Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا عثمان، - يعني ابن عبد الرحمن - حدثنا عصام بن قدامة، - من بني بجيلة - عن مالك بن نمير الخزاعي، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم واضعا ذراعه اليمنى على فخذه اليمنى رافعا اصبعه السبابة قد حناها شييا
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا عثمان، - يعني ابن عبد الرحمن - حدثنا عصام بن قدامة، - من بني بجيلة - عن مالك بن نمير الخزاعي، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم واضعا ذراعه اليمنى على فخذه اليمنى رافعا اصبعه السبابة قد حناها شييا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے: آدمی کو نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر بیٹھنے سے ، اور ابن شبویہ کی روایت میں ہے: آدمی کو نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع کیا ہے ، اور ابن رافع کی روایت میں ہے: آدمی کو اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر نماز پڑھنے سے منع کیا ہے ، اور انہوں نے اسے «باب الرفع من السجود» میں ذکر کیا ہے، اور ابن عبدالملک کی روایت میں ہے کہ آدمی کو نماز میں اٹھتے وقت اپنے دونوں ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع کیا ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، واحمد بن محمد بن شبوية، ومحمد بن رافع، ومحمد بن عبد الملك الغزال، قالوا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن اسماعيل بن امية، عن نافع، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال - احمد بن حنبل - ان يجلس الرجل في الصلاة وهو معتمد على يده . وقال ابن شبوية نهى ان يعتمد الرجل على يده في الصلاة . وقال ابن رافع نهى ان يصلي الرجل وهو معتمد على يده . وذكره في باب الرفع من السجود . وقال ابن عبد الملك نهى ان يعتمد الرجل على يديه اذا نهض في الصلاة
اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں میں نے نافع سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز پڑھ رہا ہو اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کئے ہوئے ہو، تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ یہ غضب کی شکار «مغضوب عليهم» قوم یہود کی نماز ہے۔
حدثنا بشر بن هلال، حدثنا عبد الوارث، عن اسماعيل بن امية، سالت نافعا عن الرجل، يصلي وهو مشبك يديه قال قال ابن عمر تلك صلاة المغضوب عليهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگائے نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا ( ہارون بن زید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ بائیں پہلو پر پڑا ہوا دیکھا پھر ( آگے ) دونوں ( الفاظ میں ) متفق ہیں تو انہوں نے اس سے کہا: اس طرح نہ بیٹھو کیونکہ اس طرح وہ لوگ بیٹھتے ہیں جو عذاب دیئے جائیں گے۔
حدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي ح، وحدثنا محمد بن سلمة، حدثنا ابن وهب، - وهذا لفظه - جميعا عن هشام بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، انه راى رجلا يتكي على يده اليسرى وهو قاعد في الصلاة - وقال هارون بن زيد ساقطا على شقه الايسر ثم اتفقا - فقال له لا تجلس هكذا فان هكذا يجلس الذين يعذبون
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں میں یعنی پہلے تشہد میں اس طرح ہوتے تھے گویا کہ گرم پتھر پر ( بیٹھے ) ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: کھڑے ہونے تک؟ تو سعد بن ابراہیم نے کہا: کھڑے ہونے تک ۱؎۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن ابي عبيدة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في الركعتين الاوليين كانه على الرضف . قال قلت حتى يقوم قال حتى يقوم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں السلام عليكم ورحمة الله، السلام عليكم ورحمة الله کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کی گال کی سفیدی دکھائی دیتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ سفیان کی روایت کے الفاظ ہیں اور اسرائیل کی حدیث سفیان کی حدیث کی مفسر نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے زہیر نے ابواسحاق سے اور یحییٰ بن آدم نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عبدالرحمٰن بن اسود سے، انہوں نے اپنے والد اسود اور علقمہ سے روایت کیا ہے، اور ان دونوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعبہ ابواسحاق کی اس حدیث کے مرفوع ہونے کے منکر تھے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، ح وحدثنا احمد بن يونس، حدثنا زايدة، ح وحدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، ح وحدثنا محمد بن عبيد المحاربي، وزياد بن ايوب، قالا حدثنا عمر بن عبيد الطنافسي، ح وحدثنا تميم بن المنتصر، اخبرنا اسحاق، - يعني ابن يوسف - عن شريك، ح وحدثنا احمد بن منيع، حدثنا حسين بن محمد، حدثنا اسراييل، كلهم عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، وقال، اسراييل عن ابي الاحوص، والاسود، عن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يسلم عن يمينه وعن شماله حتى يرى بياض خده " السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله " . قال ابو داود وهذا لفظ حديث سفيان وحديث اسراييل لم يفسره . قال ابو داود ورواه زهير عن ابي اسحاق ويحيى بن ادم عن اسراييل عن ابي اسحاق عن عبد الرحمن بن الاسود عن ابيه وعلقمة عن عبد الله . قال ابو داود شعبة كان ينكر هذا الحديث - حديث ابي اسحاق - ان يكون مرفوعا
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ اپنے دائیں جانب «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» اور اپنے بائیں جانب «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» کہتے ہوئے سلام پھیر رہے تھے۔
حدثنا عبدة بن عبد الله، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا موسى بن قيس الحضرمي، عن سلمة بن كهيل، عن علقمة بن وايل، عن ابيه، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم فكان يسلم عن يمينه " السلام عليكم ورحمة الله وبركاته " . وعن شماله " السلام عليكم ورحمة الله
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی سلام پھیرتا تو اپنے ہاتھ سے اپنے دائیں اور بائیں اشارے کرتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم لوگوں کا کیا حال ہے کہ تم میں سے کوئی ( نماز میں ) اپنے ہاتھ سے اشارے کرتا ہے، گویا اس کا ہاتھ شریر گھوڑے کی دم ہے، تم میں سے ہر ایک کو بس اتنا کافی ہے ( یا یہ کہا: کیا تم میں سے ہر ایک کو اس طرح کرنا کافی نہیں؟ ) ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا کہ دائیں اور بائیں طرف کے اپنے بھائی کو سلام کرے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن زكريا، ووكيع، عن مسعر، عن عبيد الله ابن القبطية، عن جابر بن سمرة، قال كنا اذا صلينا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم احدنا اشار بيده من عن يمينه ومن عن يساره فلما صلى قال " ما بال احدكم يرمي بيده كانها اذناب خيل شمس انما يكفي احدكم - او الا يكفي احدكم - ان يقول هكذا " . واشار باصبعه " يسلم على اخيه من عن يمينه ومن عن شماله
اس طریق سے بھی مسعر سے اس مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی کو یا ان میں سے کسی کو کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھے پھر اپنے دائیں اور بائیں اپنے بھائی کو سلام کرے ۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا ابو نعيم، عن مسعر، باسناده ومعناه قال " اما يكفي احدكم - او احدهم - ان يضع يده على فخذه ثم يسلم على اخيه من عن يمينه ومن عن شماله
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں تمہیں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھ رہا ہوں، گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں؟ نماز میں سکون سے رہا کرو ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا الاعمش، عن المسيب بن رافع، عن تميم الطايي، عن جابر بن سمرة، قال دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس رافعو ايديهم - قال زهير اراه قال - في الصلاة فقال " ما لي اراكم رافعي ايديكم كانها اذناب خيل شمس اسكنوا في الصلاة
حدثنا محمد بن عثمان ابو الجماهر، حدثنا سعيد بن بشير، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، قال امرنا النبي صلى الله عليه وسلم ان نرد على الامام وان نتحاب وان يسلم بعضنا على بعض
حدثنا محمد بن عثمان ابو الجماهر، حدثنا سعيد بن بشير، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، قال امرنا النبي صلى الله عليه وسلم ان نرد على الامام وان نتحاب وان يسلم بعضنا على بعض
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر سے جانا جاتا تھا۔
حدثنا احمد بن عبدة، اخبرنا سفيان، عن عمرو، عن ابي معبد، عن ابن عباس، قال كان يعلم انقضاء صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتكبير
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ذکر کے لیے آواز اس وقت بلند کی جاتی تھی جب لوگ فرض نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہی دستور تھا، ابن عباس کہتے ہیں: جب لوگ نماز سے پلٹتے تو مجھے اسی سے اس کا علم ہوتا اور میں اسے سنتا تھا۔
