Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
مسجد عریان ۱؎ کے مؤذن ابو جعفر کہتے ہیں کہ میں نے بڑی مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کو کہتے سنا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے، پھر انہوں نے اوپر والی حدیث پوری بیان کی۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا ابو عامر، - يعني العقدي عبد الملك بن عمرو - حدثنا شعبة، عن ابي جعفر، موذن مسجد العريان قال سمعت ابا المثنى، موذن مسجد الاكبر يقول سمعت ابن عمر، وساق الحديث
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے سلسلہ میں کئی کام کرنے کا ( جیسے ناقوس بجانے یا سنکھ میں پھونک مارنے کا ) ارادہ کیا لیکن ان میں سے کوئی کام کیا نہیں۔ محمد بن عبداللہ کہتے ہیں: پھر عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان دکھائی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بلال کو سکھا دو ، چنانچہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اسے بلال رضی اللہ عنہ کو سکھا دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، اس پر عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے میں نے دیکھا تھا اور میں ہی اذان دینا چاہتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم تکبیر کہہ لو ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا حماد بن خالد، حدثنا محمد بن عمرو، عن محمد بن عبد الله، عن عمه عبد الله بن زيد، قال اراد النبي صلى الله عليه وسلم في الاذان اشياء لم يصنع منها شييا قال فاري عبد الله بن زيد الاذان في المنام فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره فقال " القه على بلال " . فالقاه عليه فاذن بلال فقال عبد الله انا رايته وانا كنت اريده قال " فاقم انت
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں میرے دادا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تھے، اس میں ہے: تو میرے دادا نے اقامت کہی ۔
حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا محمد بن عمرو، - شيخ من اهل المدينة من الانصار - قال سمعت عبد الله بن محمد قال كان جدي عبد الله بن زيد يحدث بهذا الخبر قال فاقام جدي
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( اذان دینے کا ) حکم دیا تو میں نے اذان کہی، پھر میں کہنے لگا: اللہ کے رسول! اقامت کہوں؟ تو آپ مشرق کی طرف فجر کی روشنی دیکھنے لگے اور فرما رہے تھے: ابھی نہیں ( جب تک طلوع فجر نہ ہو جائے ) ، یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور وضو کیا، پھر میری طرف واپس پلٹے اور صحابہ کرام اکھٹا ہو گئے، تو بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: صدائی نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی تکبیر کہے ۔ زیاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے تکبیر کہی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد الله بن عمر بن غانم، عن عبد الرحمن بن زياد، - يعني الافريقي - انه سمع زياد بن نعيم الحضرمي، انه سمع زياد بن الحارث الصدايي، قال لما كان اول اذان الصبح امرني - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - فاذنت فجعلت اقول اقيم يا رسول الله فجعل ينظر الى ناحية المشرق الى الفجر فيقول " لا " . حتى اذا طلع الفجر نزل فبرز ثم انصرف الى وقد تلاحق اصحابه - يعني فتوضا - فاراد بلال ان يقيم فقال له نبي الله صلى الله عليه وسلم " ان اخا صداء هو اذن ومن اذن فهو يقيم " . قال فاقمت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤذن کی بخشش کر دی جاتی ہے، جہاں تک اس کی آواز جاتی ہے ۱؎، اور اس کے لیے تمام خشک و تر گواہی دیتے ہیں، اور جو شخص نماز میں حاضر ہوتا ہے اس کے لیے پچیس نماز کا ثواب لکھا جاتا ہے اور ایک نماز سے دوسری نماز کے درمیان جو کوتاہی سرزد ہوئی ہو وہ مٹا دی جاتی ہے ۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، عن موسى بن ابي عثمان، عن ابي يحيى، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الموذن يغفر له مدى صوته ويشهد له كل رطب ويابس وشاهد الصلاة يكتب له خمس وعشرون صلاة ويكفر عنه ما بينهما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے یہاں تک کہ ( وہ اتنی دور چلا جاتا ہے کہ ) اذان نہیں سنتا، پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوتی ہے وہ پھر پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو شیطان دوبارہ آ جاتا ہے اور مصلی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو، ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں تھیں یہاں تک کہ اس شخص کو یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا نودي بالصلاة ادبر الشيطان وله ضراط حتى لا يسمع التاذين فاذا قضي النداء اقبل حتى اذا ثوب بالصلاة ادبر حتى اذا قضي التثويب اقبل حتى يخطر بين المرء ونفسه ويقول اذكر كذا اذكر كذا لما لم يكن يذكر حتى يضل الرجل ان يدري كم صلى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام ( مقتدیوں کی نماز کا ) ضامن ۱؎ اور کفیل ہے اور مؤذن امین ہے ۲؎، اے اللہ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ۳؎ اور مؤذنوں کو بخش دے ۴؎ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا الاعمش، عن رجل، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الامام ضامن والموذن موتمن اللهم ارشد الايمة واغفر للموذنين
