Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
سفیان بن عیینہ کا بیان ہے کہ میں نے شریک کو دیکھا، انہوں نے ہمارے ساتھ ایک جنازے کے موقع پر عصر پڑھی تو اپنی ٹوپی ( بطور سترہ ) اپنے سامنے رکھ لی۔
حدثنا عبد الله بن محمد الزهري، حدثنا سفيان بن عيينة، قال رايت شريكا صلى بنا في جنازة العصر فوضع قلنسوته بين يديه - يعني - في فريضة حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کو قبلہ کی طرف کر کے اس کی آڑ میں نماز پڑھتے تھے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ووهب بن بقية، وابن ابي خلف، وعبد الله بن سعيد، - قال عثمان - حدثنا ابو خالد، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي الى بعيره
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا، تو آپ اسے اپنے داہنے ابرو یا بائیں ابرو کے مقابل کئے ہوتے، اسے اپنی دونوں آنکھوں کے بیچوں بیچ میں نہیں رکھتے ۱؎۔
حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا علي بن عياش، حدثنا ابو عبيدة الوليد بن كامل، عن المهلب بن حجر البهراني، عن ضباعة بنت المقداد بن الاسود، عن ابيها، قال ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الى عود ولا عمود ولا شجرة الا جعله على حاجبه الايمن او الايسر ولا يصمد له صمدا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اور نہ بات کرنے والے کے پیچھے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، حدثنا عبد الملك بن محمد بن ايمن، عن عبد الله بن يعقوب بن اسحاق، عمن حدثه عن محمد بن كعب القرظي، قال قلت له - يعني لعمر بن عبد العزيز - حدثني عبد الله بن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تصلوا خلف النايم ولا المتحدث
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سترے کی آڑ میں نماز پڑھے تو چاہیئے کہ اس کے نزدیک رہے، تاکہ شیطان اس کی نماز توڑ نہ سکے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے واقد بن محمد نے صفوان سے، صفوان نے محمد بن سہل سے، محمد نے اپنے والد سہل بن ابی حثمہ سے، یا ( بغیر اپنے والد کے واسطہ کے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور بعض نے نافع بن جبیر سے اور نافع نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، اور اس کی سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔
حدثنا محمد بن الصباح بن سفيان، اخبرنا سفيان، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، وحامد بن يحيى، وابن السرح، قالوا حدثنا سفيان، عن صفوان بن سليم، عن نافع بن جبير، عن سهل بن ابي حثمة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا صلى احدكم الى سترة فليدن منها لا يقطع الشيطان عليه صلاته " . قال ابو داود رواه واقد بن محمد عن صفوان عن محمد بن سهل عن ابيه او عن محمد بن سهل عن النبي صلى الله عليه وسلم قال بعضهم عن نافع بن جبير عن سهل بن سعد واختلف في اسناده
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور قبلہ ( کی دیوار ) کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث کے الفاظ نفیلی کے ہیں۔
حدثنا القعنبي، والنفيلي، قالا حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، قال اخبرني ابي، عن سهل، قال وكان بين مقام النبي صلى الله عليه وسلم وبين القبلة ممر عنز . قال ابو داود الخبر للنفيلي
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، بلکہ جہاں تک ہو سکے اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے قتال کرے ( یعنی سختی سے روکے ) کیونکہ وہ شیطان ہے ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان احدكم يصلي فلا يدع احدا يمر بين يديه وليدراه ما استطاع فان ابى فليقاتله فانما هو شيطان
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو کسی سترے کی طرف منہ کر کے پڑھے، اور اس سے قریب رہے ۔ پھر ابن عجلان نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو خالد، عن ابن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صلى احدكم فليصل الى سترة وليدن منها " . ثم ساق معناه
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا، پھر ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے ( یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے ) ۔
حدثنا احمد بن ابي سريج الرازي، اخبرنا ابو احمد الزبيري، اخبرنا مسرة بن معبد اللخمي، - لقيته بالكوفة - قال حدثني ابو عبيد، حاجب سليمان قال رايت عطاء بن يزيد الليثي قايما يصلي فذهبت امر بين يديه فردني ثم قال حدثني ابو سعيد الخدري ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من استطاع منكم ان لا يحول بينه وبين قبلته احد فليفعل
