Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے:«اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ولك الحمد أنت رب السموات والأرض ومن فيهن أنت الحق وقولك الحق ووعدك الحق ولقاؤك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وأخرت وأسررت وأعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» اے اللہ! تیرے لیے حمد و ثنا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، تیرے لیے حمد و ثنا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے، تیرے لیے حمد و ثنا ہے، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، سب کا رب ہے، تو حق ہے، تیرا قول حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تجھ سے ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے، اے اللہ! میں تیرا فرماں بردار ہوا، تجھ پر ایمان لایا، صرف تجھ پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف توبہ کی، تیرے ہی لیے جھگڑا کیا، اور تیری ہی طرف فیصلہ کے لیے آیا، تو میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے سارے گناہ معاف فرما، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزبير، عن طاوس، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قام الى الصلاة من جوف الليل يقول " اللهم لك الحمد انت نور السموات والارض ولك الحمد انت قيام السموات والارض ولك الحمد انت رب السموات والارض ومن فيهن انت الحق وقولك الحق ووعدك الحق ولقاوك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق اللهم لك اسلمت وبك امنت وعليك توكلت واليك انبت وبك خاصمت واليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت واخرت واسررت واعلنت انت الهي لا اله الا انت
حدثنا ابو كامل، حدثنا خالد، - يعني ابن الحارث - حدثنا عمران بن مسلم، ان قيس بن سعد، حدثه قال حدثنا طاوس، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في التهجد يقول بعد ما يقول " الله اكبر " . ثم ذكر معناه
حدثنا ابو كامل، حدثنا خالد، - يعني ابن الحارث - حدثنا عمران بن مسلم، ان قيس بن سعد، حدثه قال حدثنا طاوس، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في التهجد يقول بعد ما يقول " الله اكبر " . ثم ذكر معناه
حدثنا قتيبة بن سعيد، وسعيد بن عبد الجبار، نحوه قال قتيبة حدثنا رفاعة بن يحيى بن عبد الله بن رفاعة بن رافع، عن عم، ابيه معاذ بن رفاعة بن رافع عن ابيه، قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فعطس رفاعة لم يقل قتيبة رفاعة فقلت الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف فقال " من المتكلم في الصلاة " . ثم ذكر نحو حديث مالك واتم منه
حدثنا قتيبة بن سعيد، وسعيد بن عبد الجبار، نحوه قال قتيبة حدثنا رفاعة بن يحيى بن عبد الله بن رفاعة بن رافع، عن عم، ابيه معاذ بن رفاعة بن رافع عن ابيه، قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فعطس رفاعة لم يقل قتيبة رفاعة فقلت الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف فقال " من المتكلم في الصلاة " . ثم ذكر نحو حديث مالك واتم منه
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حالت نماز میں ایک انصاری نوجوان کو چھینک آ گئی، تو اس نے کہا: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه حتى يرضى ربنا وبعد ما يرضى من أمر الدنيا والآخرة» اللہ کے لیے بہت بہت تعریف ہے، ایسی تعریف جو پاکیزہ اور بابرکت ہو، یہاں تک کہ ہمارا رب خوش و راضی ہو جائے اور دنیا اور آخرت کے معاملہ میں اس کے خوش ہو جانے کے بعد بھی یہ حمد و ثنا برقرار رہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ کلمات کس نے کہے؟ ، عامر بن ربیعہ کہتے ہیں: نوجوان انصاری خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: یہ کلمات کس نے کہے؟ جس نے بھی کہا ہے اس نے برا نہیں کہا ، تب اس نوجوان نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کلمات میں نے کہے ہیں، میری نیت خیر ہی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات عرش الٰہی کے نیچے نہیں رکے ( بلکہ رحمن کے پاس پہنچ گئے ) ۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا شريك، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن ابيه، قال عطس شاب من الانصار خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في الصلاة فقال الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه حتى يرضى ربنا وبعد ما يرضى من امر الدنيا والاخرة فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من القايل الكلمة " . قال فسكت الشاب ثم قال " من القايل الكلمة فانه لم يقل باسا " . فقال يا رسول الله انا قلتها لم ارد بها الا خيرا . قال " ما تناهت دون عرش الرحمن تبارك وتعالى
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوتے تو تکبیر تحریمہ کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» یعنی اے اللہ! تیری ذات پاک ہے، ہم تیری حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، تیرا نام بابرکت اور تیری ذات بلند و بالا ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں پھر تین بار «لا إله إلا الله» کہتے، پھر تین بار «الله أكبر كبيرا» کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» پھر قرآن کی تلاوت کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حدیث علی بن علی سے بواسطہ حسن مرسلاً مروی ہے اور یہ وہم جعفر کا ہے۔
