Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب منبر پر اچھی طرح سے بیٹھ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ( جو اس وقت مسجد کے دروازے پر تھے ) اسے سنا تو وہ مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے، تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: عبداللہ بن مسعود! تم آ جاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسلاً معروف ہے کیونکہ اسے لوگوں نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور مخلد شیخ ہیں، ( یعنی مراتب تعدیل کے پانچویں درجہ پر ہیں جن کی روایتیں حسن سے نیچے ہی ہوتی ہیں، الا یہ کہ ان کا کوئی متابع موافق ہو)
حدثنا يعقوب بن كعب الانطاكي، حدثنا مخلد بن يزيد، حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن جابر، قال لما استوى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة قال " اجلسوا " . فسمع ذلك ابن مسعود فجلس على باب المسجد فراه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " تعال يا عبد الله بن مسعود " . قال ابو داود هذا يعرف مرسلا انما رواه الناس عن عطاء عن النبي صلى الله عليه وسلم ومخلد هو شيخ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جمعہ کے دن ) دو خطبہ دیتے تھے وہ اس طرح کہ آپ منبر پر چڑھنے کے بعد بیٹھتے تھے یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، پھر ( تھوڑی دیر ) خاموش بیٹھتے پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا عبد الوهاب، - يعني ابن عطاء - عن العمري، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب خطبتين كان يجلس اذا صعد المنبر حتى يفرغ - اراه قال الموذن - ثم يقوم فيخطب ثم يجلس فلا يتكلم ثم يقوم فيخطب
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جمعہ کے دن ) کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر ( تھوڑی دیر ) بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں ۱؎۔
حدثنا النفيلي عبد الله بن محمد، حدثنا زهير، عن سماك، عن جابر بن سمرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخطب قايما ثم يجلس ثم يقوم فيخطب قايما فمن حدثك انه كان يخطب جالسا فقد كذب فقال فقد والله صليت معه اكثر من الفى صلاة
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ( جمعہ کے دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے، ان دونوں خطبوں کے درمیان آپ ( تھوڑی دیر ) بیٹھتے تھے، ( خطبہ میں ) آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، وعثمان بن ابي شيبة، - المعنى - عن ابي الاحوص، حدثنا سماك، عن جابر بن سمرة، قال كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم خطبتان كان يجلس بينهما يقرا القران ويذكر الناس
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا ابو عوانة، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب قايما ثم يقعد قعدة لا يتكلم . وساق الحديث
شہاب بن خراش کہتے ہیں کہ شعیب بن زریق طائفی نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ میں ایک شخص کے پاس ( جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا، اور جسے حکم بن حزن کلفی کہا جاتا تھا ) بیٹھا تو وہ ہم سے بیان کرنے لگا کہ میں ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں اس وفد کا ساتواں یا نواں آدمی تھا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کی زیارت کی ہے تو آپ ہمارے لیے خیر و بہتری کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کھجوریں ہم کو دینے کا حکم دیا اور حالت اس وقت ناگفتہ بہ تھی، پھر ہم وہاں کچھ روز ٹھہرے رہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ میں بھی حاضر رہے، آپ ایک عصا یا کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے چند ہلکے، پاکیزہ اور مبارک کلمات کے ذریعہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: لوگو! تم سارے احکام کو جن کا تمہیں حکم دیا جائے بجا لانے کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے یا تم نہیں بجا لا سکتے، لیکن درستی پر قائم رہو اور خوش ہو جاؤ ۔ ابوعلی کہتے ہیں کہ میں نے ابوداؤد کو کہتے ہوئے سنا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے کچھ کلمات مجھے ایسے لکھوائے جو کاغذ سے کٹ گئے تھے۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا شهاب بن خراش، حدثني شعيب بن رزيق الطايفي، قال جلست الى رجل له صحبة من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقال له الحكم بن حزن الكلفي فانشا يحدثنا قال وفدت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم سابع سبعة او تاسع تسعة فدخلنا عليه فقلنا يا رسول الله زرناك فادع الله لنا بخير فامر بنا او امر لنا بشىء من التمر والشان اذ ذاك دون فاقمنا بها اياما شهدنا فيها الجمعة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام متوكيا على عصا او قوس فحمد الله واثنى عليه كلمات خفيفات طيبات مباركات ثم قال " ايها الناس انكم لن تطيقوا او لن تفعلوا كل ما امرتم به ولكن سددوا وابشروا " . قال ابو علي سمعت ابا داود قال ثبتني في شىء منه بعض اصحابنا وقد كان انقطع من القرطاس
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو کہتے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة، من يطع الله ورسوله فقد رشد، ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا» ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اسی سے مدد ما نگتے ہیں اور اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں برحق رسول بنا کر قیامت آنے سے پہلے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ سیدھی راہ پر ہے، اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، حدثنا عمران، عن قتادة، عن عبد ربه، عن ابي عياض، عن ابن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا تشهد قال " الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور انفسنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له واشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله ارسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدى الساعة من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فانه لا يضر الا نفسه ولا يضر الله شييا
یونس سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب ( زہری ) سے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا اضافہ کیا: «ومن يعصهما فقد غوى . ونسأل الله ربنا أن يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه فإنما نحن به وله» جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہو گیا، ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا رب ہے یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی ڈھونڈھنے والوں اور اس کے غصے سے پرہیز کرنے والوں میں سے بنا لے کیونکہ ہم اسی کی وجہ سے ہیں اور اسی کے لیے ہیں ۔
