Loading...

Loading...
کتب
۴۹ احادیث
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے آئے، آپ نے میری دونوں چھاتیوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں دل کی بیماری ہے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف کے ہیں، وہ دوا علاج کرتے ہیں، ان کو چاہیئے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سات کھجوریں لیں اور انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ ڈالیں پھر اس کا «لدود» بنا کر تمہارے منہ میں ڈالیں ۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل، حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن سعد، قال مرضت مرضا اتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني فوضع يده بين ثديى حتى وجدت بردها على فوادي فقال " انك رجل مفيود ايت الحارث بن كلدة اخا ثقيف فانه رجل يتطبب فلياخذ سبع تمرات من عجوة المدينة فليجاهن بنواهن ثم ليلدك بهن
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سات عجوہ کھجوریں نہار منہ کھائے گا تو اس دن اسے نہ کوئی زہر نقصان پہنچائے گا، نہ جادو ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، حدثنا هاشم بن هاشم، عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من تصبح سبع تمرات عجوة لم يضره ذلك اليوم سم ولا سحر
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی، کوا بڑھ جانے کی وجہ سے میں نے اس کے حلق کو دبا دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اپنے بچوں کے حلق کس لیے دباتی ہو؟ تم اس عود ہندی کو لازماً استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے جس میں ذات الجنب ( نمونیہ ) بھی ہے، کوا بڑھنے پر ناک سے دوا داخل کی جائے، اور ذات الجنب میں «لدود» ۱؎ بنا کر پلایا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «عود» سے مراد «قسط» ہے۔
حدثنا مسدد، وحامد بن يحيى، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ام قيس بنت محصن، قالت دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم بابن لي قد اعلقت عليه من العذرة فقال " علام تدغرن اولادكن بهذا العلاق عليكن بهذا العود الهندي فان فيه سبعة اشفية منها ذات الجنب يسعط من العذرة ويلد من ذات الجنب " . قال ابو داود يعني بالعود القسط
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سفید رنگ کے کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر کپڑا ہے، اور اسی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو، اور تمہارے سرموں میں سب سے اچھا اثمد ہے، وہ روشنی بڑھاتا اور ( پلک کے ) بالوں کو اگاتا ہے ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البسوا من ثيابكم البياض فانها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم وان خير اكحالكم الاثمد يجلو البصر وينبت الشعر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر بد حق ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن همام بن منبه، قال هذا ما حدثنا ابو هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العين حق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نظر بد لگانے والے کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے پھر جسے نظر لگی ہوتی اس پانی سے غسل کرتا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كان يومر العاين فيتوضا ثم يغتسل منه المعين
اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کرو کیونکہ رضاعت کے دنوں میں مجامعت شہسوار کو پاتی ہے تو اسے اس کے گھوڑے سے گرا دیتا ہے ۔
حدثنا الربيع بن نافع ابو توبة، حدثنا محمد بن مهاجر، عن ابيه، عن اسماء بنت يزيد بن السكن، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تقتلوا اولادكم سرا فان الغيل يدرك الفارس فيدعثره عن فرسه
جدامہ اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے قصد کر لیا تھا کہ«غیلہ» سے منع کر دوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا ۔ مالک کہتے ہیں: «غیلہ» یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے حالت رضاعت میں جماع کرے ۱؎۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل، اخبرني عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن جدامة الاسدية انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لقد هممت ان انهى عن الغيلة حتى ذكرت ان الروم وفارس يفعلون ذلك فلا يضر اولادهم " . قال مالك الغيلة ان يمس الرجل امراته وهي ترضع
