Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
اس طریق سے بھی سفیان سے یہی حدیث گذشتہ سند سے مروی ہے، اس میں ہے کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلی دفعہ اٹھایا ، اور بعض لوگوں کی روایت میں ہے کہ ایک بار اٹھایا ۔
حدثنا عبد الله بن محمد الزهري، حدثنا سفيان، عن يزيد، نحو حديث شريك لم يقل ثم لا يعود . قال سفيان قال لنا بالكوفة بعد ثم لا يعود . قال ابو داود وروى هذا الحديث هشيم وخالد وابن ادريس عن يزيد لم يذكروا ثم لا يعود
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں اٹھایا یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
حدثنا حسين بن عبد الرحمن، اخبرنا وكيع، عن ابن ابي ليلى، عن اخيه، عيسى عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء بن عازب، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم رفع يديه حين افتتح الصلاة ثم لم يرفعهما حتى انصرف . قال ابو داود هذا الحديث ليس بصحيح
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ لمبے کر کے اٹھاتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن ابي ذيب، عن سعيد بن سمعان، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دخل في الصلاة رفع يديه مدا
زرعہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: دونوں قدموں کو برابر رکھنا، اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا ابو احمد، عن العلاء بن صالح، عن زرعة بن عبد الرحمن، قال سمعت ابن الزبير، يقول صف القدمين ووضع اليد على اليد من السنة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( اس کیفیت میں ) دیکھا تو آپ نے ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔
حدثنا محمد بن بكار بن الريان، عن هشيم بن بشير، عن الحجاج بن ابي زينب، عن ابي عثمان النهدي، عن ابن مسعود، انه كان يصلي فوضع يده اليسرى على اليمنى فراه النبي صلى الله عليه وسلم فوضع يده اليمنى على اليسرى
ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔
حدثنا محمد بن محبوب، حدثنا حفص بن غياث، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن زياد بن زيد، عن ابي جحيفة، ان عليا، - رضى الله عنه - قال السنة وضع الكف على الكف في الصلاة تحت السرة
جریر ضبیی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا پہنچا ( گٹا ) پکڑے ہوئے ناف کے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید بن جبیر سے «فوق السرة» ( ناف کے اوپر ) مروی ہے اور ابومجلز نے «تحت السرة» ( ناف کے نیچے ) کہا ہے اور یہ بات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے لیکن یہ قوی نہیں۔
حدثنا محمد بن قدامة، - يعني ابن اعين - عن ابي بدر، عن ابي طالوت عبد السلام، عن ابن جرير الضبي، عن ابيه، قال رايت عليا - رضى الله عنه - يمسك شماله بيمينه على الرسغ فوق السرة . قال ابو داود وروي عن سعيد بن جبير فوق السرة . وقال ابو مجلز تحت السرة . وروي عن ابي هريرة وليس بالقوي
ابووائل کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے پکڑ کر ناف کے نیچے رکھنا ( سنت ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو سنا، وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق کوفی کو ضعیف قرار دے رہے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن عبد الرحمن بن اسحاق الكوفي، عن سيار ابي الحكم، عن ابي وايل، قال قال ابو هريرة اخذ الاكف على الاكف في الصلاة تحت السرة . قال ابو داود سمعت احمد بن حنبل يضعف عبد الرحمن بن اسحاق الكوفي
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ نماز میں ہوتے۔
حدثنا ابو توبة، حدثنا الهيثم، - يعني ابن حميد - عن ثور، عن سليمان بن موسى، عن طاوس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع يده اليمنى على يده اليسرى ثم يشد بينهما على صدره وهو في الصلاة
(علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم أنت الملك لا إله لي إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك» میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تابعدار ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلاق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عادتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بری عادتوں کو دور کرنے والا ہے، میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جا سکتی، میں تیرا ہوں، اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي» اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابعدار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے ) ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شىء بعد» اللہ نے اس شخص کی سن لی ( قبول کر لیا ) جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس کے برابر ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره وتبارك الله أحسن الخالقين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بردار و تابعدار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی، اس کے کان اور آنکھ پھاڑے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے وہ بہترین تخلیق فرمانے والا ہے ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم والمؤخر لا إله إلا أنت» اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما، اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو«الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، اور