Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رات کی نماز پڑھتے اور وہ آپ کے اور قبلے کے بیچ میں اس بچھونے پر لیٹی رہتیں جس پر آپ سوتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو انہیں جگاتے تو وہ بھی وتر پڑھتیں۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي صلاته من الليل وهي معترضة بينه وبين القبلة راقدة على الفراش الذي يرقد عليه حتى اذا اراد ان يوتر ايقظها فاوترت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تم لوگوں نے بہت برا کیا کہ ہم عورتوں کو گدھے اور کتے کے برابر ٹھہرا دیا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے عرض میں لیٹی رہتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو میرا پاؤں دبا دیتے، میں اسے سمیٹ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال سمعت القاسم، يحدث عن عايشة، قالت بيسما عدلتمونا بالحمار والكلب لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وانا معترضة بين يديه فاذا اراد ان يسجد غمز رجلي فضممتها الى ثم يسجد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سوئی رہتی تھی، میرے دونوں پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتے اور آپ رات میں نماز پڑھ رہے ہوتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنا چاہتے تو میرے دونوں پاؤں کو مارتے تو میں انہیں سمیٹ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔
حدثنا عاصم بن النضر، حدثنا المعتمر، حدثنا عبيد الله، عن ابي النضر، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، انها قالت كنت اكون نايمة ورجلاى بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي من الليل فاذا اراد ان يسجد ضرب رجلى فقبضتهما فسجد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سمت میں لیٹی رہتی، آپ نماز پڑھتے اور میں آپ کے آگے ہوتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنا چاہتے ( عثمان کی روایت میں یہ اضافہ ہے: تو آپ مجھے اشارہ کرتے ، پھر عثمان اور قعنبی دونوں روایت میں متفق ہیں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: سرک جاؤ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، ح قال ابو داود وحدثنا القعنبي، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد وهذا لفظه - عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن عايشة، انها قالت كنت انام وانا معترضة، في قبلة رسول الله صلى الله عليه وسلم فيصلي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا امامه فاذا اراد ان يوتر . زاد عثمان غمزني ثم اتفقا فقال " تنحى
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا، ان دنوں میں بالغ ہونے کے قریب ہو چکا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں صف کے بعض حصے کے آگے سے گزرا، پھر اترا تو گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، اور صف میں شریک ہو گیا، تو کسی نے مجھ پر نکیر نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ قعنبی کے الفاظ ہیں اور یہ زیادہ کامل ہیں۔ مالک کہتے ہیں: جب نماز کھڑی ہو جائے تو میں اس میں گنجائش سمجھتا ہوں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال جيت على حمار ح وحدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، قال اقبلت راكبا على اتان وانا يوميذ، قد ناهزت الاحتلام ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالناس بمنى فمررت بين يدى بعض الصف فنزلت فارسلت الاتان ترتع ودخلت في الصف فلم ينكر ذلك احد . قال ابو داود وهذا لفظ القعنبي وهو اتم . قال مالك وانا ارى ذلك واسعا اذا قامت الصلاة
ابوصہباء کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ان چیزوں کا تذکرہ کیا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، تو انہوں نے کہا: میں اور بنی عبدالمطلب کا ایک لڑکا دونوں ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، ہم دونوں اترے اور گدھے کو صف کے آگے چھوڑ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پرواہ نہ کی، اور بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں آئیں، وہ آ کر صف کے درمیان داخل ہو گئیں تو آپ نے اس کی بھی کچھ پرواہ نہ کی۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن الحكم، عن يحيى بن الجزار، عن ابي الصهباء، قال تذاكرنا ما يقطع الصلاة عند ابن عباس فقال جيت انا وغلام من بني عبد المطلب على حمار ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فنزل ونزلت وتركنا الحمار امام الصف فما بالاه وجاءت جاريتان من بني عبد المطلب فدخلتا بين الصف فما بالى ذلك
