Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحمداللہ! اللہ کی کتاب ایک ہے اور تم لوگوں میں اس کی تلاوت کرنے والے سرخ، سفید، سیاہ سب طرح کے لوگ ہیں، تم اسے پڑھو قبل اس کے کہ ایسے لوگ آ کر اسے پڑھیں، جو اسے اسی طرح درست کریں گے، جس طرح تیر کو درست کیا جاتا ہے، اس کا بدلہ ( ثواب ) دنیا ہی میں لے لیا جائے گا اور اسے آخرت کے لیے نہیں رکھا جائے گا ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو، وابن، لهيعة عن بكر بن سوادة، عن وفاء بن شريح الصدفي، عن سهل بن سعد الساعدي، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما ونحن نقتري فقال " الحمد لله كتاب الله واحد وفيكم الاحمر وفيكم الابيض وفيكم الاسود اقرءوه قبل ان يقراه اقوام يقيمونه كما يقوم السهم يتعجل اجره ولا يتاجله
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، حدثنا سفيان الثوري، عن ابي خالد الدالاني، عن ابراهيم السكسكي، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني لا استطيع ان اخذ من القران شييا فعلمني ما يجزيني منه . قال " قل سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر ولا حول ولا قوة الا بالله " . قال يا رسول الله هذا لله عز وجل فما لي قال " قل اللهم ارحمني وارزقني وعافني واهدني " . فلما قام قال هكذا بيده فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما هذا فقد ملا يده من الخير
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، حدثنا سفيان الثوري، عن ابي خالد الدالاني، عن ابراهيم السكسكي، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني لا استطيع ان اخذ من القران شييا فعلمني ما يجزيني منه . قال " قل سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر ولا حول ولا قوة الا بالله " . قال يا رسول الله هذا لله عز وجل فما لي قال " قل اللهم ارحمني وارزقني وعافني واهدني " . فلما قام قال هكذا بيده فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما هذا فقد ملا يده من الخير
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم نفل نماز پڑھتے تو قیام و قعود کی حالت میں دعا کرتے اور رکوع و سجود کی حالت میں تسبیح پڑھتے تھے
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، اخبرنا ابو اسحاق، - يعني الفزاري - عن حميد، عن الحسن، عن جابر بن عبد الله، قال كنا نصلي التطوع ندعو قياما وقعودا ونسبح ركوعا وسجودا
حمید سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں راوی نے نفل کا ذکر نہیں کیا ہے، اس میں ہے کہ حسن بصری ظہر اور عصر میں خواہ وہ امام ہوں یا امام کے پیچھے ہوں، سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے اور سورۃ ق اور سورۃ ذاریات پڑھنے کے بقدر ( وقت میں ) تسبیح و تکبیر اور تہلیل کرتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن حميد، مثله لم يذكر التطوع قال كان الحسن يقرا في الظهر والعصر اماما او خلف امام بفاتحة الكتاب ويسبح ويكبر ويهلل قدر ق والذاريات
مطرف کہتے ہیں میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو جب وہ سجدہ کرتے تو «الله اكبر» کہتے، جب رکوع کرتے تو «الله اكبر» کہتے اور جب دو رکعت پڑھ کر تیسری کے لیے اٹھتے تو «الله اكبر» کہتے، جب ہم فارغ ہوئے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: ابھی انہوں نے ایسی نماز پڑھی ہے ( راوی کو شک ہے ) یا ابھی ہمیں ایسی نماز پڑھائی ہے، جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہوتی تھی۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن غيلان بن جرير، عن مطرف، قال صليت انا وعمران بن حصين، خلف علي بن ابي طالب - رضى الله عنه - فكان اذا سجد كبر واذا ركع كبر واذا نهض من الركعتين كبر فلما انصرفنا اخذ عمران بيدي وقال لقد صلى هذا قبل او قال لقد صلى بنا هذا قبل صلاة محمد صلى الله عليه وسلم
زہری کہتے ہیں: مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ نے خبر دی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرض ہو یا نفل ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے خواہ فرض ہو یا نفل، نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت تکبیر «الله اكبر» ( تکبیر تحریمہ ) کہتے، پھر رکوع کرتے وقت تکبیر «الله اكبر» کہتے، پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے، اس کے بعد سجدہ کرنے سے پہلے «ربنا ولك الحمد» کہتے، پھر جب سجدے میں جانے لگتے تو «الله اكبر» کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو «الله اكبر» کہتے، پھر جب ( دوسرے ) سجدے میں جاتے تو «الله اكبر»کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله اكبر» کہتے، پھر جب دو رکعت پڑھ کر اٹھتے تو «الله اكبر» کہتے، ایسے ہی ہر رکعت میں نماز سے فارغ ہونے تک ( تکبیر ) کہتے ۱؎، پھر جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو کہتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے، اسی طرح آپ کی نماز تھی یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کے آخری ٹکڑے یعنی «إن كانت هذه لصلاته حتى فارق الدنيا» کو مالک اور زبیدی وغیرہ زہری کے واسطہ سے علی بن حسین سے مرسلاً نقل کرتے ہیں اور عبدالاعلی نے بواسطہ معمر زہری کے دونوں