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گذشتہ حدیث کے مثل مرفوع روایت آئی ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابن نمير، عن الاعمش، قال نبيت عن ابي صالح، - قال ولا اراني الا قد سمعته منه، - عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثله
قبیلہ بنی نجار کی ایک عورت کہتی ہے مسجد کے اردگرد گھروں میں سب سے اونچا میرا گھر تھا، بلال رضی اللہ عنہ اسی پر فجر کی اذان دیا کرتے تھے، چنانچہ وہ صبح سے کچھ پہلے ہی آتے اور گھر پر بیٹھ جاتے اور صبح صادق کو دیکھتے رہتے، جب اسے دیکھ لیتے تو انگڑائی لیتے، پھر کہتے: اے اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور تجھ ہی سے قریش پر مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں ، وہ کہتی ہے: پھر وہ اذان دیتے، قسم اللہ کی، میں نہیں جانتی کہ انہوں نے کسی ایک رات بھی ان کلمات کو ترک کیا ہو۔
حدثنا احمد بن محمد بن ايوب، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة بن الزبير، عن امراة، من بني النجار قالت كان بيتي من اطول بيت حول المسجد وكان بلال يوذن عليه الفجر فياتي بسحر فيجلس على البيت ينظر الى الفجر فاذا راه تمطى ثم قال اللهم اني احمدك واستعينك على قريش ان يقيموا دينك قالت ثم يوذن قالت والله ما علمته كان تركها ليلة واحدة تعني هذه الكلمات
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک لال خیمہ میں تھے، بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے پھر اذان دی، میں انہیں اپنے منہ کو ادھر ادھر پھیرتے دیکھ رہا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ یمنی قطری چادروں ۱؎ سے بنے سرخ جوڑے پہنے ہوئے تھے، موسی بن اسماعیل اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ ابوحجیفہ نے کہا: میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابطح کی طرف نکلے پھر اذان دی، جب «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں اور بائیں جانب موڑی اور خود نہیں گھومے ۲؎، پھر وہ اندر گئے اور نیزہ نکالا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا قيس يعني ابن الربيع، ح وحدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا وكيع، عن سفيان، جميعا عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم بمكة وهو في قبة حمراء من ادم فخرج بلال فاذن فكنت اتتبع فمه ها هنا وها هنا . قال ثم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه حلة حمراء برود يمانية قطري . وقال موسى قال رايت بلالا خرج الى الابطح فاذن فلما بلغ حى على الصلاة حى على الفلاح . لوى عنقه يمينا وشمالا ولم يستدر ثم دخل فاخرج العنزة وساق حديثه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن زيد العمي، عن ابي اياس، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يرد الدعاء بين الاذان والاقامة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسے مؤذن کہتا ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول الموذن
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی وہی کہو جو وہ کہتا ہے، پھر میرے اوپر درود بھیجو، اس لیے کہ جو شخص میرے اوپر ایک بار درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار اپنی رحمت نازل فرمائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو، وسیلہ جنت میں ایک ایسا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، جس شخص نے میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی ۔
حدثنا محمد بن سلمة، حدثنا ابن وهب، عن ابن لهيعة، وحيوة، وسعيد بن ابي ايوب، عن كعب بن علقمة، عن عبد الرحمن بن جبير، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اذا سمعتم الموذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا على فانه من صلى على صلاة صلى الله عليه بها عشرا ثم سلوا الله عز وجل لي الوسيلة فانها منزلة في الجنة لا تنبغي الا لعبد من عباد الله تعالى وارجو ان اكون انا هو فمن سال الله لي الوسيلة حلت عليه الشفاعة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مؤذنوں کو ہم پر فضیلت حاصل ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتے ہیں ( یعنی اذان کا جواب دو ) ، پھر جب تم اذان ختم کر لو تو ( اللہ تعالیٰ سے ) مانگو، تمہیں دیا جائے گا ۔
