Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
حزم بن ابی بن کعب سے اس واقعہ کے سلسلہ میں روایت ہے کہ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ لوگوں کو مغرب پڑھا رہے تھے، اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے نہ بنو، کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے، کمزور، حاجت مند اور مسافر نماز پڑھتے ہیں ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا طالب بن حبيب، سمعت عبد الرحمن بن جابر، يحدث عن حزم بن ابى بن كعب، انه اتى معاذ بن جبل وهو يصلي بقوم صلاة المغرب في هذا الخبر قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا معاذ لا تكن فتانا فانه يصلي وراءك الكبير والضعيف وذو الحاجة والمسافر
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: تم نماز میں کون سی دعا پڑھتے ہو؟ ، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں اور کہتا ہوں: «اللهم إني أسألك الجنة وأعوذ بك من النار» اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، البتہ آپ اور معاذ کیا گنگناتے ۱؎ ہیں اس کا مجھے صحیح ادراک نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی اسی ۲؎ ( جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ ) کے اردگرد پھرتے ہیں ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا حسين بن علي، عن زايدة، عن سليمان، عن ابي صالح، عن بعض، اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لرجل " كيف تقول في الصلاة " . قال اتشهد واقول اللهم اني اسالك الجنة واعوذ بك من النار اما اني لا احسن دندنتك ولا دندنة معاذ . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " حولها ندندن
جابر رضی اللہ عنہ معاذ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان سے پوچھا: میرے بھتیجے! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اس میں کیا پڑھتے ہو؟ ، اس نے کہا: میں ( نماز میں ) سورۃ فاتحہ پڑھتا ہوں، اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں، اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن مجھے آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ سمجھ میں نہیں آتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور معاذ بھی انہی دونوں کے اردگرد ہوتے ہیں ، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی۔
حدثنا يحيى بن حبيب، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا محمد بن عجلان، عن عبيد الله بن مقسم، عن جابر، ذكر قصة معاذ قال وقال - يعني النبي صلى الله عليه وسلم للفتى - " كيف تصنع يا ابن اخي اذا صليت " . قال اقرا بفاتحة الكتاب واسال الله الجنة واعوذ به من النار واني لا ادري ما دندنتك ولا دندنة معاذ . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني ومعاذ حول هاتين " . او نحو هذا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ جماعت میں کمزور، بیمار اور بوڑھے لوگ ہوتے ہیں، البتہ جب تنہا نماز پڑھے تو اسے جتنی چاہے لمبی کر لے ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا صلى احدكم للناس فليخفف فان فيهم الضعيف والسقيم والكبير واذا صلى لنفسه فليطول ما شاء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ ان میں بیمار، بڑے بوڑھے، اور حاجت مند لوگ ( بھی ) ہوتے ہیں ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابن المسيب، وابي، سلمة عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا صلى احدكم للناس فليخفف فان فيهم السقيم والشيخ الكبير وذا الحاجة
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: آدمی ( نماز پڑھ کر ) لوٹتا ہے تو اسے اپنی نماز کے ثواب کا صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور آدھا ہی حصہ ملتا ہے ۱؎ ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن بكر، - يعني ابن مضر - عن ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن عمر بن الحكم، عن عبد الله بن عنمة المزني، عن عمار بن ياسر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الرجل لينصرف وما كتب له الا عشر صلاته تسعها ثمنها سبعها سدسها خمسها ربعها ثلثها نصفها
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بالجہر سنایا ہم نے بھی تمہیں ( جہراً ) سنا دیا اور جسے آپ نے چھپایا ہم نے بھی اسے تم سے چھپایا ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن قيس بن سعد، وعمارة بن ميمون، وحبيب، عن عطاء بن ابي رباح، ان ابا هريرة، قال في كل صلاة يقرا فما اسمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمعناكم وما اخفى علينا اخفينا عليكم
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے اور کبھی ہمیں ( ایک آدھ ) آیت سنا دیتے تھے، اور آپ ظہر کی پہلی رکعت لمبی اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح صبح کی نماز میں کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے «فاتحة الكتاب» اور «سورة» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن هشام بن ابي عبد الله، ح وحدثنا ابن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن الحجاج، - وهذا لفظه - عن يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، - قال ابن المثنى وابي سلمة ثم اتفقا - عن ابي قتادة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بنا فيقرا في الظهر والعصر في الركعتين الاوليين بفاتحة الكتاب وسورتين ويسمعنا الاية احيانا وكان يطول الركعة الاولى من الظهر ويقصر الثانية وكذلك في الصبح . قال ابو داود لم يذكر مسدد فاتحة الكتاب وسورة
اس سند سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے گزشتہ حدیث کے بعض حصے مروی ہیں، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ پچھلی دونوں رکعتوں میں ( صرف ) سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے اور حسن بن علی نے بواسطہ «يزيد بن هارون عن همام» اتنی زیادتی اور کی ہے کہ آپ پہلی رکعت اتنی لمبی کرتے جتنی دوسری نہیں کرتے تھے اور اسی طرح عصر میں اور اسی طرح فجر میں ( بھی کرتے تھے ) ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا همام، وابان بن يزيد العطار، عن يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، ببعض هذا وزاد في الاخريين بفاتحة الكتاب . وزاد عن همام قال وكان يطول في الركعة الاولى ما لا يطول في الثانية وهكذا في صلاة العصر وهكذا في صلاة الغداة
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا اس لیے کرتے تھے کہ لوگ پہلی رکعت پا جائیں۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال فظننا انه يريد بذلك ان يدرك الناس الركعة الاولى
