Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ برابر نماز ہی میں رہتا ہے، جب تک اپنے مصلی میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا رہے، فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اے اللہ! تو اس پر رحم فرما، جب تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر گھر نہ لوٹ جائے، یا حدث نہ کرے ۔ عرض کیا گیا: حدث سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( حدث یہ ہے کہ وہ ) بغیر آواز کے یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کرے ( یعنی وضو توڑ دے ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يزال العبد في صلاة ما كان في مصلاه ينتظر الصلاة تقول الملايكة اللهم اغفر له اللهم ارحمه حتى ينصرف او يحدث " . فقيل ما يحدث قال يفسو او يضرط
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں جو جس کام کے لیے آئے گا وہی اس کا نصیب ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا عثمان بن ابي العاتكة الازدي، عن عمير بن هاني العنسي، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اتى المسجد لشىء فهو حظه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز ڈھونڈتے سنے تو وہ کہے: اللہ تجھے ( اس گمشدہ چیز کو ) واپس نہ لوٹائے، کیونکہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں ۔
حدثنا عبيد الله بن عمر الجشمي، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا حيوة، - يعني ابن شريح - قال سمعت ابا الاسود، - يعني محمد بن عبد الرحمن بن نوفل - يقول اخبرني ابو عبد الله، مولى شداد انه سمع ابا هريرة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل لا اداها الله اليك فان المساجد لم تبن لهذا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ تم اسے ( مٹی ) میں چھپا دو ۱؎۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، وشعبة، وابان، عن قتادة، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " التفل في المسجد خطيية وكفارته ان تواريه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس پر مٹی ڈال دو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البزاق في المسجد خطيية وكفارتها دفنها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں حلق سے بلغم نکال کر ڈالنا … ، پھر راوی نے اوپر والی حدیث کے مثل ذکر کیا۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا يزيد، - يعني ابن زريع - عن سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " النخاعة في المسجد " . فذكر مثله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس مسجد میں داخل ہو اور اس میں تھوکے یا بلغم نکالے تو اسے مٹی کھود کر دفن کر دینا چاہیئے، اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے، پھر اسے لے کر نکل جائے ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا ابو مودود، عن عبد الرحمن بن ابي حدرد الاسلمي، سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من دخل هذا المسجد فبزق فيه او تنخم فليحفر فليدفنه فان لم يفعل فليبزق في ثوبه ثم ليخرج به
طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو یا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے آگے اور داہنی طرف نہ تھوکے لیکن ( اگر تھوکنا ہو اور جگہ خالی ہو ) تو بائیں طرف تھوکے یا بائیں قدم کے نیچے تھوکے پھر اسے مل دے ۔
حدثنا هناد بن السري، عن ابي الاحوص، عن منصور، عن ربعي، عن طارق بن عبد الله المحاربي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قام الرجل الى الصلاة - او اذا صلى احدكم فلا يبزق امامه ولا عن يمينه ولكن عن تلقاء يساره ان كان فارغا او تحت قدمه اليسرى ثم ليقل به
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو آپ لوگوں پر ناراض ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ کر صاف کیا۔ راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں ابن عمر نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفران منگا کر اس میں رگڑ دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ۱؎، لہٰذا وہ اپنے سامنے نہ تھوکے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسماعیل اور عبدالوارث نے یہ حدیث ایوب سے اور انہوں نے نافع سے روایت کی ہے اور مالک، عبیداللہ اور موسیٰ بن عقبہ نے ( براہ راست ) نافع سے حماد کی طرح روایت کی ہے مگر ان لوگوں نے زعفران کا ذکر نہیں کیا ہے، اور معمر نے اسے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں زعفران کا لفظ موجود ہے، اور یحییٰ بن سلیم نے عبیداللہ کے واسطہ سے اور انہوں نے نافع کے واسطہ سے ( زعفران کے بجائے ) «خلوق» ( ایک قسم کی خوشبو ) کا ذکر کیا ہے۔
حدثنا سليمان بن داود، حدثنا حماد، حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب يوما اذ راى نخامة في قبلة المسجد فتغيظ على الناس ثم حكها قال واحسبه قال فدعا بزعفران فلطخه به وقال " ان الله قبل وجه احدكم اذا صلى فلا يبزق بين يديه " . قال ابو داود رواه اسماعيل وعبد الوارث عن ايوب عن نافع ومالك وعبيد الله وموسى بن عقبة عن نافع نحو حماد الا انه لم يذكروا الزعفران ورواه معمر عن ايوب واثبت الزعفران فيه وذكر يحيى بن سليم عن عبيد الله عن نافع الخلوق
