Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ مسجد میں زیادہ تر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور میں نے انہیں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھتے تھے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ، شریح، صعصہ بن صوحان، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میری معلومات کی حد تک عبادہ بن نسی کے علاوہ کسی اور نے اس کو مکروہ نہیں کہا ہے۔
حدثنا داود بن رشيد، حدثنا خالد بن حيان الرقي، حدثنا سليمان بن عبد الله بن الزبرقان، عن يعلى بن شداد بن اوس، قال شهدت مع معاوية بيت المقدس فجمع بنا فنظرت فاذا جل من في المسجد اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فرايتهم محتبين والامام يخطب . قال ابو داود كان ابن عمر يحتبي والامام يخطب وانس بن مالك وشريح وصعصعة بن صوحان وسعيد بن المسيب وابراهيم النخعي ومكحول واسماعيل بن محمد بن سعد ونعيم بن سلامة قال لا باس بها . قال ابو داود ولم يبلغني ان احدا كرهها الا عبادة بن نسى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے امام کے خطبہ دینے کی حالت میں ( کسی سے ) کہا: چپ رہو، تو تم نے لغو کیا ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قلت انصت والامام يخطب فقد لغوت
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ میں تین طرح کے لوگ حاضر ہوتے ہیں: ایک آدمی وہ جو جمعہ میں حاضر ہو کر لغو و بیہودہ گفتگو کرے، اس میں سے اس کا حصہ یہی ہے ۱؎، دوسرا آدمی وہ ہے جو اس میں حاضر ہو کر اللہ سے دعا کرے تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ سے دعا کی ہے اگر وہ چاہے تو اسے دے اور چاہے تو نہ دے، تیسرا وہ آدمی ہے جو حاضر ہو کر خاموشی سے خطبہ سنے، نہ کسی مسلمان کی گردن پھاندے، نہ کسی کو تکلیف دے، تو یہ اس کے لیے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا کیونکہ اللہ فرماتا ہے: جو نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ثواب ملے گا ۔
حدثنا مسدد، وابو كامل قالا حدثنا يزيد، عن حبيب المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يحضر الجمعة ثلاثة نفر رجل حضرها يلغو وهو حظه منها ورجل حضرها يدعو فهو رجل دعا الله عز وجل ان شاء اعطاه وان شاء منعه ورجل حضرها بانصات وسكوت ولم يتخط رقبة مسلم ولم يوذ احدا فهي كفارة الى الجمعة التي تليها وزيادة ثلاثة ايام وذلك بان الله عز وجل يقول { من جاء بالحسنة فله عشر امثالها}
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حالت نماز میں تم میں سے کسی شخص کو حدث ہو جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر چلا جائے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ اور ابواسامہ نے ہشام سے ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ان دونوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا ابراهيم بن الحسن المصيصي، حدثنا حجاج، حدثنا ابن جريج، اخبرني هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا احدث احدكم في صلاته فلياخذ بانفه ثم لينصرف " . قال ابو داود رواه حماد بن سلمة وابو اسامة عن هشام عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم " اذا دخل والامام يخطب " . لم يذكرا عايشة رضى الله عنها
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن ( مسجد میں ) آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: اے فلاں! کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟ ، اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اٹھ کر نماز پڑھو ۱؎ ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن عمرو، - وهو ابن دينار - عن جابر، ان رجلا، جاء يوم الجمعة والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب فقال " اصليت يا فلان " . قال لا . قال " قم فاركع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ ( مسجد میں ) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: کیا تم نے کچھ پڑھا؟ ، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو ۔
حدثنا محمد بن محبوب، واسماعيل بن ابراهيم، - المعنى - قالا حدثنا حفص بن غياث، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، وعن ابي صالح، عن ابي هريرة، قالا جاء سليك الغطفاني ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب فقال له " اصليت شييا " . قال لا . قال " صل ركعتين تجوز فيهما
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ سلیک رضی اللہ عنہ آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اتنا اضافہ کیا کہ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا محمد بن جعفر، عن سعيد، عن الوليد ابي بشر، عن طلحة، انه سمع جابر بن عبد الله، يحدث ان سليكا، جاء فذكر نحوه زاد ثم اقبل على الناس قال " اذا جاء احدكم والامام يخطب فليصل ركعتين يتجوز فيهما
ابوزاہریہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن ( مسجد میں ) تھے، اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا: ایک شخص ( اسی طرح ) جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایا: بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے ۔
حدثنا هارون بن معروف، حدثنا بشر بن السري، حدثنا معاوية بن صالح، عن ابي الزاهرية، قال كنا مع عبد الله بن بسر صاحب النبي صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة فجاء رجل يتخطى رقاب الناس فقال عبد الله بن بسر جاء رجل يتخطى رقاب الناس يوم الجمعة والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اجلس فقد اذيت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو مسجد میں بیٹھے بیٹھے اونگھ آنے لگے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ بیٹھ جائے ۔
حدثنا هناد بن السري، عن عبدة، عن ابن اسحاق، عن نافع، عن ابن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا نعس احدكم وهو في المسجد فليتحول من مجلسه ذلك الى غيره
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ( خطبہ دے کر ) منبر سے اترتے تو آدمی کوئی ضرورت آپ کے سامنے رکھتا تو آپ اس کے ساتھ کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کر لیتا، یعنی اپنی گفتگو مکمل کر لیتا، پھر آپ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ثابت سے معروف نہیں ہے، یہ جریر بن حازم کے تفردات میں سے ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، عن جرير، - هو ابن حازم لا ادري كيف قاله مسلم او لا - عن ثابت عن انس قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل من المنبر فيعرض له الرجل في الحاجة فيقوم معه حتى يقضي حاجته ثم يقوم فيصلي . قال ابو داود الحديث ليس بمعروف عن ثابت هو مما تفرد به جرير بن حازم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ادرك ركعة من الصلاة فقد ادرك الصلاة
