Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں ( تو زیادہ اچھا ہو ) ۔ نافع کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما تاحیات اس دروازے سے مسجد میں کبھی داخل نہیں ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے، اس میں «قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم»کے بجائے «قال عمر» ( عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ) ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو تركنا هذا الباب للنساء " . قال نافع فلم يدخل منه ابن عمر حتى مات . قال ابو داود رواه اسماعيل بن ابراهيم عن ايوب عن نافع قال قال عمر وهذا اصح
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب نماز کی تکبیر کہہ دی جائے تو نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان و سکون کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ، تو اب جتنی پاؤ اسے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زبیدی، ابن ابی ذئب، ابراہیم بن سعد، معمر اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اسی طرح: «وما فاتكم فأتموا» کے الفاظ روایت کئے ہیں، اور ابن عیینہ نے تنہا زہری سے لفظ: «فاقضوا» روایت کی ہے۔ محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور جعفر بن ربیعہ نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لفظ: «فأتموا» سے روایت کی ہے، اور اسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور ان سب نے: «فأتموا» کہا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني سعيد بن المسيب، وابو سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا اقيمت الصلاة فلا تاتوها تسعون واتوها تمشون وعليكم السكينة فما ادركتم فصلوا وما فاتكم فاتموا " . قال ابو داود كذا قال الزبيدي وابن ابي ذيب وابراهيم بن سعد ومعمر وشعيب بن ابي حمزة عن الزهري " وما فاتكم فاتموا " . وقال ابن عيينة عن الزهري وحده " فاقضوا " . وقال محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة وجعفر بن ربيعة عن الاعرج عن ابي هريرة " فاتموا " . وابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم وابو قتادة وانس عن النبي صلى الله عليه وسلم كلهم قالوا " فاتموا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز کے لیے اس حال میں آؤ کہ تمہیں اطمینان و سکون ہو، پھر جتنی رکعتیں جماعت سے ملیں انہیں پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائیں وہ قضاء کر لو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابن سیرین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لفظ «وليقض» سے روایت کی ہے۔ اور ابورافع نے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح کہا ہے۔ لیکن ابوذر نے ان سے: «فأتموا واقضوا» روایت کیا ہے، اور اس سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، قال سمعت ابا سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايتوا الصلاة وعليكم السكينة فصلوا ما ادركتم واقضوا ما سبقكم " . قال ابو داود وكذا قال ابن سيرين عن ابي هريرة " وليقض " . وكذا ابو رافع عن ابي هريرة وابو ذر روي عنه " فاتموا واقضوا " . واختلف عنه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے، یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن سليمان الاسود، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ابصر رجلا يصلي وحده فقال " الا رجل يتصدق على هذا فيصلي معه
یزید بن الاسودخزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، وہ ایک جوان لڑکے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے کونے میں دو آدمی ہیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے، تو آپ نے دونوں کو بلوایا، انہیں لایا گیا، خوف کی وجہ سے ان پر کپکپی طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا: تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ ، تو ان دونوں نے کہا: ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کو اس حال میں پائے کہ اس نے نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ ( بھی ) نماز پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہو جائے گی ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، اخبرني يعلى بن عطاء، عن جابر بن يزيد بن الاسود، عن ابيهانه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو غلام شاب فلما صلى اذا رجلان لم يصليا في ناحية المسجد فدعا بهما فجيء بهما ترعد فرايصهما فقال " ما منعكما ان تصليا معنا " . قالا قد صلينا في رحالنا . فقال " لا تفعلوا اذا صلى احدكم في رحله ثم ادرك الامام ولم يصل فليصل معه فانها له نافلة
