Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( محمد بن صباح کی روایت میں ہے ) جو شخص جمعہ کے بعد پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعتیں پڑھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ اور احمد بن یونس کی روایت میں یہ ہے کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ چکو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو۔ سہیل کہتے ہیں: میرے والد ابوصالح نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! اگر تم نے مسجد میں دو رکعت پڑھ لی ہے پھر گھر آئے ہو تو ( گھر پر ) دو رکعت اور پڑھو۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، ح وحدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا اسماعيل بن زكريا، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال ابن الصباح قال - " من كان مصليا بعد الجمعة فليصل اربعا " . وتم حديثه وقال ابن يونس " اذا صليتم الجمعة فصلوا بعدها اربعا " . قال فقال لي ابي يا بنى فان صليت في المسجد ركعتين ثم اتيت المنزل او البيت فصل ركعتين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور عبداللہ بن دینار نے بھی اسے ابن عمر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بعد الجمعة ركعتين في بيته . قال ابو داود وكذلك رواه عبد الله بن دينار عن ابن عمر
حدثنا ابراهيم بن الحسن، حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن جريج، اخبرني عطاء، انه راى ابن عمر يصلي بعد الجمعة فينماز عن مصلاه الذي، صلى فيه الجمعة قليلا غير كثير قال فيركع ركعتين قال ثم يمشي انفس من ذلك فيركع اربع ركعات قلت لعطاء كم رايت ابن عمر يصنع ذلك قال مرارا قال ابو داود ورواه عبد الملك بن ابي سليمان ولم يتمه
حدثنا ابراهيم بن الحسن، حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن جريج، اخبرني عطاء، انه راى ابن عمر يصلي بعد الجمعة فينماز عن مصلاه الذي، صلى فيه الجمعة قليلا غير كثير قال فيركع ركعتين قال ثم يمشي انفس من ذلك فيركع اربع ركعات قلت لعطاء كم رايت ابن عمر يصنع ذلك قال مرارا قال ابو داود ورواه عبد الملك بن ابي سليمان ولم يتمه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ( تو دیکھا کہ ) ان کے لیے ( سال میں ) دو دن ہیں جن میں وہ کھیلتے کودتے ہیں تو آپ نے پوچھا: یہ دو دن کیسے ہیں؟ ، تو ان لوگوں نے کہا: جاہلیت میں ہم ان دونوں دنوں میں کھیلتے کودتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہیں ان دونوں کے عوض ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیئے ہیں: ایک عید الاضحی کا دن اور دوسرا عید الفطر کا دن ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن حميد، عن انس، قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما فقال " ما هذان اليومان " . قالوا كنا نلعب فيهما في الجاهلية . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله قد ابدلكم بهما خيرا منهما يوم الاضحى ويوم الفطر
یزید بن خمیر رحبی سے روایت ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے، تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا: ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہو جاتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو المغيرة، حدثنا صفوان، حدثنا يزيد بن خمير الرحبي، قال خرج عبد الله بن بسر صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم مع الناس في يوم عيد فطر او اضحى فانكر ابطاء الامام فقال انا كنا قد فرغنا ساعتنا هذه وذلك حين التسبيح
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم پردہ نشین عورتوں کو عید کے دن ( عید گاہ ) لے جائیں، آپ سے پوچھا گیا: حائضہ عورتوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر میں اور مسلمانوں کی دعا میں چاہیئے کہ وہ بھی حاضر رہیں ، ایک خاتون نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: اس کی سہیلی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے اڑھا لے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ايوب، ويونس، وحبيب، ويحيى بن عتيق، وهشام، - في اخرين - عن محمد، ان ام عطية، قالت امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نخرج ذوات الخدور يوم العيد . قيل فالحيض قال " ليشهدن الخير ودعوة المسلمين " . قال فقالت امراة يا رسول الله ان لم يكن لاحداهن ثوب كيف تصنع قال " تلبسها صاحبتها طايفة من ثوبها
