Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
بکر بن عبداللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث ( مرسلاً ) روایت کی ہے، اس میں لفظ: «فيهما خبث» ہے، اور دونوں جگہ«خبث» ہی ہے۔
حدثنا موسى، - يعني ابن اسماعيل - حدثنا ابان، حدثنا قتادة، حدثني بكر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا قال " فيهما خبثا " . قال في الموضعين " خبثا
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود کی مخالفت کرو، کیونکہ نہ وہ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے ہیں اور نہ اپنے موزوں میں ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا مروان بن معاوية الفزاري، عن هلال بن ميمون الرملي، عن يعلى بن شداد بن اوس، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خالفوا اليهود فانهم لا يصلون في نعالهم ولا خفافهم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ننگے پاؤں نماز پڑھتے اور جوتے پہن کر بھی۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا علي بن المبارك، عن حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي حافيا ومنتعلا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے ( اتار کر ) نہ داہنی طرف رکھے اور نہ بائیں طرف، کیونکہ یہ دوسری مصلی کا داہنا ہے، سوائے اس کے کہ اس کے بائیں طرف کوئی نہ ہو اور چاہیئے کہ وہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا صالح بن رستم ابو عامر، عن عبد الرحمن بن قيس، عن يوسف بن ماهك، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا صلى احدكم فلا يضع نعليه عن يمينه ولا عن يساره فتكون عن يمين غيره الا ان لا يكون عن يساره احد وليضعهما بين رجليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اپنے جوتے اتارے تو ان کے ذریعہ کسی کو تکلیف نہ دے، چاہیئے کہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھ لے یا انہیں پہن کر نماز پڑھے ۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا بقية، وشعيب بن اسحاق، عن الاوزاعي، حدثني محمد بن الوليد، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا صلى احدكم فخلع نعليه فلا يوذ بهما احدا ليجعلهما بين رجليه او ليصل فيهما
عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے ہوتی اور حائضہ ہوتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو بسا اوقات آپ کا کپڑا مجھ سے لگ جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا خالد، عن الشيباني، عن عبد الله بن شداد، حدثتني ميمونة بنت الحارث، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وانا حذاءه وانا حايض وربما اصابني ثوبه اذا سجد وكان يصلي على الخمرة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بھاری بھر کم آدمی ہوں – وہ بھاری بھر کم تھے بھی، میں آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا ہوں، انصاری نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ کو اپنے گھر بلایا اور کہا: آپ یہاں نماز پڑھ دیجئیے تاکہ میں آپ کو دیکھ لوں کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ تو میں آپ کی پیروی کیا کروں، پھر ان لوگوں نے اپنی ایک چٹائی کا کنارہ دھویا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں: فلاں بن جارود نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے آپ کو کبھی اسے پڑھتے نہیں دیکھا سوائے اس دن کے۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن انس بن سيرين، عن انس بن مالك، قال قال رجل من الانصار يا رسول الله اني رجل ضخم - وكان ضخما - لا استطيع ان اصلي معك - وصنع له طعاما ودعاه الى بيته - فصل حتى اراك كيف تصلي فاقتدي بك . فنضحوا له طرف حصير كان لهم فقام فصلى ركعتين . قال فلان بن الجارود لانس بن مالك اكان يصلي الضحى قال لم اره صلى الا يوميذ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کی زیارت کے لیے آتے تھے، تو کبھی نماز کا وقت ہو جاتا تو آپ ہماری ایک چٹائی پر جسے ہم پانی سے دھو دیتے تھے نماز ادا کرتے تھے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا المثنى بن سعيد الذراع، حدثنا قتادة، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يزور ام سليم فتدركه الصلاة احيانا فيصلي على بساط لنا وهو حصير ننضحه بالماء
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی اور دباغت دیئے ہوئے چمڑوں پر نماز پڑھتے تھے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، وعثمان بن ابي شيبة، - بمعنى الاسناد والحديث - قالا حدثنا ابو احمد الزبيري، عن يونس بن الحارث، عن ابي عون، عن ابيه، عن المغيرة بن شعبة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على الحصير والفروة المدبوغة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت گرمی میں نماز پڑھتے تھے، تو جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہیں ٹیک پاتا تھا تو اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرتا تھا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا بشر، - يعني ابن المفضل - حدثنا غالب القطان، عن بكر بن عبد الله، عن انس بن مالك، قال كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في شدة الحر فاذا لم يستطع احدنا ان يمكن وجهه من الارض بسط ثوبه فسجد عليه
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس کرتے ہیں؟ ، ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، قال سالت سليمان الاعمش عن جابر بن سمرة، في الصفوف المقدمة فحدثنا عن المسيب بن رافع، عن تميم بن طرفة، عن جابر بن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا تصفون كما تصف الملايكة عند ربهم جل وعز " . قلنا وكيف تصف الملايكة عند ربهم قال " يتمون الصفوف المقدمة ويتراصون في الصف
ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو – یہ ( جملہ آپ نے تاکید کے طور پر ) تین بار کہا- اللہ کی قسم تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں پھوٹ ڈال دے گا ، نعمان بن بشیر کہتے ہیں: تو میں نے آدمی کو اپنے ساتھی کے مونڈھے سے مونڈھا، گھٹنے سے گھٹنا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر کھڑا ہوتے دیکھا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن زكريا بن ابي زايدة، عن ابي القاسم الجدلي، قال سمعت النعمان بن بشير، يقول اقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الناس بوجهه فقال " اقيموا صفوفكم " . ثلاثا " والله لتقيمن صفوفكم او ليخالفن الله بين قلوبكم " . قال فرايت الرجل يلزق منكبه بمنكب صاحبه وركبته بركبة صاحبه وكعبه بكعبه
