Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، وہ اپنا سر ( سجدے سے ) اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک کہ مرد نہ اٹھا لیں، اس اندیشہ سے کہ ان کی نظر کہیں مردوں کے ستر پر نہ پڑے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن عبد الله بن مسلم، اخي الزهري عن مولى، لاسماء ابنة ابي بكر عن اسماء بنت ابي بكر، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من كان منكن يومن بالله واليوم الاخر فلا ترفع راسها حتى يرفع الرجال رءوسهم " . كراهة ان يرين من عورات الرجال
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع، سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا سب قریب قریب برابر ہوتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، عن البراء، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان سجوده وركوعه وقعوده وما بين السجدتين قريبا من السواء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر اور مکمل نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم لوگ سمجھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہم ہو گیا ہے، پھر آپ «اللہ اکبر» کہتے اور سجدہ کرتے اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے کہ ہم لوگ سمجھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہم ہو گیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت، وحميد، عن انس بن مالك، قال ما صليت خلف رجل اوجز صلاة من رسول الله صلى الله عليه وسلم في تمام وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قال " سمع الله لمن حمده " . قام حتى نقول قد اوهم ثم يكبر ويسجد وكان يقعد بين السجدتين حتى نقول قد اوهم
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ( اور ابوکامل کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ) حالت نماز میں بغور دیکھا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کو آپ کے رکوع اور سجدے کی طرح، اور رکوع سے آپ کے سیدھے ہونے کو آپ کے سجدے کی طرح، اور دونوں سجدوں کے درمیان آپ کے بیٹھنے کو، اور سلام پھیرنے اور نمازیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان بیٹھنے کو، پھر دوسرے سجدہ سے قریب قریب برابر پایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور مسدد کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع اور دونوں رکعتوں کے درمیان آپ کا اعتدال پھر آپ کا سجدہ پھر دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور پھر دوسرا سجدہ پھر آپ کا سلام پھیرنے اور لوگوں کی طرف چہرہ کرنے کے درمیان بیٹھنا، یہ سب تقریباً برابر ہوتے تھے۔
حدثنا مسدد، وابو كامل - دخل حديث احدهما في الاخر - قالا حدثنا ابو عوانة عن هلال بن ابي حميد عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن البراء بن عازب قال رمقت محمدا صلى الله عليه وسلم - وقال ابو كامل رسول الله صلى الله عليه وسلم - في الصلاة فوجدت قيامه كركعته وسجدته واعتداله في الركعة كسجدته وجلسته بين السجدتين وسجدته ما بين التسليم والانصراف قريبا من السواء . قال ابو داود قال مسدد فركعته واعتداله بين الركعتين فسجدته فجلسته بين السجدتين فسجدته فجلسته بين التسليم والانصراف قريبا من السواء
ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز درست نہیں، جب تک کہ وہ رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کر لے ۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، عن سليمان، عن عمارة بن عمير، عن ابي معمر، عن ابي مسعود البدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تجزي صلاة الرجل حتى يقيم ظهره في الركوع والسجود