منصور سے یہی حدیث اس سند سے بھی مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں لڑتی ہوئی آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو پکڑ لیا، عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑ کر دونوں کو جدا کر دیا۔ اور داود بن مخراق کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو دوسرے سے جدا کر دیا، اور اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وداود بن مخراق الفريابي، قالا حدثنا جرير، عن منصور، بهذا الحديث باسناده قال فجاءت جاريتان من بني عبد المطلب اقتتلتا فاخذهما - قال عثمان ففرع بينهما وقال داود - فنزع احداهما من الاخرى فما بالى ذلك
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک صحرا میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحرا ( کھلی جگہ ) میں نماز پڑھی، اس حال میں کہ آپ کے سامنے سترہ نہ تھا، اور ہماری گدھی اور کتیا دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیل رہی تھیں، لیکن آپ نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔
حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، قال حدثني ابي، عن جدي، عن يحيى بن ايوب، عن محمد بن عمر بن علي، عن عباس بن عبيد الله بن عباس، عن الفضل بن عباس، قال اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في بادية لنا ومعه عباس فصلى في صحراء ليس بين يديه سترة وحمارة لنا وكلبة تعبثان بين يديه فما بالى ذلك
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، اور جہاں تک ہو سکے گزرنے والے کو دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن مجالد، عن ابي الوداك، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقطع الصلاة شىء وادرءوا ما استطعتم فانما هو شيطان
ابوالوداک کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کا ایک نوجوان ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے اسے دھکیل دیا، وہ پھر آیا، انہوں نے اسے پھر دھکیل دیا، اس طرح تین بار ہوا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کہا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہو سکے تم دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دو حدیثوں میں تعارض ہو، تو وہ عمل دیکھا جائے گا جو آپ کے صحابہ کرام نے آپ کے بعد کیا ہو ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا مجالد، حدثنا ابو الوداك، قال مر شاب من قريش بين يدى ابي سعيد الخدري وهو يصلي فدفعه ثم عاد فدفعه ثلاث مرات فلما انصرف قال ان الصلاة لا يقطعها شىء ولكن قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ادرءوا ما استطعتم فانه شيطان " . قال ابو داود اذا تنازع الخبران عن رسول الله صلى الله عليه وسلم نظر الى ما عمل به اصحابه من بعده
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے، اور جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے ( تو بھی اسی طرح کرتے ) ، اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد بھی۔ سفیان نے ( اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد بھی کے بجائے ) ایک مرتبہ یوں نقل کیا: اور جب آپ اپنا سر اٹھاتے ، اور زیادہ تر سفیان نے: رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد کے الفاظ ہی کی روایت کی ہے، اور آپ دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا استفتح الصلاة رفع يديه حتى يحاذي منكبيه واذا اراد ان يركع وبعد ما يرفع راسه من الركوع - وقال سفيان مرة واذا رفع راسه . واكثر ما كان يقول وبعد ما يرفع راسه من الركوع - ولا يرفع بين السجدتين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، یہاں تک کہ وہ آپ کے دونوں کندھوں کے مقابل ہو جاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «الله أكبر» کہتے، اور وہ دونوں ہاتھ اسی طرح ہوتے، پھر رکوع کرتے، پھر جب رکوع سے اپنی پیٹھ اٹھانے کا ارادہ کرتے تو بھی ان دونوں کو اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) یہاں تک کہ وہ آپ کے کندھوں کے بالمقابل ہو جاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہتے، اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھ نہ اٹھاتے، اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر کے وقت دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ آپ کی نماز پوری ہو جاتی۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا بقية، حدثنا الزبيدي، عن الزهري، عن سالم، عن عبد الله بن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام الى الصلاة رفع يديه حتى تكونا حذو منكبيه ثم كبر وهما كذلك فيركع ثم اذا اراد ان يرفع صلبه رفعهما حتى تكونا حذو منكبيه ثم قال سمع الله لمن حمده ولا يرفع يديه في السجود ويرفعهما في كل تكبيرة يكبرها قبل الركوع حتى تنقضي صلاته