ابوصالح کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا اور سنا، وہ تم سے بیان کرتا ہوں: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مروان کے پاس گئے، تو عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو ( جسے وہ لوگوں کے لیے سترہ بنائے ) سامنے کر کے نماز پڑھے، پھر کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ سینہ پر دھکا دے کر اسے ہٹا دے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے ( یعنی سختی سے دفع کرے ) کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری کا بیان ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور کوئی آدمی میرے سامنے سے اتراتے ہوئے گزرتا ہے تو میں اسے روک دیتا ہوں، اور کوئی ضعیف العمر کمزور گزرتا ہے تو اسے نہیں روکتا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا سليمان، - يعني ابن المغيرة - عن حميد، - يعني ابن هلال - قال قال ابو صالح احدثك عما رايت من ابي سعيد وسمعته منه، دخل ابو سعيد على مروان فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا صلى احدكم الى شىء يستره من الناس فاراد احد ان يجتاز بين يديه فليدفع في نحره فان ابى فليقاتله فانما هو شيطان " . قال ابو داود قال سفيان الثوري يمر الرجل يتبختر بين يدى وانا اصلي فامنعه ويمر الضعيف فلا امنعه
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں ابوجہیم رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصلی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو ابوجہیم رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر مصلی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لے کہ اس پر کس قدر گناہ ہے، تو اس کو مصلی کے سامنے گزرنے سے چالیس ( دن یا مہینے یا سال تک ) وہیں کھڑا رہنا بہتر لگتا ۔ ابونضر کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے چالیس دن کہا یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن بسر بن سعيد، ان زيد بن خالد الجهني، ارسله الى ابي جهيم يساله ماذا سمع من، رسول الله صلى الله عليه وسلم في المار بين يدى المصلي فقال ابو جهيم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو يعلم المار بين يدى المصلي ماذا عليه لكان ان يقف اربعين خير له من ان يمر بين يديه " . قال ابو النضر لا ادري قال اربعين يوما او شهرا او سنة
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (حفص کی روایت میں ہے) ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جب آدمی کے سامنے کجاوہ کے اگلے حصہ کی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو، تو گدھے، کالے کتے اور عورت کے گزر جانے سے اس کی نماز ٹوٹ جائے گی ۱؎۔ میں نے عرض کیا: سرخ، زرد یا سفید رنگ کے کتے کے مقابلے میں کالے کتے کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، ح وحدثنا عبد السلام بن مطهر، وابن، كثير - المعنى - ان سليمان بن المغيرة، اخبرهم عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، - قال حفص - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وقالا عن سليمان قال ابو ذر " يقطع صلاة الرجل - اذا لم يكن بين يديه قيد اخرة الرحل الحمار والكلب الاسود والمراة " . فقلت ما بال الاسود من الاحمر من الاصفر من الابيض فقال يا ابن اخي سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سالتني فقال " الكلب الاسود شيطان
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں (شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے) : نماز حائضہ عورت اور کتا ( مصلی کے سامنے گزرنے ) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید، ہشام اور ہمام نے قتادہ سے، قتادہ نے جابر بن زید سے، جابر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً یعنی ان کا اپنا قول نقل کیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثنا قتادة، قال سمعت جابر بن زيد، يحدث عن ابن عباس، - رفعه شعبة - قال " يقطع الصلاة المراة الحايض والكلب " . قال ابو داود وقفه سعيد وهشام عن قتادة عن جابر بن زيد على ابن عباس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، عکرمہ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کتا، گدھا، سور، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے باطل ہو جاتی ہے، البتہ اگر یہ ایک پتھر کی مار کی دوری سے گزریں تو نماز ہو جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کے سلسلے میں میرے دل میں کچھ کھٹک اور شبہ ہے، میں اس حدیث کے متعلق ابراہیم اور دوسرے لوگوں سے مذاکرہ کرتا یعنی پوچھتا تھا کہ کیا معاذ کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث ہشام سے روایت کی ہے، تو کسی نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسے ہشام سے کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی میں نے کسی کو اسے ہشام سے روایت کرتے دیکھا ( سوائے معاذ کے ) ، میرا خیال ہے کہ یہ ابن ابی سمینہ ( یعنی بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام محمد بن اسماعیل بصریٰ ) کا وہم ہے، اس میں مجوسی کا ذکر منکر ہے، اور اس میں پتھر کی مار کی دوری، اور خنزیر کا ذکر ہے، اس میں بھی نکارت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن اسماعیل بن سمینہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی، اور میرا خیال ہے کہ انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ وہ ہم سے اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے
حدثنا محمد بن اسماعيل البصري، حدثنا معاذ، حدثنا هشام، عن يحيى، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال احسبه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا صلى احدكم الى غير سترة فانه يقطع صلاته الكلب والحمار والخنزير واليهودي والمجوسي والمراة ويجزي عنه اذا مروا بين يديه على قذفة بحجر " . قال ابو داود في نفسي من هذا الحديث شىء كنت اذاكر به ابراهيم وغيره فلم ار احدا جاء به عن هشام ولا يعرفه ولم ار احدا يحدث به عن هشام واحسب الوهم من ابن ابي سمينة - يعني محمد بن اسماعيل البصري مولى بني هاشم - والمنكر فيه ذكر المجوسي وفيه " على قذفة بحجر " . وذكر الخنزير وفيه نكارة . قال ابو داود ولم اسمع هذا الحديث الا من محمد بن اسماعيل واحسبه وهم لانه كان يحدثنا من حفظه
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا، اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کی چال کاٹ دے ، تو میں اس دن کے بعد سے گدھے پر سوار ہو کر چل نہیں سکا۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا وكيع، عن سعيد بن عبد العزيز، عن مولى، ليزيد بن نمران عن يزيد بن نمران، قال رايت رجلا بتبوك مقعدا فقال مررت بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم وانا على حمار وهو يصلي فقال " اللهم اقطع اثره " . فما مشيت عليها بعد
سعید سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کی چال کاٹ دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابومسہر نے بھی سعید سے روایت کیا ہے، جس میں صرف اتنا ہے: اس نے ہماری نماز کاٹ دی ۔
حدثنا كثير بن عبيد يعني المذحجي، حدثنا ابو حيوة، عن سعيد، باسناده ومعناه زاد فقال " قطع صلاتنا قطع الله اثره " . قال ابو داود ورواه ابو مسهر عن سعيد قال فيه " قطع صلاتنا
غزوان کہتے ہیں کہ وہ حج کو جاتے ہوئے تبوک میں اترے، انہیں ایک اپاہج آدمی نظر آیا، انہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا، تو اس آدمی نے غزوان سے کہا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا، بشرطیکہ تم اس حدیث کو کسی سے اس وقت تک بیان نہ کرنا جب تک تم یہ سننا کہ میں زندہ ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں ایک درخت کی آڑ میں اترے اور فرمایا: یہ ہمارا قبلہ ہے ، پھر آپ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کی، میں ایک لڑکا تھا، دوڑتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے اور درخت کے بیچ سے ہو کر گزر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کا قدم کاٹ دے ، چنانچہ اس روز سے آج تک میں اس پر کھڑا نہ ہو سکا۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، ح حدثنا سليمان بن داود، قالا حدثنا ابن وهب، اخبرني معاوية، عن سعيد بن غزوان، عن ابيه، انه نزل بتبوك وهو حاج فاذا رجل مقعد فساله عن امره فقال له ساحدثك حديثا فلا تحدث به ما سمعت اني حى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نزل بتبوك الى نخلة فقال " هذه قبلتنا " . ثم صلى اليها فاقبلت وانا غلام اسعى حتى مررت بينه وبينها فقال " قطع صلاتنا قطع الله اثره " . فما قمت عليها الى يومي هذا
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اذاخر ۱؎ کی گھاٹی میں اترے تو نماز کا وقت ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیوار کو قبلہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور ہم آپ کے پیچھے تھے، اتنے میں بکری کا ایک بچہ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دفع کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا پیٹ دیوار میں چپک گیا، وہ سامنے سے نہ جا سکے، آخر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے ہو کر چلا گیا، مسدد نے اسی کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا هشام بن الغاز، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال هبطنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من ثنية اذاخر فحضرت الصلاة - يعني - فصلى الى جدار فاتخذه قبلة ونحن خلفه فجاءت بهمة تمر بين يديه فما زال يداريها حتى لصق بطنه بالجدار ومرت من ورايه . او كما قال مسدد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دور کرنے لگے۔
حدثنا سليمان بن حرب، وحفص بن عمر، قالا حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن يحيى بن الجزار، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي فذهب جدى يمر بين يديه فجعل يتقيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے بیچ میں ہوتی تھی، شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا: اور میں حائضہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہری، عطاء، ابوبکر بن حفص، ہشام بن عروہ، عراک بن مالک، ابواسود اور تمیم بن سلمہ سبھوں نے عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور ابراہیم نے اسود سے، اسود نے عائشہ سے، اور ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے عائشہ سے، اور قاسم بن محمد اور ابوسلمہ نے عائشہ سے روایت کیا ہے، البتہ ان لوگوں نے «وأنا حائض» اور میں حائضہ ہوتی تھی کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن عروة، عن عايشة، قالت كنت بين النبي صلى الله عليه وسلم وبين القبلة - قال شعبة احسبها قالت - وانا حايض . قال ابو داود رواه الزهري وعطاء وابو بكر بن حفص وهشام بن عروة وعراك بن مالك وابو الاسود وتميم بن سلمة كلهم عن عروة عن عايشة وابراهيم عن الاسود عن عايشة وابو الضحى عن مسروق عن عايشة والقاسم بن محمد وابو سلمة عن عايشة لم يذكروا " وانا حايض