حدثنا محمد بن سلمة المرادي، اخبرنا ابن وهب، عن يونس، انه سال ابن شهاب عن تشهد، رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة فذكر نحوه قال " ومن يعصهما فقد غوى " . ونسال الله ربنا ان يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه فانما نحن به وله
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک خطیب نے خطبہ دیا اور یوں کہا: «من يطع الله ورسوله ومن يعصهما» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہاں سے اٹھ جاؤ یا چلے جاؤ تم برے خطیب ہو ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان بن سعيد، حدثني عبد العزيز بن رفيع، عن تميم الطايي، عن عدي بن حاتم، ان خطيبا، خطب عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال من يطع الله ورسوله ومن يعصهما فقال " قم - او اذهب - بيس الخطيب انت
(ام ہشام) بنت حارث (حارثہ بن نعمان) بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے سورۃ ق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ( مبارک ) سے سنتے ہی سنتے یاد کی ہے، آپ اسے ہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارا ایک ہی چولہا تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن خبيب، عن عبد الله بن محمد بن معن، عن بنت الحارث بن النعمان، قالت ما حفظت ق الا من في رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخطب بها كل جمعة قالت وكان تنور رسول الله صلى الله عليه وسلم وتنورنا واحدا قال ابو داود قال روح بن عبادة عن شعبة قال بنت حارثة بن النعمان وقال ابن اسحاق ام هشام بنت حارثة بن النعمان
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانی ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی چند آیتیں پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني سماك، عن جابر بن سمرة، قال كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قصدا وخطبته قصدا يقرا ايات من القران ويذكر الناس
عبدالرحمٰن کی بہن عمرۃ بنت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا وہ کہتی ہیں کہ میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن سن کر یاد کیا آپ ہر جمعہ میں اسے پڑھا کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب، اور ابن ابی الرجال نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے عمرہ سے، عمرہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان عنہا سے روایت کیا ہے۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا مروان، حدثنا سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن اختها، قالت ما اخذت ق الا من في رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقروها في كل جمعة . قال ابو داود كذا رواه يحيى بن ايوب وابن ابي الرجال عن يحيى بن سعيد عن عمرة عن ام هشام بنت حارثة بن النعمان
عمرہ بنت عبدالرحمٰن اپنی بہن ام ہشام رضی اللہ عنہا سے جو عمر میں ان سے بڑی تھیں، اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يحيى بن ايوب، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن اخت، لعمرة بنت عبد الرحمن كانت اكبر منها بمعناه
حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن ( منبر پر دونوں ہاتھ اٹھا کر ) دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو عمارہ نے کہا: اللہ ان دونوں ہاتھوں کو برباد کرے۔ زائدہ کہتے ہیں کہ حصین نے کہا: مجھ سے عمارہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا ہے، آپ اس سے ( یعنی شہادت کی انگلی کے ذریعہ اشارہ کرنے سے ( جو انگوٹھے کے قریب ہوتی ہے ) زیادہ کچھ نہ کرتے تھے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زايدة، عن حصين بن عبد الرحمن، قال راى عمارة بن رويبة بشر بن مروان وهو يدعو في يوم جمعة فقال عمارة قبح الله هاتين اليدين . قال زايدة قال حصين حدثني عمارة قال لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر ما يزيد على هذه يعني السبابة التي تلي الابهام
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے منبر پر دعا مانگتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ غیر منبر پر، بلکہ میں نے آپ کو اس طرح کرتے دیکھا اور انہوں نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا اور بیچ کی انگلی کا انگوٹھے سے حلقہ بنایا۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر، - يعني ابن المفضل - حدثنا عبد الرحمن، - يعني ابن اسحاق - عن عبد الرحمن بن معاوية، عن ابن ابي ذباب، عن سهل بن سعد، قال ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم شاهرا يديه قط يدعو على منبره ولا على غيره ولكن رايته يقول هكذا واشار بالسبابة وعقد الوسطى بالابهام
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبوں میں اختصار کرنے کا حکم دیا ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي، حدثنا العلاء بن صالح، عن عدي بن ثابت، عن ابي راشد، عن عمار بن ياسر، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم باقصار الخطب
جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبے کو طول نہیں دیتے تھے، وہ بس چند ہی کلمات ہوتے تھے
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الوليد، اخبرني شيبان ابو معاوية، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة السوايي، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يطيل الموعظة يوم الجمعة انما هن كلمات يسيرات
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خطبہ میں حاضر رہا کرو اور امام سے قریب رہو کیونکہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں بھی پیچھے کر دیا جاتا ہے گرچہ وہ اس میں داخل ہوتا ہے ۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا معاذ بن هشام، قال وجدت في كتاب ابي بخط يده ولم اسمعه منه قال قتادة عن يحيى بن مالك عن سمرة بن جندب ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " احضروا الذكر وادنوا من الامام فان الرجل لا يزال يتباعد حتى يوخر في الجنة وان دخلها
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اتر پڑے، انہیں اٹھا لیا اور لے کر منبر پر چڑھ گئے پھر فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ( التغابن: ۱۵ ) تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا ، پھر آپ نے دوبارہ خطبہ دینا شروع کر دیا۔
حدثنا محمد بن العلاء، ان زيد بن حباب، حدثهم حدثنا حسين بن واقد، حدثني عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقبل الحسن والحسين - رضى الله عنهما - عليهما قميصان احمران يعثران ويقومان فنزل فاخذهما فصعد بهما المنبر ثم قال " صدق الله { انما اموالكم واولادكم فتنة } رايت هذين فلم اصبر " . ثم اخذ في الخطبة
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ ۱؎ ( گوٹ مار کر بیٹھنے سے ) منع فرمایا ہے ۲؎۔
حدثنا محمد بن عوف، حدثنا المقري، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، عن ابي مرحوم، عن سهل بن معاذ بن انس، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الحبوة يوم الجمعة والامام يخطب