حدثنا عبد السلام بن مطهر، حدثنا جعفر، عن علي بن علي الرفاعي، عن ابي المتوكل الناجي، عن ابي سعيد الخدري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام من الليل كبر ثم يقول " سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا اله غيرك " . ثم يقول " لا اله الا الله " . ثلاثا ثم يقول " الله اكبر كبيرا " . ثلاثا " اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه " . ثم يقرا . قال ابو داود وهذا الحديث يقولون هو عن علي بن علي عن الحسن مرسلا الوهم من جعفر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالسلام بن حرب سے مروی یہ حدیث مشہور نہیں ہے کیونکہ اسے عبدالسلام سے طلق بن غنام کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور نماز کا قصہ بدیل سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے مگر ان لوگوں نے اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا ( یعنی: افتتاح کے وقت اس دعا کے پڑھنے کی بابت ) ۔
حدثنا حسين بن عيسى، حدثنا طلق بن غنام، حدثنا عبد السلام بن حرب الملايي، عن بديل بن ميسرة، عن ابي الجوزاء، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا استفتح الصلاة قال " سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا اله غيرك " . قال ابو داود وهذا الحديث ليس بالمشهور عن عبد السلام بن حرب لم يروه الا طلق بن غنام وقد روى قصة الصلاة عن بديل جماعة لم يذكروا فيه شييا من هذا
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نماز میں دو سکتے یاد ہیں: ایک امام کے تکبیر تحریمہ کہنے سے، قرأت شروع کرنے اور دوسرا جب فاتحہ اور سورت کی قرأت سے فارغ ہو کر رکوع میں جانے کے قریب ہوا، اس پر عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا، تو لوگوں نے اس سلسلے میں مدینہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو انہوں نے سمرہ کی تصدیق کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حمید نے بھی اس حدیث میں اسی طرح کہا ہے کہ دوسرا سکتہ اس وقت کرتے جب آپ قرآت سے فارغ ہوتے۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا اسماعيل، عن يونس، عن الحسن، قال قال سمرة حفظت سكتتين في الصلاة سكتة اذا كبر الامام حتى يقرا وسكتة اذا فرغ من فاتحة الكتاب وسورة عند الركوع قال فانكر ذلك عليه عمران بن حصين قال فكتبوا في ذلك الى المدينة الى ابى فصدق سمرة . قال ابو داود كذا قال حميد في هذا الحديث وسكتة اذا فرغ من القراءة
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو سکتے کرتے: ایک جب نماز شروع کرتے اور دوسرا جب قرآت سے پورے طور سے فارغ ہو جاتے، پھر راوی نے یونس کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد، حدثنا خالد بن الحارث، عن اشعث، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يسكت سكتتين اذا استفتح واذا فرغ من القراءة كلها . فذكر معنى حديث يونس
حسن سے روایت ہے کہ سمرہ بن جندب اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے آپس میں ( سکتہ کا ) ذکر کیا تو سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں: ایک سکتہ اس وقت جب آپ تکبیر تحریمہ کہتے اور دوسرا سکتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» ۱؎ کی قرآت سے فارغ ہوتے، ان دونوں سکتوں کو سمرہ نے یاد رکھا، لیکن عمران بن حصین نے اس کا انکار کیا تو دونوں نے اس کے متعلق ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو انہوں نے ان دونوں کے خط کے جواب میں لکھا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے ( ٹھیک ) یاد رکھا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد، حدثنا سعيد، حدثنا قتادة، عن الحسن، ان سمرة بن جندب، وعمران بن حصين، تذاكرا فحدث سمرة بن جندب، انه حفظ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم سكتتين سكتة اذا كبر وسكتة اذا فرغ من قراءة { غير المغضوب عليهم ولا الضالين } فحفظ ذلك سمرة وانكر عليه عمران بن حصين فكتبا في ذلك الى ابى بن كعب وكان في كتابه اليهما او في رده عليهما ان سمرة قد حفظ
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں، سعید کہتے ہیں: ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں داخل ہوتے اور جب آپ قرات سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہہ لیتے۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، بهذا قال عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، قال سكتتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال فيه قال سعيد قلنا لقتادة ما هاتان السكتتان قال اذا دخل في صلاته واذا فرغ من القراءة ثم قال بعد واذا قال { غير المغضوب عليهم ولا الضالين}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہتے تو تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان ( تھوڑی دیر ) خاموش رہتے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان آپ جو سکتہ کرتے ہیں، مجھے بتائیے آپ اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم أنقني من خطاياى كالثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني بالثلج والماء والبرد» اے اللہ! جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری رکھی ہے اسی طرح میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری فرما دے، اے اللہ! تو مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک و صاف کر دے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! تو میرے گناہوں کو برف پانی اور اولوں سے دھو دے ۔