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر میں قرآت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں ( قرآت کرتے تھے ) ، ہم نے کہا: آپ لوگوں کو یہ بات کیسے معلوم ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی کے ہلنے سے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن ابي معمر، قال قلنا لخباب هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الظهر والعصر قال نعم . قلنا بم كنتم تعرفون ذاك قال باضطراب لحيته
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت میں اتنی دیر تک قیام کرتے تھے کسی قدم کی آہٹ نہیں سنی جاتی ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا همام، حدثنا محمد بن جحادة، عن رجل، عن عبد الله بن ابي اوفى، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقوم في الركعة الاولى من صلاة الظهر حتى لا يسمع وقع قدم
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگوں ( یعنی اہل کوفہ ) نے آپ کی ہر چیز میں شکایت کی ہے حتیٰ کہ نماز کے بارے میں بھی، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتا ہوں اور پچھلی دونوں رکعتیں مختصر پڑھتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے طریقہ نماز کی ) پیروی کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے آپ سے یہی توقع تھی
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن محمد بن عبيد الله ابي عون، عن جابر بن سمرة، قال قال عمر لسعد قد شكاك الناس في كل شىء حتى في الصلاة . قال اما انا فامد في الاوليين واحذف في الاخريين ولا الو ما اقتديت به من صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ذاك الظن بك
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا تو ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں تیس آیات کے بقدر یعنی سورۃ الم تنزیل السجدہ کے بقدر قیام فرماتے ہیں، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں اس کے آدھے کا اندازہ لگایا، اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ہم نے اندازہ کیا تو ان میں آپ کی قرآت ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر ہوتی اور آخری دونوں رکعتوں میں ہم نے اس کے آدھے کا اندازہ لگایا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، - يعني النفيلي - حدثنا هشيم، اخبرنا منصور، عن الوليد بن مسلم الهجيمي، عن ابي الصديق الناجي، عن ابي سعيد الخدري، قال حزرنا قيام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الظهر والعصر فحزرنا قيامه في الركعتين الاوليين من الظهر قدر ثلاثين اية قدر { الم * تنزيل } السجدة وحزرنا قيامه في الاخريين على النصف من ذلك وحزرنا قيامه في الاوليين من العصر على قدر الاخريين من الظهر وحزرنا قيامه في الاخريين من العصر على النصف من ذلك
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں «والسماء والطارق» ، «والسماء ذات البروج»اور ان دونوں جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في الظهر والعصر بالسماء والطارق والسماء ذات البروج ونحوهما من السور
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھتے اور اس میں «والليل إذا يغشى»جیسی سورت پڑھتے تھے، اسی طرح عصر میں اور اسی طرح بقیہ نمازوں میں پڑھتے سوائے فجر کے کہ اسے لمبی کرتے۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن سماك، سمع جابر بن سمرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دحضت الشمس صلى الظهر وقرا بنحو من { والليل اذا يغشى } والعصر كذلك والصلوات كذلك الا الصبح فانه كان يطيلها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے اور رکوع کیا تو ہم نے جانا کہ آپ نے الم تنزیل السجدہ پڑھی ہے۔ ابن عیسیٰ کہتے ہیں: معتمر کے علاوہ کسی نے بھی ( سند میں ) امیہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا معتمر بن سليمان، ويزيد بن هارون، وهشيم، عن سليمان التيمي، عن امية، عن ابي مجلز، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم سجد في صلاة الظهر ثم قام فركع فراينا انه قرا تنزيل السجدة . قال ابن عيسى لم يذكر امية احد الا معتمر
عبداللہ بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں بنی ہاشم کے کچھ نوجوانوں کے ہمراہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم نے اپنے میں سے ایک نوجوان سے کہا: تم ابن عباس سے پوچھو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے؟ ابن عباس نے کہا: نہیں، نہیں، تو ان سے کہا گیا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جی میں قرآت کرتے رہے ہوں، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تمہارے چہرے یا چمڑے میں خراش کرے! یہ پہلی سے بھی بری ہے ۱؎، آپ ایک مامور ( حکم کے پابند ) بندے تھے، آپ کو جو حکم ملتا وہی لوگوں کو پہنچاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( بنی ہاشم ) کو کوئی مخصوص حکم نہیں دیا سوائے تین باتوں کے: ایک یہ کہ ہم کامل وضو کریں دوسرے یہ کہ صدقہ نہ کھائیں، تیسرے یہ کہ گدھے کو گھوڑی پر نہ چڑھائیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن موسى بن سالم، حدثنا عبد الله بن عبيد الله، قال دخلت على ابن عباس في شباب من بني هاشم فقلنا لشاب منا سل ابن عباس اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الظهر والعصر فقال لا لا . فقيل له فلعله كان يقرا في نفسه . فقال خمشا هذه شر من الاولى كان عبدا مامورا بلغ ما ارسل به وما اختصنا دون الناس بشىء الا بثلاث خصال امرنا ان نسبغ الوضوء وان لا ناكل الصدقة وان لا ننزي الحمار على الفرس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے یا نہیں۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا هشيم، اخبرنا حصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لا ادري اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الظهر والعصر ام لا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں «والمرسلات عرفا» پڑھتے ہوئے سنا تو کہنے لگیں: میرے بیٹے! تم نے اس سورۃ کو پڑھ کر مجھے یاد دلا دیا، یہی آخری سورت ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں پڑھتے ہوئے سنا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، ان ام الفضل بنت الحارث، سمعته وهو، يقرا { والمرسلات عرفا } فقالت يا بنى لقد ذكرتني بقراءتك هذه السورة انها لاخر ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا بها في المغرب