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو ایک شخص اس نے نماز پڑھی پھر آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جاؤ، پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، وہ شخص واپس گیا اور پھر سے اسی طرح نماز پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی، پھر آ کر سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور تم پر بھی سلامتی ہو، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، یہاں تک کہ تین بار ایسا ہوا، پھر اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اس سے اچھی نماز پڑھنا نہیں جانتا تو آپ مجھے سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ( پہلے ) تکبیر کہو، پھر جتنا قرآن بآسانی پڑھ سکتے ہو پڑھو، اس کے بعد اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، اس کے بعد اطمینان سے سجدہ کرو، پھر اطمینان سے قعدہ میں بیٹھو، اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو ۔ قعنبی نے «عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبي هريرة» کہا ہے اور اس کے اخیر میں یوں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے ایسا کر لیا تو تمہاری نماز مکمل ہو گئی، اور اگر تم نے اس میں کچھ کم کیا تو اپنی نماز میں کم کیا ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو کامل وضو کرو ۱؎۔
حدثني القعنبي، حدثنا انس يعني ابن عياض، ح وحدثنا ابن المثنى، حدثني يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، - وهذا لفظ ابن المثنى - حدثني سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل المسجد فدخل رجل فصلى ثم جاء فسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد رسول الله صلى الله عليه وسلم عليه السلام وقال " ارجع فصل فانك لم تصل " . فرجع الرجل فصلى كما كان صلى ثم جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فسلم عليه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " وعليك السلام " . ثم قال " ارجع فصل فانك لم تصل " . حتى فعل ذلك ثلاث مرار فقال الرجل والذي بعثك بالحق ما احسن غير هذا فعلمني . قال " اذا قمت الى الصلاة فكبر ثم اقرا ما تيسر معك من القران ثم اركع حتى تطمين راكعا ثم ارفع حتى تعتدل قايما ثم اسجد حتى تطمين ساجدا ثم اجلس حتى تطمين جالسا ثم افعل ذلك في صلاتك كلها " . قال ابو داود قال القعنبي عن سعيد بن ابي سعيد المقبري عن ابي هريرة وقال في اخره " فاذا فعلت هذا فقد تمت صلاتك وما انتقصت من هذا شييا فانما انتقصته من صلاتك " . وقال فيه " اذا قمت الى الصلاة فاسبغ الوضوء
علی بن یحییٰ بن خلاد اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، پھر راوی نے گذشتہ حدیث کے مانند روایت ذکر کی، اس میں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کی نماز مکمل نہیں ہوتی، جب تک وہ اچھی طرح وضو نہ کرے، پھر«الله أكبر» کہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور قرآن سے جتنا آسان ہو پڑھے پھر «الله أكبر» کہے پھر اطمینان و سکون کے ساتھ اس طرح رکوع کرے کہ سب جوڑ اپنی جگہ پر آ جائیں، پھر «سمع الله لمن حمده» کہے اور سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر «الله أكبر»کہے، پھر اطمینان سے اس طرح سجدہ کرے کہ اس کے جسم کے سارے جوڑ اپنی جگہ پر آ جائیں، پھر «الله أكبر» کہے اور اپنا سر سجدے سے اٹھائے یہاں تک کہ سیدھا بیٹھ جائے پھر «الله أكبر» کہے پھر ( دوسرا ) سجدہ اطمینان سے اس طرح کرے کہ سب جوڑ اپنی جگہ پر آ جائیں، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائے اور «الله أكبر» کہے، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کی نماز پوری ہو گئی ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن علي بن يحيى بن خلاد، عن عمه، ان رجلا، دخل المسجد فذكر نحوه قال فيه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انه لا تتم صلاة لاحد من الناس حتى يتوضا فيضع الوضوء " . يعني مواضعه " ثم يكبر ويحمد الله جل وعز ويثني عليه ويقرا بما تيسر من القران ثم يقول الله اكبر ثم يركع حتى تطمين مفاصله ثم يقول سمع الله لمن حمده حتى يستوي قايما ثم يقول الله اكبر ثم يسجد حتى تطمين مفاصله ثم يقول الله اكبر ويرفع راسه حتى يستوي قاعدا ثم يقول الله اكبر ثم يسجد حتى تطمين مفاصله ثم يرفع راسه فيكبر فاذا فعل ذلك فقد تمت صلاته
