Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
ام ورقہ بنت عبداللہ بن نوفل انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر میں جانے لگے تو میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! اپنے ساتھ مجھے بھی جہاد میں چلنے کی اجازت دیجئیے، میں آپ کے بیماروں کی خدمت کروں گی، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو، اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ انہیں شہیدہ کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پڑھ رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت چاہی، تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی، اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی کو اپنے مر جانے کے بعد آزاد کر دینے کی وصیت کر دی تھی، چنانچہ وہ دونوں ( یعنی غلام اور لونڈی ) رات کو ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور انہی کی ایک چادر سے ان کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئیں اور وہ دونوں بھاگ نکلے، صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ان دونوں کے متعلق جس کو بھی کچھ معلوم ہو، یا جس نے بھی ان دونوں کو دیکھا ہو وہ انہیں پکڑ کر لائے، ( چنانچہ وہ پکڑ کر لائے گئے ) تو آپ نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں سولی دے دی گئی، یہی دونوں تھے جنہیں مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی دی گئی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، حدثنا الوليد بن عبد الله بن جميع، قال حدثتني جدتي، وعبد الرحمن بن خلاد الانصاري، عن ام ورقة بنت نوفل، ان النبي صلى الله عليه وسلم لما غزا بدرا قالت قلت له يا رسول الله ايذن لي في الغزو معك امرض مرضاكم لعل الله ان يرزقني شهادة . قال " قري في بيتك فان الله تعالى يرزقك الشهادة " . قال فكانت تسمى الشهيدة . قال وكانت قد قرات القران فاستاذنت النبي صلى الله عليه وسلم ان تتخذ في دارها موذنا فاذن لها قال وكانت دبرت غلاما لها وجارية فقاما اليها بالليل فغماها بقطيفة لها حتى ماتت وذهبا فاصبح عمر فقام في الناس فقال من كان عنده من هذين علم او من راهما فليجي بهما فامر بهما فصلبا فكانا اول مصلوب بالمدينة
اس سند سے بھی ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے، اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام ورقہ سے ملنے ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کر دیا تھا، جو اذان دیتا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ان کے مؤذن کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے تھے۔
حدثنا الحسن بن حماد الحضرمي، حدثنا محمد بن فضيل، عن الوليد بن جميع، عن عبد الرحمن بن خلاد، عن ام ورقة بنت عبد الله بن الحارث، بهذا الحديث والاول اتم قال وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزورها في بيتها وجعل لها موذنا يوذن لها وامرها ان توم اهل دارها . قال عبد الرحمن فانا رايت موذنها شيخا كبيرا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: تین آدمیوں کی نماز اللہ قبول نہیں فرماتا: ایک تو وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں، دوسرا وہ شخص جو نماز میں پیچھے آئے، پیچھے آنا یہ ہے کہ جماعت فوت ہو جانے یا وقت گزر جانے کے بعد آئے، اور تیسرا وہ شخص جو اپنے آزاد کئے ہوئے شخص کو دوبارہ غلام بنا لے ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا عبد الله بن عمر بن غانم، عن عبد الرحمن بن زياد، عن عمران بن عبد المعافري، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " ثلاثة لا يقبل الله منهم صلاة من تقدم قوما وهم له كارهون ورجل اتى الصلاة دبارا " . والدبار ان ياتيها بعد ان تفوته " ورجل اعتبد محرره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، حدثني معاوية بن صالح، عن العلاء بن الحارث، عن مكحول، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصلاة المكتوبة واجبة خلف كل مسلم برا كان او فاجرا وان عمل الكباير
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحمن العنبري ابو عبد الله، حدثنا ابن مهدي، حدثنا عمران القطان، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم استخلف ابن ام مكتوم يوم الناس وهو اعمى
بدیل کہتے ہیں کہ ہمارے ایک غلام ابوعطیہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری اس مسجد میں آتے تھے، ( ایک بار ) نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو ہم نے ان سے کہا: آپ آگے بڑھئیے اور نماز پڑھائیے، انہوں نے ہم سے کہا: تم اپنے لوگوں میں سے کسی کو آگے بڑھاؤ تاکہ وہ تمہیں نماز پڑھائے، میں ابھی تم لوگوں بتاؤں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھا رہا ہوں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص کسی قوم کی زیارت کے لیے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی آدمی ان کی امامت کرے ۱؎ ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا ابان، عن بديل، حدثني ابو عطية، مولى منا قال كان مالك بن حويرث ياتينا الى مصلانا هذا فاقيمت الصلاة فقلنا له تقدم فصله . فقال لنا قدموا رجلا منكم يصلي بكم وساحدثكم لم لا اصلي بكم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من زار قوما فلا يومهم وليومهم رجل منهم
