Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالیدین کے قصہ میں روایت کی ہے کہ کہ آپ نے «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا، ہشام بن حسان کی روایت میں ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حبیب بن شہید، حمید، یونس اور عاصم احول نے بھی محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے بواسطہ ہشام کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا، پھر«الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا، حماد بن سلمہ اور ابوبکر بن عیاش نے بھی اس حدیث کو بواسطہ ہشام روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے بھی ان کے واسطہ سے اس کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا پھر «الله أكبر» کہا۔
حدثنا علي بن نصر بن علي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، وهشام، ويحيى بن عتيق، وابن، عون عن محمد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قصة ذي اليدين انه كبر وسجد . وقال هشام يعني ابن حسان كبر ثم كبر وسجد . قال ابو داود روى هذا الحديث ايضا حبيب بن الشهيد وحميد ويونس وعاصم الاحول عن محمد عن ابي هريرة لم يذكر احد منهم ما ذكر حماد بن زيد عن هشام انه كبر ثم كبر وسجد وروى حماد بن سلمة وابو بكر بن عياش هذا الحديث عن هشام لم يذكرا عنه هذا الذي ذكره حماد بن زيد انه كبر ثم كبر
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی واقعہ مروی ہے اس میں ہے: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اس کا کامل یقین دلا دیا ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا محمد بن كثير، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة وعبيد الله بن عبد الله عن ابي هريرة، بهذه القصة قال ولم يسجد سجدتى السهو حتى يقنه الله ذلك
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سجدوں کو جو شک کی وجہ سے کئے جاتے ہیں نہیں کیا یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو ان کی یاددہانی کرائی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: اس حدیث کی خبر مجھے سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطے سے دی ہے، نیز مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن، ابوبکر بن حارث بن ہشام اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بھی خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ابوکثیر اور عمران بن ابوانس نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اور علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور ان سبھوں نے اس واقعہ کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے لیکن اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ نے دو سجدے کئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زبیدی نے زہری سے، زہری نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے اور ابوبکر بن سلیمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے۔
حدثنا حجاج بن ابي يعقوب، حدثنا يعقوب، - يعني ابن ابراهيم - حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان ابا بكر بن سليمان بن ابي حثمة، اخبره انه، بلغه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بهذا الخبر قال ولم يسجد السجدتين اللتين تسجدان اذا شك حتى لقاه الناس . قال ابن شهاب واخبرني بهذا الخبر سعيد بن المسيب عن ابي هريرة . قال واخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن وابو بكر بن الحارث بن هشام وعبيد الله بن عبد الله . قال ابو داود رواه يحيى بن ابي كثير وعمران بن ابي انس عن ابي سلمة بن عبد الرحمن والعلاء بن عبد الرحمن عن ابيه جميعا عن ابي هريرة بهذه القصة ولم يذكر انه سجد السجدتين . قال ابو داود ورواه الزبيدي عن الزهري عن ابي بكر بن سليمان بن ابي حثمة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال فيه ولم يسجد سجدتى السهو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی تو دو ہی رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ نے نماز کم کر دی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں اور پڑھیں پھر ( سہو کے ) دو سجدے کئے۔
حدثنا عبد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، سمع ابا سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر فسلم في الركعتين فقيل له نقصت الصلاة فصلى ركعتين ثم سجد سجدتين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کی دو ہی رکعتیں پڑھ کر پلٹ گئے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں کی ہے ، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد والی دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے داود بن حصین نے ابوسفیان مولی بن ابی احمد سے، ابوسفیان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قصہ کے ساتھ روایت کیا ہے، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو سجدے کئے۔
حدثنا اسماعيل بن اسد، اخبرنا شبابة، حدثنا ابن ابي ذيب، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم انصرف من الركعتين من صلاة المكتوبة فقال له رجل اقصرت الصلاة يا رسول الله ام نسيت قال " كل ذلك لم افعل " . فقال الناس قد فعلت ذلك يا رسول الله . فركع ركعتين اخريين ثم انصرف ولم يسجد سجدتى السهو . قال ابو داود رواه داود بن الحصين عن ابي سفيان مولى ابن ابي احمد عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذه القصة قال ثم سجد سجدتين وهو جالس بعد التسليم