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: حائضہ عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں، محمد بن عبید نے اپنی روایت میں کپڑے کا ذکر نہیں کیا ہے، وہ کہتے ہیں: حماد نے ایوب سے ایوب نے حفصہ سے، حفصہ نے ایک عورت سے اور اس عورت نے ایک دوسری عورت سے روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!، پھر محمد بن عبید نے کپڑے کے سلسلے میں موسیٰ بن اسماعیل کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد، حدثنا ايوب، عن محمد، عن ام عطية، بهذا الخبر قال " ويعتزل الحيض مصلى المسلمين " . ولم يذكر الثوب . قال وحدث عن حفصة عن امراة تحدثه عن امراة اخرى قالت قيل يا رسول الله فذكر معنى حديث موسى في الثوب
اس طریق سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے کہا: ہمیں حکم دیا جاتا تھا، پھر یہی حدیث بیان کی، پھر آگے اس میں ہے کہ: انہوں نے بتایا: حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتی تھیں ۱؎۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا عاصم الاحول، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية، قالت كنا نومر بهذا الخبر قالت والحيض يكن خلف الناس فيكبرن مع الناس
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا تو وہ ( آ کر ) دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم عورتوں کو سلام کیا، ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے کہا: میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم عیدین میں حائضہ عورتوں اور کنواری لڑکیوں کو لے جائیں اور یہ کہ ہم عورتوں پر جمعہ نہیں ہے، نیز آپ نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا۔
حدثنا ابو الوليد، - يعني الطيالسي - ومسلم قالا حدثنا اسحاق بن عثمان، حدثني اسماعيل بن عبد الرحمن بن عطية، عن جدته ام عطية، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما قدم المدينة جمع نساء الانصار في بيت فارسل الينا عمر بن الخطاب فقام على الباب فسلم علينا فرددنا عليه السلام ثم قال انا رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم اليكن . وامرنا بالعيدين ان نخرج فيهما الحيض والعتق ولا جمعة علينا ونهانا عن اتباع الجنايز
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مروان عید کے روز منبر لے کر گئے اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! آپ نے خلاف سنت کام کیا ہے، ایک تو آپ عید کے روز منبر لے کر گئے حالانکہ اس دن منبر نہیں لے جایا جاتا تھا، دوسرے آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں بن فلاں ہے اس پر انہوں نے کہا: اس شخص نے اپنا حق ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو تم میں سے کوئی منکر دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے مٹا سکے تو اپنے ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے نہ ہو سکے تو اپنی زبان سے مٹائے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا ادنی درجہ ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن اسماعيل بن رجاء، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، ح وعن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، عن ابي سعيد الخدري، قال اخرج مروان المنبر في يوم عيد فبدا بالخطبة قبل الصلاة فقام رجل فقال يا مروان خالفت السنة اخرجت المنبر في يوم عيد ولم يكن يخرج فيه وبدات بالخطبة قبل الصلاة . فقال ابو سعيد الخدري من هذا قالوا فلان بن فلان . فقال اما هذا فقد قضى ما عليه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من راى منكرا فاستطاع ان يغيره بيده فليغيره بيده فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وذلك اضعف الايمان
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے تو خطبہ سے پہلے نماز ادا کی، پھر لوگوں کو خطبہ دیا تو جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر اترے تو عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے، جس میں عورتیں صدقہ ڈالتی جاتی تھیں، کوئی اپنا چھلا ڈالتی تھی اور کوئی کچھ ڈالتی اور کوئی کچھ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، ومحمد بن بكر، قالا اخبرنا ابن جريج، اخبرني عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال سمعته يقول ان النبي صلى الله عليه وسلم قام يوم الفطر فصلى فبدا بالصلاة قبل الخطبة ثم خطب الناس فلما فرغ نبي الله صلى الله عليه وسلم نزل فاتى النساء فذكرهن وهو يتوكا على يد بلال وبلال باسط ثوبه تلقي فيه النساء الصدقة قال تلقي المراة فتخها ويلقين ويلقين وقال ابن بكر فتختها
