فيبسطه تحته فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة قال " ما احسن هذا
ابوصالح کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا: جب آدمی کنکریوں کو مسجد سے نکالتا ہے تو وہ اسے قسم دلاتی ہیں ( کہ ہمیں نہ نکالو ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، ووكيع، قالا حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، قال كان يقال ان الرجل اذا اخرج الحصى من المسجد يناشده
ابوبدر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنکری اس شخص کو قسم دلاتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے ۔
حدثنا محمد بن اسحاق ابو بكر، - يعني الصاغاني - حدثنا ابو بدر، شجاع بن الوليد حدثنا شريك، حدثنا ابو حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، - قال ابو بدر - اراه قد رفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الحصاة لتناشد الذي يخرجها من المسجد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر میری امت کے ثواب پیش کئے گئے یہاں تک کہ وہ تنکا بھی جسے آدمی مسجد سے نکالتا ہے، اور مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے دیکھا کہ اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورت یا آیت یاد ہو پھر وہ اسے بھلا دے ۔
حدثنا عبد الوهاب بن عبد الحكم الخزاز، اخبرنا عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابي رواد، عن ابن جريج، عن المطلب بن عبد الله بن حنطب، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عرضت على اجور امتي حتى القذاة يخرجها الرجل من المسجد وعرضت على ذنوب امتي فلم ار ذنبا اعظم من سورة من القران او اية اوتيها رجل ثم نسيها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں ( تو بہتر ہے ) ۱؎۔ نافع کہتے ہیں: تو ابن عمر رضی اللہ عنہما تاحیات اس دروازے سے مسجد میں داخل نہیں ہوئے۔ عبدالوارث کے علاوہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے ) یہ عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا عبد الله بن عمر، وابو معمر حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو تركنا هذا الباب للنساء " . قال نافع فلم يدخل منه ابن عمر حتى مات . وقال غير عبد الوارث قال عمر وهو اصح
نافع سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی اور یہی زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن قدامة بن اعين، حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن نافع، قال قال عمر بن الخطاب - رضى الله عنه - فذكره بمعناه وهو اصح
نافع سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( مردوں کو ) عورتوں کے دروازہ سے داخل ہونے سے منع کرتے تھے۔
حدثنا قتيبة، - يعني ابن سعيد - حدثنا بكر، - يعني ابن مضر - عن عمرو بن الحارث، عن بكير، عن نافع، ان عمر بن الخطاب، كان ينهى ان يدخل، من باب النساء
ابوحمید یا ابواسید انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر یہ دعا پڑھے: «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، پھر جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں ۔
حدثنا محمد بن عثمان الدمشقي، حدثنا عبد العزيز، - يعني الدراوردي - عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن عبد الملك بن سعيد بن سويد، قال سمعت ابا حميد، او ابا اسيد الانصاري يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دخل احدكم المسجد فليسلم على النبي صلى الله عليه وسلم ثم ليقل اللهم افتح لي ابواب رحمتك فاذا خرج فليقل اللهم اني اسالك من فضلك
حیوہ بن شریح کہتے ہیں کہ میں عقبہ بن مسلم سے ملا تو میں نے ان سے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں تشریف لے جاتے تو فرماتے: «أعوذ بالله العظيم وبوجهه الكريم وسلطانه القديم من الشيطان الرجيم» ( میں اللہ عظیم کی، اس کی ذات کریم کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی مردود شیطان سے پناہ چاہتا ہوں ) تو عقبہ نے کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ کہتا ہے تو شیطان کہتا ہے: اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔
حدثنا اسماعيل بن بشر بن منصور، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن عبد الله بن المبارك، عن حيوة بن شريح، قال لقيت عقبة بن مسلم فقلت له بلغني انك حدثت عن عبد الله بن عمرو بن العاص، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان اذا دخل المسجد قال " اعوذ بالله العظيم وبوجهه الكريم وسلطانه القديم من الشيطان الرجيم " . قال اقط قلت نعم . قال فاذا قال ذلك قال الشيطان حفظ مني ساير اليوم
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں ( تحیۃ المسجد ) پڑھ لے ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا مالك، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن عمرو بن سليم الزرقي، عن ابي قتادة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا جاء احدكم المسجد فليصل سجدتين من قبل ان يجلس
اس سند سے بھی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر اس کے بعد چاہے تو وہ بیٹھا رہے یا اپنی ضرورت کے لیے چلا جائے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا ابو عميس، عتبة بن عبد الله عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن رجل، من بني زريق عن ابي قتادة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه زاد " ثم ليقعد بعد ان شاء او ليذهب لحاجته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے تم میں سے ہر ایک شخص کے لیے دعائے خیر و استغفار کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ میں جہاں اس نے نماز پڑھی ہے بیٹھا رہتا ہے، جب تک کہ وہ وضو نہ توڑ دے یا اٹھ کر چلا نہ جائے، فرشتے کہتے ہیں: «اللهم اغفر له اللهم ارحمه» اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الملايكة تصلي على احدكم ما دام في مصلاه الذي صلى فيه ما لم يحدث او يقم اللهم اغفر له اللهم ارحمه
اسی سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک شخص برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک نماز اس کو روکے رہے یعنی اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے سے اسے نماز کے علاوہ کوئی اور چیز نہ روکے ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يزال احدكم في صلاة ما كانت الصلاة تحبسه لا يمنعه ان ينقلب الى اهله الا الصلاة