Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
عطاء بن ابورباح کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں جمعہ کے دن صبح سویرے عید کی نماز پڑھائی، پھر جب ہم نماز جمعہ کے لیے چلے تو وہ ہماری طرف نکلے ہی نہیں، بالآخر ہم نے تنہا تنہا نماز پڑھی ۱؎ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس وقت طائف میں تھے، جب وہ آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا: انہوں ( ابن زبیر رضی اللہ عنہ ) نے سنت پر عمل کیا ہے۔
حدثنا محمد بن طريف البجلي، حدثنا اسباط، عن الاعمش، عن عطاء بن ابي رباح، قال صلى بنا ابن الزبير في يوم عيد في يوم جمعة اول النهار ثم رحنا الى الجمعة فلم يخرج الينا فصلينا وحدانا وكان ابن عباس بالطايف فلما قدم ذكرنا ذلك له فقال اصاب السنة
عطاء کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ اور عید دونوں ایک ہی دن اکٹھا ہو گئے تو آپ نے کہا: ایک ہی دن میں دونوں عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں، پھر آپ نے دونوں کو ملا کر صبح کے وقت صرف دو رکعت پڑھ لی، اس سے زیادہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ عصر پڑھی ۱؎۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، قال قال عطاء اجتمع يوم جمعة ويوم فطر على عهد ابن الزبير فقال عيدان اجتمعا في يوم واحد فجمعهما جميعا فصلاهما ركعتين بكرة لم يزد عليهما حتى صلى العصر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں، لہٰذا رخصت ہے، جو چاہے عید اسے جمعہ سے کافی ہو گی اور ہم تو جمعہ پڑھیں گے ۔
حدثنا محمد بن المصفى، وعمر بن حفص الوصابي، - المعنى - قالا حدثنا بقية، حدثنا شعبة، عن المغيرة الضبي، عن عبد العزيز بن رفيع، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " قد اجتمع في يومكم هذا عيدان فمن شاء اجزاه من الجمعة وانا مجمعون " . قال عمر عن شعبة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر میں سورۃ السجدة اور «هل أتى على الإنسان حين من الدهر» پڑھتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن مخول بن راشد، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في صلاة الفجر يوم الجمعة تنزيل السجدة و { هل اتى على الانسان حين من الدهر}
اس طریق سے بھی مخول سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سورۃ الجمعہ اور «إذا جاءك المنافقون» پڑھتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن مخول، باسناده ومعناه وزاد في صلاة الجمعة بسورة الجمعة و { اذا جاءك المنافقون}
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا بکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش! آپ اس کو خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جس دن آپ کے پاس باہر کے وفود آئیں، اسے پہنا کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تو صرف وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کچھ جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تو عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے یہ کپڑا مجھے پہننے کو دیا ہے؟ حالانکہ عطارد کے جوڑے کے سلسلہ میں آپ ایسا ایسا کہہ چکے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ جوڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو ، چنانچہ عمر نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں رہتا تھا پہننے کے لیے دے دیا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان عمر بن الخطاب، راى حلة سيراء - يعني تباع عند باب المسجد - فقال يا رسول الله لو اشتريت هذه فلبستها يوم الجمعة وللوفد اذا قدموا عليك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما يلبس هذه من لا خلاق له في الاخرة " . ثم جاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم منها حلل فاعطى عمر بن الخطاب منها حلة فقال عمر كسوتنيها يا رسول الله وقد قلت في حلة عطارد ما قلت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لم اكسكها لتلبسها " . فكساها عمر اخا له مشركا بمكة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں ایک موٹے ریشم کا جوڑا بکتا ہوا پایا تو اسے لے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: آپ اسے خرید لیجئیے اور عید میں یا وفود سے ملتے وقت آپ اسے پہنا کیجئے۔ پھر راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی اور پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، وعمرو بن الحارث، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، قال وجد عمر بن الخطاب حلة استبرق تباع بالسوق فاخذها فاتى بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ابتع هذه تجمل بها للعيد وللوفد . ثم ساق الحديث والاول اتم
محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میسر ہو سکے تو تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے جمعہ کے لیے بنا رکھے ۱؎ ۔ عمرو کہتے ہیں: مجھے ابن ابوحبیب نے خبر دی ہے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے ابن حبان سے، ابن حبان نے ابن سلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے منبر پر فرماتے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہب بن جریر نے اپنے والد سے، انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے، یحییٰ نے یزید بن ابوحبیب سے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، وعمرو، ان يحيى بن سعيد الانصاري، حدثه ان محمد بن يحيى بن حبان حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما على احدكم ان وجد " . او " ما على احدكم ان وجدتم ان يتخذ ثوبين ليوم الجمعة سوى ثوبى مهنته " . قال عمرو واخبرني ابن ابي حبيب عن موسى بن سعد عن ابن حبان عن ابن سلام انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ذلك على المنبر . قال ابو داود ورواه وهب بن جرير عن ابيه عن يحيى بن ايوب عن يزيد بن ابي حبيب عن موسى بن سعد عن يوسف بن عبد الله بن سلام عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کوئی گمشدہ چیز تلاش کرنے، شعر پڑھنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الشراء والبيع في المسجد وان تنشد فيه ضالة وان ينشد فيه شعر ونهى عن التحلق قبل الصلاة يوم الجمعة
