Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے امام ہو تو تم ان کے کمزور ترین لوگوں کی رعایت کرنا، اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا سعيد الجريري، عن ابي العلاء، عن مطرف بن عبد الله، عن عثمان بن ابي العاص، قال قلت وقال موسى في موضع اخر ان عثمان بن ابي العاص قال يا رسول الله اجعلني امام قومي . قال " انت امامهم واقتد باضعفهم واتخذ موذنا لا ياخذ على اذانه اجرا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ اذان دیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہیں: سنو، بندہ سو گیا تھا، سنو، بندہ سو گیا تھا۔ موسیٰ بن اسماعیل کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے دوبارہ اذان دی اور بلند آواز سے کہا: سنو، بندہ سو گیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ایوب سے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، وداود بن شبيب، - المعنى - قالا حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان بلالا، اذن قبل طلوع الفجر فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان يرجع فينادي " الا ان العبد قد نام الا ان العبد قد نام " . زاد موسى فرجع فنادى الا ان العبد نام . قال ابو داود وهذا الحديث لم يروه عن ايوب الا حماد بن سلمة
عمر رضی اللہ عنہ کے مسروح نامی مؤذن سے روایت ہے کہ انہوں نے صبح صادق سے پہلے اذان دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے نافع سے یا کسی اور سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا ( جس کا نام مسروح یا کچھ اور تھا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے دراوردی نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا مسعود نامی ایک مؤذن تھا، اور دراوردی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا ايوب بن منصور، حدثنا شعيب بن حرب، عن عبد العزيز بن ابي رواد، اخبرنا نافع، عن موذن، لعمر يقال له مسروح اذن قبل الصبح فامره عمر فذكر نحوه . قال ابو داود وقد رواه حماد بن زيد عن عبيد الله بن عمر عن نافع او غيره ان موذنا لعمر يقال له مسروح او غيره . قال ابو داود ورواه الدراوردي عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر قال كان لعمر موذن يقال له مسعود وذكر نحوه وهذا اصح من ذلك
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہو جائے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا وكيع، حدثنا جعفر بن برقان، عن شداد، مولى عياض بن عامر عن بلال، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له " لا توذن حتى يستبين لك الفجر هكذا " . ومد يديه عرضا قال ابو داود شداد مولى عياض لم يدرك بلالا
حدثنا محمد بن سلمة، حدثنا ابن وهب، عن يحيى بن عبد الله بن سالم بن عبد الله بن عمر، وسعيد بن عبد الرحمن، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان ابن ام مكتوم، كان موذنا لرسول الله صلى الله عليه وسلم وهو اعمى
حدثنا محمد بن سلمة، حدثنا ابن وهب، عن يحيى بن عبد الله بن سالم بن عبد الله بن عمر، وسعيد بن عبد الرحمن، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان ابن ام مكتوم، كان موذنا لرسول الله صلى الله عليه وسلم وهو اعمى
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں تھے کہ ایک شخص مؤذن کے عصر کی اذان دینے کے بعد نکل کر ( مسجد سے باہر ) گیا تو آپ نے کہا: اس نے ابوالقاسم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے ) کی نافرمانی کی ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن ابراهيم بن المهاجر، عن ابي الشعثاء، قال كنا مع ابي هريرة في المسجد فخرج رجل حين اذن الموذن للعصر فقال ابو هريرة اما هذا فقد عصى ابا القاسم عليه السلام
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے پھر رکے رہتے تھے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ نکل چکے ہیں تو نماز کی اقامت کہتے تھے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، عن اسراييل، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال كان بلال يوذن ثم يمهل فاذا راى النبي صلى الله عليه وسلم قد خرج اقام الصلاة
مجاہد کہتے ہیں کہ کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں تثویب ۱؎ کی، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمیں یہاں سے لے چلو، اس لیے کہ یہ بدعت ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، حدثنا ابو يحيى القتات، عن مجاهد، قال كنت مع ابن عمر فثوب رجل في الظهر او العصر قال اخرج بنا فان هذه بدعة
