Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک مجلس میں تھا، ان لوگوں نے آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، تو ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا …، پھر راوی نے اسی حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا، اور کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اپنی تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ۱۱۸۹۷ ) ( صحیح ) ( «ولا صافح بخدہ» کا جملہ صحیح نہیں ہے)
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابن لهيعة، عن يزيد، - يعني ابن ابي حبيب - عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن محمد بن عمرو العامري، قال كنت في مجلس من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فتذاكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ابو حميد فذكر بعض هذا الحديث وقال فاذا ركع امكن كفيه من ركبتيه وفرج بين اصابعه ثم هصر ظهره غير مقنع راسه ولا صافح بخده وقال فاذا قعد في الركعتين قعد على بطن قدمه اليسرى ونصب اليمنى فاذا كان في الرابعة افضى بوركه اليسرى الى الارض واخرج قدميه من ناحية واحدة
اس سند سے بھی محمد بن عمرو بن عطاء سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھتے، نہ ہی انہیں بچھاتے اور نہ ہی انہیں سمیٹے رکھتے، اور اپنی انگلیوں کے کناروں سے قبلہ کا استقبال کرتے ۔
حدثنا عيسى بن ابراهيم المصري، حدثنا ابن وهب، عن الليث بن سعد، عن يزيد بن محمد القرشي، ويزيد بن ابي حبيب، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن محمد بن عمرو بن عطاء، نحو هذا قال فاذا سجد وضع يديه غير مفترش ولا قابضهما واستقبل باطراف اصابعه القبلة
عباس بن سہل ساعدی یا عیاش بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد بھی تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، مجلس میں ابوہریرہ، ابو حمید ساعدی، اور ابواسید رضی اللہ عنہم بھی تھے، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ روایت کی، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد» کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدے میں گئے اور سجدے کی حالت میں اپنی دونوں ہتھیلیوں، گھٹنوں اور اپنے دونوں قدموں کے اگلے حصہ پر جمے رہے، پھر «الله اكبر» کہہ کر بیٹھے تو تورک کیا ( یعنی سرین پر بیٹھے ) اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر «الله اكبر» کہا اور ( سجدہ سے اٹھ کر ) کھڑے ہو گئے، اور سرین پر نہیں بیٹھے ۔ پھر راوی عباس رضی اللہ عنہ نے ( آخر تک ) حدیث بیان کی اور کہا: پھر آپ دونوں رکعتوں کے بعد بیٹھے، یہاں تک کہ جب ( تیسری رکعت کے لیے ) اٹھنے کا قصد کیا تو «الله اكبر» کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے، پھر بعد والی دونوں رکعتیں ادا کیں۔ اور راوی ( عیسیٰ بن عبداللہ ) نے تشہد میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا علي بن الحسين بن ابراهيم، حدثنا ابو بدر، حدثني زهير ابو خيثمة، حدثنا الحسن بن الحر، حدثني عيسى بن عبد الله بن مالك، عن محمد بن عمرو بن عطاء، احد بني مالك عن عباس، - او عياش - بن سهل الساعدي انه كان في مجلس فيه ابوه وكان من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وفي المجلس ابو هريرة وابو حميد الساعدي وابو اسيد بهذا الخبر يزيد او ينقص قال فيه ثم رفع راسه - يعني من الركوع - فقال " سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد " . ورفع يديه ثم قال " الله اكبر " . فسجد فانتصب على كفيه وركبتيه وصدور قدميه وهو ساجد ثم كبر فجلس فتورك ونصب قدمه الاخرى ثم كبر فسجد ثم كبر فقام ولم يتورك ثم ساق الحديث قال ثم جلس بعد الركعتين حتى اذا هو اراد ان ينهض للقيام قام بتكبيرة ثم ركع الركعتين الاخريين ولم يذكر التورك في التشهد
عباس بن سہل بیان کرتے ہیں کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے اور آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابوحمید نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، پھر انہوں نے اس کے بعض حصے کا ذکر کیا اور کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو دونوں ہاتھ دونوں گھٹنے پر رکھا گویا آپ ان کو پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح کیا اور انہیں اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی ناک اور پیشانی زمین پر جمائی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی دونوں بغلوں سے جدا رکھا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل رکھیں، پھر اپنا سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی ( آپ نے ایسے ہی کیا ) یہاں تک کہ دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو گئے پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھا لیا اور داہنے پیر کی انگلیاں قبلہ رخ کیں اور دائیں گھٹنے پر داہنی اور بائیں گھٹنے پر بائیں ہتھیلی رکھی اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عتبہ بن ابوحکیم نے عبداللہ بن عیسٰی سے انہوں نے عباس بن سہل سے روایت کیا ہے، اور اس میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے فلیح کی حدیث کی طرح ( بغیر تورک کے ) ذکر کیا ہے، اور حسن بن حر نے فلیح بن سلیمان اور عتبہ کی حدیث میں مذکور بیٹھک کی طرح ذکر کیا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الملك بن عمرو، اخبرني فليح، حدثني عباس بن سهل، قال اجتمع ابو حميد وابو اسيد وسهل بن سعد ومحمد بن مسلمة فذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ابو حميد انا اعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر بعض هذا قال ثم ركع فوضع يديه على ركبتيه كانه قابض عليهما ووتر يديه فتجافى عن جنبيه قال ثم سجد فامكن انفه وجبهته ونحى يديه عن جنبيه ووضع كفيه حذو منكبيه ثم رفع راسه حتى رجع كل عظم في موضعه حتى فرغ ثم جلس فافترش رجله اليسرى واقبل بصدر اليمنى على قبلته ووضع كفه اليمنى على ركبته اليمنى وكفه اليسرى على ركبته اليسرى واشار باصبعه . قال ابو داود روى هذا الحديث عتبة بن ابي حكيم عن عبد الله بن عيسى عن العباس بن سهل لم يذكر التورك وذكر نحو حديث فليح وذكر الحسن بن الحر نحو جلسة حديث فليح وعتبة
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا بقية، حدثني عتبة، حدثني عبد الله بن عيسى، عن العباس بن سهل الساعدي، عن ابي حميد، بهذا الحديث قال واذا سجد فرج بين فخذيه غير حامل بطنه على شىء من فخذيه . قال ابو داود رواه ابن المبارك اخبرنا فليح سمعت عباس بن سهل يحدث فلم احفظه فحدثنيه اراه ذكر عيسى بن عبد الله انه سمعه من عباس بن سهل قال حضرت ابا حميد الساعدي بهذا الحديث
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا بقية، حدثني عتبة، حدثني عبد الله بن عيسى، عن العباس بن سهل الساعدي، عن ابي حميد، بهذا الحديث قال واذا سجد فرج بين فخذيه غير حامل بطنه على شىء من فخذيه . قال ابو داود رواه ابن المبارك اخبرنا فليح سمعت عباس بن سهل يحدث فلم احفظه فحدثنيه اراه ذكر عيسى بن عبد الله انه سمعه من عباس بن سهل قال حضرت ابا حميد الساعدي بهذا الحديث
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو آپ کے دونوں گھٹنے آپ کی ہتھیلیوں سے پہلے زمین پر پڑے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے تو اپنی پیشانی کو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھا، اور اپنی دونوں بغلوں سے علیحدہ رکھا ۔ حجاج کہتے ہیں: ہمام نے کہا: مجھ سے شقیق نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا، عاصم نے اپنے والد کلیب سے، کلیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کی حدیث میں، اور غالب گمان یہی ہے کہ محمد بن حجادہ کی حدیث میں یوں ہے: جب آپ سجدے سے اٹھے تو اپنے دونوں گھٹنوں پر اٹھے اور اپنی ران پر ٹیک لگایا ۔
حدثنا محمد بن معمر، حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا همام، حدثنا محمد بن جحادة، عن عبد الجبار بن وايل، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث قال فلما سجد وقعتا ركبتاه الى الارض قبل ان تقع كفاه - قال - فلما سجد وضع جبهته بين كفيه وجافى عن ابطيه . قال حجاج وقال همام وحدثنا شقيق حدثني عاصم بن كليب عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثل هذا وفي حديث احدهما - واكبر علمي انه حديث محمد بن جحادة - واذا نهض نهض على ركبتيه واعتمد على فخذيه
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنے دونوں انگوٹھے اپنے دونوں کانوں کی لو تک اٹھاتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن فطر، عن عبد الجبار بن وايل، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع ابهاميه في الصلاة الى شحمة اذنيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سجدے میں جانے کے لیے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب دو رکعت پڑھ کر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے تو بھی اسی طرح کرتے۔
حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، حدثني ابي، عن جدي، عن يحيى بن ايوب، عن عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج، عن ابن شهاب، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن ابي هريرة، انه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كبر للصلاة جعل يديه حذو منكبيه واذا ركع فعل مثل ذلك واذا رفع للسجود فعل مثل ذلك واذا قام من الركعتين فعل مثل ذلك
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابن لهيعة، عن ابي هبيرة، عن ميمون المكي، انه راى عبد الله بن الزبير وصلى بهم يشير بكفيه حين يقوم وحين يركع وحين يسجد وحين ينهض للقيام فيقوم فيشير بيديه فانطلقت الى ابن عباس فقلت اني رايت ابن الزبير صلى صلاة لم ار احدا يصليها فوصفت له هذه الاشارة فقال ان احببت ان تنظر الى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقتد بصلاة عبد الله بن الزبير