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر ( تحریمہ ) کہی تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑا، اور انہیں اپنے کپڑے میں داخل کر لیا، جب آپ نے رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ ( چادر سے ) نکالے پھر رفع یدین کیا، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کیا تو رفع یدین کیا، پھر سجدہ کیا اور اپنی پیشانی کو دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں رکھا، اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو رفع یدین ۱؎ کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے۔ محمد کہتے ہیں: میں نے حسن بصری سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، کرنے والوں نے ایسا ہی کیا اور چھوڑنے والوں نے اسے چھوڑ دیا۔ أبوداود کہتے ہیں: اس حدیث کو ہمام نے بھی ابن جحادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة الجشمي، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، قال حدثنا محمد بن جحادة، حدثني عبد الجبار بن وايل بن حجر، قال كنت غلاما لا اعقل صلاة ابي قال فحدثني وايل بن علقمة عن ابي وايل بن حجر قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان اذا كبر رفع يديه - قال - ثم التحف ثم اخذ شماله بيمينه وادخل يديه في ثوبه قال فاذا اراد ان يركع اخرج يديه ثم رفعهما واذا اراد ان يرفع راسه من الركوع رفع يديه ثم سجد ووضع وجهه بين كفيه واذا رفع راسه من السجود ايضا رفع يديه حتى فرغ من صلاته . قال محمد فذكرت ذلك للحسن بن ابي الحسن فقال هي صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فعله من فعله وتركه من تركه . قال ابو داود روى هذا الحديث همام عن ابن جحادة لم يذكر الرفع مع الرفع من السجود
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کیا یہاں تک کہ آپ کے دونوں ہاتھ دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے دونوں کانوں کے بالمقابل ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن الحسن بن عبيد الله النخعي، عن عبد الجبار بن وايل، عن ابيه، انه ابصر النبي صلى الله عليه وسلم حين قام الى الصلاة رفع يديه حتى كانتا بحيال منكبيه وحاذى بابهاميه اذنيه ثم كبر
عبدالجبار بن وائل کہتے ہیں: مجھ سے میرے گھر والوں نے بیان کیا کہ میرے والد نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد، - يعني ابن زريع - حدثنا المسعودي، حدثني عبد الجبار بن وايل، حدثني اهل، بيتي عن ابي انه، حدثهم انه، راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه مع التكبيرة
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز ادا کرتے ہیں؟ ( میں نے دیکھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا، پھر دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ وہ دونوں کانوں کے بالمقابل ہو گئے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو پکڑا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کا ارادہ کیا تو بھی اسی طرح ہاتھوں کو اٹھایا، پھر دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی انہیں اسی طرح اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ اس جگہ پہ رکھا، پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھایا، اور بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا، اور اپنی داہنی کہنی کو داہنی ران سے جدا رکھا اور دونوں انگلیوں ( خنصر، بنصر ) کو بند کر لیا اور دائرہ بنا لیا ( یعنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے ) ۔ بشر بن مفضل بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے شیخ عاصم بن کلیب کو دیکھا وہ اسی طرح کرتے تھے، اور بشر نے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا دائرہ بنایا اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال قلت لانظرن الى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يصلي قال فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستقبل القبلة فكبر فرفع يديه حتى حاذتا اذنيه ثم اخذ شماله بيمينه فلما اراد ان يركع رفعهما مثل ذلك ثم وضع يديه على ركبتيه فلما رفع راسه من الركوع رفعهما مثل ذلك فلما سجد وضع راسه بذلك المنزل من بين يديه ثم جلس فافترش رجله اليسرى ووضع يده اليسرى على فخذه اليسرى وحد مرفقه الايمن على فخذه اليمنى وقبض ثنتين وحلق حلقة ورايته يقول هكذا . وحلق بشر الابهام والوسطى واشار بالسبابة
عاصم بن کلیب نے اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اس میں یہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہتھیلی کی پشت پہنچے اور کلائی پر رکھا، اس میں یہ بھی ہے کہ پھر میں سخت سردی کے زمانہ میں آیا تو میں نے لوگوں کو بہت زیادہ کپڑے پہنے ہوئے دیکھا، ان کے ہاتھ کپڑوں کے اندر ہلتے تھے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو الوليد، حدثنا زايدة، عن عاصم بن كليب، باسناده ومعناه قال فيه ثم وضع يده اليمنى على ظهر كفه اليسرى والرسغ والساعد وقال فيه ثم جيت بعد ذلك في زمان فيه برد شديد فرايت الناس عليهم جل الثياب تحرك ايديهم تحت الثياب