شیوخ ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے ذکر کرنے میں شعیب بن ابی حمزہ کی موافقت کی ہے ۲؎۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا ابي وبقية، عن شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو بكر بن عبد الرحمن، وابو سلمة ان ابا هريرة، كان يكبر في كل صلاة من المكتوبة وغيرها يكبر حين يقوم ثم يكبر حين يركع ثم يقول سمع الله لمن حمده ثم يقول ربنا ولك الحمد قبل ان يسجد ثم يقول الله اكبر حين يهوي ساجدا ثم يكبر حين يرفع راسه ثم يكبر حين يسجد ثم يكبر حين يرفع راسه ثم يكبر حين يقوم من الجلوس في اثنتين فيفعل ذلك في كل ركعة حتى يفرغ من الصلاة ثم يقول حين ينصرف والذي نفسي بيده اني لاقربكم شبها بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ان كانت هذه لصلاته حتى فارق الدنيا . قال ابو داود هذا الكلام الاخير يجعله مالك والزبيدي وغيرهما عن الزهري عن علي بن حسين ووافق عبد الاعلى عن معمر شعيب بن ابي حمزة عن الزهري
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ تکبیر مکمل نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے اور جب سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے اور جب سجدے سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہیں کہتے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، وابن المثنى، قالا حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، عن الحسن بن عمران، - قال ابن بشار الشامي وقال ابو داود ابو عبد الله العسقلاني - عن ابن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، انه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان لا يتم التكبير . قال ابو داود معناه اذا رفع راسه من الركوع واراد ان يسجد لم يكبر واذا قام من السجود لم يكبر
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے ۱؎ اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔
حدثنا الحسن بن علي، وحسين بن عيسى، قالا حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا شريك، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم اذا سجد وضع ركبتيه قبل يديه واذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه
اس سند سے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت مروی ہے، اس میں ہے کہ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے ہتھیلیوں سے پہلے زمین پر پڑتے۔ ہمام کہتے ہیں: مجھ سے شقیق نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عاصم بن کلیب نے اور عاصم نے اپنے والد سے کلیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے اور ان دونوں میں سے کسی کی حدیث میں اور میرا غالب گمان یہی ہے کہ محمد بن جحادہ کی حدیث میں یہ ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو اپنی ران پر ٹیک لگا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بل اٹھتے ۔
حدثنا محمد بن معمر، حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا همام، حدثنا محمد بن جحادة، عن عبد الجبار بن وايل، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم فذكر حديث الصلاة قال فلما سجد وقعتا ركبتاه الى الارض قبل ان تقع كفاه . قال همام وحدثنا شقيق قال حدثني عاصم بن كليب عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثل هذا وفي حديث احدهما - واكبر علمي انه في حديث محمد بن جحادة - واذا نهض نهض على ركبتيه واعتمد على فخذه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے بلکہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے ( زمین پر ) رکھے ۱؎ ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثني محمد بن عبد الله بن حسن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا سجد احدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ۱؎ تم میں سے ایک شخص اپنی نماز میں بیٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس طرح بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے؟ ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد الله بن نافع، عن محمد بن عبد الله بن حسن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يعمد احدكم في صلاته فيبرك كما يبرك الجمل
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابوسلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا، میرے پیش نظر نماز پڑھانا نہیں بلکہ میں تم لوگوں کو دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: انہوں نے کس طرح نماز پڑھی؟ تو ابوقلابہ نے کہا: ہمارے اس شیخ- یعنی عمرو بن سلمہ کی طرح، جو ان کے امام تھے اور ابوقلابہ نے ذکر کیا کہ ابوقلابہ نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ جب پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو ( تھوڑی دیر ) بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن ابراهيم - عن ايوب، عن ابي قلابة، قال جاءنا ابو سليمان مالك بن الحويرث الى مسجدنا فقال والله اني لاصلي بكم وما اريد الصلاة ولكني اريد ان اريكم كيف رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي . قال قلت لابي قلابة كيف صلى قال مثل صلاة شيخنا هذا يعني عمرو بن سلمة امامهم وذكر انه كان اذا رفع راسه من السجدة الاخرة في الركعة الاولى قعد ثم قام