ضمضم بن جوس ہفانی کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے: پھر آپ نے سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کئے ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا عكرمة بن عمار، عن ضمضم بن جوس الهفاني، حدثني ابو هريرة، بهذا الخبر قال ثم سجد سجدتى السهو بعد ما سلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو دو ہی رکعت میں آپ نے سلام پھیر دیا، پھر انہوں نے محمد بن سیرین کی حدیث کی طرح جسے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ذکر کیا، اس میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت، حدثنا ابو اسامة، ح وحدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا ابو اسامة، اخبرني عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم في الركعتين . فذكر نحو حديث ابن سيرين عن ابي هريرة قال ثم سجد سجدتى السهو
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر اندر چلے گئے۔ مسدد نے مسلمہ سے نقل کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں چلے گئے تو ایک شخص جس کا نام خرباق تھا اور جس کے دونوں ہاتھ لمبے تھے اٹھ کر آپ کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کھینچتے ہوئے غصے کی حالت میں باہر نکلے اور لوگوں سے پوچھا: کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟ ، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دونوں سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، ح وحدثنا مسدد، حدثنا مسلمة بن محمد، قال حدثنا خالد الحذاء، حدثنا ابو قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، قال سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاث ركعات من العصر ثم دخل - قال عن مسلمة - الحجر فقام اليه رجل يقال له الخرباق كان طويل اليدين فقال له اقصرت الصلاة يا رسول الله فخرج مغضبا يجر رداءه فقال " اصدق " . قالوا نعم . فصلى تلك الركعة ثم سلم ثم سجد سجدتيها ثم سلم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھیں تو آپ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز بڑھا دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ ، تو لوگوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے اس کے بعد کہ آپ سلام پھیر چکے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، ومسلم بن ابراهيم، - المعنى - قال حفص حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر خمسا . فقيل له ازيد في الصلاة قال " وما ذاك " . قال صليت خمسا . فسجد سجدتين بعد ما سلم
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ( ابراہیم کی روایت میں ہے: تو میں نہیں جان سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں زیادتی کی یا کمی ) ، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا؟ ، لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیر موڑا اور قبلہ رخ ہوئے، پھر لوگوں کے ساتھ دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہوتی تو میں تم کو اس سے باخبر کرتا، لیکن انسان ہی تو ہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم لوگ بھول جاتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جایا کروں تو تم لوگ مجھے یاد دلا دیا کرو ، اور فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک پیدا ہو جائے تو سوچے کہ ٹھیک کیا ہے، پھر اسی حساب سے نماز پوری کرے، اس کے بعد سلام پھیرے پھر ( سہو کے ) دو سجدے کرے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، قال قال عبد الله صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال ابراهيم فلا ادري زاد ام نقص - فلما سلم قيل له يا رسول الله احدث في الصلاة شىء . قال " وما ذاك " . قالوا صليت كذا وكذا . فثنى رجله واستقبل القبلة فسجد بهم سجدتين ثم سلم فلما انفتل اقبل علينا بوجهه صلى الله عليه وسلم فقال " انه لو حدث في الصلاة شىء انباتكم به ولكن انما انا بشر انسى كما تنسون فاذا نسيت فذكروني " . وقال " اذا شك احدكم في صلاته فليتحر الصواب فليتم عليه ثم ليسلم ثم ليسجد سجدتين
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ( نماز میں ) بھول جائے تو دو سجدے کرے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور سہو کے دو سجدے کئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حصین نے اعمش کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، بهذا قال " فاذا نسي احدكم فليسجد سجدتين " . ثم تحول فسجد سجدتين . قال ابو داود رواه حصين نحو حديث الاعمش
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھائیں، پھر جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز زیادہ ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم لوگ بھولتے ہو ویسے میں بھی بھولتا ہوں ۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا جرير، ح وحدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جرير، - وهذا حديث يوسف - عن الحسن بن عبيد الله، عن ابراهيم بن سويد، عن علقمة، قال قال عبد الله صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم خمسا فلما انفتل توشوش القوم بينهم فقال " ما شانكم " . قالوا يا رسول الله هل زيد في الصلاة قال " لا " . قالوا فانك صليت خمسا . فانفتل فسجد سجدتين ثم سلم ثم قال " انما انا بشر انسى كما تنسون
معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی تو سلام پھیر دیا حالانکہ ایک رکعت نماز باقی رہ گئی تھی، ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: آپ نماز میں ایک رکعت بھول گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے، مسجد کے اندر آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، البتہ اگر میں دیکھوں ( تو پہچان لوں گا ) ، پھر وہی شخص میرے سامنے سے گزرا تو میں نے کہا: یہی وہ شخص تھا، لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، - يعني ابن سعد - عن يزيد بن ابي حبيب، ان سويد بن قيس، اخبره عن معاوية بن حديج، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى يوما فسلم وقد بقيت من الصلاة ركعة فادركه رجل فقال نسيت من الصلاة ركعة فرجع فدخل المسجد وامر بلالا فاقام الصلاة فصلى للناس ركعة فاخبرت بذلك الناس . فقالوا لي اتعرف الرجل قلت لا الا ان اراه فمر بي فقلت هذا هو . فقالوا هذا طلحة بن عبيد الله