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی شاخوں کو پسند کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں ایک شاخ رہتی تھی، ( ایک روز ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو قبلہ کی دیوار میں بلغم لگا ہوا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچا پھر غصے کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کسی کو اپنے منہ پر تھوکنا اچھا لگتا ہے؟ جب تم میں سے کوئی شخص قبلے کی طرف منہ کرتا ہے تو وہ اپنے رب عزوجل کی طرف منہ کرتا ہے اور فرشتے اس کی داہنی طرف ہوتے ہیں، لہٰذا کوئی شخص نہ اپنے داہنی طرف تھوکے اور نہ ہی قبلہ کی طرف، اگر تھوکنے کی حاجت ہو تو اپنے بائیں جانب یا اپنے پیر کے نیچے تھوکے، اگر اسے جلدی ہو تو اس طرح کرے ۔ ابن عجلان نے اسے ہم سے یوں بیان کیا کہ وہ اپنے کپڑے میں تھوک کر اس کو مل لے۔
حدثنا يحيى بن حبيب بن عربي، حدثنا خالد، - يعني ابن الحارث - عن محمد بن عجلان، عن عياض بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يحب العراجين ولا يزال في يده منها فدخل المسجد فراى نخامة في قبلة المسجد فحكها ثم اقبل على الناس مغضبا فقال " ايسر احدكم ان يبصق في وجهه ان احدكم اذا استقبل القبلة فانما يستقبل ربه جل وعز والملك عن يمينه فلا يتفل عن يمينه ولا في قبلته وليبصق عن يساره او تحت قدمه فان عجل به امر فليقل هكذا " . ووصف لنا ابن عجلان ذلك ان يتفل في ثوبه ثم يرد بعضه على بعض
ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (احمد کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں) کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کی امامت کی تو قبلہ کی جانب تھوک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ رہے تھے، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص اب تمہاری امامت نہ کرے ، اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی تو لوگوں نے اسے امامت سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ( میں نے منع کیا ہے ) ، صحابی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو، عن بكر بن سوادة الجذامي، عن صالح بن خيوان، عن ابي سهلة السايب بن خلاد، - قال احمد - من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان رجلا ام قوما فبصق في القبلة ورسول الله صلى الله عليه وسلم ينظر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين فرغ " لا يصلي لكم " . فاراد بعد ذلك ان يصلي لهم فمنعوه واخبروه بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " نعم " . وحسبت انه قال " انك اذيت الله ورسوله
عبداللہ بن شخیر بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا سعيد الجريري، عن ابي العلاء، عن مطرف، عن ابيه، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فبزق تحت قدمه اليسرى
اس سند سے ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن الشخیر نے اپنے والد عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے، اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے جوتے سے مل دیا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، عن سعيد الجريري، عن ابي العلاء، عن ابيه، بمعناه زاد ثم دلكه بنعله
ابوسعید حمیری کہتے ہیں کہ میں نے دمشق کی مسجد میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے بوریے پر تھوکا، پھر اپنے پاؤں سے اسے مل دیا، ان سے پوچھا گیا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الفرج بن فضالة، عن ابي سعيد، قال رايت واثلة بن الاسقع في مسجد دمشق بصق على البوري ثم مسحه برجله فقيل له لم فعلت هذا قال لاني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، وہ اپنی مسجد میں تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ابن طاب ۱؎ کی ایک ٹہنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو اس کی طرف بڑھے اور اسے ٹہنی سے کھرچا، پھر فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟ ، پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا اپنے سامنے اور اپنے داہنی طرف ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پیر کے نیچے تھوکے اور اگر جلدی میں کوئی چیز ( بلغم ) آ جائے تو اپنے کپڑے سے اس طرح کرے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو اپنے منہ پر رکھا ( اور اس میں تھوکا ) پھر اسے مل دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے «عبير» ۲؎ لا کر دو ، چنانچہ محلے کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور اپنی ہتھیلی میں «خلوق» ۳؎ لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر لکڑی کی نوک میں لگایا اور جہاں بلغم لگا تھا وہاں اسے پوت دیا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی وجہ سے تم لوگ اپنی مسجدوں میں «خلوق» لگایا کرتے ہو۔