حدثنا يحيى بن موسى البلخي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرني ابن جريج، اخبرنا عمرو بن دينار، ان ابا معبد، مولى ابن عباس اخبره ان ابن عباس اخبره ان رفع الصوت للذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة كان ذلك على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وان ابن عباس قال كنت اعلم اذا انصرفوا بذلك واسمعه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام کو کھینچ کر لمبا نہ کرنا سنت ہے ۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے مجھے اس حدیث کو مرفوع کرنے سے منع کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابوعمیر عیسیٰ بن یونس فاخری رملی سے سنا ہے انہوں نے کہا ہے کہ جب فریابی مکہ مکرمہ سے واپس آئے تو انہوں نے اس حدیث کو مرفوع کہنا ترک کر دیا اور کہا: احمد بن حنبل نے انہیں اس حدیث کو مرفوع روایت کرنے سے منع کر دیا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثني محمد بن يوسف الفريابي، حدثنا الاوزاعي، عن قرة بن عبد الرحمن، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حذف السلام سنة " . قال عيسى نهاني ابن المبارك عن رفع هذا الحديث . قال ابو داود سمعت ابا عمير عيسى بن يونس الفاخوري الرملي قال لما رجع الفريابي من مكة ترك رفع هذا الحديث قال نهاه احمد بن حنبل عن رفعه
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن عاصم الاحول، عن عيسى بن حطان، عن مسلم بن سلام، عن علي بن طلق، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا فسا احدكم في الصلاة فلينصرف فليتوضا وليعد صلاته
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن عاصم الاحول، عن عيسى بن حطان، عن مسلم بن سلام، عن علي بن طلق، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا فسا احدكم في الصلاة فلينصرف فليتوضا وليعد صلاته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص عاجز ہے ۔ عبدالوارث کی روایت میں ہے: آگے بڑھ جانے سے یا پیچھے ہٹ جانے سے یا دائیں یا بائیں چلے جانے سے۔ حماد کی روایت میں «في الصلاة» کا اضافہ ہے یعنی نفل نماز پڑھنے کے لیے۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، وعبد الوارث، عن ليث، عن الحجاج بن عبيد، عن ابراهيم بن اسماعيل، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايعجز احدكم " . قال عن عبد الوارث " ان يتقدم او يتاخر او عن يمينه او عن شماله " . زاد في حديث حماد " في الصلاة " . يعني في السبحة
ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ کہ ہمیں ہمارے ایک امام نے جن کی کنیت ابورمثہ ہے نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے کہا: یہی نماز یا ایسی ہی نماز میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہے، وہ کہتے ہیں: اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اگلی صف میں آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوتے تھے، اور ایک اور شخص بھی تھا جو تکبیر اولیٰ میں موجود تھا، اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تو آپ نے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرا، یہاں تک کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گالوں کی سفیدی دیکھی، پھر آپ پلٹے ایسے ہی جیسے ابورمثہ یعنی وہ خود پلٹے، پھر وہ شخص جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر اولیٰ پائی تھی اٹھ کر دو رکعت پڑھنے لگا تو اٹھ کر عمر رضی اللہ عنہ تیزی کے ساتھ اس کی طرف بڑھے اور اس کا کندھا پکڑ کر زور سے جھنجوڑ کر کہا بیٹھ جاؤ، کیونکہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کو صرف اسی چیز نے ہلاک کیا ہے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھائی ( اور یہ صورت حال دیکھی ) تو فرمایا: خطاب کے بیٹے! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک اور درست بات کہنے کی توفیق دی ۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا اشعث بن شعبة، عن المنهال بن خليفة، عن الازرق بن قيس، قال صلى بنا امام لنا يكنى ابا رمثة فقال صليت هذه الصلاة - او مثل هذه الصلاة - مع النبي صلى الله عليه وسلم . قال وكان ابو بكر وعمر يقومان في الصف المقدم عن يمينه وكان رجل قد شهد التكبيرة الاولى من الصلاة فصلى نبي الله صلى الله عليه وسلم ثم سلم عن يمينه وعن يساره حتى راينا بياض خديه ثم انفتل كانفتال ابي رمثة - يعني نفسه - فقام الرجل الذي ادرك معه التكبيرة الاولى من الصلاة يشفع فوثب اليه عمر فاخذ بمنكبه فهزه ثم قال اجلس فانه لم يهلك اهل الكتاب الا انه لم يكن بين صلواتهم فصل . فرفع النبي صلى الله عليه وسلم بصره فقال " اصاب الله بك يا ابن الخطاب " . قال ابو داود وقد قيل ابو امية مكان ابي رمثة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی دونوں یعنی ظہر اور عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی مگر صرف دو رکعتیں پڑھا کر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر مسجد کے اگلے حصہ میں لگی ہوئی ایک لکڑی کے پاس اٹھ کر گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر لکڑی پر رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کا اثر ظاہر ہو رہا تھا، پھر جلد باز لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کر دی گئی ہے، نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن وہ دونوں آپ سے ( اس سلسلہ میں ) بات کرنے