Loading...

Loading...
کتب
۴۹ احادیث
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح ( بیٹھے ) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا، اتنے میں ادھر ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم دوا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے ۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، عن زياد بن علاقة، عن اسامة بن شريك، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه كانما على رءوسهم الطير فسلمت ثم قعدت فجاء الاعراب من ها هنا وها هنا فقالوا يا رسول الله انتداوى فقال " تداووا فان الله عز وجل لم يضع داء الا وضع له دواء غير داء واحد الهرم
ام منذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ تھے، ان پر کمزوری طاری تھی ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر انہیں کھانے لگے، علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ٹھہرو ( تم نہ کھاؤ ) کیونکہ تم ابھی کمزور ہو یہاں تک کہ علی رضی اللہ عنہ رک گئے، میں نے جو اور چقندر پکایا تھا تو اسے لے کر میں آپ کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! اس میں سے کھاؤ یہ تمہارے لیے مفید ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہارون کی روایت میں «انصاریہ» کے بجائے«عدویہ» ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابو داود، وابو عامر - وهذا لفظ ابي عامر - عن فليح بن سليمان، عن ايوب بن عبد الرحمن بن صعصعة الانصاري، عن يعقوب بن ابي يعقوب، عن ام المنذر بنت قيس الانصارية، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه علي عليه السلام وعلي ناقه ولنا دوالي معلقة فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل منها وقام علي لياكل فطفق رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لعلي " مه انك ناقه " . حتى كف علي عليه السلام . قالت وصنعت شعيرا وسلقا فجيت به فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا علي اصب من هذا فهو انفع لك " . قال ابو داود قال هارون العدوية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن دواؤں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر ( بھلائی ) ہے تو وہ سینگی ( پچھنے ) لگوانا ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان كان في شىء مما تداويتم به خير فالحجامة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ سلمی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جو شخص بھی اپنے سر درد کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا آپ اسے فرماتے: سینگی لگواؤ اور جو شخص اپنے پیروں میں درد کی شکایت لے کر آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے: ان میں خضاب ( مہندی ) لگاؤ ۔
حدثنا محمد بن الوزير الدمشقي، حدثنا يحيى، - يعني ابن حسان - حدثنا عبد الرحمن بن ابي الموالي، حدثنا فايد، مولى عبيد الله بن علي بن ابي رافع عن مولاه، عبيد الله بن علي بن ابي رافع عن جدته، سلمى خادم رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت ما كان احد يشتكي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وجعا في راسه الا قال " احتجم " . ولا وجعا في رجليه الا قال " اخضبهما
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان سینگی ( پچھنے ) لگواتے اور فرماتے: جو ان جگہوں کا خون نکلوالے تو اسے کسی بیماری کی کوئی دوا نہ کرنے سے کوئی نقصان نہ ہو گا ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، وكثير بن عبيد، قالا حدثنا الوليد، عن ابن ثوبان، عن ابيه، عن ابي كبشة الانماري، - قال كثير انه حدثه - ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يحتجم على هامته وبين كتفيه وهو يقول " من اهراق من هذه الدماء فلا يضره ان لا يتداوى بشىء لشىء
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کے دونوں پٹھوں میں اور دونوں کندھوں کے بیچ میں تین پچھنے لگوائے۔ ایک بوڑھے کا بیان ہے: میں نے پچھنا لگوائے تو میری عقل جاتی رہی یہاں تک کہ میں نماز میں سورۃ فاتحہ لوگوں کے بتانے سے پڑھتا، بوڑھے نے پچھنا اپنے سر پر لگوایا تھا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا جرير، - يعني ابن حازم - حدثنا قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم ثلاثا في الاخدعين والكاهل . قال معمر احتجمت فذهب عقلي حتى كنت القن فاتحة الكتاب في صلاتي . وكان احتجم على هامته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگوائے تو اسے ہر بیماری سے شفاء ہو گی ۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثنا سعيد بن عبد الرحمن الجمحي، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احتجم لسبع عشرة وتسع عشرة واحدى وعشرين كان شفاء من كل داء
کبشہ بنت ابی بکرہ نے خبر دی ہے ۱؎ کہ ان کے والد اپنے گھر والوں کو منگل کے دن پچھنا لگوانے سے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے: منگل کا دن خون کا دن ہے اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون بہنا بند نہیں ہوتا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، اخبرني ابو بكرة، بكار بن عبد العزيز اخبرتني عمتي، كبشة بنت ابي بكرة - وقال غير موسى كيسة بنت ابي بكرة - ان اباها، كان ينهى اهله عن الحجامة، يوم الثلاثاء ويزعم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يوم الثلاثاء يوم الدم وفيه ساعة لا يرقا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنی سرین پر پچھنے لگوائے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم على وركه من وثء كان به