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو جب تک تم مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ایوب اور حجاج الصواف نے یحییٰ سے روایت کیا ہے۔ اور ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ مجھے یحییٰ نے یہ حدیث لکھ کر بھیجی، نیز اسے معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک نے بھی یحییٰ سے روایت کیا ہے، ان دونوں کی روایت میں ہے: یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو، اور سکون اور وقار کو ہاتھ سے نہ جانے دو ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، وموسى بن اسماعيل، قالا حدثنا ابان، عن يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اقيمت الصلاة فلا تقوموا حتى تروني " . قال ابو داود وهكذا رواه ايوب وحجاج الصواف عن يحيى . وهشام الدستوايي قال كتب الى يحيى . ورواه معاوية بن سلام وعلي بن المبارك عن يحيى وقالا فيه " حتى تروني وعليكم السكينة
یحییٰ سے اسی سند سے گذشتہ حدیث کے ہم مثل حدیث مروی ہے، اس میں ہے یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں نکل چکا ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معمر کے علاوہ کسی نے «قد خرجت» کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ ابن عیینہ نے بھی اسے معمر سے روایت کیا ہے، اس میں بھی انہوں نے «قد خرجت» نہیں کہا ہے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، حدثنا عيسى، عن معمر، عن يحيى، باسناده مثله قال " حتى تروني قد خرجت " . قال ابو داود لم يذكر " قد خرجت " . الا معمر . ورواه ابن عيينة عن معمر لم يقل فيه " قد خرجت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جب نماز کی تکبیر کہی جاتی تھی تو لوگ اپنی اپنی جگہیں لے لیتے قبل اس کے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ لیں۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الوليد، قال قال ابو عمرو ح وحدثنا داود بن رشيد، حدثنا الوليد، - وهذا لفظه - عن الاوزاعي، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان الصلاة، كانت تقام لرسول الله صلى الله عليه وسلم فياخذ الناس مقامهم قبل ان ياخذ النبي صلى الله عليه وسلم
حمید کہتے ہیں میں نے ثابت بنانی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز کی تکبیر ہو جانے کے بعد بات کرتا ہو، تو انہوں نے مجھ سے انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ نماز کی تکبیر کہہ دی گئی تھی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور اس نے آپ کو تکبیر ہو جانے کے بعد ( باتوں کے ذریعے ) روکے رکھا۔
حدثنا حسين بن معاذ، حدثنا عبد الاعلى، عن حميد، قال سالت ثابتا البناني عن الرجل، يتكلم بعد ما تقام الصلاة فحدثني عن انس بن مالك، قال اقيمت الصلاة فعرض لرسول الله صلى الله عليه وسلم رجل فحبسه بعد ما اقيمت الصلاة
کہمس کہتے ہیں کہ ہم منیٰ میں نماز کے لیے کھڑے ہوئے، امام ابھی نماز کے لیے نہیں نکلا تھا کہ ہم میں سے کچھ لوگ بیٹھ گئے، تو کوفہ کے ایک شیخ نے مجھ سے کہا: تمہیں کون سی چیز بٹھا رہی ہے؟ میں نے ان سے کہا: ابن بریدہ کہتے ہیں: یہی «سمود» ۱؎ ہے، یہ سن کر مذکورہ شیخ نے مجھ سے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوسجہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کے تکبیر کہنے سے پہلے صفوں میں دیر تک کھڑے رہتے تھے ۲؎۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان لوگوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں، جو پہلی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور صف میں شامل ہونے کے لیے جو قدم اٹھایا جائے اس سے بہتر اللہ کے نزدیک کوئی قدم نہیں ۔
حدثنا احمد بن علي بن سويد بن منجوف السدوسي، حدثنا عون بن كهمس، عن ابيه، كهمس قال قمنا الى الصلاة بمنى والامام لم يخرج فقعد بعضنا فقال لي شيخ من اهل الكوفة ما يقعدك قلت ابن بريدة . قال هذا السمود . فقال لي الشيخ حدثني عبد الرحمن بن عوسجة عن البراء بن عازب قال كنا نقوم في الصفوف على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم طويلا قبل ان يكبر قال وقال " ان الله وملايكته يصلون على الذين يلون الصفوف الاول وما من خطوة احب الى الله من خطوة يمشيها يصل بها صفا
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز ( عشاء ) کی تکبیر کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے، تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس، قال اقيمت الصلاة ورسول الله صلى الله عليه وسلم نجي في جانب المسجد فما قام الى الصلاة حتى نام القوم
