Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اور جو کچھ کمی رہ جائے وہ پچھلی صف میں رہے ۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا عبد الوهاب، - يعني ابن عطاء - عن سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اتموا الصف المقدم ثم الذي يليه فما كان من نقص فليكن في الصف الموخر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا ابو عاصم، حدثنا جعفر بن يحيى بن ثوبان، قال اخبرني عمي، عمارة بن ثوبان عن عطاء، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خياركم الينكم مناكب في الصلاة " . قال ابو داود جعفر بن يحيى من اهل مكة
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن نماز پڑھی ( جگہ کی تنگی اور ہجوم کے سبب سے ) ہم ستونوں کے بیچ میں کھڑے ہونے پر مجبور کر دیئے گئے، تو ہم آگے پیچھے ہونے لگے، اس پر انس نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس سے بچتے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن يحيى بن هاني، عن عبد الحميد بن محمود، قال صليت مع انس بن مالك يوم الجمعة فدفعنا الى السواري فتقدمنا وتاخرنا فقال انس كنا نتقي هذا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے عقلمند اور باشعور لوگ میرے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۔
حدثنا ابن كثير، اخبرني سفيان، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن ابي معمر، عن ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليلني منكم اولو الاحلام والنهى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے: تم لوگ صف میں آگے پیچھے نہ رہو، ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف ہو جائے گا، اور تم ( مسجدوں میں ) بازاروں جیسے شور و غل سے بچو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد، عن ابي معشر، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . وزاد " ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم واياكم وهيشات الاسواق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ صفوں کے دائیں طرف کے لوگوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعا کرتے ہیں ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا سفيان، عن اسامة بن زيد، عن عثمان بن عروة، عن عروة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله وملايكته يصلون على ميامن الصفوف
عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پہلے مردوں کی صف لگوائی، ان کے پیچھے بچوں کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ پھر ابومالک رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز کی کیفیت بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( میری امت کی ) نماز اسی طرح ہے ۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ نے میری امت کی نماز فرمایا۔
حدثنا عيسى بن شاذان، حدثنا عياش الرقام، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا قرة بن خالد، حدثنا بديل، حدثنا شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، قال قال ابو مالك الاشعري الا احدثكم بصلاة النبي صلى الله عليه وسلم قال فاقام الصلاة وصف الرجال وصف خلفهم الغلمان ثم صلى بهم فذكر صلاته ثم قال هكذا صلاة قال عبد الاعلى لا احسبه الا قال " صلاة امتي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر پہلی صف، اور سب سے بری آخری صف ہے، اور عورتوں کی ۱؎ سب سے بہتر آخری صف، سب سے بری پہلی صف ہے ۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا خالد، واسماعيل بن زكريا، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير صفوف الرجال اولها وشرها اخرها وخير صفوف النساء اخرها وشرها اولها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ پہلی صف سے پیچھے ہٹتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو جہنم میں پیچھے ڈال دے گا ۱؎ ۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا عبد الرزاق، عن عكرمة بن عمار، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزال قوم يتاخرون عن الصف الاول حتى يوخرهم الله في النار
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پہلی صف سے پیچھے رہتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: آگے آؤ اور میری پیروی کرو، اور تمہارے پیچھے جو لوگ ہیں وہ تمہاری پیروی کریں، کچھ لوگ ہمیشہ پیچھے رہا کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں پیچھے ڈال دے گا ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، ومحمد بن عبد الله الخزاعي، قالا حدثنا ابو الاشهب، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى في اصحابه تاخرا فقال لهم " تقدموا فايتموا بي ولياتم بكم من بعدكم ولا يزال قوم يتاخرون حتى يوخرهم الله عز وجل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام کو ( صف کے ) بیچ میں کھڑا کرو، اور خالی جگہوں کو پر کرو ۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا ابن ابي فديك، عن يحيى بن بشير بن خلاد، عن امه، انها دخلت على محمد بن كعب القرظي فسمعته يقول حدثني ابو هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وسطوا الامام وسدوا الخلل
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اسے ( نماز ) لوٹانے کا حکم دیا۔ سلیمان بن حرب کی روایت میں ہے نماز کو لوٹانے کا حکم دیا ۱؎۔
حدثنا سليمان بن حرب، وحفص بن عمر، قالا حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن هلال بن يساف، عن عمرو بن راشد، عن وابصة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يصلي خلف الصف وحده فامره ان يعيد - قال سليمان بن حرب - الصلاة
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ مسجد میں آئے اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) فرمایا: اللہ تمہارے شوق کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا ۔