جب اپنی قرأت پوری کر چکتے اور رکوع کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے ( رفع یدین کرتے ) ، اور نماز میں بیٹھنے کی حالت میں کسی بھی جگہ رفع یدین نہیں کرتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور«الله اكبر» کہتے، اور عبدالعزیز کی سابقہ حدیث میں گزری ہوئی دعا کی طرح کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ دعا کرتے، البتہ اس روایت میں:«والخير كله في يديك والشر ليس إليك» کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے: نماز سے فارغ ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑ ھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وأخرت وما أسررت وأعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے سارے گناہوں کی مغفرت فرما، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، اخبرنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن موسى بن عقبة، عن عبد الله بن الفضل بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي بن ابي طالب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كان اذا قام الى الصلاة المكتوبة كبر ورفع يديه حذو منكبيه ويصنع مثل ذلك اذا قضى قراءته واذا اراد ان يركع ويصنعه اذا رفع من الركوع ولا يرفع يديه في شىء من صلاته وهو قاعد واذا قام من السجدتين رفع يديه كذلك وكبر ودعا نحو حديث عبد العزيز في الدعاء يزيد وينقص الشىء ولم يذكر " والخير كله في يديك والشر ليس اليك " . وزاد فيه ويقول عند انصرافه من الصلاة " اللهم اغفر لي ما قدمت واخرت وما اسررت واعلنت انت الهي لا اله الا انت
شعیب بن ابی حمزہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن منکدر، ابن ابی فروہ، اور دیگر فقہائے اہل مدینہ نے کہا: جب تم اس مذکورہ دعا کو پڑھو تو «وأنا أول المسلمين» کے جگہ «وأنا من المسلمين» کہا کرو۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا شريح بن يزيد، حدثني شعيب بن ابي حمزة، قال قال لي محمد بن المنكدر وابن ابي فروة وغيرهما من فقهاء اهل المدينة فاذا قلت انت ذاك فقل " وانا من المسلمين " . يعني قوله " وانا اول المسلمين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نماز کے لیے آیا، اس کی سانس پھول رہی تھی، تو اس نے یہ دعا پڑھی: «الله أكبر الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» اللہ سب سے بڑا ہے، تمام تعریفیں اسی کو سزاوار ہیں، اور ہم خوب خوب اس کی پاکیزہ و بابرکت تعریفیں بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے ہیں؟ اس نے کوئی قابل حرج بات نہیں کہی ، تب اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ( کہا ہے ) ، جب میں جماعت میں حاضر ہوا تو میرے سانس پھول گئے تھے، اس حالت میں میں نے یہ کلمات کہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتے سبھی جلدی کر رہے تھے کہ ان کلمات کو کون پہلے اٹھا لے جائے ۔ حمید نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: جب تم میں سے کوئی آئے تو ( اطمینان و سکون سے ) اس طرح چل کر آئے جیسے وہ عام چال چلتا ہے پھر جتنی رکعتیں ملیں انہیں پڑھ لے اور جو چھوٹ جائیں انہیں پورا کر لے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، اخبرنا حماد، عن قتادة، وثابت، وحميد، عن انس بن مالك، ان رجلا، جاء الى الصلاة وقد حفزه النفس فقال الله اكبر الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال " ايكم المتكلم بالكلمات فانه لم يقل باسا " . فقال الرجل انا يا رسول الله جيت وقد حفزني النفس فقلتها . فقال " لقد رايت اثنى عشر ملكا يبتدرونها ايهم يرفعها " . وزاد حميد فيه " واذا جاء احدكم فليمش نحو ما كان يمشي فليصل ما ادركه وليقض ما سبقه
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ( عمرو کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی نماز تھی؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار فرمایا: «الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، اور فرمایا: «أعوذ بالله من الشيطان من نفخه ونفثه وهمزه» میں شیطان کے کبر و غرور، اس کے اشعار و جادو بیانی اور اس کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں ۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں: اس کا «نفث» شعر ہے، اس کا«نفخ» کبر ہے اور اس کا «همز» جنون یا موت ہے۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، اخبرنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عاصم العنزي، عن ابن جبير بن مطعم، عن ابيه، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي صلاة قال عمرو لا ادري اى صلاة هي فقال " الله اكبر كبيرا الله اكبر كبيرا الله اكبر كبيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة واصيلا " . ثلاثا " اعوذ بالله من الشيطان من نفخه ونفثه وهمزه " . قال نفثه الشعر ونفخه الكبر وهمزه الموتة
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل نماز میں کہتے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن مسعر، عن عمرو بن مرة، عن رجل، عن نافع بن جبير، عن ابيه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول في التطوع ذكر نحوه
