Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اذان کی آواز سنے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے اسے کوئی عذر مانع نہ ہو ( لوگوں نے عرض کیا: عذر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: خوف یا بیماری ) تو اس کی نماز جو اس نے پڑھی قبول نہ ہو گی ۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن ابي جناب، عن مغراء العبدي، عن عدي بن ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سمع المنادي فلم يمنعه من اتباعه عذر " . قالوا وما العذر قال خوف او مرض " لم تقبل منه الصلاة التي صلى " . قال ابو داود روى عن مغراء ابو اسحاق
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نابینا آدمی ہوں، میرا گھر بھی ( مسجد سے ) دور ہے اور میری رہنمائی کرنے والا ایسا شخص ہے جو میرے لیے موزوں و مناسب نہیں، کیا میرے لیے اپنے گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ ، انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( پھر تو ) میں تمہارے لیے رخصت نہیں پاتا ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم بن بهدلة، عن ابي رزين، عن ابن ام مكتوم، انه سال النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني رجل ضرير البصر شاسع الدار ولي قايد لا يلايمني فهل لي رخصة ان اصلي في بيتي قال " هل تسمع النداء " . قال نعم . قال " لا اجد لك رخصة
ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول! مدینے میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم «حى على الصلاة» اور «حى على الفلاح» ( یعنی اذان ) سنتے ہو؟ تو ( مسجد ) آیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے قاسم جرمی نے سفیان سے روایت کیا ہے، ان کی روایت میں «حى هلا» ( آیا کرو ) کا ذکر نہیں ہے۔
حدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابن ام مكتوم، قال يا رسول الله ان المدينة كثيرة الهوام والسباع . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اتسمع حى على الصلاة حى على الفلاح فحى هلا " . قال ابو داود وكذا رواه القاسم الجرمي عن سفيان ليس في حديثه " حى هلا
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر پڑھائی پھر فرمایا: کیا فلاں حاضر ہے؟ ، لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا فلاں حاضر ہے؟ ، لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں ( عشاء و فجر ) منافقوں پر بقیہ نماز سے زیادہ گراں ہیں، اگر تم کو ان دونوں کی فضیلت کا علم ہوتا تو تم ان میں ضرور آتے چاہے تم کو گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑتا، اور پہلی صف ( اللہ سے قریب ہونے میں ) فرشتوں کی صف کی مانند ہے، اگر اس کی فضیلت کا علم تم کو ہوتا تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کرتے، ایک شخص کا دوسرے شخص کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا اس کے تنہا نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے، اور ایک شخص کا دو شخصوں کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے، جتنی تعداد زیادہ ہو اتنی ہی وہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو گی ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن عبد الله بن ابي بصير، عن ابى بن كعب، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما الصبح فقال " اشاهد فلان " . قالوا لا . قال " اشاهد فلان " . قالوا لا . قال " ان هاتين الصلاتين اثقل الصلوات على المنافقين ولو تعلمون ما فيهما لاتيتموهما ولو حبوا على الركب وان الصف الاول على مثل صف الملايكة ولو علمتم ما فضيلته لابتدرتموه وان صلاة الرجل مع الرجل ازكى من صلاته وحده وصلاته مع الرجلين ازكى من صلاته مع الرجل وما كثر فهو احب الى الله تعالى
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عشاء جماعت سے پڑھی، گویا اس نے آدھی رات تک قیام کیا، اور جس نے عشاء اور فجر دونوں جماعت سے پڑھیں، اس نے گویا پوری رات قیام کیا ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا اسحاق بن يوسف، حدثنا سفيان، عن ابي سهل، - يعني عثمان بن حكيم - حدثنا عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن عثمان بن عفان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى العشاء في جماعة كان كقيام نصف ليلة ومن صلى العشاء والفجر في جماعة كان كقيام ليلة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسجد سے جتنا دور ہو گا اتنا ہی اس کا ثواب زیادہ ہو گا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن ابي ذيب، عن عبد الرحمن بن مهران، عن عبد الرحمن بن سعد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الابعد فالابعد من المسجد اعظم اجرا