حدثنا حميد بن مسعدة، ان يزيد بن زريع، حدثهم حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن زياد الاعلم، حدثنا الحسن، ان ابا بكرة، حدث انه، دخل المسجد ونبي الله صلى الله عليه وسلم راكع - قال - فركعت دون الصف فقال النبي صلى الله عليه وسلم " زادك الله حرصا ولا تعد
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ( مسجد میں ) آئے اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چلے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے، تو آپ نے پوچھا: تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چل کر آیا؟ ، ابوبکرہ نے کہا: میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری نیکی کی حرص کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «زياد الأعلم» سے مراد زیاد بن فلاں بن قرہ ہیں، جو یونس بن عبید کے خالہ زاد بھائی ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا زياد الاعلم، عن الحسن، ان ابا بكرة، جاء ورسول الله راكع فركع دون الصف ثم مشى الى الصف فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم صلاته قال " ايكم الذي ركع دون الصف ثم مشى الى الصف " . فقال ابو بكرة انا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " زادك الله حرصا ولا تعد " . قال ابو داود زياد الاعلم زياد بن فلان بن قرة وهو ابن خالة يونس بن عبيد الله
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے ( اونٹ کے ) کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل کوئی چیز اپنے سامنے رکھ لی تو پھر تمہارے سامنے سے کسی کا گزرنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
حدثنا محمد بن كثير العبدي، حدثنا اسراييل، عن سماك، عن موسى بن طلحة، عن ابيه، طلحة بن عبيد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا جعلت بين يديك مثل موخرة الرحل فلا يضرك من مر بين يديك
عطاء (عطاء بن ابی رباح) کہتے ہیں کجاوہ کی پچھلی لکڑی ایک ہاتھ کی یا اس سے کچھ بڑی ہوتی ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، عن ابن جريج، عن عطاء، قال اخرة الرحل ذراع فما فوقه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن نکلتے تو برچھی ( نیزہ ) لے چلنے کا حکم دیتے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی جاتی، تو آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتے، اور ایسا آپ سفر میں کرتے تھے، اسی وجہ سے حکمرانوں نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا خرج يوم العيد امر بالحربة فتوضع بين يديه فيصلي اليها والناس وراءه وكان يفعل ذلك في السفر فمن ثم اتخذها الامراء
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بطحاء میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھائیں اور آپ کے سامنے برچھی ( بطور سترہ ) تھی، اور برچھی کے پیچھے سے عورتیں اور گدھے گزرتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم بالبطحاء وبين يديه عنزة الظهر ركعتين والعصر ركعتين يمر خلف العنزة المراة والحمار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی شخص نماز پڑھنے کا قصد کرے، تو اپنے آگے ( بطور سترہ ) کوئی چیز رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو لاٹھی ہی گاڑ لے، اور اگر اس کے ساتھ لاٹھی بھی نہ ہو تو زمین پر ایک لکیر ( خط ) کھینچ لے، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی ۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا اسماعيل بن امية، حدثني ابو عمرو بن محمد بن حريث، انه سمع جده، حريثا يحدث عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا صلى احدكم فليجعل تلقاء وجهه شييا فان لم يجد فلينصب عصا فان لم يكن معه عصا فليخطط خطا ثم لا يضره ما مر امامه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر سفیان نے لکیر کھینچنے کی حدیث بیان کی۔ سفیان کہتے ہیں: ہمیں کوئی ایسی دلیل نہیں ملی جس سے اس حدیث کو تقویت مل سکے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے۔ علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے سفیان سے پوچھا: لوگ تو ابو محمد بن عمرو بن حریث کے نام میں اختلاف کرتے ہیں؟ تو سفیان نے تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد کہا: مجھے تو ان کا نام ابو محمد بن عمرو ہی یاد ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اسماعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک شخص یہاں ( کوفہ ) آیا، اور اس نے ابو محمد کو تلاش کیا یہاں تک کہ وہ اسے ملے، تو اس نے ان سے اس ( حدیث خط ) کے متعلق سوال کیا، تو ان کو اشتباہ ہو گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا، آپ سے متعدد بار لکیر کھینچنے کی کیفیت کے بارے میں پوچھا گیا: تو آپ نے کہا: وہ اس طرح ہلال کی طرح چوڑائی میں ہو گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور میں نے مسدد کو کہتے سنا کہ ابن داود کا بیان ہے کہ لکیر لمبائی میں ہو گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے لکیر کی کیفیت کے بارے میں متعدد بار سنا، انہوں نے کہا: اس طرح یعنی چوڑائی میں چاند کی طرح محور اور مدور یعنی مڑا ہوا۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا علي، - يعني ابن المديني - عن سفيان، عن اسماعيل بن امية، عن ابي محمد بن عمرو بن حريث، عن جده، حريث - رجل من بني عذرة - عن ابي هريرة، عن ابي القاسم، صلى الله عليه وسلم قال فذكر حديث الخط . قال سفيان لم نجد شييا نشد به هذا الحديث ولم يجي الا من هذا الوجه . قال قلت لسفيان انهم يختلفون فيه فتفكر ساعة ثم قال ما احفظ الا ابا محمد بن عمرو قال سفيان قدم ها هنا رجل بعد ما مات اسماعيل بن امية فطلب هذا الشيخ ابا محمد حتى وجده فساله عنه فخلط عليه . قال ابو داود وسمعت احمد بن حنبل سيل عن وصف الخط غير مرة فقال هكذا عرضا مثل الهلال . قال ابو داود وسمعت مسددا قال قال ابن داود الخط بالطول . قال ابو داود وسمعت احمد بن حنبل وصف الخط غير مرة فقال هكذا - يعني - بالعرض حورا دورا مثل الهلال يعني منعطفا