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابن لهيعة، عن ابي هبيرة، عن ميمون المكي، انه راى عبد الله بن الزبير وصلى بهم يشير بكفيه حين يقوم وحين يركع وحين يسجد وحين ينهض للقيام فيقوم فيشير بيديه فانطلقت الى ابن عباس فقلت اني رايت ابن الزبير صلى صلاة لم ار احدا يصليها فوصفت له هذه الاشارة فقال ان احببت ان تنظر الى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقتد بصلاة عبد الله بن الزبير
نضر بن کثیر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن طاؤس نے مسجد خیف میں میرے بغل میں نماز پڑھی، جب آپ نے پہلا سجدہ کیا، اور اس سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے چہرے کے بالمقابل انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تو مجھے یہ عجیب سا لگا، چنانچہ میں نے وہیب بن خالد سے اس کا تذکرہ کیا تو وہیب نے عبداللہ بن طاؤس سے کہا: آپ ایک ایسا کام کر رہے ہیں جسے میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ ! تو عبداللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسا کرتے دیکھا، اور ان کے متعلق بھی مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ومحمد بن ابان، - المعنى - قالا حدثنا النضر بن كثير، - يعني السعدي - قال صلى الى جنبي عبد الله بن طاوس في مسجد الخيف فكان اذا سجد السجدة الاولى فرفع راسه منها رفع يديه تلقاء وجهه فانكرت ذلك فقلت لوهيب بن خالد فقال له وهيب بن خالد تصنع شييا لم ار احدا يصنعه فقال ابن طاوس رايت ابي يصنعه وقال ابي رايت ابن عباس يصنعه ولا اعلم الا انه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصنعه
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا عبد الاعلى، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، انه كان اذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه واذا ركع واذا قال سمع الله لمن حمده واذا قام من الركعتين رفع يديه ويرفع ذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود الصحيح قول ابن عمر وليس بمرفوع . قال ابو داود روى بقية اوله عن عبيد الله واسنده ورواه الثقفي عن عبيد الله اوقفه على اب��ن عمر وقال فيه واذا قام من الركعتين يرفعهما الى ثدييه وهذا هو الصحيح . قال ابو داود ورواه الليث بن سعد ومالك وايوب وابن جريج موقوفا واسنده حماد بن سلمة وحده عن ايوب ولم يذكر ايوب ومالك الرفع اذا قام من السجدتين وذكره الليث في حديثه قال ابن جريج فيه قلت لنافع اكان ابن عمر يجعل الاولى ارفعهن قال لا سواء . قلت اشر لي . فاشار الى الثديين او اسفل من ذلك
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا عبد الاعلى، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، انه كان اذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه واذا ركع واذا قال سمع الله لمن حمده واذا قام من الركعتين رفع يديه ويرفع ذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود الصحيح قول ابن عمر وليس بمرفوع . قال ابو داود روى بقية اوله عن عبيد الله واسنده ورواه الثقفي عن عبيد الله اوقفه على اب��ن عمر وقال فيه واذا قام من الركعتين يرفعهما الى ثدييه وهذا هو الصحيح . قال ابو داود ورواه الليث بن سعد ومالك وايوب وابن جريج موقوفا واسنده حماد بن سلمة وحده عن ايوب ولم يذكر ايوب ومالك الرفع اذا قام من السجدتين وذكره الليث في حديثه قال ابن جريج فيه قلت لنافع اكان ابن عمر يجعل الاولى ارفعهن قال لا سواء . قلت اشر لي . فاشار الى الثديين او اسفل من ذلك
نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس سے کم اٹھاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جہاں تک مجھے معلوم ہے مالک کے علاوہ کسی نے «رفعهما دون ذلك» ( انہیں یعنی ہاتھوں کو اس سے کم یعنی مونڈھے سے نیچے اٹھاتے ) کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، ان عبد الله بن عمر، كان اذا ابتدا الصلاة يرفع يديه حذو منكبيه واذا رفع راسه من الركوع رفعهما دون ذلك . قال ابو داود لم يذكر رفعهما دون ذلك . احد غير مالك فيما اعلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتیں پڑھ کر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے، تو«الله اكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ومحمد بن عبيد المحاربي، قالا حدثنا محمد بن فضيل، عن عاصم بن كليب، عن محارب بن دثار، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام من الركعتين كبر ورفع يديه