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل ( تہجد ) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دس بار «الله اكبر» ، دس بار «الحمد الله» ، دس بار«سبحان الله» ، دس بار «لا إله إلا الله» ، اور دس بار «استغفر الله» کہتے اور یہ دعا کرتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ ، پھر قیامت کے دن ( سوال کے لیے ) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پناہ مانگتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن معدان نے ربیعہ جرشی سے ربیعہ نے ام المؤمنین عائشہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا زيد بن الحباب، اخبرني معاوية بن صالح، اخبرني ازهر بن سعيد الحرازي، عن عاصم بن حميد، قال سالت عايشة باى شىء كان يفتتح رسول الله صلى الله عليه وسلم قيام الليل فقالت لقد سالتني عن شىء ما سالني عنه احد قبلك كان اذا قام كبر عشرا وحمد الله عشرا وسبح عشرا وهلل عشرا واستغفر عشرا وقال " اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني " . ويتعوذ من ضيق المقام يوم القيامة . قال ابو داود ورواه خالد بن معدان عن ربيعة الجرشي عن عايشة نحوه
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قیام اللیل ( تہجد ) کے لیے اٹھتے تو اپنی نماز کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل کرتے تو اپنی نماز اس دعا سے شروع کرتے تھے: «اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك أنت تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» اے اللہ! جبرائیل و میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے! غیب اور ظاہر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ فرمائے گا، جن چیزوں میں اختلاف کیا گیا ہے، ان میں اپنی مرضی سے حق کی طرف میری رہنمائی کر، بیشک تو جسے چاہتا ہے اسے سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا عمر بن يونس، حدثنا عكرمة، حدثني يحيى بن ابي كثير، حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، سالت عايشة باى شىء كان نبي الله صلى الله عليه وسلم يفتتح صلاته اذا قام من الليل قالت كان اذا قام من الليل يفتتح صلاته " اللهم رب جبريل وميكاييل واسرافيل فاطر السموات والارض عالم الغيب والشهادة انت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق باذنك انك انت تهدي من تشاء الى صراط مستقيم
اس طریق سے بھی عکرمہ سے اسی سند سے اسی معنی کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے جب آپ رات میں ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور یہ دعا پڑھتے۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ابو نوح، قراد حدثنا عكرمة، باسناده بلا اخبار ومعناه قال كان اذا قام بالليل كبر ويقول
نماز کے شروع، بیچ اور اخیر میں دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں، فرض نماز ہو یا نفل نماز کے شروع، بیچ اور اخیر میں دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں، فرض نماز ہو یا نفل۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، قال لا باس بالدعاء في الصلاة في اوله واوسطه وفي اخره في الفريضة وغيرها
رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھا کر «سمع الله لمن حمده» کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی نے «اللهم ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ابھی ابھی یہ کلمات کس شخص نے کہے ہیں؟ ، اس آدمی نے کہا: میں نے، اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا جو ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون پہلے ان کلمات کو لکھے ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نعيم بن عبد الله المجمر، عن علي بن يحيى الزرقي، عن ابيه، عن رفاعة بن رافع الزرقي، قال كنا يوما نصلي وراء رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم راسه من الركوع قال " سمع الله لمن حمده " . قال رجل وراء رسول الله صلى الله عليه وسلم اللهم ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من المتكلم بها انفا " . فقال الرجل انا يا رسول الله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقد رايت بضعة وثلاثين ملكا يبتدرونها ايهم يكتبها اول
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، عن عمه الماجشون بن ابي سلمة، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي بن ابي طالب، - رضى الله عنه - قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام الى الصلاة كبر ثم قال " وجهت وجهي للذي فطر السموات والارض حنيفا مسلما وما انا من المشركين ان صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك امرت وانا اول المسلمين اللهم انت الملك لا اله لي الا انت انت ربي وانا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا انه لا يغفر الذنوب الا انت واهدني لاحسن الاخلاق لا يهدي لاحسنها الا انت واصرف عني سييها لا يصرف سييها الا انت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس اليك انا بك واليك تباركت وتعاليت استغفرك واتوب اليك " . واذا ركع قال " اللهم لك ركعت وبك امنت ولك اسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي " . واذا رفع قال " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ملء السموات والارض وملء ما بينهما وملء ما شيت من شىء بعد " . واذا سجد قال " اللهم لك سجدت وبك امنت ولك اسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فاحسن صورته وشق سمعه وبصره وتبارك الله احسن الخالقين " . واذا سلم من الصلاة قال " اللهم اغفر لي ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما اسرفت وما انت اعلم به مني انت المقدم والموخر لا اله الا انت