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک طبیب بھیجا تو اس نے ان کی ایک رگ کاٹ دی ۱؎۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم الى ابى طبيبا فقطع منه عرقا
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغنے سے منع فرمایا، اور ہم نے داغ لگایا تو نہ تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ ہوا، نہ وہ ہمارے کسی کام آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ فرشتوں کا سلام سنتے تھے جب داغ لگوانے لگے تو سننا بند ہو گیا، پھر جب اس سے رک گئے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ آئے ( یعنی پھر ان کا سلام سننے لگے ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، عن مطرف، عن عمران بن حصين، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الكى فاكتوينا فما افلحن ولا انجحن . قال ابو داود وكان يسمع تسليم الملايكة فلما اكتوى انقطع عنه فلما ترك رجع اليه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر کے زخم کی وجہ سے جو انہیں لگا تھا داغا۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كوى سعد بن معاذ من رميته
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک میں دوا ڈالی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا احمد بن اسحاق، حدثنا وهيب، عن عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استعط
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «نشرہ» ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ شیطانی کام ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا عقيل بن معقل، قال سمعت وهب بن منبه، يحدث عن جابر بن عبد الله، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النشرة فقال " هو من عمل الشيطان
عبدالرحمٰن بن رافع تنوخی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: مجھے پرواہ نہیں جو بھی میرا حال ہو اگر میں تریاق پیوں یا تعویذ گنڈا لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھا، کچھ لوگوں نے تریاق پینے کی رخصت دی ہے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، حدثنا شرحبيل بن يزيد المعافري، عن عبد الرحمن بن رافع التنوخي، قال سمعت عبد الله بن عمرو، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما ابالي ما اتيت ان انا شربت ترياقا او تعلقت تميمة او قلت الشعر من قبل نفسي " . قال ابو داود هذا كان للنبي صلى الله عليه وسلم خاصة وقد رخص فيه قوم يعني الترياق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجس یا حرام دوا سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن مجاهد، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدواء الخبيث
عبدالرحمٰن بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک طبیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوا میں مینڈک کے استعمال کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک قتل کرنے سے منع فرمایا۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابن ابي ذيب، عن سعيد بن خالد، عن سعيد بن المسيب، عن عبد الرحمن بن عثمان، ان طبيبا، سال النبي صلى الله عليه وسلم عن ضفدع يجعلها في دواء فنهاه النبي صلى الله عليه وسلم عن قتلها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو زہر پیے گا تو قیامت کے دن وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور اسے جہنم میں پیا کرے گا اور ہمیشہ ہمیش اسی میں پڑا رہے گا کبھی باہر نہ آ سکے گا ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حسا سما فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها ابدا
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، طارق بن سوید یا سوید بن طارق نے ذکر کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں منع فرمایا، انہوں نے پھر پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پھر منع فرمایا تو انہوں نے آپ سے کہا: اللہ کے نبی! وہ تو دوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ بیماری ہے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن سماك، عن علقمة بن وايل، عن ابيه، ذكر طارق بن سويد او سويد بن طارق سال النبي صلى الله عليه وسلم عن الخمر فنهاه ثم ساله فنهاه فقال له يا نبي الله انها دواء . قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا ولكنها داء
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے بیماری اور دوا ( علاج ) دونوں اتارا ہے اور ہر بیماری کی ایک دوا پیدا کی ہے لہٰذا تم دوا کرو لیکن حرام سے دوا نہ کرو ۔
حدثنا محمد بن عبادة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا اسماعيل بن عياش، عن ثعلبة بن مسلم، عن ابي عمران الانصاري، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله انزل الداء والدواء وجعل لكل داء دواء فتداووا ولا تداووا بحرام