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اہل مدینہ میں نمازیوں میں ایک صاحب تھے، میری نظر میں کسی کا مکان مسجد سے ان کے مکان سے زیادہ دور نہیں تھا، اس کے باوجود ان کی کوئی نماز جماعت سے ناغہ نہیں ہوتی تھی، میں نے ان سے کہا: اگر آپ ایک گدھا خرید لیتے اور گرمی اور تاریکی میں اس پر سوار ہو کر ( مسجد ) آیا کرتے ( تو زیادہ اچھا ہوتا ) تو انہوں نے کہا: میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد کے بغل میں ہو، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میری غرض یہ تھی کہ مجھے مسجد آنے کا اور پھر لوٹ کر اپنے گھر والوں کے پاس جانے کا ثواب ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ سب عنایت فرما دیا، اور جو کچھ تم نے چاہا، اللہ نے وہ سب تمہیں دے دیا ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا سليمان التيمي، ان ابا عثمان، حدثه عن ابى بن كعب، قال كان رجل لا اعلم احدا من الناس ممن يصلي القبلة من اهل المدينة ابعد منزلا من المسجد من ذلك الرجل وكان لا تخطيه صلاة في المسجد فقلت لو اشتريت حمارا تركبه في الرمضاء والظلمة . فقال ما احب ان منزلي الى جنب المسجد فنمي الحديث الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فساله عن قوله ذلك فقال اردت يا رسول الله ان يكتب لي اقبالي الى المسجد ورجوعي الى اهلي اذا رجعت . فقال " اعطاك الله ذلك كله انطاك الله جل وعز ما احتسبت كله اجمع
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کے لیے نکلے، تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کی طرح ہے، اور جو چاشت کی نماز کے لیے نکلے اور اسی کی خاطر تکلیف برداشت کرتا ہو تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کے ثواب کی طرح ہے، اور ایک نماز سے لے کر دوسری نماز کے بیچ میں کوئی لغو کام نہ ہو تو وہ علیین ۱؎میں لکھی جاتی ہے ۔
حدثنا ابو توبة، حدثنا الهيثم بن حميد، عن يحيى بن الحارث، عن القاسم ابي عبد الرحمن، عن ابي امامة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من خرج من بيته متطهرا الى صلاة مكتوبة فاجره كاجر الحاج المحرم ومن خرج الى تسبيح الضحى لا ينصبه الا اياه فاجره كاجر المعتمر وصلاة على اثر صلاة لا لغو بينهما كتاب في عليين
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الرجل في جماعة تزيد على صلاته في بيته وصلاته في سوقه خمسا وعشرين درجة وذلك بان احدكم اذا توضا فاحسن الوضوء واتى المسجد لا يريد الا الصلاة ولا ينهزه الا الصلاة لم يخط خطوة الا رفع له بها درجة وحط عنه بها خطيية حتى يدخل المسجد فاذا دخل المسجد كان في صلاة ما كانت الصلاة هي تحبسه والملايكة يصلون على احدكم ما دام في مجلسه الذي صلى فيه يقولون اللهم اغفر له اللهم ارحمه اللهم تب عليه ما لم يوذ فيه او يحدث فيه
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الرجل في جماعة تزيد على صلاته في بيته وصلاته في سوقه خمسا وعشرين درجة وذلك بان احدكم اذا توضا فاحسن الوضوء واتى المسجد لا يريد الا الصلاة ولا ينهزه الا الصلاة لم يخط خطوة الا رفع له بها درجة وحط عنه بها خطيية حتى يدخل المسجد فاذا دخل المسجد كان في صلاة ما كانت الصلاة هي تحبسه والملايكة يصلون على احدكم ما دام في مجلسه الذي صلى فيه يقولون اللهم اغفر له اللهم ارحمه اللهم تب عليه ما لم يوذ فيه او يحدث فيه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز ( کا ثواب ) پچیس نمازوں کے برابر ہے، اور جب اسے چٹیل میدان میں پڑھے اور رکوع و سجدہ اچھی طرح سے کرے تو اس کا ثواب پچاس نمازوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالواحد بن زیاد کی روایت میں یوں ہے: آدمی کی نماز چٹیل میدان میں باجماعت نماز سے ثواب میں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا ابو معاوية، عن هلال بن ميمون، عن عطاء بن يزيد، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصلاة في جماعة تعدل خمسا وعشرين صلاة فاذا صلاها في فلاة فاتم ركوعها وسجودها بلغت خمسين صلاة " . قال ابو داود قال عبد الواحد بن زياد في الحديث " صلاة الرجل في الفلاة تضاعف على صلاته في الجماعة " . وساق الحديث
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اندھیری راتوں میں مسجدوں کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن پوری روشنی کی خوشخبری دے دو ۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا ابو عبيدة الحداد، حدثنا اسماعيل ابو سليمان الكحال، عن عبد الله بن اوس، عن بريدة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بشر المشايين في الظلم الى المساجد بالنور التام يوم القيامة
سعد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو ثمامہ حناط نے بیان کیا ہے کہ وہ مسجد جا رہے تھے کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں راستہ میں پا لیا، تو دونوں ایک دوسرے سے ملے، وہ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم پیوست کئے ہوئے پایا تو اس سے منع کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد کا ارادہ کر کے نکلے تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست نہ کرے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے ۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، ان عبد الملك بن عمرو، حدثهم عن داود بن قيس، قال حدثني سعد بن اسحاق، عن ابي سعيد المقبري، حدثني ابو ثمامة الحناط، ان كعب بن عجرة، ادركه وهو يريد المسجد ادرك احدهما صاحبه قال فوجدني وانا مشبك بيدى فنهاني عن ذلك وقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا توضا احدكم فاحسن وضوءه ثم خرج عامدا الى المسجد فلا يشبكن يديه فانه في صلاة