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے بالمقابل اٹھایا، پھر میں (ایک زمانہ کے بعد) لوگوں کے پاس آیا تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھ اپنے سینوں تک اٹھاتے اور حال یہ ہوتا میں سردی کے موسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ نماز میں ( سردی کی وجہ سے ) اپنے کپڑوں کے اندر ہی رفع یدین کرتے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا شريك، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم حين افتتح الصلاة رفع يديه حيال اذنيه - قال - ثم اتيتهم فرايتهم يرفعون ايديهم الى صدورهم في افتتاح الصلاة وعليهم برانس واكسية
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سردی کے موسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ نماز میں ( سردی کی وجہ سے ) اپنے کپڑوں کے اندر ہی رفع یدین کرتے۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا وكيع، عن شريك، عن عاصم بن كليب، عن علقمة بن وايل، عن وايل بن حجر، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم في الشتاء فرايت اصحابه يرفعون ايديهم في ثيابهم في الصلاة
عبدالحمید بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے خبر دی ہے کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام کے درمیان جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے کہتے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ کی قسم آپ ہم سے زیادہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے تھے، نہ ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آئے تھے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں یہ ٹھیک ہے ( لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے ) اس پر لوگوں نے کہا: ( اگر آپ زیادہ جانتے ہیں ) تو پیش کیجئیے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر سیدھی ہو جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کرتے، پھر «الله أكبر» کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کر لیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور رکوع میں پیٹھ اور سر سیدھا رکھتے، سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ ہی پیٹھ سے بلند رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے، پھر اپنا دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہو کر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرتے پھر «الله أكبر» کہتے، پھر زمین کی طرف جھکتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کو نرم رکھتے اور ( دوسرا ) سجدہ کرتے پھر «الله أكبر» کہتے اور ( دوسرے سجدہ سے ) اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آ جاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو «الله أكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت «الله أكبر» کہا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا، تو اپنے بائیں پیر کو اپنے داہنے پیر کے نیچے سے نکال کر اپنی بائیں سرین پر بیٹھتے ( پھر سلام پھیرتے ) ۔ اس پر ان لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو عاصم الضحاك بن مخلد، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، - وهذا حديث احمد قال - اخبرنا عبد الحميد، - يعني ابن جعفر - اخبرني محمد بن عمرو بن عطاء، قال سمعت ابا حميد الساعدي، في عشرة من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم منهم ابو قتادة قال ابو حميد انا اعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالوا فلم فوالله ما كنت باكثرنا له تبعا ولا اقدمنا له صحبة . قال بلى . قالوا فاعرض . قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام الى الصلاة يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه ثم يكبر حتى يقر كل عظم في موضعه معتدلا ثم يقرا ثم يكبر فيرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه ثم يركع ويضع راحتيه على ركبتيه ثم يعتدل فلا يصب راسه ولا يقنع ثم يرفع راسه فيقول " سمع الله لمن حمده " . ثم يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه معتدلا ثم يقول " الله اكبر " . ثم يهوي الى الارض فيجافي يديه عن جنبيه ثم يرفع راسه ويثني رجله اليسرى فيقعد عليها ويفتح اصابع رجليه اذا سجد ويسجد ثم يقول " الله اكبر " . ويرفع راسه ويثني رجله اليسرى فيقعد عليها حتى يرجع كل عظم الى موضعه ثم يصنع في الاخرى مثل ذلك ثم اذا قام من الركعتين كبر ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما كبر عند افتتاح الصلاة ثم يصنع ذلك في بقية صلاته حتى اذا كانت السجدة التي فيها التسليم اخر رجله اليسرى وقعد متوركا على شقه الايسر . قالوا صدقت هكذا كان يصلي صلى الله عليه وسلم