Loading...

Loading...
کتب
۷۷۰ احادیث
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اور دونوں میں قرأت تکبیر ( زوائد ) کے بعد ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا المعتمر، قال سمعت عبد الله بن عبد الرحمن الطايفي، يحدث عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال قال نبي الله صلى الله عليه وسلم " التكبير في الفطر سبع في الاولى وخمس في الاخرة والقراءة بعدهما كلتيهما
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے تھے پھر قرأت کرتے پھر الله أكبر کہتے پھر ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے تو چار تکبیریں کہتے پھر قرأت کرتے پھر رکوع کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وکیع اور ابن مبارک نے بھی روایت کیا ہے، ان دونوں نے سات اور پانچ تکبیریں نقل کی ہیں۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثنا سليمان، - يعني ابن حيان - عن ابي يعلى الطايفي، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يكبر في الفطر في الاولى سبعا ثم يقرا ثم يكبر ثم يقوم فيكبر اربعا ثم يقرا ثم يركع . قال ابو داود رواه وكيع وابن المبارك قالا سبعا وخمسا
مکحول کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں ابوعائشہ نے مجھے خبر دی ہے کہ سعید بن العاص نے ابوموسیٰ اشعری اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کیسے تکبیریں کہتے تھے؟ تو ابوموسیٰ نے کہا: چار تکبیریں کہتے تھے جنازہ کی چاروں تکبیروں کی طرح، یہ سن کر حذیفہ نے کہا: انہوں نے سچ کہا، اس پر ابوموسیٰ نے کہا: میں اتنی ہی تکبیریں بصرہ میں کہا کرتا تھا، جہاں پر میں حاکم تھا، ابوعائشہ کہتے ہیں: اس ( گفتگو کے وقت ) میں سعید بن العاص کے پاس موجود تھا۔
حدثنا محمد بن العلاء، وابن ابي زياد، - المعنى قريب - قالا حدثنا زيد، - يعني ابن حباب - عن عبد الرحمن بن ثوبان، عن ابيه، عن مكحول، قال اخبرني ابو عايشة، جليس لابي هريرة ان سعيد بن العاص، سال ابا موسى الاشعري وحذيفة بن اليمان كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبر في الاضحى والفطر فقال ابو موسى كان يكبر اربعا تكبيره على الجنايز . فقال حذيفة صدق . فقال ابو موسى كذلك كنت اكبر في البصرة حيث كنت عليهم . وقال ابو عايشة وانا حاضر سعيد بن العاص
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوواقد الیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورت پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں «ق والقرآن المجيد» اور «اقتربت الساعة وانشق القمر» پڑھتے تھے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ضمرة بن سعيد المازني، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان عمر بن الخطاب، سال ابا واقد الليثي ماذا كان يقرا به رسول الله صلى الله عليه وسلم في الاضحى والفطر قال كان يقرا فيهما { ق والقران المجيد } و { اقتربت الساعة وانشق القمر}
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: ہم خطبہ دیں گے تو جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جو جانا چاہے جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، عطا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا الفضل بن موسى السيناني، حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن عبد الله بن السايب، قال شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العيد فلما قضى الصلاة قال " انا نخطب فمن احب ان يجلس للخطبة فليجلس ومن احب ان يذهب فليذهب " . قال ابو داود هذا مرسل عن عطاء عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستے سے گئے پھر دوسرے راستے سے واپس آئے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد الله، - يعني ابن عمر - عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذ يوم العيد في طريق ثم رجع في طريق اخر
ابو عمیر بن انس کے ایک چچا سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، روایت ہے کہ کچھ سوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ گواہی دے رہے تھے کہ کل انہوں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے انہیں افطار کرنے اور دوسرے دن صبح ہوتے ہی اپنی عید گاہ جانے کا حکم دیا۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن جعفر بن ابي وحشية، عن ابي عمير بن انس، عن عمومة، له من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان ركبا جاءوا الى النبي صلى الله عليه وسلم يشهدون انهم راوا الهلال بالامس فامرهم ان يفطروا واذا اصبحوا ان يغدوا الى مصلاهم
بکر بن مبشر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عید الفطر اور عید الاضحی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ عید گاہ جاتا تھا تو ہم وادی بطحان سے ہو کر جاتے یہاں تک کہ عید گاہ پہنچتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے پھر اسی وادی بطحان سے ہی اپنے گھر واپس آتے تھے ۱؎۔
حدثنا حمزة بن نصير، حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا ابراهيم بن سويد، اخبرني انيس بن ابي يحيى، اخبرني اسحاق بن سالم، مولى نوفل بن عدي اخبرني بكر بن مبشر الانصاري، قال كنت اغدو مع اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم الى المصلى يوم الفطر ويوم الاضحى فنسلك بطن بطحان حتى ناتي المصلى فنصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم نرجع من بطن بطحان الى بيوتنا
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، حدثني عدي بن ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فطر فصلى ركعتين لم يصل قبلهما ولا بعدهما ثم اتى النساء ومعه بلال فامرهن بالصدقة فجعلت المراة تلقي خرصها وسخابها
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، حدثني عدي بن ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فطر فصلى ركعتين لم يصل قبلهما ولا بعدهما ثم اتى النساء ومعه بلال فامرهن بالصدقة فجعلت المراة تلقي خرصها وسخابها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( ایک بار ) عید کے دن بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد، ح وحدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا رجل، من الفرويين - وسماه الربيع في حديثه عيسى بن عبد الاعلى بن ابي فروة - سمع ابا يحيى عبيد الله التيمي يحدث عن ابي هريرة انه اصابهم مطر في يوم عيد فصلى بهم النبي صلى الله عليه وسلم صلاة العيد في المسجد