سے ڈرے، پھر ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہا کرتے تھے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں، نہ ہی نماز کم کی گئی ہے ، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، پھر آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ ، لوگوں نے اشارہ سے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر واپس آئے اور باقی دونوں رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، اس کے بعد «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر«الله أكبر» کہہ کر سجدے سے سر اٹھایا پھر «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا دوسرا سجدہ کیا پھر «الله أكبر» کہہ کر اٹھے۔ راوی کہتے ہیں: تو محمد سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے بعد پھر سلام پھیرا؟ انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ یاد نہیں، لیکن مجھے خبر ملی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: آپ نے پھر سلام پھیرا۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، عن ابي هريرة، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم احدى صلاتى العشي - الظهر او العصر قال - فصلى بنا ركعتين ثم سلم ثم قام الى خشبة في مقدم المسجد فوضع يديه عليها احداهما على الاخرى يعرف في وجهه الغضب ثم خرج سرعان الناس وهم يقولون قصرت الصلاة قصرت الصلاة وفي الناس ابو بكر وعمر فهاباه ان يكلماه فقام رجل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسميه ذا اليدين فقال يا رسول الله انسيت ام قصرت الصلاة قال " لم انس ولم تقصر الصلاة " . قال بل نسيت يا رسول الله . فاقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على القوم فقال " اصدق ذو اليدين " . فاوميوا اى نعم فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى مقامه فصلى الركعتين الباقيتين ثم سلم ثم كبر وسجد مثل سجوده او اطول ثم رفع وكبر ثم كبر وسجد مثل سجوده او اطول ثم رفع وكبر . قال فقيل لمحمد سلم في السهو فقال لم احفظه عن ابي هريرة ولكن نبيت ان عمران بن حصين قال ثم سلم
اس طریق سے بھی محمد بن سیرین سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اور حماد کی روایت زیادہ کامل ہے مالک نے «صلى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» کہا ہے «صلى بنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» نہیں کہا ہے اور نہ ہی انہوں نے «فأومئوا» کہا ہے ( جیسا کہ حماد نے کہا ہے بلکہ اس کی جگہ ) انہوں نے «فقال الناس نعم» کہا ہے، اور مالک نے «ثم رفع» کہا ہے، «وكبر» نہیں کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے، یعنی مالک نے «رفع وكبر» کہنے کے بجائے صرف «رفع» پر اکتفا کیا ہے اور مالک نے «ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع» کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے اور مالک کی حدیث یہاں پوری ہو گئی ہے اس کے بعد جو کچھ ہے مالک نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی لوگوں کے اشارے کا انہوں نے ذکر کیا ہے صرف حماد بن زید نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث جتنے لوگوں نے بھی روایت کی ہے کسی نے بھی لفظ «فكبر.» نہیں کہا ہے اور نہ ہی «رجع.» کا ذکر کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ايوب، عن محمد، باسناده - وحديث حماد اتم - قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يقل بنا . ولم يقل فاوميوا . قال فقال الناس نعم . قال ثم رفع - ولم يقل وكبر - ثم كبر وسجد مثل سجوده او اطول ثم رفع وتم حديثه لم يذكر ما بعده ولم يذكر فاوميوا . الا حماد بن زيد . قال ابو داود وكل من روى هذا الحديث لم يقل فكبر . ولا ذكر رجع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر راوی نے پورے طور سے حماد کی روایت کے ہم معنی روایت ان کے قول: «نبئت أن عمران بن حصين قال ثم سلم» تک ذکر کی۔ سلمہ بن علقمہ کہتے ہیں: میں نے ان سے ( یعنی محمد بن سیرین سے ) پوچھا کہ آپ نے تشہد پڑھا یا نہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے تشہد کے سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے لیکن میرے نزدیک تشہد پڑھنا بہتر ہے، لیکن اس روایت میں آپ انہیں ذوالیدین کہتے تھے کا ذکر نہیں ہے اور نہ لوگوں کے اشارہ کرنے کا اور نہ ہی ناراضگی کا ذکر ہے، حماد کی حدیث جو انہوں نے ایوب سے روایت کی ہے زیادہ کامل ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر، - يعني ابن المفضل - حدثنا سلمة، - يعني ابن علقمة - عن محمد، عن ابي هريرة، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بمعنى حماد كله الى اخر قوله نبيت ان عمران بن حصين قال ثم سلم . قال قلت فالتشهد قال لم اسمع في التشهد واحب الى ان يتشهد ولم يذكر كان يسميه ذا اليدين . ولا ذكر فاوميوا . ولا ذكر الغضب وحديث حماد عن ايوب اتم