عطاء کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دیتا ہوں اور ابن عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی ہے کہ آپ عید الفطر کے دن نکلے، پھر نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ ابن کثیر کہتے ہیں: شعبہ کا غالب گمان یہ ہے کہ ( اس میں یہ بھی ہے کہ ) آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو وہ ( اپنے زیورات وغیرہ بلال کے کپڑے میں ) ڈالنے لگیں۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، ح وحدثنا ابن كثير، اخبرنا شعبة، عن ايوب، عن عطاء، قال اشهد على ابن عباس وشهد ابن عباس على رسول الله صلى الله عليه وسلم انه خرج يوم فطر فصلى ثم خطب ثم اتى النساء ومعه بلال . قال ابن كثير اكبر علم شعبة فامرهن بالصدقة فجعلن يلقين
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ آپ عورتوں کو نہیں سنا سکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا، تو عورتیں بالی اور انگوٹھی بلال کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔
حدثنا مسدد، وابو معمر عبد الله بن عمرو قالا حدثنا عبد الوارث، عن ايوب، عن عطاء، عن ابن عباس، بمعناه قال فظن انه لم يسمع النساء فمشى اليهن وبلال معه فوعظهن وامرهن بالصدقة فكانت المراة تلقي القرط والخاتم في ثوب بلال
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اسی حدیث میں ہے عورتیں بالی اور انگوٹھی ( صدقہ میں ) دینے لگیں اور بلال رضی اللہ عنہ انہیں اپنی چادر میں رکھتے جاتے تھے وہ کہتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسلمان فقراء کے درمیان تقسیم کر دیا۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عطاء، عن ابن عباس، في هذا الحديث قال فجعلت المراة تعطي القرط والخاتم وجعل بلال يجعله في كسايه قال فقسمه على فقراء المسلمين
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عید کے دن ایک کمان دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ( ٹیک لگا کر ) خطبہ دیا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن عيينة، عن ابي جناب، عن يزيد بن البراء، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم نول يوم العيد قوسا فخطب عليه
عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر رہے ہیں؟ آپ نے کہا: ہاں اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میری قدر و منزلت نہ ہوتی تو میں کمسنی کی وجہ سے آپ کے ساتھ حاضر نہ ہو پاتا ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نشان کے پاس تشریف لائے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا تو آپ نے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور اذان اور اقامت کا انہوں نے ذکر نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقے کا حکم دیا، تو عورتیں اپنے کانوں اور گلوں ( یعنی بالیوں اور ہاروں ) کی طرف اشارے کرنے لگیں، وہ کہتے ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا چنانچہ وہ ان کے پاس آئے پھر ( صدقہ لے کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لوٹ آئے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس، قال سال رجل ابن عباس اشهدت العيد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم ولولا منزلتي منه ما شهدته من الصغر فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم العلم الذي عند دار كثير بن الصلت فصلى ثم خطب ولم يذكر اذانا ولا اقامة قال ثم امر بالصدقة - قال - فجعل النساء يشرن الى اذانهن وحلوقهن قال فامر بلالا فاتاهن ثم رجع الى النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی اور ابوبکر اور عمر یا عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی، یہ شک یحییٰ قطان کو ہوا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، عن الحسن بن مسلم، عن طاوس، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى العيد بلا اذان ولا اقامة وابا بكر وعمر او عثمان شك يحيى
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دو بار نہیں ( بارہا ) عیدین کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وهناد، - وهذا لفظه - قالا حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، - يعني ابن حرب - عن جابر بن سمرة، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم غير مرة ولا مرتين العيدين بغير اذان ولا اقامة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہتے تھے ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يكبر في الفطر والاضحى في الاولى سبع تكبيرات وفي الثانية خمسا
اس طریق سے بھی ابن شہاب سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے ، اس میں ہے ( یہ تکبیریں ) رکوع کی دونوں تکبیروں کے علاوہ ہوتیں۔
حدثنا ابن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني ابن لهيعة، عن خالد بن يزيد، عن ابن شهاب، باسناده ومعناه قال سوى تكبيرتى الركوع