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کی نماز پوری ( مکمل ) نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ اچھی طرح وضو کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، ( یعنی ) وہ اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے اور اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر «الله اكبر» کہے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر قرآن میں سے جو آسان ہو اسے پڑھے ، پھر راوی نے حماد کی حدیث کے مانند ذکر کیا اور کہا: پھر وہ «الله اكبر»کہے اور سجدہ کرے تو اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے ۔ ہمام کہتے ہیں: اسحاق بن عبداللہ نے کبھی یوں کہا: اپنی پیشانی زمین پر ٹکا دے یہاں تک کہ اس کے جوڑ آرام پا لیں اور ڈھیلے ہو جائیں، پھر «الله اكبر» کہے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر سیدھا بیٹھ جائے اور اپنی پیٹھ سیدھی کر لے پھر نماز کی چاروں رکعتوں کی کیفیت فارغ ہونے تک اسی طرح بیان کی ( پھر فرمایا ) : تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایسا نہ کرے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا هشام بن عبد الملك، والحجاج بن منهال، قالا حدثنا همام، حدثنا اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن علي بن يحيى بن خلاد، عن ابيه، عن عمه، رفاعة بن رافع بمعناه قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها لا تتم صلاة احدكم حتى يسبغ الوضوء كما امره الله عز وجل فيغسل وجهه ويديه الى المرفقين ويمسح براسه ورجليه الى الكعبين ثم يكبر الله عز وجل ويحمده ثم يقرا من القران ما اذن له فيه وتيسر " . فذكر نحو حديث حماد قال " ثم يكبر فيسجد فيمكن وجهه " . قال همام وربما قال " جبهته من الارض حتى تطمين مفاصله وتسترخي ثم يكبر فيستوي قاعدا على مقعده ويقيم صلبه " . فوصف الصلاة هكذا اربع ركعات حتى فرغ " لا تتم صلاة احدكم حتى يفعل ذلك
اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو اور اپنا رخ ( چہرہ ) قبلہ کی طرف کر لو تو تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہو، پھر سورۃ فاتحہ پڑھو اور قرآن مجید میں سے جس کی اللہ توفیق دے پڑھو، پھر جب رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنی پیٹھ برابر رکھو ، اور فرمایا: جب تم سجدہ میں جاؤ تو اپنے سجدوں میں ( پیشانی کو ) ٹکائے رکھو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو ۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن محمد، - يعني ابن عمرو - عن علي بن يحيى بن خلاد، عن ابيه، عن رفاعة بن رافع، بهذه القصة قال " اذا قمت فتوجهت الى القبلة فكبر ثم اقرا بام القران وبما شاء الله ان تقرا واذا ركعت فضع راحتيك على ركبتيك وامدد ظهرك " . وقال " اذا سجدت فمكن لسجودك فاذا رفعت فاقعد على فخذك اليسرى
اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ روایت کرتے ہیں، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ( پہلے ) «الله اكبر» کہو، پھر قرآن مجید میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو پڑھو ، اور اس میں ہے: جب تم نماز کے بیچ میں بیٹھو تو اطمینان و سکون سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران کو بچھا لو، پھر تشہد پڑھو، پھر جب کھڑے ہو تو ایسا ہی کرو یہاں تک کہ تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ ۔
حدثنا مومل بن هشام، حدثنا اسماعيل، عن محمد بن اسحاق، حدثني علي بن يحيى بن خلاد بن رافع، عن ابيه، عن عمه، رفاعة بن رافع عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذه القصة قال " اذا انت قمت في صلاتك فكبر الله تعالى ثم اقرا ما تيسر عليك من القران " . وقال فيه " فاذا جلست في وسط الصلاة فاطمين وافترش فخذك اليسرى ثم تشهد ثم اذا قمت فمثل ذلك حتى تفرغ من صلاتك
اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرمایا ) ، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی اس میں ہے: پھر وضو کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے، پھر تشہد پڑھو ۱؎، پھر اقامت کہو، پھر «الله اكبر» کہو، پھر اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھو، ورنہ «الحمد لله، الله أكبر، لا إله إلا الله» کہو ، اور اس میں ہے کہ: اگر تم نے اس میں سے کچھ کم کیا تو اپنی نماز میں سے کم کیا ۔
