Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جس کا کچھ حصہ میرے اوپر تھا۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا زايدة، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن عايشة، رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى في ثوب واحد بعضه على
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکاری ہوں، کیا میں ایک کرتے میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور اسے ٹانک لیا کرو، خواہ کسی کانٹے سے ہی سہی ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن موسى بن ابراهيم، عن سلمة بن الاكوع، قال قلت يا رسول الله اني رجل اصيد افاصلي في القميص الواحد قال " نعم وازرره ولو بشوكة
عبدالرحمٰن بن ابی بکر کہتے ہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ایک کرتے میں ہماری امامت کی، ان کے جسم پر کوئی چادر نہ تھی، تو جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کرتے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن حاتم بن بزيع، حدثنا يحيى بن ابي بكير، عن اسراييل، عن ابي حومل العامري، - قال ابو داود كذا قال والصواب ابو حرمل عن - محمد بن عبد الرحمن بن ابي بكر، عن ابيه، قال امنا جابر بن عبد الله في قميص ليس عليه رداء فلما انصرف قال اني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في قميص
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: میں ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا ( رات میں میں کسی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، اس وقت میرے جسم پر صرف ایک چادر تھی، میں اس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا تو وہ میرے لیے ناکافی ہوئی، البتہ اس میں کچھ گوٹ اور کناریاں لگی تھیں تو میں نے اسے الٹ لیا اور اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لیا اور گردن سے اسے روکے رکھا تاکہ گرنے نہ پائے، پھر میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا۔ پھر ابن صخر رضی اللہ عنہ آئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑے ہو گئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنکھیوں سے دیکھنے لگے، میں سمجھ نہیں پا رہا تھا ( کہ آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں ) ، پھر بات میری سمجھ میں آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تہہ بند باندھنے کا اشارہ کیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جابر! ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! فرمائیے، حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب چادر کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لو، اور جب تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لیا کرو ۔
حدثنا هشام بن عمار، وسليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، ويحيى بن الفضل السجستاني، قالوا حدثنا حاتم، - يعني ابن اسماعيل - حدثنا يعقوب بن مجاهد ابو حزرة، عن عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت، قال اتينا جابرا - يعني ابن عبد الله - قال سرت مع النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة فقام يصلي وكانت على بردة ذهبت اخالف بين طرفيها فلم تبلغ لي وكانت لها ذباذب فنكستها ثم خالفت بين طرفيها ثم تواقصت عليها لا تسقط ثم جيت حتى قمت عن يسار رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخذ بيدي فادارني حتى اقامني عن يمينه فجاء ابن صخر حتى قام عن يساره فاخذنا بيديه جميعا حتى اقامنا خلفه قال وجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يرمقني وانا لا اشعر ثم فطنت به فاشار الى ان اتزر بها فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يا جابر " . قال قلت لبيك يا رسول الله . قال " اذا كان واسعا فخالف بين طرفيه واذا كان ضيقا فاشدده على حقوك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو چاہیئے کہ ان دونوں میں نماز پڑھے، اور اگر ایک ہی کپڑا ہو تو چاہیئے کہ اسے تہہ بند بنا لے اور اسے یہودیوں کی طرح نہ لٹکائے ۱؎ ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم او قال قال عمر رضى الله عنه " اذا كان لاحدكم ثوبان فليصل فيهما فان لم يكن الا ثوب واحد فليتزر به ولا يشتمل اشتمال اليهود
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لحاف میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر نہ ڈالا جا سکے، اور دوسری بات جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے یہ کہ تم پاجامہ میں نماز پڑھو اور تمہارے اوپر کوئی چادر نہ ہو۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس الذهلي، حدثنا سعيد بن محمد، حدثنا ابو تميلة، يحيى بن واضح حدثنا ابو المنيب، عبيد الله العتكي عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يصلى في لحاف لا يتوشح به والاخر ان يصلى في سراويل وليس عليك رداء
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص نماز میں غرور و تکبر کی وجہ سے اپنا تہہ بند ( ٹخنوں سے نیچے ) لٹکائے گا تو اللہ تعالیٰ نہ اس کے لیے جنت حلال کرے گا، نہ اس پر دوزخ حرام کرے گا ؛ یا نہ اس کے گناہ بخشے گا اور نہ اسے برے کاموں سے بچائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے عاصم کے واسطے سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے، انہیں میں سے حماد بن سلمہ، حماد بن زید، ابوالاحوص اور ابومعاویہ ہیں۔