سعید بن مسیب کہتے ہیں ایک انصاری کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں اور اسے صرف ثواب کی نیت سے بیان کر رہا ہوں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر نماز کے لیے نکلے تو وہ جب بھی اپنا داہنا قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے، اور جب بھی اپنا بایاں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ایک برائی مٹا دیتا ہے لہٰذا تم میں سے جس کا جی چاہے مسجد سے قریب رہے اور جس کا جی چاہے مسجد سے دور رہے، اگر وہ مسجد میں آیا اور اس نے جماعت سے نماز پڑھی تو اسے بخش دیا جائے گا اور اگر وہ مسجد میں اس وقت آیا جب کہ ( جماعت شروع ہو چکی تھی اور ) کچھ رکعتیں لوگوں نے پڑھ لی تھیں اور کچھ باقی تھیں پھر اس نے جماعت کے ساتھ جتنی رکعتیں پائیں پڑھیں اور جو رہ گئی تھیں بعد میں پوری کیں تو وہ بھی اسی طرح ( اجر و ثواب کا مستحق ) ہو گا، اور اگر وہ مسجد میں اس وقت پہنچا جب کہ نماز ختم ہو چکی تھی اور اس نے اکیلے پوری نماز پڑھی تو وہ بھی اسی طرح ہو گا ۔
حدثنا محمد بن معاذ بن عباد العنبري، حدثنا ابو عوانة، عن يعلى بن عطاء، عن معبد بن هرمز، عن سعيد بن المسيب، قال حضر رجلا من الانصار الموت فقال اني محدثكم حديثا ما احدثكموه الا احتسابا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا توضا احدكم فاحسن الوضوء ثم خرج الى الصلاة لم يرفع قدمه اليمنى الا كتب الله عز وجل له حسنة ولم يضع قدمه اليسرى الا حط الله عز وجل عنه سيية فليقرب احدكم او ليبعد فان اتى المسجد فصلى في جماعة غفر له فان اتى المسجد وقد صلوا بعضا وبقي بعض صلى ما ادرك واتم ما بقي كان كذلك فان اتى المسجد وقد صلوا فاتم الصلاة كان كذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن محمد، - يعني ابن طحلاء - عن محصن بن علي، عن عوف بن الحارث، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا فاحسن وضوءه ثم راح فوجد الناس قد صلوا اعطاه الله جل وعز مثل اجر من صلاها وحضرها لا ينقص ذلك من اجرهم شييا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تمنعوا اماء الله مساجد الله ولكن ليخرجن وهن تفلات
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تمنعوا اماء الله مساجد الله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، البتہ ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا العوام بن حوشب، حدثني حبيب بن ابي ثابت، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تمنعوا نساءكم المساجد وبيوتهن خير لهن
مجاہد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم عورتوں کو رات میں مسجد جانے کی اجازت دو ، اس پر ان کے ایک لڑکے ( بلال ) نے کہا: قسم اللہ کی! ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اسے فساد کا ذریعہ بنائیں، قسم اللہ کی، ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ مجاہد کہتے ہیں: اس پر انہوں نے ( اپنے بیٹے کو ) بہت سخت سست کہا اور غصہ ہوئے، پھر بولے: میں کہتا ہوں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم انہیں اجازت دو ، اور تم کہتے ہو: ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، وابو معاوية عن الاعمش، عن مجاهد، قال قال عبد الله بن عمر قال النبي صلى الله عليه وسلم " ايذنوا للنساء الى المساجد بالليل " . فقال ابن له والله لا ناذن لهن فيتخذنه دغلا والله لا ناذن لهن . قال فسبه وغضب وقال اقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايذنوا لهن " . وتقول لا ناذن لهن
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر وہ چیزیں دیکھتے جو عورتیں کرنے لگی ہیں تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں اس سے روک دی گئی تھیں۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے عمرہ سے پوچھا: کیا بنی اسرائیل کی عورتیں اس سے روک دی گئی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة بنت عبد الرحمن، انها اخبرته ان عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لو ادرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ما احدث النساء لمنعهن المسجد كما منعه نساء بني اسراييل . قال يحيى فقلت لعمرة امنعه نساء بني اسراييل قالت نعم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے ۔
حدثنا ابن المثنى، ان عمرو بن عاصم، حدثهم قال حدثنا همام، عن قتادة، عن مورق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة المراة في بيتها افضل من صلاتها في حجرتها وصلاتها في مخدعها افضل من صلاتها في بيتها