حدثنا عباد بن موسى الختلي، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن جعفر - اخبرني يحيى بن علي بن يحيى بن خلاد بن رافع الزرقي، عن ابيه، عن جده، عن رفاعة بن رافع، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فقص هذا الحديث قال فيه " فتوضا كما امرك الله جل وعز ثم تشهد فاقم ثم كبر فان كان معك قران فاقرا به والا فاحمد الله وكبره وهلله " . وقال فيه " وان انتقصت منه شييا انتقصت من صلاتك
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوے کی طرح چونچ مارنے ۱؎، درندے کی طرح بازو بچھانے ۲؎، اور اونٹ کے مانند آدمی کے مسجد میں اپنے لیے ایک جگہ متعین کر لینے سے ( جیسے اونٹ متعین کر لیتا ہے ) منع فرمایا ہے ( یہ قتیبہ کے الفاظ ہیں ) ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن جعفر بن الحكم، ح وحدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن جعفر بن عبد الله الانصاري، عن تميم بن محمود، عن عبد الرحمن بن شبل، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نقرة الغراب وافتراش السبع وان يوطن الرجل المكان في المسجد كما يوطن البعير . هذا لفظ قتيبة
سالم براد کہتے ہیں کہ ہم ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بتائیے تو وہ مسجد میں ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے «الله اكبر» کہا، پھر جب وہ رکوع میں گئے تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے اور اپنی انگلیاں اس سے نیچے رکھیں اور اپنی دونوں کہنیوں کے درمیان فاصلہ رکھا یہاں تک کہ ہر ایک عضو اپنے اپنے مقام پر جم گیا، پھر انہوں نے «سمع الله لمن حمده» کہا اور کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر آ کر ٹھہر گیا، پھر «الله اكبر» کہہ کر سجدہ کیا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھیں اور اپنی دونوں کہنیوں کے درمیان فاصلہ رکھا یہاں تک کہ ہر عضو اپنے مقام پر آ کر ٹھہر گیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور بیٹھے یہاں تک کہ ہر عضو اپنے مقام پر آ کر ٹھہر گیا، پھر دوبارہ ایسا ہی کیا، پھر چاروں رکعتیں اسی کی طرح پڑھیں ( اس طرح ) انہوں نے اپنی نماز پوری کی پھر کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا جرير، عن عطاء بن السايب، عن سالم البراد، قال اتينا عقبة بن عمرو الانصاري ابا مسعود فقلنا له حدثنا عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام بين ايدينا في المسجد فكبر فلما ركع وضع يديه على ركبتيه وجعل اصابعه اسفل من ذلك وجافى بين مرفقيه حتى استقر كل شىء منه ثم قال سمع الله لمن حمده فقام حتى استقر كل شىء منه ثم كبر وسجد ووضع كفيه على الارض ثم جافى بين مرفقيه حتى استقر كل شىء منه ثم رفع راسه فجلس حتى استقر كل شىء منه ففعل مثل ذلك ايضا ثم صلى اربع ركعات مثل هذه الركعة فصلى صلاته ثم قال هكذا راينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي
انس بن حکیم ضبی کہتے ہیں کہ وہ زیاد یا ابن زیاد سے ڈر کر مدینہ آئے تو ان کی ملاقات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انس کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا نسب مجھ سے جوڑا تو میں ان سے جڑ گیا، پھر وہ کہنے لگے: اے نوجوان! کیا میں تم سے ایک حدیث نہ بیان کروں؟ انس کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور بیان کیجئے، اللہ آپ پر رحم فرمائے، یونس کہتے ہیں: میں یہی سمجھتا ہوں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں سے ان کے اعمال میں سے جس چیز کے بارے میں سب سے پہلے پوچھ تاچھ کی جائے گی وہ نماز ہو گی، ہمارا رب اپنے فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے میرے بندے کی نماز کو دیکھو وہ پوری ہے یا اس میں کوئی کمی ہے؟ اگر پوری ہو گی تو پورا ثواب لکھا جائے گا اور اگر کمی ہو گی تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: دیکھو، میرے بندے کے پاس کچھ نفل ہے؟ اگر نفل ہو گی تو فرمائے گا: میرے بندے کے فرض کو اس کی نفلوں سے پورا کرو، پھر تمام اعمال کا یہی حال ہو گا ۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا اسماعيل، حدثنا يونس، عن الحسن، عن انس بن حكيم الضبي، قال خاف من زياد او ابن زياد فاتى المدينة فلقي ابا هريرة قال فنسبني فانتسبت له فقال يا فتى الا احدثك حديثا قال قلت بلى رحمك الله . قال يونس احسبه ذكره عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان اول ما يحاسب الناس به يوم القيامة من اعمالهم الصلاة قال يقول ربنا جل وعز لملايكته وهو اعلم انظروا في صلاة عبدي اتمها ام نقصها فان كانت تامة كتبت له تامة وان كان انتقص منها شييا قال انظروا هل لعبدي من تطوع فان كان له تطوع قال اتموا لعبدي فريضته من تطوعه ثم توخذ الاعمال على ذاكم
