Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
عطاء خراسانی اپنی بیوی ام عثمان کے غلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے کوفہ کے منبر پر علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیطان اپنے جھنڈے لے کر بازاروں میں جاتے ہیں اور لوگوں کو ضرورتوں و حاجتوں کی یاد دلا کر ان کو جمعہ میں آنے سے روکتے ہیں اور فرشتے صبح سویرے مسجد کے دروازے پر آ کر بیٹھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ کون پہلی ساعت ( گھڑی ) میں آیا، اور کون دوسری ساعت ( گھڑی ) میں آیا، یہاں تک کہ امام ( خطبہ جمعہ کے لیے ) نکلتا ہے، پھر جب آدمی ایسی جگہ بیٹھتا ہے، جہاں سے وہ خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے اور ( دوران خطبہ ) چپ رہتا ہے، کوئی لغو حرکت نہیں کرتا تو اس کو دوہرا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی شخص دور بیٹھتا ہے جہاں سے خطبہ سنائی نہیں دیتا، لیکن خاموش رہتا ہے اور کوئی بیہودہ بات نہیں کرتا تو ایسے شخص کو ثواب کا ایک حصہ ملتا ہے اور اگر کوئی ایسی جگہ بیٹھا، جہاں سے خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے لیکن ( دوران خطبہ ) بیہودہ باتیں کرتا رہا اور خاموش نہ رہا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ لاد دیا جاتا ہے اور جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے ( بغل کے ) ساتھی سے کہا: چپ رہو، تو اس نے لغو حرکت کی اور جس شخص نے لغو حرکت کی تو اسے اس جمعہ کا ثواب کچھ نہ ملے گا، پھر وہ اس روایت کے اخیر میں کہتے ہیں: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ولید بن مسلم نے ابن جابر سے روایت کیا ہے۔ اس میں بغیر شک کے «ربائث» ہے، نیز اس میں «مولى امرأته أم عثمان بن عطاء» ہے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عيسى، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، قال حدثني عطاء الخراساني، عن مولى، امراته ام عثمان قال سمعت عليا، - رضى الله عنه - على منبر الكوفة يقول " اذا كان يوم الجمعة غدت الشياطين براياتها الى الاسواق فيرمون الناس بالترابيث او الربايث ويثبطونهم عن الجمعة وتغدو الملايكة فيجلسون على ابواب المسجد فيكتبون الرجل من ساعة والرجل من ساعتين حتى يخرج الامام فاذا جلس الرجل مجلسا يستمكن فيه من الاستماع والنظر فانصت ولم يلغ كان له كفلان من اجر فان ناى وجلس حيث لا يسمع فانصت ولم يلغ كان له كفل من اجر وان جلس مجلسا يستمكن فيه من الاستماع والنظر فلغا ولم ينصت كان له كفل من وزر ومن قال يوم الجمعة لصاحبه صه . فقد لغا ومن لغا فليس له في جمعته تلك شىء " . ثم يقول في اخر ذلك سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ذلك . قال ابو داود رواه الوليد بن مسلم عن ابن جابر قال بالربايث وقال مولى امراته ام عثمان بن عطاء
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (انہیں شرف صحبت حاصل تھا) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سستی سے تین جمعہ چھوڑ دے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن محمد بن عمرو، قال حدثني عبيدة بن سفيان الحضرمي، عن ابي الجعد الضمري، - وكانت له صحبة - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ترك ثلاث جمع تهاونا بها طبع الله على قلبه
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کہ آپ نے فرمایا: جو شخص بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر اسے ایک دینار میسر نہ ہو تو نصف دینار کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن قیس نے اسی طرح روایت کیا ہے، اور سند میں ان کی مخالفت کی ہے اور متن میں موافقت۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا همام، حدثنا قتادة، عن قدامة بن وبرة العجيفي، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ترك الجمعة من غير عذر فليتصدق بدينار فان لم يجد فبنصف دينار " . قال ابو داود وهكذا رواه خالد بن قيس وخالفه في الاسناد ووافقه في المتن
قدامہ بن وبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز «عن سمرة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا محمد بن يزيد، واسحاق بن يوسف، عن ايوب ابي العلاء، عن قتادة، عن قدامة بن وبرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من فاتته الجمعة من غير عذر فليتصدق بدرهم او نصف درهم او صاع حنطة او نصف صاع " . قال ابو داود رواه سعيد بن بشير عن قتادة هكذا الا انه قال " مدا او نصف مد " . وقال عن سمرة . قال ابو داود سمعت احمد بن حنبل يسال عن اختلاف هذا الحديث فقال همام عندي احفظ من ايوب يعني ابا العلاء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ جمعہ کے لیے اپنے اپنے گھروں سے اور عوالی ۱؎ سے باربار آتے تھے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو، عن عبيد الله بن ابي جعفر، ان محمد بن جعفر، حدثه عن عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت كان الناس ينتابون الجمعة من منازلهم ومن العوالي