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے ( کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ) تو شک دور کرے اور یقین کو بنیاد بنائے، پھر جب اسے نماز پوری ہو جانے کا یقین ہو جائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز ( درحقیقت ) پوری ہو چکی تھی تو یہ رکعت اور دونوں سجدے نفل ہو جائیں گے، اور اگر پوری نہیں ہوئی تھی تو اس رکعت سے پوری ہو جائے گی اور یہ دونوں سجدے شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والے ہوں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشام بن سعد اور محمد بن مطرف نے زید سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، اور ابوسعید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور ابوخالد کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو خالد، عن ابن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا شك احدكم في صلاته فليلق الشك وليبن على اليقين فاذا استيقن التمام سجد سجدتين فان كانت صلاته تامة كانت الركعة نافلة والسجدتان وان كانت ناقصة كانت الركعة تماما لصلاته وكانت السجدتان مرغمتى الشيطان " . قال ابو داود رواه هشام بن سعد ومحمد بن مطرف عن زيد عن عطاء بن يسار عن ابي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم وحديث ابي خالد اشبع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کا نام «مرغمتين» ( شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والی دو چیزیں ) رکھا۔
حدثنا محمد بن عبد العزيز بن ابي رزمة، اخبرنا الفضل بن موسى، عن عبد الله بن كيسان، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم سمى سجدتى السهو المرغمتين
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے، پھر اسے یاد نہ رہے کہ میں نے تین پڑھی ہے یا چار تو ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے، اب اگر جو رکعت اس نے پڑھی ہے وہ پانچویں تھی تو ان دونوں ( سجدوں ) کے ذریعہ اسے جفت کرے گا یعنی وہ چھ رکعتیں ہو جائیں گی اور اگر چوتھی تھی تو یہ دونوں سجدے شیطان کے لیے ذلت و خواری کا ذریعہ ہوں گے ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا شك احدكم في صلاته فلا يدري كم صلى ثلاثا او اربعا فليصل ركعة ويسجد سجدتين وهو جالس قبل التسليم فان كانت الركعة التي صلى خامسة شفعها بهاتين وان كانت رابعة فالسجدتان ترغيم للشيطان
اس طریق سے بھی زید بن اسلم سے مالک ہی کی سند سے مروی ہے، زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اگر اسے یقین ہو کہ میں نے تین ہی رکعت پڑھی ہے تو کھڑا ہو اور ایک رکعت اس کے سجدوں کے ساتھ پڑھ کر اسے پوری کرے پھر بیٹھے اور تشہد پڑھے، پھر جب ان سب کاموں سے فارغ ہو جائے اور صرف سلام پھیرنا باقی رہے تو سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے ۔ پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن وہب نے مالک، حفص بن میسرہ، داود بن قیس اور ہشام بن سعد سے روایت کیا ہے، مگر ہشام نے اسے ابو سعید خدری تک پہنچایا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن القاري، عن زيد بن اسلم، باسناد مالك قال ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا شك احدكم في صلاته فان استيقن ان قد صلى ثلاثا فليقم فليتم ركعة بسجودها ثم يجلس فيتشهد فاذا فرغ فلم يبق الا ان يسلم فليسجد سجدتين وهو جالس ثم ليسلم " . ثم ذكر معنى مالك . قال ابو داود كذلك رواه ابن وهب عن مالك وحفص بن ميسرة وداود بن قيس وهشام بن سعد الا ان هشاما بلغ به ابا سعيد الخدري
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ک آپ نے فرمایا: جب تم نماز میں رہو اور تمہیں تین یا چار میں شک ہو جائے اور تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ چار رکعت ہی پڑھی ہے تو تشہد پڑھو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرو، پھر تشہد پڑھو اور پھر سلام پھیر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالواحد نے خصیف سے روایت کیا ہے اور مرفوع نہیں کیا ہے۔ نیز سفیان، شریک اور اسرائیل نے عبدالواحد کی موافقت کی ہے اور ان لوگوں نے متن حدیث میں اختلاف کیا ہے اور اسے مسند نہیں کیا ہے ۱؎۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن خصيف، عن ابي عبيدة بن عبد الله، عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كنت في صلاة فشككت في ثلاث او اربع واكبر ظنك على اربع تشهدت ثم سجدت سجدتين وانت جالس قبل ان تسلم ثم تشهدت ايضا ثم تسلم " . قال ابو داود رواه عبد الواحد عن خصيف ولم يرفعه ووافق عبد الواحد ايضا سفيان وشريك واسراييل واختلفوا في الكلام في متن الحديث ولم يسندوه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ زیادہ پڑھی ہے یا کم تو بیٹھ کر دو سجدے کر لے ۱؎ پھر اگر اس کے پاس شیطان آئے اور اس سے کہے ( یعنی دل میں وسوسہ ڈالے ) کہ تو نے حدث کر لیا ہے تو اس سے کہے: تو جھوٹا ہے مگر یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو سونگھ لے یا اپنے کان سے آواز سن لے۲؎ ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا هشام الدستوايي، حدثنا يحيى بن ابي كثير، حدثنا عياض، ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا يحيى، عن هلال بن عياض، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا صلى احدكم فلم يدر زاد ام نقص فليسجد سجدتين وهو قاعد فاذا اتاه الشيطان فقال انك قد احدثت فليقل كذبت الا ما وجد ريحا بانفه او صوتا باذنه " . وهذا لفظ حديث ابان . قال ابو داود وقال معمر وعلي بن المبارك عياض بن هلال وقال الاوزاعي عياض بن ابي زهير
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہے میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن عیینہ، معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان احدكم اذا قام يصلي جاءه الشيطان فلبس عليه حتى لا يدري كم صلى فاذا وجد احدكم ذلك فليسجد سجدتين وهو جالس " . قال ابو داود وكذا رواه ابن عيينة ومعمر والليث