حدثنا احمد بن ابي شعيب، حدثنا محمد بن فضيل، عن عمارة، ح وحدثنا ابو كامل، حدثنا عبد الواحد، عن عمارة، - المعنى - عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كبر في الصلاة سكت بين التكبير والقراءة فقلت له بابي انت وامي ارايت سكوتك بين التكبير والقراءة اخبرني ما تقول . قال " اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم انقني من خطاياى كالثوب الابيض من الدنس اللهم اغسلني بالثلج والماء والبرد
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ «الحمد لله رب العالمين» سے قرآت شروع کرتے تھے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر وعثمان كانوا يفتتحون القراءة ب { الحمد لله رب العالمين}
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو تکبیر تحریمہ «الله اكبر» اور «الحمد لله رب العالمين»کی قرآت سے شروع کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے اور نہ اسے جھکائے رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ بالکل سیدھے بیٹھ جاتے، اور ہر دو رکعت کے بعد «التحيات» پڑھتے، اور جب بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں بچھاتے اور اپنا داہنا پاؤں کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے ۱؎ سے اور درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے ۲؎ سے منع کرتے اور نماز سلام سے ختم کرتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن حسين المعلم، عن بديل بن ميسرة، عن ابي الجوزاء، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفتتح الصلاة بالتكبير والقراءة ب { الحمد لله رب العالمين } وكان اذا ركع لم يشخص راسه ولم يصوبه ولكن بين ذلك وكان اذا رفع راسه من الركوع لم يسجد حتى يستوي قايما وكان اذا رفع راسه من السجود لم يسجد حتى يستوي قاعدا وكان يقول في كل ركعتين " التحيات " . وكان اذا جلس يفرش رجله اليسرى وينصب رجله اليمنى وكان ينهى عن عقب الشيطان وعن فرشة السبع وكان يختم الصلاة بالتسليم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ابھی مجھ پر ایک سورۃ نازل ہوئی ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «بسم الله الرحمن الرحيم * إنا أعطيناك الكوثر» یہاں تک کہ آپ نے پوری سورۃ ختم فرما دی، پھر پوچھا: تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کو زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوثر ایک نہر کا نام ہے، جسے میرے رب نے مجھے جنت میں دینے کا وعدہ کیا ہے ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابن فضيل، عن المختار بن فلفل، قال سمعت انس بن مالك، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انزلت على انفا سورة " . فقرا بسم الله الرحمن الرحيم { انا اعطيناك الكوثر } حتى ختمها . قال " هل تدرون ما الكوثر " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " فانه نهر وعدنيه ربي في الجنة
عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے واقعہ افک کا ذکر کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ نے اپنا چہرہ کھولا اور فرمایا: «أعوذ بالسميع العليم من الشيطان الرجيم * إن الذين جاءوا بالإفك عصبة منكم» ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، اسے ایک جماعت نے زہری سے روایت کیا ہے مگر ان لوگوں نے یہ بات اس انداز سے ذکر نہیں کی اور مجھے اندیشہ ہے کہ استعاذہ کا معاملہ خود حمید کا کلام ہو
حدثنا قطن بن نسير، حدثنا جعفر، حدثنا حميد الاعرج المكي، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، وذكر الافك، قالت جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وكشف عن وجهه وقال " اعوذ بالسميع العليم من الشيطان الرجيم { ان الذين جاءوا بالافك عصبة منكم } " . الاية . قال ابو داود وهذا حديث منكر قد روى هذا الحديث جماعة عن الزهري لم يذكروا هذا الكلام على هذا الشرح واخاف ان يكون امر الاستعاذة من كلام حميد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو کس چیز نے ابھارا کہ آپ سورۃ برات کا جو کہ «مئین» ۱؎ میں سے ہے، اور سورۃ الانفال کا جو کہ «مثانی» ۲؎ میں سے ہے قصد کریں تو انہیں سات لمبی سورتوں میں کر دیں اور ان دونوں ( یعنی انفال اور برات ) کے درمیان میں «بسم الله الرحمن الرحيم» نہ لکھیں؟ عثمان نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آیتیں نازل ہوتی تھیں تو آپ کاتب کو بلاتے اور ان سے فرماتے: اس آیت کو اس سورۃ میں رکھو، جس میں ایسا ایسا ( قصہ ) مذکور ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ایک دو دو آیتیں اترا کرتیں تو آپ ایسا ہی فرمایا کرتے، اور سورۃ الانفال ان سورتوں میں ہے جو پہلے پہل مدینہ میں آپ پر اتری ہیں، اور برات ان سورتوں میں سے ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آخر میں اتری ہیں اور سورۃ برات کا مضمون سورۃ الانفال کے مضمون سے ملتا جلتا ہے، اس وجہ سے مجھے گمان ہوا کہ شاید برات ( توبہ ) انفال میں داخل ہے، اسی لیے میں نے دونوں کو «سبع طوال» ۳؎ میں رکھا اور دونوں کے بیچ میں «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں لکھا۔