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ ہر اس شخص پر ہے جس نے جمعہ کی اذان سنی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ایک جماعت نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما پر موقوف کیا ہے اور صرف قبیصہ نے اسے مسند ( یعنی مرفوع روایت ) کیا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن محمد بن سعيد، - يعني الطايفي - عن ابي سلمة بن نبيه، عن عبد الله بن هارون، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الجمعة على كل من سمع النداء " . قال ابو داود روى هذا الحديث جماعة عن سفيان مقصورا على عبد الله بن عمرو لم يرفعوه وانما اسنده قبيصة
ابوملیح کے والد اسامہ بن عمیر ھزلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے روز بارش ہو رہی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ ( وہ اعلان کر دے کہ ) لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لیں۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا همام، عن قتادة، عن ابي المليح، عن ابيه، ان يوم، حنين كان يوم مطر فامر النبي صلى الله عليه وسلم مناديه ان الصلاة في الرحال
ابوملیح سے روایت ہے کہ یہ جمعہ کا دن تھا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن صاحب، له عن ابي مليح، ان ذلك، كان يوم جمعة
ابوملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر ہزلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صلح حدیبیہ کے موقع پر جمعہ کے روز حاضر ہوئے وہاں ایسی بارش ہوئی تھی کہ ان کے جوتوں کے تلے بھی نہیں بھیگے تھے تو آپ نے انہیں اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لینے کا حکم دیا۔
حدثنا نصر بن علي، قال سفيان بن حبيب خبرنا عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي المليح، عن ابيه، انه شهد النبي صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية في يوم جمعة واصابهم مطر لم تبتل اسفل نعالهم فامرهم ان يصلوا في رحالهم
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما وادی ضجنان میں ایک سرد رات میں اترے اور منادی کو حکم دیا اور اس نے آواز لگائی: لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، ایوب کہتے ہیں: اور ہم سے نافع نے عبداللہ بن عمر کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی یا بارش کی رات ہوتی تو منادی کو حکم دیتے تو وہ «الصلاة في الرحال» لوگو! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو کا اعلان کرتا۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ايوب، عن نافع، ان ابن عمر، نزل بضجنان في ليلة باردة فامر المنادي فنادى ان الصلاة في الرحال . قال ايوب وحدثنا نافع عن ابن عمر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا كانت ليلة باردة او مطيرة امر المنادي فنادى الصلاة في الرحال
نافع کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وادی ضجنان میں نماز کے لیے اذان دی، پھر اعلان کیا کہ لوگو! تم لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، اس میں ہے کہ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کی کہ آپ سفر میں سردی یا بارش کی رات میں منادی کو حکم فرماتے تو وہ نماز کے لیے اذان دیتا پھر وہ اعلان کرتا کہ لوگو! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ نے ایوب اور عبیداللہ سے روایت کیا ہے اس میں «في الليلة الباردة وفي الليلة المطيرة في السفر» کے بجائے «في السفر في الليلة القرة أو المطيرة» کے الفاظ ہیں۔
حدثنا مومل بن هشام، حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن نافع، قال نادى ابن عمر بالصلاة بضجنان ثم نادى ان صلوا في رحالكم قال فيه ثم حدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كان يامر المنادي فينادي بالصلاة ثم ينادي " ان صلوا في رحالكم " . في الليلة الباردة وفي الليلة المطيرة في السفر . قال ابو داود ورواه حماد بن سلمة عن ايوب وعبيد الله قال فيه في السفر في الليلة القرة او المطيرة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے مقام ضجنان میں سرد اور آندھی والی ایک رات میں اذان دی تو اپنی اذان کے آخر میں کہا: لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے اندر سردی یا بارش کی رات میں مؤذن کو حکم فرماتے تھے کہ اعلان کر دو: لوگو! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، انه نادى بالصلاة بضجنان في ليلة ذات برد وريح فقال في اخر ندايه الا صلوا في رحالكم الا صلوا في الرحال ثم قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يامر الموذن اذا كانت ليلة باردة او ذات مطر في سفر يقول الا صلوا في رحالكم
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سرد اور آندھی والی ایک رات میں نماز کے لیے اذان دی تو کہا: لوگو! ڈیروں میں نماز پڑھ لو، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سردی یا بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیتے: لوگو! ڈیروں میں نماز پڑھ لو ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، ان ابن عمر، - يعني اذن بالصلاة في ليلة ذات برد وريح - فقال الا صلوا في الرحال ثم قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يامر الموذن اذا كانت ليلة باردة او ذات مطر يقول الا صلوا في الرحال