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست کیا کرتے تھے، جیسے تیر درست کیے جاتے ہیں ( اور یہ سلسلہ برابر جاری رہا ) یہاں تک کہ آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے اسے آپ سے خوب اچھی طرح سیکھ اور سمجھ لیا ہے، تو ایک روز آپ متوجہ ہوئے، اتنے میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں برابر رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن سماك بن حرب، قال سمعت النعمان بن بشير، يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم يسوينا في الصفوف كما يقوم القدح حتى اذا ظن ان قد اخذنا ذلك عنه وفقهنا اقبل ذات يوم بوجهه اذا رجل منتبذ بصدره فقال " لتسون صفوفكم او ليخالفن الله بين وجوهكم
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے اندر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے اور ہمارے سینوں اور مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے ( یعنی ہمارے سینوں اور مونڈھوں کو برابر کرتے تھے ) ، اور فرماتے تھے: ( صفوں سے ) آگے پیچھے مت ہونا، ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں ۔
حدثنا هناد بن السري، وابو عاصم بن جواس الحنفي عن ابي الاحوص، عن منصور، عن طلحة اليامي، عن عبد الرحمن بن عوسجة، عن البراء بن عازب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخلل الصف من ناحية الى ناحية يمسح صدورنا ومناكبنا ويقول " لا تختلفوا فتختلف قلوبكم " . وكان يقول " ان الله وملايكته يصلون على الصفوف الاول
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست فرماتے، پھر جب ہم لوگ سیدھے ہو جاتے تو آپ «الله أكبر» کہتے۔
حدثنا ابن معاذ، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حاتم، - يعني ابن ابي صغيرة - عن سماك، قال سمعت النعمان بن بشير، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسوي صفوفنا اذا قمنا للصلاة فاذا استوينا كبر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( قتیبہ کی روایت میں جسے انہوں نے ابوزاہریہ سے، اور ابوزاہریہ نے ابوشجرہ ( کثیر بن مرہ ) سے روایت کیا ہے، ابن عمر کا ذکر نہیں ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، اور اپنے کندھے ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اور ( صفوں کے اندر کا ) شگاف بند کرو، اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو، جو شخص صف کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جو شخص صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لينوا بأيدي إخوانكم» کا مطلب ہے کہ جب کوئی شخص صف کی طرف آئے اور اس میں داخل ہونا چاہے تو ہر ایک کو چاہیئے کہ اس کے لیے اپنے کندھے نرم کر دے یہاں تک کہ وہ صف میں داخل ہو جائے۔
حدثنا عيسى بن ابراهيم الغافقي، حدثنا ابن وهب، ح وحدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، - وحديث ابن وهب اتم - عن معاوية بن صالح، عن ابي الزاهرية، عن كثير بن مرة، عن عبد الله بن عمر، - قال قتيبة عن ابي الزاهرية، عن ابي شجرة، لم يذكر ابن عمر - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بايدي اخوانكم " . لم يقل عيسى " بايدي اخوانكم " . " ولا تذروا فرجات للشيطان ومن وصل صفا وصله الله ومن قطع صفا قطعه الله " . قال ابو داود ابو شجرة كثير بن مرة . قال ابو داود ومعنى " ولينوا بايدي اخوانكم " . اذا جاء رجل الى الصف فذهب يدخل فيه فينبغي ان يلين له كل رجل منكبيه حتى يدخل في الصف
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو، اور ایک صف دوسری صف سے نزدیک رکھو، اور گردنوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں وہ صفوں کے بیچ میں سے گھس آتا ہے، گویا وہ بکری کا بچہ ہے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا ابان، عن قتادة، عن انس بن مالك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رصوا صفوفكم وقاربوا بينها وحاذوا بالاعناق فوالذي نفسي بيده اني لارى الشيطان يدخل من خلل الصف كانها الحذف
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست رکھو کیونکہ صف کی درستگی تکمیل نماز میں سے ہے ( یعنی اس کے بغیر نماز ادھوری رہتی ہے ) ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، وسليمان بن حرب، قالا حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سووا صفوفكم فان تسوية الصف من تمام الصلاة
صاحب مقصورہ محمد بن مسلم بن سائب کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بغل میں نماز پڑھی، تو انہوں نے کہا: کیا تم کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کا علم نہیں، انس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنا ہاتھ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے: برابر ہو جاؤ، اور اپنی صفیں سیدھی رکھو ۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن مصعب بن ثابت بن عبد الله بن الزبير، عن محمد بن مسلم بن السايب، صاحب المقصورة قال صليت الى جنب انس بن مالك يوما فقال هل تدري لم صنع هذا العود فقلت لا والله . قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع يده عليه فيقول " استووا وعدلوا صفوفكم
اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس لکڑی کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑتے، پھر ( نمازیوں کی طرف ) متوجہ ہوتے، اور فرماتے: سیدھے ہو جاؤ، اپنی صفیں درست کر لو ، پھر اسے بائیں ہاتھ سے پکڑتے اور فرماتے: سیدھے ہو جاؤ اور اپنی صفیں درست کر لو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حميد بن الاسود، حدثنا مصعب بن ثابت، عن محمد بن مسلم، عن انس، بهذا الحديث قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قام الى الصلاة اخذه بيمينه ثم التفت فقال " اعتدلوا سووا صفوفكم " . ثم اخذه بيساره فقال " اعتدلوا سووا صفوفكم