یزید بن اسود خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز منیٰ میں پڑھی، پھر آگے راوی نے سابقہ معنی کی حدیث بیان کی۔
حدثنا ابن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن جابر بن يزيد، عن ابيه، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم الصبح بمنى بمعناه
یزید بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں ( مسجد ) آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے، تو میں بیٹھ گیا اور لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر ہماری طرف مڑے تو مجھے ( یزید بن عامر کو ) بیٹھے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یزید! کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ ، میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! میں اسلام لا چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ ، میں نے کہا: میں نے اپنے گھر پر نماز پڑھ لی ہے، میرا خیال تھا کہ آپ لوگ نماز پڑھ چکے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی ایسی جگہ آؤ جہاں نماز ہو رہی ہو، اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پاؤ تو ان کے ساتھ شریک ہو کر جماعت سے نماز پڑھ لو، اگر تم نماز پڑھ چکے ہو تو وہ تمہارے لیے نفل ہو گی اور یہ فرض ۔
حدثنا قتيبة، حدثنا معن بن عيسى، عن سعيد بن السايب، عن نوح بن صعصعة، عن يزيد بن عامر، قال جيت والنبي صلى الله عليه وسلم في الصلاة فجلست ولم ادخل معهم في الصلاة - قال - فانصرف علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فراى يزيد جالسا فقال " الم تسلم يا يزيد " . قال بلى يا رسول الله قد اسلمت . قال " فما منعك ان تدخل مع الناس في صلاتهم " . قال اني كنت قد صليت في منزلي وانا احسب ان قد صليتم . فقال " اذا جيت الى الصلاة فوجدت الناس فصل معهم وان كنت قد صليت تكن لك نافلة وهذه مكتوبة
عفیف بن عمرو بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھ سے قبیلہ بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ ہم میں سے ایک شخص اپنے گھر پر نماز پڑھ لیتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، وہاں نماز کھڑی ہوتی ہے، تو میں ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر اس سے میں اپنے دل میں شبہ پاتا ہوں، اس پر ابوایوب انصاری نے کہا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے مال غنیمت کا ایک حصہ ہے ۔
حدثنا احمد بن صالح، قال قرات على ابن وهب قال اخبرني عمرو، عن بكير، انه سمع عفيف بن عمرو بن المسيب، يقول حدثني رجل، من بني اسد بن خزيمة انه سال ابا ايوب الانصاري فقال يصلي احدنا في منزله الصلاة ثم ياتي المسجد وتقام الصلاة فاصلي معهم فاجد في نفسي من ذلك شييا . فقال ابو ايوب سالنا عن ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ذلك له سهم جمع
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار کہتے ہیں : میں بلاط میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے کہا: آپ ان کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تم کوئی نماز ایک دن میں دو بار نہ پڑھو ۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا حسين، عن عمرو بن شعيب، عن سليمان بن يسار، - يعني مولى ميمونة - قال اتيت ابن عمر على البلاط وهم يصلون فقلت الا تصلي معهم قال قد صليت اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تصلوا صلاة في يوم مرتين
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے لوگوں کی امامت کی اور وقت پر اسے اچھی طرح ادا کیا تو اسے بھی اس کا ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی، اور جس نے اس میں کچھ کمی کی تو اس کا وبال صرف اسی پر ہو گا ان ( مقتدیوں ) پر نہیں ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، حدثنا ابن وهب، اخبرني يحيى بن ايوب، عن عبد الرحمن بن حرملة، عن ابي علي الهمداني، قال سمعت عقبة بن عامر، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من ام الناس فاصاب الوقت فله ولهم ومن انتقص من ذلك شييا فعليه ولا عليهم
خرشہ بن حر فزاری کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسجد والے آپس میں ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے، انہیں کوئی امام نہ ملے گا جو ان کو نماز پڑھائے ۔
