Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ الطور پڑھتے ہوئے سنا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، انه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا بالطور في المغرب
مروان بن حکم کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ تم مغرب میں قصار مفصل پڑھا کرتے ہو؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں دو لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، مروان کہتے ہیں: میں نے ( ان سے ) پوچھا: وہ دو لمبی لمبی سورتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے کہا سورۃ الاعراف اور دوسری سورۃ الانعام ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے پوچھا: تو انہوں نے مجھ سے خود اپنی طرف سے کہا: وہ سورۃ المائدہ اور اعراف ہیں۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، عن ابن جريج، حدثني ابن ابي مليكة، عن عروة بن الزبير، عن مروان بن الحكم، قال قال لي زيد بن ثابت ما لك تقرا في المغرب بقصار المفصل وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في المغرب بطولى الطوليين قال قلت ما طولى الطوليين قال الاعراف والاخرى الانعام . قال وسالت انا ابن ابي مليكة فقال لي من قبل نفسه المايدة والاعراف
حماد کہتے ہیں کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبر دی ہے کہ ان کے والد مغرب میں ایسی ہی سورۃ پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو مثلاً سورۃ العادیات اور اسی جیسی سورتیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ۱؎ حدیث منسوخ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا هشام بن عروة، ان اباه، كان يقرا في صلاة المغرب بنحو ما تقرءون { والعاديات } ونحوها من السور . قال ابو داود هذا يدل على ان ذاك منسوخ وهذا اصح
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مفصل ۱؎ کی چھوٹی بڑی کوئی سورت ایسی نہیں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرض نماز میں لوگوں کی امامت کرتے ہوئے نہ سنا ہو۔
حدثنا احمد بن سعيد السرخسي، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت محمد بن اسحاق، يحدث عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، انه قال ما من المفصل سورة صغيرة ولا كبيرة الا وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الناس بها في الصلاة المكتوبة
ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پیچھے مغرب پڑھی تو انہوں نے «قل هو الله أحد» پڑھی۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا قرة، عن النزال بن عمار، عن ابي عثمان النهدي، انه صلى خلف ابن مسعود المغرب فقرا ب { قل هو الله احد}
معاذ بن عبداللہ جہنی کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی دونوں رکعتوں میں «إذا زلزلت الأرض» پڑھتے ہوئے سنا، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے تھے یا آپ نے عمداً اسے پڑھا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو، عن ابن ابي هلال، عن معاذ بن عبد الله الجهني، ان رجلا، من جهينة اخبره انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في الصبح { اذا زلزلت الارض } في الركعتين كلتيهما فلا ادري انسي رسول الله صلى الله عليه وسلم ام قرا ذلك عمدا
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں گویا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن رہا ہوں، آپ فجر میں «فلا أقسم بالخنس * الجوار الكنس» پڑھ رہے ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، - يعني ابن يونس - عن اسماعيل، عن اصبغ، مولى عمرو بن حريث عن عمرو بن حريث، قال كاني اسمع صوت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في صلاة الغداة { فلا اقسم بالخنس * الجوار الكنس}
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا همام، عن قتادة، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال امرنا ان نقرا، بفاتحة الكتاب وما تيسر
