Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا هشيم، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في هذه القصة قال فاخذ براسي او بذوابتي فاقامني عن يمينه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا، جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا، تو آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا: تم لوگ کھڑے ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا، جو عرصے سے پڑے پڑے کالی ہو گئی تھی تو اس پر میں نے پانی چھڑکا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں نے اور ایک یتیم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی اور بوڑھی عورت ( ملیکہ ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں تو آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس ہوئے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان جدته، مليكة دعت رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعام صنعته فاكل منه ثم قال " قوموا فلاصلي لكم " . قال انس فقمت الى حصير لنا قد اسود من طول ما لبس فنضحته بماء فقام عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وصففت انا واليتيم وراءه والعجوز من وراينا فصلى لنا ركعتين ثم انصرف صلى الله عليه وسلم
اسود بن یزید نخعی سے روایت ہے کہ میں نے اور علقمہ بن قیس نخعی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور ہم دیر تک آپ کے دروازے پر بیٹھے تھے، تو لونڈی نکلی اور اس نے جا کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمارے لیے اجازت مانگی، آپ نے ہم کو اجازت دی ( اور ہم اندر گئے ) پھر ابن مسعود میرے اور علقمہ کے درمیان میں کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن هارون بن عنترة، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، قال استاذن علقمة والاسود على عبد الله وقد كنا اطلنا القعود على بابه فخرجت الجارية فاستاذنت لهما فاذن لهما ثم قام فصلى بيني وبينه ثم قال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ( نمازیوں کی طرف ) مڑ گئے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني يعلى بن عطاء، عن جابر بن يزيد بن الاسود، عن ابيه، قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان اذا انصرف انحرف
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہماری یہ خواہش ہوتی کہ ہم آپ کی داہنی طرف رہیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سلام پھیرنے کے بعد ) اپنا رخ ہماری طرف کر لیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا مسعر، عن ثابت بن عبيد، عن عبيد بن البراء، عن البراء بن عازب، قال كنا اذا صلينا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم احببنا ان نكون عن ي��مينه فيقبل علينا بوجهه صلى الله عليه وسلم
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس جگہ پر ( نفل ) نماز نہ پڑھے جہاں اس نے ( فرض ) نماز پڑھی ہے، جب تک کہ وہاں سے ہٹ نہ جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطاء خراسانی کی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثنا عبد العزيز بن عبد الملك القرشي، حدثنا عطاء الخراساني، عن المغيرة بن شعبة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يصلي الامام في الموضع الذي صلى فيه حتى يتحول " . قال ابو داود عطاء الخراساني لم يدرك المغيرة بن شعبة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام نماز پوری کر لے اور آخری قعدہ میں بیٹھ جائے، پھر بات کرنے ( یعنی سلام پھیرنے ) سے پہلے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی اور اس کے پیچھے جنہوں نے نماز مکمل کی، سب کی نماز پوری ہو گئی ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عبد الرحمن بن زياد بن انعم، عن عبد الرحمن بن رافع، وبكر بن سوادة، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قضى الامام الصلاة وقعد فاحدث قبل ان يتكلم فقد تمت صلاته ومن كان خلفه ممن اتم الصلاة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کلید ( کنجی ) پاکی ہے، اور اس کی تحریم تکبیر ہے، اور اس کی تحلیل تسلیم ہے ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابن عقيل، عن محمد ابن الحنفية، عن علي، - رضى الله عنه - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے پہلے نہ رکوع کرو اور نہ سجدہ، کیونکہ میں تم سے جس قدر پہلے رکوع میں جاؤں گا اتنا تم مجھے پا لو گے، جب میں تم سے پہلے سر اٹھاؤں گا ۱؎ کیونکہ میں موٹا ہو گیا ہوں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن عجلان، حدثني محمد بن يحيى بن حبان، عن ابن محيريز، عن معاوية بن ابي سفيان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تبادروني بركوع ولا بسجود فانه مهما اسبقكم به اذا ركعت تدركوني به اذا رفعت اني قد بدنت
