Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ سلام سے پہلے بیٹھے ( دو سجدے کرے ) ۔
حدثنا حجاج بن ابي يعقوب، حدثنا يعقوب، حدثنا ابن اخي الزهري، عن محمد بن مسلم، بهذا الحديث باسناده زاد " وهو جالس قبل التسليم
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ پھر وہ سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے۔
حدثنا حجاج، حدثنا يعقوب، اخبرنا ابي، عن ابن اسحاق، حدثني محمد بن مسلم الزهري، باسناده ومعناه قال " فليسجد سجدتين قبل ان يسلم ثم ليسلم
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا حجاج، عن ابن جريج، اخبرني عبد الله بن مسافع، ان مصعب بن شيبة، اخبره عن عتبة بن محمد بن الحارث، عن عبد الله بن جعفر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من شك في صلاته فليسجد سجدتين بعد ما يسلم
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہو گئے اور قعدہ ( تشھد ) نہیں کیا تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ نے اپنی نماز پوری کر لی اور ہم سلام پھیرنے کے انتظار میں رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے الله أكبر کہہ کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبد الله ابن بحينة، انه قال صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين ثم قام فلم يجلس فقام الناس معه فلما قضى صلاته وانتظرنا التسليم كبر فسجد سجدتين وهو جالس قبل التسليم ثم سلم صلى الله عليه وسلم
اس طریق سے بھی زہری سے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ہم میں سے بعض نے کھڑے کھڑے تشہد پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی جب وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے تھے، سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور یہی زہری کا بھی قول ہے۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا ابي وبقية، قالا حدثنا شعيب، عن الزهري، بمعنى اسناده وحديثه زاد وكان منا المتشهد في قيامه . قال ابو داود وكذلك سجدهما ابن الزبير قام من ثنتين قبل التسليم وهو قول الزهري
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہو جائے پھر اگر اس کو سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آ جائے تو بیٹھ جائے، اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میری کتاب میں جابر جعفی سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔
حدثنا الحسن بن عمرو، عن عبد الله بن الوليد، عن سفيان، عن جابر، - يعني الجعفي - قال حدثنا المغيرة بن شبيل الاحمسي، عن قيس بن ابي حازم، عن المغيرة بن شعبة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قام الامام في الركعتين فان ذكر قبل ان يستوي قايما فليجلس فان استوى قايما فلا يجلس ويسجد سجدتى السهو " . قال ابو داود وليس في كتابي عن جابر الجعفي الا هذا الحديث
زیاد بن علاقہ کہتے ہیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے، ہم نے سبحان الله کہا، انہوں نے بھی سبحان الله کہا اور ( واپس نہیں ہوئے ) نماز پڑھتے رہے، پھر جب انہوں نے اپنی نماز پوری کر لی اور سلام پھیر دیا تو سہو کے دو سجدے کئے، پھر جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے، جیسے میں نے کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے، شعبی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع قرار دیا ہے، نیز اسے ابو عمیس نے ثابت بن عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر راوی نے زیاد بن علاقہ کی حدیث کے مثل روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عمیس مسعودی کے بھائی ہیں اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ویسے ہی کیا جیسے مغیرہ، عمران بن حصین، ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے کیا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عمر بن عبدالعزیز نے اسی کا فتوی دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو دو رکعتیں پڑھ کر بغیر قعدہ اور تشہد کے اٹھ کھڑے ہوں، انہیں چاہیئے کہ سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کریں۔
حدثنا عبيد الله بن عمر الجشمي، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا المسعودي، عن زياد بن علاقة، قال صلى بنا المغيرة بن شعبة فنهض في الركعتين قلنا سبحان الله قال سبحان الله ومضى فلما اتم صلاته وسلم سجد سجدتى السهو فلما انصرف قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع كما صنعت . قال ابو داود وكذلك رواه ابن ابي ليلى عن الشعبي عن المغيرة بن شعبة ورفعه ورواه ابو عميس عن ثابت بن عبيد قال صلى بنا المغيرة بن شعبة مثل حديث زياد بن علاقة . قال ابو داود ابو عميس اخو المسعودي وفعل سعد بن ابي وقاص مثل ما فعل المغيرة وعمران بن حصين والضحاك بن قيس ومعاوية بن ابي سفيان وابن عباس افتى بذلك وعمر بن عبد العزيز . قال ابو داود هذا فيمن قام من ثنتين ثم سجدوا بعد ما سلموا
ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ہر سہو کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں ، عمرو کے سوا کسی نے بھی ( اس سند میں ) «عن أبيه» کا لفظ ذکر نہیں کیا۔
حدثنا عمرو بن عثمان، والربيع بن نافع، وعثمان بن ابي شيبة، وشجاع بن مخلد، - بمعنى الاسناد - ان ابن عياش، حدثهم عن عبيد الله بن عبيد الكلاعي، عن زهير، - يعني ابن سالم العنسي - عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، قال عمرو وحده عن ابيه، عن ثوبان، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لكل سهو سجدتان بعد ما يسلم " . لم يذكر عن ابيه . غير عمرو
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ بھول گئے تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا محمد بن عبد الله بن المثنى، حدثني اشعث، عن محمد بن سيرين، عن خالد، - يعني الحذاء - عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم فسها فسجد سجدتين ثم تشهد ثم سلم
ام المؤمنین ام سلمی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ( نماز سے ) سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔
حدثنا محمد بن يحيى، ومحمد بن رافع، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن هند بنت الحارث، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سلم مكث قليلا وكانوا يرون ان ذلك كيما ينفذ النساء قبل الرجال
ہلب طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز سے فارغ ہو کر ) اپنے دونوں جانب سے پلٹتے تھے ( کبھی دائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے ) ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، عن سماك بن حرب، عن قبيصة بن هلب، - رجل من طيي - عن ابيه، انه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم وكان ينصرف عن شقيه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کا کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ بنائے کہ وہ صرف دائیں طرف ہی سے پلٹے، حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اکثر بائیں طرف سے پلٹتے تھے، عمارہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں مدینہ آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کو ( بحالت نماز ) آپ کے بائیں جانب دیکھا ۱؎۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن سليمان، عن عمارة بن عمير، عن الاسود بن يزيد، عن عبد الله، قال لا يجعل احدكم نصيبا للشيطان من صلاته ان لا ينصرف الا عن يمينه وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اكثر ما ينصرف عن شماله . قال عمارة اتيت المدينة بعد فرايت منازل النبي صلى الله عليه وسلم عن يساره
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی بعض نمازیں اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، اخبرني نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجعلوا في بيوتكم من صلاتكم ولا تتخذوها قبورا
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز اس کے اپنے گھر میں اس کی میری اس مسجد میں نماز سے افضل ہے سوائے فرض نماز کے ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني سليمان بن بلال، عن ابراهيم بن ابي النضر، عن ابيه، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن ثابت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صلاة المرء في بيته افضل من صلاته في مسجدي هذا الا المكتوبة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، جب آیت کریمہ: «فول وجهك شطر المسجدالحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره» یعنی اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں ( سورۃ البقرہ: ۱۵۰ ) نازل ہوئی تو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص لوگوں کے پاس سے ہو کر گزرا اس حال میں کہ وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے تو اس نے انہیں دو بار آواز دی: لوگو! آگاہ ہو جاؤ، قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ہے ( یہ حکم سنتے ہی ) لوگ حالت رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، وحميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه كانوا يصلون نحو بيت المقدس فلما نزلت هذه الاية { فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره } فمر رجل من بني سلمة فناداهم وهم ركوع في صلاة الفجر نحو بيت المقدس الا ان القبلة قد حولت الى الكعبة مرتين فمالوا كما هم ركوع الى الكعبة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا لیے گئے، اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اور اسی دن قیامت برپا ہو گی، انس و جن کے علاوہ سبھی جاندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں، اس میں ایک ساعت ( گھڑی ) ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پا لے، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو ( ضرور ) دے گا ۔ کعب الاحبار نے کہا: یہ ساعت ( گھڑی ) ہر سال میں کسی ایک دن ہوتی ہے تو میں نے کہا: نہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا، اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا: وہ کون سی ساعت ہے؟ مجھے معلوم ہے، میں نے ان سے کہا: اسے مجھے بھی بتائیے تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ( گھڑی ) ہے، میں نے عرض کیا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ( گھڑی ) کیسے ہو سکتی ہے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو ، اور اس وقت میں نماز تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے، وہ حکماً نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے، انہوں نے کہا: تو اس سے مراد یہی ہے ۱؎۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق ادم وفيه اهبط وفيه تيب عليه وفيه مات وفيه تقوم الساعة وما من دابة الا وهي مسيخة يوم الجمعة من حين تصبح حتى تطلع الشمس شفقا من الساعة الا الجن والانس وفيه ساعة لا يصادفها عبد مسلم وهو يصلي يسال الله حاجة الا اعطاه اياها " . قال كعب ذلك في كل سنة يوم . فقلت بل في كل جمعة . قال فقرا كعب التوراة فقال صدق النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو هريرة ثم لقيت عبد الله بن سلام فحدثته بمجلسي مع كعب فقال عبد الله بن سلام قد علمت اية ساعة هي . قال ابو هريرة فقلت له فاخبرني بها . فقال عبد الله بن سلام هي اخر ساعة من يوم الجمعة . فقلت كيف هي اخر ساعة من يوم الجمعة وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يصادفها عبد مسلم وهو يصلي " . وتلك الساعة لا يصلى فيها . فقال عبد الله بن سلام الم يقل رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جلس مجلسا ينتظر الصلاة فهو في صلاة حتى يصلي " . قال فقلت بلى . قال هو ذاك
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سب سے بہتر دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن چیخ ہو گی ۱؎ اس لیے تم لوگ اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اوس بن اوس کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ ( مر کر ) بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر پیغمبروں کے بدن کو حرام کر دیا ہے ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا حسين بن علي، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن ابي الاشعث الصنعاني، عن اوس بن اوس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من افضل ايامكم يوم الجمعة فيه خلق ادم وفيه قبض وفيه النفخة وفيه الصعقة فاكثروا على من الصلاة فيه فان صلاتكم معروضة على " . قال قالوا يا رسول الله وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد ارمت يقولون بليت . فقال " ان الله عز وجل حرم على الارض اجساد الانبياء
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن بارہ ساعت ( گھڑی ) کا ہے، اس میں ایک ساعت ( گھڑی ) ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے، لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت ( گھڑی ) میں تلاش کرو ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو، - يعني ابن الحارث - ان الجلاح، مولى عبد العزيز حدثه ان ابا سلمة - يعني ابن عبد الرحمن - حدثه عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " يوم الجمعة ثنتا عشرة " . يريد ساعة " لا يوجد مسلم يسال الله عز وجل شييا الا اتاه الله عز وجل فالتمسوها اخر ساعة بعد العصر
ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے اپنے والد سے جمعہ کے معاملہ میں یعنی قبولیت دعا والی گھڑی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے کچھ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں نے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ وہ ( ساعت ) امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز کے ختم ہونے کے درمیان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی منبر پر ( بیٹھنے سے لے کر ) ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني مخرمة، - يعني ابن بكير - عن ابيه، عن ابي بردة بن ابي موسى الاشعري، قال قال لي عبد الله بن عمر اسمعت اباك يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في شان الجمعة يعني الساعة . قال قلت نعم سمعته يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " هي ما بين ان يجلس الامام الى ان تقضى الصلاة " . قال ابو داود يعني على المنبر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا فاحسن الوضوء ثم اتى الجمعة فاستمع وانصت غفر له ما بين الجمعة الى الجمعة وزيادة ثلاثة ايام ومن مس الحصى فقد لغا