ابوحازم بن دینار بیان کرتے ہیں کہ کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ لوگ منبر کے سلسلے میں جھگڑ رہے تھے کہ کس لکڑی کا تھا؟ تو انہوں نے سہل بن سعد سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: قسم اللہ کی! میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا تھا اور میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا جب وہ رکھا گیا اور جب اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے پاس- جس کا سہل نے نام لیا- یہ پیغام بھیجا کہ تم اپنے نوجوان بڑھئی کو حکم دو کہ وہ میرے لیے چند لکڑیاں ایسی بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں کو خطبہ دیا کروں، تو اس عورت نے اسے منبر کے بنانے کا حکم دیا، اس بڑھئی نے غابہ کے جھاؤ سے منبر بنایا پھر اسے لے کر وہ عورت کے پاس آیا تو اس عورت نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( ایک جگہ ) رکھنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ منبر اسی جگہ رکھا گیا، پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور تکبیر کہی پھر اسی پر رکوع بھی کیا، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا، پھر منبر پر واپس چلے گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو اور میری نماز کو جان سکو۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن بن محمد بن عبد الله بن عبد القاري القرشي، حدثني ابو حازم بن دينار، ان رجالا، اتوا سهل بن سعد الساعدي وقد امتروا في المنبر مم عوده فسالوه عن ذلك فقال والله اني لاعرف مما هو ولقد رايته اول يوم وضع واول يوم جلس عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم الى فلانة امراة قد سماها سهل " ان مري غلامك النجار ان يعمل لي اعوادا اجلس عليهن اذا كلمت الناس " . فامرته فعملها من طرفاء الغابة ثم جاء بها فارسلته الى النبي صلى الله عليه وسلم فامر بها فوضعت ها هنا فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى عليها وكبر عليها ثم ركع وهو عليها ثم نزل القهقرى فسجد في اصل المنبر ثم عاد فلما فرغ اقبل على الناس فقال " ايها الناس انما صنعت هذا لتاتموا بي ولتعلموا صلاتي
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم ( بڑھاپے کی وجہ سے ) جب بھاری ہو گیا تو تمیم داری رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے ایک منبر نہ تیار کر دوں جو آپ کی ہڈیوں کو مجتمع رکھے یا اٹھائے رکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کیوں نہیں! ، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو زینوں والا ایک منبر بنا دیا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو عاصم، عن ابن ابي رواد، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم لما بدن قال له تميم الداري الا اتخذ لك منبرا يا رسول الله يجمع - او يحمل - عظامك قال " بلى " . فاتخذ له منبرا مرقاتين
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور ( قبلہ والی ) دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ تھی۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا ابو عاصم، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع، قال كان بين منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين الحايط كقدر ممر الشاة
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کو ناپسند کیا ہے سوائے جمعہ کے دن کے اور آپ نے فرمایا: جہنم سوائے جمعہ کے دن کے ہر روز بھڑکائی جاتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل ( منقطع ) ہے، مجاہد عمر میں ابوالخلیل سے بڑے ہیں اور ابوالخلیل کا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا حسان بن ابراهيم، عن ليث، عن مجاهد، عن ابي الخليل، عن ابي قتادة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كره الصلاة نصف النهار الا يوم الجمعة وقال " ان جهنم تسجر الا يوم الجمعة " . قال ابو داود هو مرسل مجاهد اكبر من ابي الخليل وابو الخليل لم يسمع من ابي قتادة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا زيد بن الحباب، حدثني فليح بن سليمان، حدثني عثمان بن عبد الرحمن التيمي، سمعت انس بن مالك، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الجمعة اذا مالت الشمس
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے پھر نماز سے فارغ ہو کر واپس آتے تھے اور دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا يعلى بن الحارث، سمعت اياس بن سلمة بن الاكوع، يحدث عن ابيه، قال كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الجمعة ثم ننصرف وليس للحيطان فىء
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال كنا نقيل ونتغدى بعد الجمعة
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت ہوئی، اور لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو جمعہ کے دن انہوں نے تیسری اذان کا حکم دیا، چنانچہ زوراء ۱؎ پر اذان دی گئی پھر معاملہ اسی پر قائم رہا ۲؎۔
حدثنا محمد بن سلمة المرادي، حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، اخبرني السايب بن يزيد، ان الاذان، كان اوله حين يجلس الامام على المنبر يوم الجمعة في عهد النبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر - رضى الله عنهما - فلما كان خلافة عثمان وكثر الناس امر عثمان يوم الجمعة بالاذان الثالث فاذن به على الزوراء فثبت الامر على ذلك
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جمعہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن الزهري، عن السايب بن يزيد، قال كان يوذن بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد وابي بكر وعمر . ثم ساق نحو حديث يونس
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوائے ایک مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کے کوئی اور مؤذن نہیں تھا ۱؎۔ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبدة، عن محمد، - يعني ابن اسحاق - عن الزهري، عن السايب، قال لم يكن لرسول الله صلى الله عليه وسلم الا موذن واحد بلال ثم ذكر معناه
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مؤذن کے علاوہ اور کوئی مؤذن نہیں تھا۔ اور راوی نے یہی حدیث بیان کی لیکن پوری نہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان السايب بن يزيد ابن اخت، نمر اخبره قال ولم يكن لرسول الله صلى الله عليه وسلم غير موذن واحد . وساق هذا الحديث وليس بتمامه