حدثنا هارون بن عباد الازدي، حدثنا مروان، حدثتني طلحة ام غراب، عن عقيلة، - امراة من بني فزارة مولاة لهم - عن سلامة بنت الحر، اخت خرشة بن الحر الفزاري قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان من اشراط الساعة ان يتدافع اهل المسجد لا يجدون اماما يصلي بهم
ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو کتاب اللہ کو سب سے زیادہ پڑھنے والا ہو، اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو ان میں جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو ان میں بڑی عمر والا امامت کرے، آدمی کی امامت اس کے گھر میں نہ کی جائے اور نہ اس کی حکومت میں، اور نہ ہی اس کی تکرمہ ( مسند وغیرہ ) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے ۔ شعبہ کا بیان ہے: میں نے اسماعیل بن رجاء سے کہا: آدمی کا تکرمہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا فراش یعنی مسند وغیرہ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، اخبرني اسماعيل بن رجاء، سمعت اوس بن ضمعج، يحدث عن ابي مسعود البدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوم القوم اقروهم لكتاب الله واقدمهم قراءة فان كانوا في القراءة سواء فليومهم اقدمهم هجرة فان كانوا في الهجرة سواء فليومهم اكبرهم سنا ولا يوم الرجل في بيته ولا في سلطانه ولا يجلس على تكرمته الا باذنه " . قال شعبة فقلت لاسماعيل ما تكرمته قال فراشه
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: «ولا يؤم الرجل الرجل في سلطانه» کوئی شخص کسی کی سربراہی کی جگہ میں اس کی امامت نہ کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح یحییٰ قطان نے شعبہ سے «أقدمهم قرائة» ( لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو قرأت میں سب سے فائق ہو ) کی روایت کی ہے۔
حدثنا ابن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، بهذا الحديث قال فيه " ولا يوم الرجل الرجل في سلطانه " . قال ابو داود كذا قال يحيى القطان عن شعبة " اقدمهم قراءة
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو، ا گر اس میں بھی برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو ۔ اس روایت میں«فأقدمهم قرائة» کے الفاظ نہیں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حجاج بن ارطاۃ نے اسماعیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: تم کسی کے تکرمہ ( مسند وغیرہ ) پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الله بن نمير، عن الاعمش، عن اسماعيل بن رجاء، عن اوس بن ضمعج الحضرمي، قال سمعت ابا مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث قال " فان كانوا في القراءة سواء فاعلمهم بالسنة فان كانوا في السنة سواء فاقدمهم هجرة " . ولم يقل " فاقدمهم قراءة " . قال ابو داود رواه حجاج بن ارطاة عن اسماعيل قال " ولا تقعد على تكرمة احد الا باذنه
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم ایسے مقام پر ( آباد ) تھے جہاں سے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے جاتے گزرتے تھے، تو جب وہ لوٹتے تو ہمارے پاس سے گزرتے اور ہمیں بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ایسا فرمایا ہے، اور میں ایک اچھے حافظہ والا لڑکا تھا، اس طرح سے میں نے بہت سا قرآن یاد کر لیا تھا، چنانچہ میرے والد اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ وفد کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز سکھائی اور فرمایا: تم میں لوگوں کی امامت وہ کرے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو ، اور میں ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا تھا اس لیے کہ میں قرآن یاد کیا کرتا تھا، لہٰذا لوگوں نے مجھے آگے بڑھا دیا، چنانچہ میں ان کی امامت کرتا تھا اور میرے جسم پر ایک چھوٹی زرد رنگ کی چادر ہوتی، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری شرمگاہ کھل جاتی، چنانچہ ایک عورت نے کہا: تم لوگ اپنے قاری ( امام ) کی شرمگاہ ہم سے چھپاؤ، تو لوگوں نے میرے لیے عمان کی بنی ہوئی ایک قمیص خرید دی، چنانچہ اسلام کے بعد مجھے جتنی خوشی اس سے ہوئی کسی اور چیز سے نہیں ہوئی، ان کی امامت کے وقت میں سات یا آٹھ برس کا تھا ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ايوب، عن عمرو بن سلمة، قال كنا بحاضر يمر بنا الناس اذا اتوا النبي صلى الله عليه وسلم فكانوا اذا رجعوا مروا بنا فاخبرونا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال كذا وكذا وكنت غلاما حافظا فحفظت من ذلك قرانا كثيرا فانطلق ابي وافدا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم في نفر من قومه فعلمهم الصلاة فقال " يومكم اقروكم " . وكنت اقراهم لما كنت احفظ فقدموني فكنت اومهم وعلى بردة لي صغيرة صفراء فكنت اذا سجدت تكشفت عني فقالت امراة من النساء واروا عنا عورة قاريكم . فاشتروا لي قميصا عمانيا فما فرحت بشىء بعد الاسلام فرحي به فكنت اومهم وانا ابن سبع سنين او ثمان سنين