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا همام، عن قتادة، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال امرنا ان نقرا، بفاتحة الكتاب وما تيسر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جاؤ اور مدینہ میں اعلان کر دو کہ نماز بغیر قرآن کے نہیں ہوتی، اگرچہ سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ اور ہی ہو ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، عن جعفر بن ميمون البصري، حدثنا ابو عثمان النهدي، قال حدثني ابو هريرة، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اخرج فناد في المدينة انه لا صلاة الا بقران ولو بفاتحة الكتاب فما زاد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں یہ اعلان کر دوں کہ سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھے بغیر نماز نہیں۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا يحيى، حدثنا جعفر، عن ابي عثمان، عن ابي هريرة، قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان انادي انه لا صلاة الا بقراءة فاتحة الكتاب فما زاد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں ۔ راوی ابوسائب کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: ابوہریرہ! کبھی کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں ( تو کیا کروں! ) تو انہوں نے میرا بازو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ۱؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دی ہے، اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ بھی ہے جو وہ مانگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو: بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے تو اللہ عزوجل کہتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی، بندہ«الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری توصیف کی، بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی، بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر بندہ «اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ سب میرے بندے کے لیے ہیں اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۲؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن العلاء بن عبد الرحمن، انه سمع ابا السايب، مولى هشام بن زهرة يقول سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى صلاة لم يقرا فيها بام القران فهي خداج فهي خداج فهي خداج غير تمام " . قال فقلت يا ابا هريرة اني اكون احيانا وراء الامام . قال فغمز ذراعي وقال اقرا بها يا فارسي في نفسك فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قال الله تعالى قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين فنصفها لي ونصفها لعبدي ولعبدي ما سال " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرءوا يقول العبد { الحمد لله رب العالمين } يقول الله عز وجل حمدني عبدي يقول العبد { الرحمن الرحيم } يقول الله عز وجل اثنى على عبدي يقول العبد { مالك يوم الدين } يقول الله عز وجل مجدني عبدي يقول العبد { اياك نعبد واياك نستعين } يقول الله وهذه بيني وبين عبدي ولعبدي ما سال يقول العبد { اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين } يقول الله فهولاء لعبدي ولعبدي ما سال
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورت نہیں پڑھی ۱؎ ۔ سفیان کہتے ہیں: یہ اس شخص کے لیے ہے جو تنہا نماز پڑھے ۲؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، وابن السرح، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن محمود بن الربيع، عن عبادة بن الصامت، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا صلاة لمن لم يقرا بفاتحة الكتاب فصاعدا " . قال سفيان لمن يصلي وحده
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز فجر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، آپ نے قرآت شروع کی تو وہ آپ پر دشوار ہو گئی، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: شاید تم لوگ اپنے امام کے پیچھے کچھ پڑھتے ہو؟ ، ہم نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں تو ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۃ فاتحہ کے علاوہ کچھ مت پڑھا کرو، کیونکہ جو اسے نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن مكحول، عن محمود بن الربيع، عن عبادة بن الصامت، قال كنا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الفجر فقرا رسول الله صلى الله عليه وسلم فثقلت عليه القراءة فلما فرغ قال " لعلكم تقرءون خلف امامكم " . قلنا نعم هذا يا رسول الله . قال " لا تفعلوا الا بفاتحة الكتاب فانه لا صلاة لمن لم يقرا بها
نافع بن محمود بن ربیع انصاری کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فجر میں تاخیر کی تو ابونعیم مؤذن نے تکبیر کہہ کر خود لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کر دی، اتنے میں عبادہ آئے ان کے ساتھ میں بھی تھا، ہم لوگوں نے بھی ابونعیم کے پیچھے صف باندھ لی، ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، عبادہ سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے، جب ابونعیم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے آپ کو ( نماز میں ) سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، حالانکہ ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہاں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جہری نماز پڑھائی جس میں آپ زور سے قرآت کر رہے تھے، آپ کو قرآت میں التباس ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: جب میں بلند آواز سے قرآت کرتا ہوں تو کیا تم لوگ بھی قرآت کرتے ہو؟ ، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہاں، ہم ایسا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ایسا مت کرنا، جبھی میں کہتا تھا کہ کیا بات ہے کہ قرآن مجھ سے کوئی چھینے لیتا ہے تو جب میں بلند آواز سے قرآت کروں تو تم سوائے سورۃ فاتحہ کے قرآن میں سے کچھ نہ پڑھو ۔
حدثنا الربيع بن سليمان الازدي، حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الهيثم بن حميد، اخبرني زيد بن واقد، عن مكحول، عن نافع بن محمود بن الربيع الانصاري، قال نافع ابطا عبادة بن الصامت عن صلاة الصبح، فاقام ابو نعيم الموذن الصلاة فصلى ابو نعيم بالناس واقبل عبادة وانا معه، حتى صففنا خلف ابي نعيم وابو نعيم يجهر بالقراءة فجعل عبادة يقرا بام القران فلما انصرف قلت لعبادة سمعتك تقرا بام القران وابو نعيم يجهر قال اجل صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعض الصلوات التي يجهر فيها بالقراءة قال فالتبست عليه القراءة فلما انصرف اقبل علينا بوجهه وقال " هل تقرءون اذا جهرت بالقراءة " . فقال بعضنا انا نصنع ذلك . قال " فلا وانا اقول ما لي ينازعني القران فلا تقرءوا بشىء من القران اذا جهرت الا بام القران
اس طریق سے بھی عبادہ رضی اللہ عنہ سے ربیع بن سلیمان کی حدیث کی طرح روایت مروی ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ مکحول مغرب، عشاء اور فجر میں ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ آہستہ سے پڑھتے تھے، مکحول کا بیان ہے: جب امام جہری نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھ کر سکتہ کرے، اس وقت آہستہ سے سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو اور اگر سکتہ نہ کرے تو اس سے پہلے یا اس کے ساتھ یا اس کے بعد پڑھ لیا کرو، کسی حال میں بھی ترک نہ کرو۔
حدثنا علي بن سهل الرملي، حدثنا الوليد، عن ابن جابر، وسعيد بن عبد العزيز، وعبد الله بن العلاء، عن مكحول، عن عبادة، نحو حديث الربيع بن سليمان قالوا فكان مكحول يقرا في المغرب والعشاء والصبح بفاتحة الكتاب في كل ركعة سرا . قال مكحول اقرا بها فيما جهر به الامام اذا قرا بفاتحة الكتاب وسكت سرا فان لم يسكت اقرا بها قبله ومعه وبعده لا تتركها على حال
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز سے جس میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی تھی پلٹے تو فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی ابھی قرآت کی ہے؟ ، تو ایک آدمی نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: تبھی تو میں ( دل میں ) کہہ رہا تھا کہ کیا ہو گیا ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ کشمکش کی جا رہی ہے ۔ زہری کہتے ہیں: جس وقت لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا تو جس نماز میں آپ جہری قرآت کرتے تھے، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآت کرنے سے رک گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن اکیمہ کی اس حدیث کو معمر، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابن اكيمة الليثي، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من صلاة جهر فيها بالقراءة فقال " هل قرا معي احد منكم انفا " . فقال رجل نعم يا رسول الله . قال " اني اقول ما لي انازع القران " . قال فانتهى الناس عن القراءة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما جهر فيه النبي صلى الله عليه وسلم بالقراءة من الصلوات حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود روى حديث ابن اكيمة هذا معمر ويونس واسامة بن زيد عن الزهري على معنى مالك