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے مدینہ کے اندر بارش کی رات یا سردی کی صبح میں ایسی ہی ندا کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری نے قاسم سے، قاسم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں «في السفر» کے الفاظ بھی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن نافع، عن ابن عمر، قال نادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك في المدينة في الليلة المطيرة والغداة القرة . قال ابو داود وروى هذا الخبر يحيى بن سعيد الانصاري عن القاسم عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال فيه في السفر
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو چاہے وہ اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا زهير، عن ابي الزبير، عن جابر، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فمطرنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليصل من شاء منكم في رحله
محمد بن سیرین کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہا: جب تم«أشهد أن محمدا رسول الله» کہنا تو اس کے بعد «حي على الصلاة» نہ کہنا بلکہ اس کی جگہ «صلوا في بيوتكم» لوگو! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو کہنا، لوگوں نے اسے برا جانا تو انہوں نے کہا: ایسا اس ذات نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھی ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ، بیشک جمعہ واجب ہے، لیکن مجھے یہ بات گوارہ نہ ہوئی کہ میں تم کو کیچڑ اور پانی میں ( جمعہ کے لیے ) آنے کی زحمت دوں۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، اخبرني عبد الحميد، صاحب الزيادي حدثنا عبد الله بن الحارث ابن عم، محمد بن سيرين ان ابن عباس، قال لموذنه في يوم مطير اذا قلت اشهد ان محمدا رسول الله . فلا تقل حى على الصلاة . قل صلوا في بيوتكم . فكان الناس استنكروا ذلك فقال قد فعل ذا من هو خير مني ان الجمعة عزمة واني كرهت ان احرجكم فتمشون في الطين والمطر
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے چار لوگوں: غلام، عورت، نابالغ بچہ، اور بیمار کے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: طارق بن شہاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے مگر انہوں نے آپ سے کچھ سنا نہیں ہے۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، حدثني اسحاق بن منصور، حدثنا هريم، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الجمعة حق واجب على كل مسلم في جماعة الا اربعة عبد مملوك او امراة او صبي او مريض " . قال ابو داود طارق بن شهاب قد راى النبي صلى الله عليه وسلم ولم يسمع منه شييا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں اسلام میں مسجد نبوی میں جمعہ قائم کئے جانے کے بعد پہلا جمعہ قریہ جواثاء میں قائم کیا گیا، جو علاقہ بحرین ۱؎ کا ایک گاؤں ہے، عثمان کہتے ہیں: وہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک گاؤں ہے ۲؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ومحمد بن عبد الله المخرمي، - لفظه - قالا حدثنا وكيع، عن ابراهيم بن طهمان، عن ابي جمرة، عن ابن عباس، قال ان اول جمعة جمعت في الاسلام بعد جمعة جمعت في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة لجمعة جمعت بجواثاء قرية من قرى البحرين . قال عثمان قرية من قرى عبد القيس
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی بصارت چلی جانے کے بعد وہ ان کے راہبر تھے، وہ کہتے ہیں کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے، عبدالرحمٰن بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں ان کے لیے رحمت کی دعا اس لیے کرتا ہوں کہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع ( بستی، گاؤں ) ھزم النبیت ۱؎ میں جمعہ کی نماز پڑھائی، میں نے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ کہا: ہم چالیس تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابن ادريس، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابي امامة بن سهل، عن ابيه، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، - وكان قايد ابيه بعد ما ذهب بصره عن ابيه، كعب بن مالك انه كان اذا سمع النداء، يوم الجمعة ترحم لاسعد بن زرارة . فقلت له اذا سمعت النداء، ترحمت لاسعد بن زرارة قال لانه اول من جمع بنا في هزم النبيت من حرة بني بياضة في نقيع يقال له نقيع الخضمات . قلت كم انتم يوميذ قال اربعون
ایاس بن ابی رملۃ شامی کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اور وہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو عیدوں میں جو ایک ہی دن آ پڑی ہوں حاضر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، معاویہ نے پوچھا: پھر آپ نے کس طرح کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی، پھر جمعہ کی رخصت دی اور فرمایا: جو جمعہ کی نماز پڑھنی چاہے پڑھے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا اسراييل، حدثنا عثمان بن المغيرة، عن اياس بن ابي رملة الشامي، قال شهدت معاوية بن ابي سفيان وهو يسال زيد بن ارقم قال اشهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عيدين اجتمعا في يوم قال نعم . قال فكيف صنع قال صلى العيد ثم رخص في الجمعة فقال " من شاء ان يصلي فليصل