حدثنا يحيى بن الفضل السجستاني، وهشام بن عمار، وسليمان بن عبد الرحمن الدمشقيان، بهذا الحديث - وهذا لفظ يحيى بن الفضل السجستاني - قالوا حدثنا حاتم بن اسماعيل حدثنا يعقوب بن مجاهد ابو حزرة عن عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت اتينا جابرا - يعني ابن عبد الله - وهو في مسجده فقال اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسجدنا هذا وفي يده عرجون ابن طاب فنظر فراى في قبلة المسجد نخامة فاقبل عليها فحتها بالعرجون ثم قال " ايكم يحب ان يعرض الله عنه بوجهه " . ثم قال " ان احدكم اذا قام يصلي فان الله قبل وجهه فلا يبصقن قبل وجهه ولا عن يمينه وليبزق عن يساره تحت رجله اليسرى فان عجلت به بادرة فليقل بثوبه هكذا " . ووضعه على فيه ثم دلكه ثم قال " اروني عبيرا " . فقام فتى من الحى يشتد الى اهله فجاء بخلوق في راحته فاخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعله على راس العرجون ثم لطخ به على اثر النخامة . قال جابر فمن هناك جعلتم الخلوق في مساجدكم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، پھر پوچھا: تم میں محمد کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ان ( لوگوں ) کے بیچ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، ہم نے اس سے کہا: یہ گورے شخص ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، پھر اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی، ( کہو کیا کہنا چاہتے ہو ) ، تو اس شخص نے کہا: محمد! میں آپ سے پوچھتا ہوں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎۔
حدثنا عيسى بن حماد، حدثنا الليث، عن سعيد المقبري، عن شريك بن عبد الله بن ابي نمر، انه سمع انس بن مالك، يقول دخل رجل على جمل فاناخه في المسجد ثم عقله ثم قال ايكم محمد ورسول الله صلى الله عليه وسلم متكي بين ظهرانيهم فقلنا له هذا الابيض المتكي . فقال الرجل يا ابن عبد المطلب . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " قد اجبتك " . فقال له الرجل يا محمد اني سايلك . وساق الحديث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنی سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، وہ آپ کے پاس آئے انہوں نے اپنا اونٹ مسجد کے دروازے پر بٹھایا اور اسے باندھ دیا پھر مسجد میں داخل ہوئے، پھر محمد بن عمرو نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے اس نے کہا: تم میں عبدالمطلب کا بیٹا کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالمطلب کا بیٹا میں ہوں ، تو اس نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! اور راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی۔
حدثنا محمد بن عمرو، حدثنا سلمة، حدثني محمد بن اسحاق، حدثني سلمة بن كهيل، ومحمد بن الوليد بن نويفع، عن كريب، عن ابن عباس، قال بعث بنو سعد بن بكر ضمام بن ثعلبة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقدم عليه فاناخ بعيره على باب المسجد ثم عقله ثم دخل المسجد فذكر نحوه قال فقال ايكم ابن عبد المطلب فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا ابن عبد المطلب " . قال يا ابن عبد المطلب . وساق الحديث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ مسجد میں اپنے اصحاب میں بیٹھے ہوئے تھے تو ان یہودیوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم ایک مرد اور ایک عورت کے سلسلے میں جنہوں نے زنا کر لیا ہے ۱؎ آئے ہیں ( تو ان کے سلسلہ میں کیا حکم ہے؟ ) ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، حدثنا رجل، من مزينة ونحن عند سعيد بن المسيب عن ابي هريرة، قال اليهود اتوا النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس في المسجد في اصحابه فقالوا يا ابا القاسم في رجل وامراة زنيا منهم
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے ساری زمین ذریعہ طہارت اور مسجد بنائی گئی ہے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن مجاهد، عن عبيد الله بن عمير، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " جعلت لي الارض طهورا ومسجدا
ابوصالح غفاری کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ بابل سے گزر رہے تھے کہ ان کے پاس مؤذن انہیں نماز عصر کی خبر دینے آیا، تو جب آپ بابل کی سر زمین پار کر گئے تو مؤذن کو حکم دیا اس نے عصر کے لیے تکبیر کہی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبرستان میں اور سر زمین بابل میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔
حدثنا سليمان بن داود، اخبرنا ابن وهب، قال حدثني ابن لهيعة، ويحيى بن ازهر، عن عمار بن سعد المرادي، عن ابي صالح الغفاري، ان عليا، - رضي الله عنه - مر ببابل وهو يسير فجاءه الموذن يوذن بصلاة العصر فلما برز منها امر الموذن فاقام الصلاة فلما فرغ قال ان حبيبي صلى الله عليه وسلم نهاني ان اصلي في المقبرة ونهاني ان اصلي في ارض بابل فانها ملعونة