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، ہمارا گمان ہے کہ وہ نماز فجر تھی، پھر اسی مفہوم کی حدیث «ما لي أنازع القرآن» تک بیان کی۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ معمر نے کہا: تو لوگ اس نماز میں قرآت سے رک گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرآت کرتے تھے، اور ابن سرح کی روایت میں ہے کہ معمر نے زہری سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «فانتهى الناس» یعنی لوگ ( قرآت سے ) رک گئے، عبداللہ بن محمد زہری کہتے ہیں کہ سفیان نے کہا کہ زہری نے کوئی بات کہی، جسے میں سن نہ سکا تو معمر نے کہا وہ یہی «فانتهى الناس» کا کلمہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان کی روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «ما لي أنازع القرآن» پر ختم ہے اور اسے اوزاعی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، اس میں یہ ہے کہ زہری نے کہا: اس سے مسلمانوں نے نصیحت حاصل کی، چنانچہ جس نماز میں آپ جہری قرآت کرتے، آپ کے ساتھ قرآت نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس کو کہتے ہو ے سنا ہے کہ «فانتهى الناس» زہری کا کلام ہے ۱؎۔
حدثنا مسدد، واحمد بن محمد المروزي، ومحمد بن احمد بن ابي خلف، وعبد الله بن محمد الزهري، وابن السرح، قالوا حدثنا سفيان، عن الزهري، سمعت ابن اكيمة، يحدث سعيد بن المسيب قال سمعت ابا هريرة، يقول صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة نظن انها الصبح بمعناه الى قوله " ما لي انازع القران " . قال ابو داود قال مسدد في حديثه قال معمر فانتهى الناس عن القراءة فيما جهر به رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال ابن السرح في حديثه قال معمر عن الزهري قال ابو هريرة فانتهى الناس . وقال عبد الله بن محمد الزهري من بينهم قال سفيان وتكلم الزهري بكلمة لم اسمعها فقال معمر انه قال فانتهى الناس . قال ابو داود ورواه عبد الرحمن بن اسحاق عن الزهري وانتهى حديثه الى قوله " ما لي انازع القران " . ورواه الاوزاعي عن الزهري قال فيه قال الزهري فاتعظ المسلمون بذلك فلم يكونوا يقرءون معه فيما يجهر به صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود سمعت محمد بن يحيى بن فارس قال قوله فانتهى الناس . من كلام الزهري
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی تو ایک شخص آیا اور اس نے آپ کے پیچھے «سبح اسم ربك الأعلى» کی قرآت کی، جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم میں کس نے قرآت کی ہے؟ ، لوگوں نے کہا: ایک شخص نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے مجھے اشتباہ میں ڈال دیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالولید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا تو میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا سعید کا یہ کہنا نہیں ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم خاموش رہو؟ انہوں نے کہا: یہ حکم اس وقت ہے، جب قرآت جہر سے ہو۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے کہا: گویا آپ نے اسے ناپسند کیا تو انہوں نے کہا: اگر آپ کو یہ ناپسند ہوتا، تو آپ اس سے منع فرما دیتے ۱؎۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، ح وحدثنا محمد بن كثير العبدي، اخبرنا شعبة، - المعنى - عن قتادة، عن زرارة، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر فجاء رجل فقرا خلفه { سبح اسم ربك الاعلى } فلما فرغ قال " ايكم قرا " . قالوا رجل . قال " قد عرفت ان بعضكم خالجنيها " . قال ابو داود قال ابو الوليد في حديثه قال شعبة فقلت لقتادة اليس قول سعيد انصت للقران قال ذاك اذا جهر به . وقال ابن كثير في حديثه قال قلت لقتادة كانه كرهه . قال لو كرهه نهى عنه
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر پڑھائی، تو جب آپ پلٹے تو فرمایا: تم میں سے کس نے ( ہمارے پیچھے ) سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی ہے؟ ، تو ایک آدمی نے کہا: میں نے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے میرے دل میں خلجان ڈال دیا ہے ۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن سعيد، عن قتادة، عن زرارة، عن عمران بن حصين، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم صلى بهم الظهر فلما انفتل قال " ايكم قرا ب { سبح اسم ربك الاعلى } " . فقال رجل انا . فقال " علمت ان بعضكم خالجنيها
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم میں بدوی بھی تھے اور عجمی بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو سب ٹھیک ہے عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو اسے ( یعنی قرآن کے الفاظ و کلمات کو ) اسی طرح درست کریں گے جیسے تیر درست کیا جاتا ہے ( یعنی تجوید و قرآت میں مبالغہ کریں گے ) اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کے بجائے جلدی جلدی پڑھیں گے ۔
حدثنا وهب بن بقية، اخبرنا خالد، عن حميد الاعرج، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نقرا القران وفينا الاعرابي والاعجمي فقال " اقرءوا فكل حسن وسيجيء اقوام يقيمونه كما يقام القدح يتعجلونه ولا يتاجلونه