حدثنا ابن السرح، ومحمد بن سلمة، قالا حدثنا ابن وهب، عن حيى، عن ابي عبد الرحمن، - يعني الحبلي - عن عبد الله بن عمرو، ان رجلا، قال يا رسول الله ان الموذنين يفضلوننا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قل كما يقولون فاذا انتهيت فسل تعطه
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مؤذن کی اذان سن کر یہ کلمات کہے: «وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اسے بخش دیا جائے گا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن الحكيم بن عبد الله بن قيس، عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن سعد بن ابي وقاص، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال حين يسمع الموذن وانا اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالاسلام دينا غفر له
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو: «أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله» کہتے ہوئے سنتے تو فرماتے: اور میں بھی ( اس کا گواہ ہوں ) اور میں بھی ( اس کا گواہ ہوں ) ۔
حدثنا ابراهيم بن مهدي، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا سمع الموذن يتشهد قال " وانا وانا
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن: «الله أكبر الله أكبر» کہے تو تم میں سے جو ( اخلاص کے ساتھ ) «الله أكبر الله أكبر» کہے، پھر جب وہ «أشهد أن لا إله إلا الله» کہے تو یہ بھی «أشهد أن لا إله إلا الله»کہے، اور جب وہ «أشهد أن محمدا رسول الله» کہے تو یہ بھی «أشهد أن محمدا رسول الله» کہے، جب وہ «حى على الصلاة» کہے تو یہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے، جب وہ «حى على الفلاح» کہے تو یہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے، پھر جب وہ «الله أكبر الله أكبر» کہے تو یہ بھی «الله أكبر الله أكبر» کہے، اور جب وہ «لا إله إلا الله» کہے تو یہ بھی «لا إله إلا الله» کہے تو وہ جنت میں جائے گا ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثني محمد بن جهضم، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن عمارة بن غزية، عن خبيب بن عبد الرحمن بن اساف، عن حفص بن عاصم بن عمر، عن ابيه، عن جده، عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الموذن الله اكبر الله اكبر فقال احدكم الله اكبر الله اكبر فاذا قال اشهد ان لا اله الا الله . قال اشهد ان لا اله الا الله . فاذا قال اشهد ان محمدا رسول الله قال اشهد ان محمدا رسول الله ثم قال حى على الصلاة قال لا حول ولا قوة الا بالله ثم قال حى على الفلاح قال لا حول ولا قوة الا بالله ثم قال الله اكبر الله اكبر قال الله اكبر الله اكبر ثم قال لا اله الا الله قال لا اله الا الله من قلبه دخل الجنة
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے یا بعض صحابہ کرام سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت شروع کی، جب انہوں نے «قد قامت الصلاة» کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أقامها الله وأدامها» اللہ اسے قائم رکھے اور اس کو دوام عطا فرمائے اور باقی اقامت کے جواب میں وہی کہا جو اذان کے سلسلے میں عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔
حدثنا سليمان بن داود العتكي، حدثنا محمد بن ثابت، حدثني رجل، من اهل الشام عن شهر بن حوشب، عن ابي امامة، او عن بعض، اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان بلالا اخذ في الاقامة فلما ان قال قد قامت الصلاة قال النبي صلى الله عليه وسلم " اقامها الله وادامها " . وقال في ساير الاقامة كنحو حديث عمر - رضى الله عنه - في الاذان
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته» اے اللہ! اس کامل دعا اور ہمیشہ قائم رہنے والی نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ ۱؎ اور فضیلہ ۲؎ عطا فرما اور آپ کو مقام محمود ۳؎ پر فائز فرما جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے تو قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی ۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا علي بن عياش، حدثنا شعيب بن ابي حمزة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال حين يسمع النداء اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القايمة ات محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته الا حلت له الشفاعة يوم القيامة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا کہ میں مغرب کی اذان کے وقت کہوں:«اللهم إن هذا إقبال ليلك وإدبار نهارك وأصوات دعاتك فاغفر لي» اے اللہ! یہ تیری رات کی آمد اور تیرے دن کی رخصت کا وقت ہے، اور تیری طرف بلانے والوں کی آوازیں ہیں تو تو میری مغفرت فرما ۔
حدثنا مومل بن اهاب، حدثنا عبد الله بن الوليد العدني، حدثنا القاسم بن معن، حدثنا المسعودي، عن ابي كثير، مولى ام سلمة عن ام سلمة، قالت علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اقول عند اذان المغرب " اللهم ان هذا اقبال ليلك وادبار نهارك واصوات دعاتك فاغفر لي