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے روز «سبح اسم ربك الأعلى» اور«هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے اور بسا اوقات عید اور جمعہ دونوں ایک ہی دن پڑ جاتا تو ( بھی ) انہیں دونوں کو پڑھتے تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو عوانة، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابيه، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في العيدين ويوم الجمعة ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { هل اتاك حديث الغاشية } قال وربما اجتمعا في يوم واحد فقرا بهما
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورۃ الجمعہ پڑھنے کے بعد کون سی سورت پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ضمرة بن سعيد المازني، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان الضحاك بن قيس، سال النعمان بن بشير ماذا كان يقرا به رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة على اثر سورة الجمعة فقال كان يقرا { هل اتاك حديث الغاشية}
ابن ابی رافع کہتے ہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز جمعہ پڑھائی تو ( پہلی رکعت میں ) سورۃ الجمعہ اور دوسری میں «إذا جاءك المنافقون»پڑھی، ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے ( نماز جمعہ میں ) ایسی دو سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ اس پر ابوہریرہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حدثنا القعنبي، حدثنا سليمان، - يعني ابن بلال - عن جعفر، عن ابيه، عن ابن ابي رافع، قال صلى بنا ابو هريرة يوم الجمعة فقرا بسورة الجمعة وفي الركعة الاخرة { اذا جاءك المنافقون } قال فادركت ابا هريرة حين انصرف فقلت له انك قرات بسورتين كان علي - رضى الله عنه - يقرا بهما بالكوفة . قال ابو هريرة فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا بهما يوم الجمعة
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
حدثنا مسدد، عن يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن معبد بن خالد، عن زيد بن عقبة، عن سمرة بن جندب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في صلاة الجمعة { سبح اسم ربك الاعلى } و { هل اتاك حديث الغاشية}
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے اندر نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے سے آپ کی اقتداء کر رہے تھے۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا هشيم، اخبرنا يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجرته والناس ياتمون به من وراء الحجرة
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمعہ کے دن ایک شخص کو اپنی اسی جگہ پر دو رکعت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، ( جہاں اس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی ) تو انہوں نے اس شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور کہا: کیا تم جمعہ چار رکعت پڑھتے ہو؟ اور عبداللہ بن عمر جمعہ کے دن دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد، وسليمان بن داود، - المعنى - قالا حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ايوب، عن نافع، ان ابن عمر، راى رجلا يصلي ركعتين يوم الجمعة في مقامه فدفعه وقال اتصلي الجمعة اربعا وكان عبد الله يصلي يوم الجمعة ركعتين في بيته ويقول هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم
نافع کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ سے پہلے نماز لمبی کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، اخبرنا ايوب، عن نافع، قال كان ابن عمر يطيل الصلاة قبل الجمعة ويصلي بعدها ركعتين في بيته ويحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفعل ذلك
ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن عطاء بن ابی الخوار نے خبر دی ہے کہ نافع بن جبیر نے انہیں ایک چیز کے متعلق، جسے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے نماز میں انہیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، سائب بن یزید کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے بتایا کہ میں نے معاویہ کے ساتھ مسجد کے کمرہ میں نماز جمعہ ادا کی، جب میں نے سلام پھیرا تو اپنی اسی جگہ پر اٹھ کر پھر نماز پڑھی تو جب وہ گھر تشریف لائے تو مجھے بلوایا اور کہا: جو تم نے کیا ہے، اسے پھر دوبارہ نہ کرنا، جب تم جمعہ پڑھ چکو تو اس کے ساتھ دوسری نماز نہ ملاؤ، جب تک کہ بات نہ کر لو یا نکل نہ جاؤ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے کہ کوئی نماز کسی نماز سے ملائی نہ جائے جب تک کہ بات نہ کر لی جائے یا باہر نکل نہ لیا جائے ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني عمر بن عطاء بن ابي الخوار، ان نافع بن جبير، ارسله الى السايب بن يزيد ابن اخت نمر يساله عن شىء، راى منه معاوية في الصلاة فقال صليت معه الجمعة في المقصورة فلما سلمت قمت في مقامي فصليت فلما دخل ارسل الى فقال لا تعد لما صنعت اذا صليت الجمعة فلا تصلها بصلاة حتى تكلم او تخرج فان نبي الله صلى الله عليه وسلم امر بذلك ان لا توصل صلاة بصلاة حتى يتكلم او يخرج
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھنے کے بعد آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے پھر آگے بڑھتے اور چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینے میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر اپنے گھر واپس آتے اور ( گھر میں ) دو رکعتیں ادا کرتے، مسجد میں نہ پڑھتے، ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن عبد العزيز بن ابي رزمة المروزي، اخبرنا الفضل بن موسى، عن عبد الحميد بن جعفر، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عطاء، عن ابن عمر، قال كان اذا كان بمكة فصلى الجمعة تقدم فصلى ركعتين ثم تقدم فصلى اربعا واذا كان بالمدينة صلى الجمعة ثم رجع الى بيته فصلى ركعتين ولم يصل في المسجد فقيل له فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل ذلك