اخبرنا عمرو بن عون، اخبرنا هشيم، عن عوف، عن يزيد الفارسي، قال سمعت ابن عباس، قال قلت لعثمان بن عفان ما حملكم ان عمدتم، الى براءة وهي من الميين والى الانفال وهي من المثاني فجعلتموهما في السبع الطول ولم تكتبوا بينهما سطر { بسم الله الرحمن الرحيم } قال عثمان كان النبي صلى الله عليه وسلم مما ينزل عليه الايات فيدعو بعض من كان يكتب له ويقول له " ضع هذه الاية في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا " . وتنزل عليه الاية والايتان فيقول مثل ذلك وكانت الانفال من اول ما انزل عليه بالمدينة وكانت براءة من اخر ما نزل من القران وكانت قصتها شبيهة بقصتها فظننت انها منها فمن هناك وضعتهما في السبع الطول ولم اكتب بينهما سطر { بسم الله الرحمن الرحيم}
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے، اس میں ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، اور آپ نے ہم سے بیان نہیں کیا کہ سورۃ برات انفال میں سے ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعبی، ابو مالک، قتادہ اور ثابت بن عمارہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں لکھا یہاں تک کہ سورۃ النمل نازل ہوئی، یہی اس کا مفہوم ہے۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا مروان، - يعني ابن معاوية - اخبرنا عوف الاعرابي، عن يزيد الفارسي، حدثنا ابن عباس، بمعناه قال فيه فقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يبين لنا انها منها . قال ابو داود قال الشعبي وابو مالك وقتادة وثابت بن عمارة ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يكتب { بسم الله الرحمن الرحيم } حتى نزلت سورة النمل هذا معناه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ کی حد و انتہا کو نہیں جان پاتے تھے، جب تک کہ «بسم الله الرحمن الرحيم» آپ پر نہ اتر جاتی، یہ ابن سرح کی روایت کے الفاظ ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، واحمد بن محمد المروزي، وابن السرح، قالوا حدثنا سفيان، عن عمرو، عن سعيد بن جبير، - قال قتيبة فيه - عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يعرف فصل السورة حتى تنزل عليه { بسم الله الرحمن الرحيم } . وهذا لفظ ابن السرح
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ اسے لمبی کروں پھر میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو اسے مختصر کر دیتا ہوں، اس اندیشہ سے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں نہ ڈال دوں ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا عمر بن عبد الواحد، وبشر بن بكر، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاقوم الى الصلاة وانا اريد ان اطول فيها فاسمع بكاء الصبي فاتجوز كراهية ان اشق على امه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹتے تو ہماری امامت کرتے تھے – ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے تو اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز دیر سے پڑھائی اور ایک روایت میں ہے: عشاء دیر سے پڑھائی، چنانچہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر گھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی تو ان کی قوم میں سے ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگ کہنے لگے: اے فلاں! تم نے منافقت کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے منافقت نہیں کی ہے، پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرتے ہیں، ہم لوگ دن بھر اونٹوں سے کھیتوں کی سینچائی کرنے والے لوگ ہیں، اور اپنے ہاتھوں سے محنت اور مزدوری کا کام کرتے ہیں ( اس لیے تھکے ماندے رہتے ہیں ) معاذ نے آ کر ہماری امامت کی اور سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے؟ فلاں اور فلاں سورۃ پڑھا کرو ۔ ابوزبیر نے کہا کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) : تم «سبح اسم ربك الأعلى» ، «والليل إذا يغشى» پڑھا کرو ، ہم نے عمرو بن دینار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن عمرو، سمعه من، جابر قال كان معاذ يصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم يرجع فيومنا - قال مرة ثم يرجع فيصلي بقومه - فاخر النبي صلى الله عليه وسلم ليلة الصلاة - وقال مرة العشاء - فصلى معاذ مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم جاء يوم قومه فقرا البقرة فاعتزل رجل من القوم فصلى فقيل نافقت يا فلان . فقال ما نافقت . فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان معاذا يصلي معك ثم يرجع فيومنا يا رسول الله وانما نحن اصحاب نواضح ونعمل بايدينا وانه جاء يومنا فقرا بسورة البقرة . فقال " يا معاذ افتان انت افتان انت اقرا بكذا اقرا بكذا " . قال ابو الزبير ب { سبح اسم ربك الاعلى } { والليل اذا يغشى } فذكرنا لعمرو فقال اراه قد ذكره