سالم ابوالنضر کہتے ہیں جب نماز کی تکبیر کہہ دی جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ ( مسجد میں ) لوگ کم آئے ہیں تو آپ بیٹھ جاتے، نماز شروع نہیں کرتے اور جب دیکھتے کہ جماعت پوری ہے تو نماز پڑھاتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن اسحاق الجوهري، اخبرنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن موسى بن عقبة، عن سالم ابي النضر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين تقام الصلاة في المسجد اذا راهم قليلا جلس لم يصل واذا راهم جماعة صلى
اس سند سے ابومسعود زرقی بھی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے گذشتہ روایت کے ہم مثل روایت کرتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن اسحاق، اخبرنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن موسى بن عقبة، عن نافع بن جبير، عن ابي مسعود الزرقي، عن علي بن ابي طالب، - رضى الله عنه - مثل ذلك
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے ۔ زائدہ کا بیان ہے: سائب نے کہا: جماعت سے مراد نماز باجماعت ہے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زايدة، حدثنا السايب بن حبيش، عن معدان بن ابي طلحة اليعمري، عن ابي الدرداء، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من ثلاثة في قرية ولا بدو لا تقام فيهم الصلاة الا قد استحوذ عليهم الشيطان فعليك بالجماعة فانما ياكل الذيب القاصية " . قال زايدة قال السايب يعني بالجماعة الصلاة في الجماعة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے سوچا کہ نماز کھڑی کرنے کا حکم دوں، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں چند آدمیوں کو لے کر جن کے ساتھ لکڑیوں کے گٹھر ہوں، ان لوگوں کے پاس جاؤں، جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں میں آگ لگا دوں ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقد هممت ان امر بالصلاة فتقام ثم امر رجلا فيصلي بالناس ثم انطلق معي برجال معهم حزم من حطب الى قوم لا يشهدون الصلاة فاحرق عليهم بيوتهم بالنار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اپنے جوانوں کو لکڑیوں کے گٹھر جمع کرنے کا حکم دوں، پھر میں ان لوگوں کے پاس جو بغیر کسی عذر کے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرتے ہیں، جاؤں اور ان کے گھروں کو ان کے سمیت آگ لگا دوں ۔ یزید بن یزید کہتے ہیں: میں نے یزید بن اصم سے پوچھا: ابوعوف! کیا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد جمعہ ہے، یا اور وقتوں کی نماز؟ فرمایا: میرے کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے نہ سنا ہو، انہوں نے نہ جمعہ کا ذکر کیا، نہ کسی اور دن کا۔
حدثنا النفيلي، حدثنا ابو المليح، حدثني يزيد بن يزيد، حدثني يزيد بن الاصم، سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقد هممت ان امر فتيتي فيجمعوا حزما من حطب ثم اتي قوما يصلون في بيوتهم ليست بهم علة فاحرقها عليهم " . قلت ليزيد بن الاصم يا ابا عوف الجمعة عنى او غيرها قال صمتا اذناى ان لم اكن سمعت ابا هريرة ياثره عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ذكر جمعة ولا غيرها
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تم لوگ ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرو جہاں ان کی اذان دی جائے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے اور راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ نماز باجماعت سے وہی غیر حاضر رہتا تھا جو کھلا ہوا منافق ہوتا تھا، اور ہم یہ بھی دیکھتے تھے کہ آدمی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا، یہاں تک کہ اس آدمی کو صف میں لا کر کھڑا کر دیا جاتا تھا، تم میں سے ایسا کوئی شخص نہیں ہے، جس کی مسجد اس کے گھر میں نہ ہو، لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہے اور مسجدوں میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا، تو تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا اور اگر تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا تو کافروں جیسا کام کیا۔
حدثنا هارون بن عباد الازدي، حدثنا وكيع، عن المسعودي، عن علي بن الاقمر، عن ابي الاحوص، عن عبد الله بن مسعود، قال حافظوا على هولاء الصلوات الخمس حيث ينادى بهن فانهن من سنن الهدى وان الله شرع لنبيه صلى الله عليه وسلم سنن الهدى ولقد رايتنا وما يتخلف عنها الا منافق بين النفاق ولقد رايتنا وان الرجل ليهادى بين الرجلين حتى يقام في الصف وما منكم من احد الا وله مسجد في بيته ولو صليتم في بيوتكم وتركتم مساجدكم تركتم سنة نبيكم صلى الله عليه وسلم ولو تركتم سنة نبيكم صلى الله عليه وسلم لكفرتم