حدثنا زيد بن اخزم، حدثنا ابو داود، عن ابي عوانة، عن عاصم، عن ابي عثمان، عن ابن مسعود، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اسبل ازاره في صلاته خيلاء فليس من الله في حل ولا حرام " . قال ابو داود روى هذا جماعة عن عاصم موقوفا على ابن مسعود منهم حماد بن سلمة وحماد بن زيد وابو الاحوص وابو معاوية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جا کر دوبارہ وضو کرو ، چنانچہ وہ گیا اور اس نے ( دوبارہ ) وضو کیا، پھر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: جا کر پھر سے وضو کرو ، چنانچہ وہ پھر گیا اور تیسری بار وضو کیا، پھر آیا تو ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا بات ہے! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا پھر آپ خاموش رہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنا تہہ بند ٹخنے سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ تعالیٰ ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا يحيى، عن ابي جعفر، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، قال بينما رجل يصلي مسبلا ازاره اذ قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذهب فتوضا " . فذهب فتوضا ثم جاء ثم قال " اذهب فتوضا " . فذهب فتوضا ثم جاء فقال له رجل يا رسول الله ما لك امرته ان يتوضا فقال " انه كان يصلي وهو مسبل ازاره وان الله تعالى لا يقبل صلاة رجل مسبل ازاره
ام حرام والدہ محمد بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے؟ تو انہوں نے کہا: وہ اوڑھنی اور ایک ایسے لمبے کرتے میں نماز پڑھے جو اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو چھپا لے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن محمد بن زيد بن قنفذ، عن امه، انها سالت ام سلمة ماذا تصلي فيه المراة من الثياب فقالت تصلي في الخمار والدرع السابغ الذي يغيب ظهور قدميها
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا عورت کرتہ اور اوڑھنی میں جب کہ وہ ازار ( تہبند ) نہ پہنے ہو، نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( پڑھ سکتی ہے ) جب کرتہ اتنا لمبا ہو کہ اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو ڈھانپ لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو مالک بن انس، بکر بن مضر، حفص بن غیاث، اسماعیل بن جعفر، ابن ابی ذئب اور ابن اسحاق نے محمد بن زید سے، محمد بن زید نے اپنی والدہ سے، اور محمد بن زید کی والدہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے، بلکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پر ہی اسے موقوف کر دیا ہے۔
حدثنا مجاهد بن موسى، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله، - يعني ابن دينار - عن محمد بن زيد، بهذا الحديث قال عن ام سلمة، انها سالت النبي صلى الله عليه وسلم اتصلي المراة في درع وخمار ليس عليها ازار قال " اذا كان الدرع سابغا يغطي ظهور قدميها " . قال ابو داود روى هذا الحديث مالك بن انس وبكر بن مضر وحفص بن غياث واسماعيل بن جعفر وابن ابي ذيب وابن اسحاق عن محمد بن زيد عن امه عن ام سلمة لم يذكر احد منهم النبي صلى الله عليه وسلم قصروا به على ام سلمة رضى الله عنها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حسن بصری سے، حسن بصری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا حماد، عن قتادة، عن محمد بن سيرين، عن صفية بنت الحارث، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لا يقبل الله صلاة حايض الا بخمار " . قال ابو داود رواه سعيد - يعني ابن ابي عروبة - عن قتادة عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان کی لڑکیوں کو دیکھا تو کہا کہ ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میرے حجرے میں ایک لڑکی موجود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لنگی مجھے دی اور کہا: اسے پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو، ایک ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو، اور دوسرا ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہے، اس لیے کہ میرا خیال ہے کہ وہ بالغ ہو چکی ہے، یا میرا خیال ہے کہ وہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح ہشام نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، ان عايشة، نزلت على صفية ام طلحة الطلحات فرات بنات لها فقالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل وفي حجرتي جارية فالقى لي حقوه وقال " شقيه بشقتين فاعطي هذه نصفا والفتاة التي عند ام سلمة نصفا فاني لا اراها الا قد حاضت او لا اراهما الا قد حاضتا " . قال ابو داود وكذلك رواه هشام عن ابن سيرين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل ۱؎ کرنے اور آدمی کو منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عسل نے عطاء سے، عطاء نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، وابراهيم بن موسى، عن ابن المبارك، عن الحسن بن ذكوان، عن سليمان الاحول، عن عطاء، - قال ابراهيم - عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن السدل في الصلاة وان يغطي الرجل فاه . قال ابو داود رواه عسل عن عطاء عن ابي هريرة ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن السدل في الصلاة