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے اور جب اپنی قرآت پوری کر چکتے اور رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے کی حالت میں کبھی بھی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ نہیں اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر ( تیسری ) کے لیے اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور «الله اكبر» کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جس وقت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کی تو کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کر لیتے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت «الله اكبر» کہتے وقت کرتے تھے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن موسى بن عقبة، عن عبد الله بن الفضل بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي بن ابي طالب، - رضى الله عنه - عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كان اذا قام الى الصلاة المكتوبة كبر ورفع يديه حذو منكبيه ويصنع مثل ذلك اذا قضى قراءته واراد ان يركع ويصنعه اذا رفع من الركوع ولا يرفع يديه في شىء من صلاته وهو قاعد واذا قام من السجدتين رفع يديه كذلك وكبر . قال ابو داود في حديث ابي حميد الساعدي حين وصف صلاة النبي صلى الله عليه وسلم اذا قام من الركعتين كبر ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما كبر عند افتتاح الصلاة
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے جب آپ تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہتے جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کی لو تک لے جاتے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن مالك بن الحويرث، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يرفع يديه اذا كبر واذا ركع واذا رفع راسه من الركوع حتى يبلغ بهما فروع اذنيه
بشیر بن نہیک کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہوتا تو ( رفع یدین کرتے وقت ) آپ کی بغل دیکھ لیتا۔ عبیداللہ بن معاذ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ لاحق ( ابومجلز ) کہتے ہیں: کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ نماز میں تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نہیں ہو سکتے تھے، ابوداؤد کے شیخ موسیٰ بن مروان رقی نے یہ اضافہ کیا یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو رفع یدین کرتے۔
حدثنا ابن معاذ، حدثنا ابي ح، وحدثنا موسى بن مروان، حدثنا شعيب، - يعني ابن اسحاق المعنى - عن عمران، عن لاحق، عن بشير بن نهيك، قال قال ابو هريرة لو كنت قدام النبي صلى الله عليه وسلم لرايت ابطيه . زاد ابن معاذ قال يقول لاحق الا ترى انه في الصلاة ولا يستطيع ان يكون قدام رسول الله صلى الله عليه وسلم وزاد موسى يعني اذا كبر رفع يديه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ نے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی اور رفع یدین کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ ملا کر آپ نے انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لیا، جب یہ خبر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: سچ کہا میرے بھائی ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے، پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا یعنی دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں کے پکڑنے کا حکم دیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن ادريس، عن عاصم بن كليب، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن علقمة، قال قال عبد الله علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة فكبر ورفع يديه فلما ركع طبق يديه بين ركبتيه قال فبلغ ذلك سعدا فقال صدق اخي قد كنا نفعل هذا ثم امرنا بهذا يعني الامساك على الركبتين
علقمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ علقمہ کہتے ہیں: پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، تو رفع یدین صرف ایک بار ( نماز شروع کرتے وقت ) کیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ایک طویل حدیث سے ماخوذ ایک مختصر ٹکڑا ہے، اور یہ حدیث اس لفظ کے ساتھ صحیح نہیں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عاصم، - يعني ابن كليب - عن عبد الرحمن بن الاسود، عن علقمة، قال قال عبد الله بن مسعود الا اصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فصلى فلم يرفع يديه الا مرة . قال ابو داود هذا مختصر من حديث طويل وليس هو بصحيح على هذا اللفظ
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے قریب تک اٹھاتے تھے پھر دوبارہ ایسا نہیں کرتے تھے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا معاوية، وخالد بن عمرو، وابو حذيفة قالوا حدثنا سفيان، باسناده بهذا قال فرفع يديه في اول مرة وقال بعضهم مرة واحدة
اس طریق سے بھی یزید سے شریک ہی کی حدیث کی طرح حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے «ثم لا يعود» ( پھر ایسا نہیں کرتے تھے ) کا لفظ نہیں کہا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اس کے بعد ہم سے یزید نے کوفہ میں «ثم لا يعود» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشیم، خالد اور ابن ادریس نے یزید سے روایت کیا ہے، ان لوگوں نے «ثم لا يعود» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا شريك، عن يزيد بن ابي زياد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا افتتح الصلاة رفع يديه الى قريب من اذنيه ثم لا يعود