ہمام کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن ( کوفہ کے پاس ایک شہر ہے ) میں ایک چبوترہ ( اونچی جگہ ) پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کی ( اور لوگ نیچے تھے ) ، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا کرتا پکڑ کر انہیں ( نیچے ) گھسیٹ لیا، جب حذیفہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابومسعود نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس بات سے لوگوں کو منع کیا جاتا تھا، حذیفہ نے کہا: ہاں مجھے بھی اس وقت یاد آیا جب آپ نے مجھے پکڑ کر کھینچا۔
حدثنا احمد بن سنان، واحمد بن الفرات ابو مسعود الرازي، - المعنى - قالا حدثنا يعلى، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن همام، ان حذيفة ام الناس، بالمداين على دكان فاخذ ابو مسعود بقميصه فجبذه فلما فرغ من صلاته قال الم تعلم انهم كانوا ينهون عن ذلك قال بلى قد ذكرت حين مددتني
عدی بن ثابت انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدائن میں تھا کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو عمار آگے بڑھے اور ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھانے لگے اور لوگ ان سے نیچے تھے، یہ دیکھ کر حذیفہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عمار بن یاسر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر انہیں پیچھے لانے لگے، عمار بن یاسر بھی پیچھے ہٹتے گئے یہاں تک کہ حذیفہ نے انہیں نیچے اتار دیا، جب عمار اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو حذیفہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا کہ جب کوئی شخص کسی قوم کی امامت کرے تو ان سے اونچی جگہ پر کھڑا نہ ہو؟ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی لیے جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں آپ کے ساتھ پیچھے ہٹتا چلا گیا۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا حجاج، عن ابن جريج، اخبرني ابو خالد، عن عدي بن ثابت الانصاري، حدثني رجل، انه كان مع عمار بن ياسر بالمداين فاقيمت الصلاة فتقدم عمار وقام على دكان يصلي والناس اسفل منه فتقدم حذيفة فاخذ على يديه فاتبعه عمار حتى انزله حذيفة فلما فرغ عمار من صلاته قال له حذيفة الم تسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا ام الرجل القوم فلا يقم في مكان ارفع من مقامهم " . او نحو ذلك قال عمار لذلك اتبعتك حين اخذت على يدى
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے پھر اپنی قوم میں آتے اور وہی نماز انہیں پڑھاتے ۱؎۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن عجلان، حدثنا عبيد الله بن مقسم، عن جابر بن عبد الله، ان معاذ بن جبل، كان يصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العشاء ثم ياتي قومه فيصلي بهم تلك الصلاة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹ کر جاتے اور اپنی قوم کی امامت کرتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، سمع جابر بن عبد الله، يقول ان معاذا كان يصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم يرجع فيوم قومه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے پھر اس سے گر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو میں خراش آ گئی جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھی، تو ہم لوگوں نے بھی وہ نماز آپ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھی، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکو ع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۱؎۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ركب فرسا فصرع عنه فجحش شقه الايمن فصلى صلاة من الصلوات وهو قاعد وصلينا وراءه قعودا فلما انصرف قال " انما جعل الامام ليوتم به فاذا صلى قايما فصلوا قياما واذا ركع فاركعوا واذا رفع فارفعوا واذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا ربنا ولك الحمد واذا صلى جالسا فصلوا جلوسا اجمعون
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس نے آپ کو ایک کھجور کے درخت کی جڑ پر گرا دیا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی، ہم لوگ آپ کی عیادت کے لیے آئے، اس وقت ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے میں بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے ملے، ہم لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارے میں خاموش رہے ( ہمیں بیٹھنے کے لیے نہیں کہا ) ۔ پھر ہم دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے آئے تو آپ نے فرض نماز بیٹھ کر ادا کی، ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو، اور جب امام کھڑے ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور اس طرح نہ کرو جس طرح فارس کے لوگ اپنے سرکردہ لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، ووكيع، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال ركب رسول الله صلى الله عليه وسلم فرسا بالمدينة فصرعه على جذم نخلة فانفكت قدمه فاتيناه نعوده فوجدناه في مشربة لعايشة يسبح جالسا قال فقمنا خلفه فسكت عنا ثم اتيناه مرة اخرى نعوده فصلى المكتوبة جالسا فقمنا خلفه فاشار الينا فقعدنا . قال فلما قضى الصلاة قال " اذا صلى الامام جالسا فصلوا جلوسا واذا صلى الامام قايما فصلوا قياما ولا تفعلوا كما يفعل اهل فارس بعظمايها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، تو جب امام «الله أكبر» کہے تو تم بھی «الله أكبر» کہو، تم اس وقت تک «الله أكبر» نہ کہو جب تک کہ امام «الله أكبر» نہ کہہ لے، اور جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، تم اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک کہ وہ رکوع میں نہ چلا جائے، جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو ( مسلم کی روایت میں «ولك الحمد» واو کے ساتھ ہے ) ، پھر جب امام سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور تم اس وقت تک سجدہ نہ کرو جب تک کہ وہ سجدہ میں نہ چلا جائے، اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اللهم ربنا لك الحمد» کو مجھے میرے بعض ساتھیوں نے سلیمان کے واسطہ سے سمجھایا ہے ۱؎۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسلم بن ابراهيم، - المعنى - عن وهيب، عن مصعب بن محمد، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما جعل الامام ليوتم به فاذا كبر فكبروا ولا تكبروا حتى يكبر واذا ركع فاركعوا ولا تركعوا حتى يركع واذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد " . قال مسلم " ولك الحمد " . " واذا سجد فاسجدوا ولا تسجدوا حتى يسجد واذا صلى قايما فصلوا قياما واذا صلى قاعدا فصلوا قعودا اجمعون " . قال ابو داود " اللهم ربنا لك الحمد " . افهمني بعض اصحابنا عن سليمان
اس طریق سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے «إنما جعل الإمام ليؤتم به» والی یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے، اس میں راوی نے «وإذا قرأ فأنصتوا» جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «وإذا قرأ فأنصتوا» کا یہ اضافہ محفوظ نہیں ہے، ہمارے نزدیک ابوخالد کو یہ وہم ہوا ہے۔
حدثنا محمد بن ادم المصيصي، حدثنا ابو خالد، عن ابن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انما جعل الامام ليوتم به " . بهذا الخبر زاد " واذا قرا فانصتوا " . قال ابو داود وهذه الزيادة " واذا قرا فانصتوا " . ليست بمحفوظة الوهم عندنا من ابي خالد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ جانے کا اشارہ کیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اسی لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيته وهو جالس فصلى وراءه قوم قياما فاشار اليهم ان اجلسوا فلما انصرف قال " انما جعل الامام ليوتم به فاذا ركع فاركعوا واذا رفع فارفعوا واذا صلى جالسا فصلوا جلوسا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہتے تھے تاکہ وہ لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد بن موهب، - المعنى - ان الليث، حدثهم عن ابي الزبير، عن جابر، قال اشتكى النبي صلى الله عليه وسلم فصلينا وراءه وهو قاعد وابو بكر يكبر ليسمع الناس تكبيره ثم ساق الحديث
اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی امامت کرتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے، تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے امام بیمار ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث متصل نہیں ہے۔
حدثنا عبدة بن عبد الله، اخبرنا زيد، - يعني ابن الحباب - عن محمد بن صالح، حدثني حصين، من ولد سعد بن معاذ عن اسيد بن حضير، انه كان يومهم - قال - فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يعوده فقالوا يا رسول الله ان امامنا مريض . فقال " اذا صلى قاعدا فصلوا قعودا " . قال ابو داود هذا الحديث ليس بمتصل
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو ان کے گھر والوں نے گھی اور کھجور پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ( کھجور کو ) اس کی تھیلی میں اور اسے ( گھی کو ) اس کے برتن میں لوٹا دو کیونکہ میں روزے سے ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفل نماز پڑھائی تو ام سلیم ( انس کی والدہ ) اور ام حرام ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ ثابت کہتے ہیں: میں تو یہی جانتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنی طرف فرش پر کھڑا کیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على ام حرام فاتوه بسمن وتمر فقال " ردوا هذا في وعايه وهذا في سقايه فاني صايم " . ثم قام فصلى بنا ركعتين تطوعا فقامت ام سليم وام حرام خلفنا . قال ثابت ولا اعلمه الا قال اقامني عن يمينه على بساط
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اور ان کے گھر کی ایک عورت کی امامت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( یعنی انس رضی اللہ عنہ کو ) اپنے داہنی طرف کھڑا کیا، اور عورت کو پیچھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عبد الله بن المختار، عن موسى بن انس، يحدث عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امه وامراة منهم فجعله عن يمينه والمراة خلف ذلك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے، مشک کا منہ کھول کر وضو کیا پھر اس میں ڈاٹ لگا دی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پھر میں بھی اٹھا اور اسی طرح وضو کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا، پھر میں آ کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے اپنے داہنے ہاتھ سے مجھے پکڑا، اور اپنے پیچھے سے لا کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن ابن عباس، قال بت في بيت خالتي ميمونة فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم من الليل فاطلق القربة فتوضا ثم اوكا القربة ثم قام الى الصلاة فقمت فتوضات كما توضا ثم جيت فقمت عن يساره فاخذني بيمينه فادارني من ورايه فاقامني عن يمينه فصليت معه