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابو سلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں نماز پڑھوں گا مگر میرے پیش نظر نماز پڑھنا نہیں ہے بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ ابوقلابہ کہتے ہیں: پھر وہ پہلی رکعت میں بیٹھے جس وقت انہوں نے اپنا سر دوسرے سجدے سے اٹھایا۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن ابي قلابة، قال جاءنا ابو سليمان مالك بن الحويرث الى مسجدنا فقال والله اني لاصلي وما اريد الصلاة ولكني اريد ان اريكم كيف رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي . قال فقعد في الركعة الاولى حين رفع راسه من السجدة الاخرة
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا هشيم، عن خالد، عن ابي قلابة، عن مالك بن الحويرث، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم اذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي قاعدا
طاؤس کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: دونوں سجدوں کے بیچ میں دونوں قدموں پر اقعاء ۱؎ ( سرین کو ایڑیوں پر رکھ کر پنجے کو کھڑا کر کے بیٹھنا ) کیسا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ طاؤس کہتے ہیں: ہم نے کہا: ہم تو اسے آدمی کے ساتھ زیادتی سمجھتے تھے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، انه سمع طاوسا، يقول قلنا لابن عباس في الاقعاء على القدمين في السجود . فقال هي السنة . قال قلنا انا لنراه جفاء بالرجل . فقال ابن عباس هي سنة نبيك صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تھے تو «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» کہتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری اور شعبہ بن حجاج نے اس حدیث کو عبید بن لحسن ابوالحسن سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں «بعد الركوع» نہیں ہے، سفیان کا کہنا ہے کہ ہم نے اس کے بعد شیخ عبید ابوالحسن سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی اس حدیث میں «بعد الركوع» کے الفاظ نہیں کہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے ابوعصمہ سے، ابوعصمہ نے اعمش سے اور اعمش نے عبید سے روایت کیا ہے، اس میں «بعد الركوع» کے الفاظ موجود ہیں۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو معاوية ووكيع ومحمد بن عبيد كلهم عن الاعمش، عن عبيد بن الحسن، سمعت عبد الله بن ابي اوفى، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا رفع راسه من الركوع يقول " سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الارض وملء ما شيت من شىء بعد " . قال ابو داود قال سفيان الثوري وشعبة بن الحجاج عن عبيد ابي الحسن بهذا الحديث ليس فيه بعد الركوع . قال سفيان لقينا الشيخ عبيدا ابا الحسن بعد فلم يقل فيه بعد الركوع . قال ابو داود ورواه شعبة عن ابي عصمة عن الاعمش عن عبيد قال " بعد الركوع
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السماء» اور مومل کے الفاظ «ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت» ، محمود نے اپنی روایت میں: «ولا معطي لما منعت» کا اضافہ کیا ہے، پھر:«ولا ينفع ذا الجد منك الجد» میں سب متفق ہیں، بشر نے اپنی روایت میں: «ربنا لك الحمد» کہا «اللهم» نہیں کہا، اور محمود نے«اللهم» نہیں کہا، اور «ربنا لك الحمد» کہا۔
حدثنا مومل بن الفضل الحراني، حدثنا الوليد، ح وحدثنا محمود بن خالد، حدثنا ابو مسهر، ح وحدثنا ابن السرح، حدثنا بشر بن بكر، ح وحدثنا محمد بن مصعب، حدثنا عبد الله بن يوسف، كلهم عن سعيد بن عبد العزيز، عن عطية بن قيس، عن قزعة بن يحيى، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول حين يقول سمع الله لمن حمده " اللهم ربنا لك الحمد ملء السماء " . قال مومل ملء السموات وملء الارض وملء ما شيت من شىء بعد اهل الثناء والمجد احق ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما اعطيت " . زاد محمود " ولا معطي لما منعت " . ثم اتفقوا - " ولا ينفع ذا الجد منك الجد " . قال بشر " ربنا لك الحمد " . لم يقل محمود " اللهم " . قال " ربنا ولك الحمد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو، کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو جائے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الامام سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد فانه من وافق قوله قول الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه
عامر شعبی کہتے ہیں : لوگ امام کے پیچھے: «سمع الله لمن حمده» نہ کہیں، بلکہ «ربنا لك الحمد» کہیں ۱؎۔
حدثنا بشر بن عمار، حدثنا اسباط، عن مطرف، عن عامر، قال لا يقول القوم خلف الامام سمع الله لمن حمده ولكن يقولون ربنا لك الحمد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني واهدني وارزقني» یعنی اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے کہتے تھے۔
حدثنا محمد بن مسعود، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا كامل ابو العلاء، حدثني حبيب بن ابي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول بين السجدتين " اللهم اغفر لي وارحمني وعافني واهدني وارزقني