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطاء کا یہ فعل ( سدل کرنا ) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عيسى بن الطباع، حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اكثر ما رايت عطاء يصلي سادلا . قال ابو داود وهذا يضعف ذلك الحديث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے شعار یا لحاف ۱؎ میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میرے والد ( معاذ ) کو شک ہوا ہے ( کہ ام المؤمنین عائشہ نے لفظ: «شعرنا» کہا، یا: «لحفنا» ) ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا الاشعث، عن محمد، - يعني ابن سيرين - عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصلي في شعرنا او لحفنا . قال عبيد الله شك ابي
ابوسعید مقبری سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابورافع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، اور حسن اپنے بالوں کا جوڑا گردن کے پیچھے باندھے نماز پڑھ رہے تھے تو ابورافع نے اسے کھول دیا، اس پر حسن غصہ سے ابورافع کی طرف متوجہ ہوئے تو ابورافع نے ان سے کہا: آپ نماز پڑھئیے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: یہ یعنی بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے ۔
حدثنا الحسن بن ابي علي، حدثنا عبد الرزاق، عن ابن جريج، حدثني عمران بن موسى، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، يحدث عن ابيه، انه راى ابا رافع مولى النبي صلى الله عليه وسلم مر بحسن بن علي عليهما السلام وهو يصلي قايما وقد غرز ضفره في قفاه فحلها ابو رافع فالتفت حسن اليه مغضبا فقال ابو رافع اقبل على صلاتك ولا تغضب فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ذلك كفل الشيطان " . يعني مقعد الشيطان يعني مغرز ضفره
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عباس نے عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور ان کے پیچھے بالوں کا جوڑا بندھا ہوا ہے، تو وہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے اور عبداللہ بن حارث چپ چاپ کھڑے رہے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: آپ نے میرا سر کیوں کھول دیا؟ تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ پیچھے رسی سے بندھے ہوں ۔
حدثنا محمد بن سلمة، حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، ان بكيرا، حدثه ان كريبا مولى ابن عباس حدثه ان عبد الله بن عباس راى عبد الله بن الحارث يصلي وراسه معقوص من ورايه فقام وراءه فجعل يحله واقر له الاخر فلما انصرف اقبل الى ابن عباس فقال ما لك وراسي قال اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انما مثل هذا مثل الذي يصلي وهو مكتوف
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اپنے دونوں جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھے ہوئے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، حدثني محمد بن عباد بن جعفر، عن ابن سفيان، عن عبد الله بن السايب، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي يوم الفتح ووضع نعليه عن يساره
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی، آپ نے سورۃ مؤمنون کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ ۱؎ اور ہارون علیہما السلام، یا موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے قصے پر پہنچے ( راوی حدیث ابن عباد کو شک ہے یا رواۃ کا اس میں اختلاف ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آ گئی، آپ نے قرآت چھوڑ دی اور رکوع میں چلے گئے، عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ ( سابقہ حدیث کے راوی ) اس وقت وہاں موجود تھے ۲؎۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، وابو عاصم قالا اخبرنا ابن جريج، قال سمعت محمد بن عباد بن جعفر، يقول اخبرني ابو سلمة بن سفيان، وعبد الله بن المسيب العابدي، وعبد الله بن عمرو، عن عبد الله بن السايب، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح بمكة فاستفتح سورة المومنين حتى اذا جاء ذكر موسى وهارون - او ذكر موسى وعيسى ابن عباد يشك او اختلفوا - اخذت رسول الله صلى الله عليه وسلم سعلة فحذف فركع وعبد الله بن السايب حاضر لذلك
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے جوتوں کو اتار کر انہیں اپنے بائیں جانب رکھ لیا، جب لوگوں نے یہ دیکھا تو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ) انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار لیے؟ ، ان لوگوں نے کہا: ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے: «قذرا» کہا، یا: «أذى» کہا، اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان میں نجاست لگی ہوئی نظر آئے تو اسے زمین پر رگڑ دے اور ان میں نماز پڑھے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد بن زيد، عن ابي نعامة السعدي، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي باصحابه اذ خلع نعليه فوضعهما عن يساره فلما راى ذلك القوم القوا نعالهم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال " ما حملكم على القايكم نعالكم " . قالوا رايناك القيت نعليك فالقينا نعالنا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان جبريل صلى الله عليه وسلم اتاني فاخبرني ان فيهما قذرا " . وقال " اذا جاء احدكم الى المسجد فلينظر فان راى في نعليه قذرا او اذى فليمسحه وليصل فيهما