اس سند سے بھی عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے میں ایک پیوند لگی ہوئی پھٹی چادر میں ان کی امامت کرتا تھا، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری سرین کھل جاتی تھی۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا عاصم الاحول، عن عمرو بن سلمة، بهذا الخبر قال فكنت اومهم في بردة موصلة فيها فتق فكنت اذا سجدت خرجت استي
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کے والد سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور جب لوٹنے کا ارادہ کیا تو ان لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہماری امامت کون کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو قرآن زیادہ یاد ہو ۔ راوی کو شک ہے «جمعا للقرآن» کہا، یا: «أخذا للقرآن» کہا، عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے برابر کسی کو قرآن یاد نہ تھا، تو لوگوں نے مجھ کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا، حالانکہ میں اس وقت لڑکا تھا، میرے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی، اس کے بعد سے میں قبیلہ جرم کی جس مجلس میں بھی موجود رہا میں ہی ان کا امام رہا، اور آج تک میں ہی ان کے جنازوں کی نماز پڑھاتا رہا ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یزید بن ہارون نے مسعر بن حبیب جرمی سے اور مسعر نے عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب میری قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور اس میں انہوں نے«عن أبيه» نہیں کہا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا وكيع، عن مسعر بن حبيب الجرمي، حدثنا عمرو بن سلمة، عن ابيه، انهم وفدوا الى النبي صلى الله عليه وسلم فلما ارادوا ان ينصرفوا قالوا يا رسول الله من يومنا قال " اكثركم جمعا للقران " . او " اخذا للقران " . قال فلم يكن احد من القوم جمع ما جمعته - قال - فقدموني وانا غلام وعلى شملة لي فما شهدت مجمعا من جرم الا كنت امامهم وكنت اصلي على جنايزهم الى يومي هذا . قال ابو داود ورواه يزيد بن هارون عن مسعر بن حبيب الجرمي عن عمرو بن سلمة قال لما وفد قومي الى النبي صلى الله عليه وسلم لم يقل عن ابيه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے جب مہاجرین اوّلین ( مدینہ ) آئے اور عصبہ ۱؎ میں قیام پذیر ہوئے تو ان کی امامت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے، انہیں قرآن سب سے زیادہ یاد تھا۔ ہیثم نے اضافہ کیا ہے کہ ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوتے۔
حدثنا القعنبي، حدثنا انس يعني ابن عياض، ح وحدثنا الهيثم بن خالد الجهني، - المعنى - قالا حدثنا ابن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، انه قال لما قدم المهاجرون الاولون نزلوا العصبة قبل مقدم النبي صلى الله عليه وسلم فكان يومهم سالم مولى ابي حذيفة وكان اكثرهم قرانا . زاد الهيثم وفيهم عمر بن الخطاب وابو سلمة بن عبد الاسد
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا ان کے ایک ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم اذان دو، پھر تکبیر کہو، پھر جو تم دونوں میں عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے ۔ مسلمہ کی روایت میں ہے: اور ہم دونوں علم میں قریب قریب تھے۔ اسماعیل کی روایت میں ہے: خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: پھر قرآن کہاں رہا؟ انہوں نے کہا: اس میں بھی وہ دونوں قریب قریب تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، ح وحدثنا مسدد، حدثنا مسلمة بن محمد، - المعنى واحد - عن خالد، عن ابي قلابة، عن مالك بن الحويرث، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له او لصاحب له " اذا حضرت الصلاة فاذنا ثم اقيما ثم ليومكما اكبركما " . وفي حديث مسلمة قال وكنا يوميذ متقاربين في العلم . وقال في حديث اسماعيل قال خالد قلت لابي قلابة فاين القران قال انهما كانا متقاربين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں، اور تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا حسين بن عيسى الحنفي، حدثنا الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليوذن لكم خياركم وليومكم قراوكم