براء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے (اور وہ جھوٹے نہ تھے) کہ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے سروں کو رکوع سے اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے، پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں چلے گئے ہیں، تب سجدہ میں جاتے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت عبد الله بن يزيد الخطمي، يخطب الناس قال حدثنا البراء، - وهو غير كذوب - انهم كانوا اذا رفعوا رءوسهم من الركوع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قاموا قياما فاذا راوه قد سجد سجدوا
براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی شخص اس وقت تک اپنی پیٹھ نہیں جھکاتا جب تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( زمین پر اپنی پیشانی رکھتے ہوئے ) نہ دیکھ لیتا۔
حدثنا زهير بن حرب، وهارون بن معروف، - المعنى - قالا حدثنا سفيان، عن ابان بن تغلب، - قال ابو داود قال زهير حدثنا الكوفيون، ابان وغيره - عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء، قال كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم فلا يحنو احد منا ظهره حتى يرى النبي صلى الله عليه وسلم يضع
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو جب آپ رکوع کرتے تو وہ بھی رکوع کرتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہتے تو ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ لوگ آپ کو اپنی پیشانی زمین پر رکھتے دیکھ لیتے، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ میں جاتے۔
حدثنا الربيع بن نافع، حدثنا ابو اسحاق، - يعني الفزاري - عن ابي اسحاق، عن محارب بن دثار، قال سمعت عبد الله بن يزيد، يقول على المنبر حدثني البراء، انهم كانوا يصلون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا ركع ركعوا واذا قال " سمع الله لمن حمده " . لم نزل قياما حتى يروه قد وضع جبهته بالارض ثم يتبعونه صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ شخص جو اپنا سر اٹھاتا ہے جب کہ امام سجدے میں ہو، کیا اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر یا اس کی صورت گدھے کی بنا دے ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «أما يخشى» فرمایا، یا «ألا يخشى» ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما يخشى - او الا يخشى - احدكم اذا رفع راسه والامام ساجد ان يحول الله راسه راس حمار او صورته صورة حمار
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( یعنی مسلمانوں کو ) نماز کی ترغیب دلائی اور انہیں امام سے پہلے نماز سے اٹھ کر جانے سے منع فرمایا۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا حفص بن بغيل المرهبي، حدثنا زايدة، عن المختار بن فلفل، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم حضهم على الصلاة ونهاهم ان ينصرفوا قبل انصرافه من الصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن الصلاة في ثوب واحد فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اولكلكم ثوبان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے دونوں کندھوں پر اس میں سے کچھ نہ ہو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يصل احدكم في الثوب الواحد ليس على منكبيه منه شىء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے داہنے کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو داہنے کندھے پر ڈال لے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، ح وحدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، - المعنى - عن هشام بن ابي عبد الله، عن يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صلى احدكم في ثوب فليخالف بطرفيه على عاتقيه
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اسے اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ دائیں کندھے پر تھا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن يحيى بن سعيد، عن ابي امامة بن سهل، عن عمر بن ابي سلمة، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في ثوب واحد ملتحفا مخالفا بين طرفيه على منكبيه
طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند کھولا، اور اپنی چادر اور تہبند کو ایک کر لیا پھر آپ نے انہیں لپیٹ لیا، پھر کھڑے ہوئے، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ملازم بن عمرو الحنفي، حدثنا عبد الله بن بدر، عن قيس بن طلق، عن ابيه، قال قدمنا على نبي الله صلى الله عليه وسلم فجاء رجل فقال يا نبي الله ما ترى في الصلاة في الثوب الواحد قال فاطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم ازاره طارق به رداءه فاشتمل بهما ثم قام فصلى بنا نبي الله صلى الله عليه وسلم فلما ان قضى الصلاة قال " اوكلكم يجد ثوبين
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اپنے تہبند تنگ ہونے کی وجہ سے گردنوں پر بچوں کی طرح باندھے ہوئے ہیں، تو ایک کہنے والے نے کہا: اے عورتوں کی جماعت! تم اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھانا جب تک مرد نہ اٹھا لیں۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال لقد رايت الرجال عاقدي ازرهم في اعناقهم من ضيق الازر خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة كامثال الصبيان فقال قايل يا معشر النساء لا ترفعن رءوسكن حتى يرفع الرجال