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گذشتہ حدیث کے ہم معنی حدیث مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن حميد، عن الحسن، عن رجل، من بني سليط عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه
تمیم داری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً روایت کی ہے اس میں ہے: پھر زکاۃ کا یہی حال ہو گا، پھر تمام اعمال کا حساب اسی طرح سے ہو گا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن داود بن ابي هند، عن زرارة بن اوفى، عن تميم الداري، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا المعنى قال " ثم الزكاة مثل ذلك ثم توخذ الاعمال على حسب ذلك
مصعب بن سعد کہتے ہیں میں نے اپنے والد کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے ( رکوع میں ) اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں کر لیے تو انہوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کیا، پھر میں نے دوبارہ ایسے ہی کیا تو انہوں نے کہا: تم ایسا نہ کیا کرو کیونکہ پہلے ہم بھی ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہم کو ایسا کرنے سے روک دیا گیا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھیں۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي يعفور، - قال ابو داود واسمه وقدان - عن مصعب بن سعد، قال صليت الى جنب ابي فجعلت يدى بين ركبتى فنهاني عن ذلك، فعدت فقال لا تصنع هذا فانا كنا نفعله فنهينا عن ذلك وامرنا ان نضع ايدينا على الركب
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے دونوں بازؤوں کو اپنی رانوں پر بچھا لے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق کرے ۱؎، گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے اختلاف کو دیکھ رہا ہوں۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، والاسود، عن عبد الله، قال اذا ركع احدكم فليفرش ذراعيه على فخذه وليطبق بين كفيه فكاني انظر الى اختلاف اصابع رسول الله صلى الله عليه وسلم
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب آیت کریمہ: «فسبح باسم ربك العظيم» اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو ( سورۃ الواقعۃ: ۷۴ ) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے رکوع میں کر لو ، پھر جب «سبح اسم ربك الأعلى» اپنے بہت ہی بلند رب کے نام پاکیزگی بیان کرو ( سورۃ الاعلی: ۱ ) اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے سجدے میں کر لو ۔
حدثنا الربيع بن نافع ابو توبة، وموسى بن اسماعيل، - المعنى - قالا حدثنا ابن المبارك، عن موسى، - قال ابو سلمة موسى بن ايوب - عن عمه، عن عقبة بن عامر، قال لما نزلت { فسبح باسم ربك العظيم } قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجعلوها في ركوعكم " . فلما نزلت { سبح اسم ربك الاعلى } قال " اجعلوها في سجودكم
اس طریق سے بھی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں راوی نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو تین بار «سبحان ربي العظيم وبحمده» کہتے، اور جب سجدہ کرتے تو تین بار «سبحان ربي الأعلى وبحمده» کہتے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ «وبحمده» کا یہ اضافہ محفوظ نہ ہو ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع اور احمد بن یونس کی ان دونوں حدیثوں کی اسناد کے سلسلے میں اہل مصر منفرد ہیں۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا الليث، - يعني ابن سعد - عن ايوب بن موسى، - او موسى بن ايوب - عن رجل، من قومه عن عقبة بن عامر، بمعناه زاد قال فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ركع قال " سبحان ربي العظيم وبحمده " . ثلاثا واذا سجد قال " سبحان ربي الاعلى وبحمده " . ثلاثا . قال ابو داود وهذه الزيادة نخاف ان لا تكون محفوظة . قال ابو داود انفرد اهل مصر باسناد هذين الحديثين حديث الربيع وحديث احمد بن يونس