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: جھاڑ پھونک ( منتر ) ۱؎ گنڈا ( تعویذ ) اور تولہ ۲؎ شرک ہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ قسم اللہ کی میری آنکھ درد کی شدت سے نکلی آتی تھی اور میں فلاں یہودی کے پاس دم کرانے آتی تھی تو جب وہ دم کر دیتا تھا تو میرا درد بند ہو جاتا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ بولے: یہ کام تو شیطان ہی کا تھا وہ اپنے ہاتھ سے آنکھ چھوتا تھا تو جب وہ دم کر دیتا تھا تو وہ اس سے رک جاتا تھا، تیرے لیے تو بس ویسا ہی کہنا کافی تھا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «ذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرما، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، ایسی شفاء جو کسی بیماری کو نہ رہنے دے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن يحيى بن الجزار، عن ابن اخي، زينب امراة عبد الله عن زينب، امراة عبد الله عن عبد الله، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الرقى والتمايم والتولة شرك " . قالت قلت لم تقول هذا والله لقد كانت عيني تقذف وكنت اختلف الى فلان اليهودي يرقيني فاذا رقاني سكنت . فقال عبد الله انما ذاك عمل الشيطان كان ينخسها بيده فاذا رقاها كف عنها انما كان يكفيك ان تقولي كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذهب الباس رب الناس اشف انت الشافي لا شفاء الا شفاوك شفاء لا يغادر سقما
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک، نظر بد یا زہریلے ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے نہیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن مالك بن مغول، عن حصين، عن الشعبي، عن عمران بن حصين، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا رقية الا من عين او حمة
ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ بیمار تھے تو آپ نے فرمایا: «اكشف الباس رب الناس . عن ثابت بن قيس» لوگوں کے رب! اس بیماری کو ثابت بن قیس سے دور فرما دے پھر آپ نے وادی بطحان کی تھوڑی سی مٹی لی اور اسے ایک پیالہ میں رکھا پھر اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس پر دم کیا اور اسے ان پر ڈال دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح کی روایت میں یوسف بن محمد ہے اور یہی صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، وابن السرح، - قال احمد حدثنا ابن وهب، وقال ابن السرح، - اخبرنا ابن وهب، حدثنا داود بن عبد الرحمن، عن عمرو بن يحيى، عن يوسف بن محمد، - وقال ابن صالح محمد بن يوسف بن ثابت بن قيس بن شماس - عن ابيه، عن جده، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه دخل على ثابت بن قيس - قال احمد - وهو مريض فقال " اكشف الباس رب الناس " . عن ثابت بن قيس ثم اخذ ترابا من بطحان فجعله في قدح ثم نفث عليه بماء وصبه عليه . قال ابو داود قال ابن السرح يوسف بن محمد وهو الصواب
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا منتر میرے اوپر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني معاوية، عن عبد الرحمن بن جبير، عن ابيه، عن عوف بن مالك، قال كنا نرقي في الجاهلية فقلنا يا رسول الله كيف ترى في ذلك فقال " اعرضوا على رقاكم لا باس بالرقى ما لم تكن شركا
شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: «نملہ» ۱؎ کا منتر اس کو کیوں نہیں سکھا دیتی جیسے تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے ۔
حدثنا ابراهيم بن مهدي المصيصي، حدثنا علي بن مسهر، عن عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، عن صالح بن كيسان، عن ابي بكر بن سليمان بن ابي حثمة، عن الشفاء بنت عبد الله، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا عند حفصة فقال لي " الا تعلمين هذه رقية النملة كما علمتيها الكتابة
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ندی پر سے گزرے تو میں نے اس میں غسل کیا، اور بخار لے کر باہر نکلا، اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ابوثابت کو شیطان سے پناہ مانگنے کے لیے کہو ۔ عثمان کی دادی کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: میرے آقا! جھاڑ پھونک بھی تو مفید ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک تو صرف نظر بد کے لیے یا سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈنک مارنے کے لیے ہے ( ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں ان میں دوا یا دعا کام آتی ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں:«حمہ» سانپ کے ڈسنے کو کہتے ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عثمان بن حكيم، حدثتني جدتي الرباب، قالت سمعت سهل بن حنيف، يقول مررنا بسيل فدخلت فاغتسلت فيه فخرجت محموما فنمي ذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " مروا ابا ثابت يتعوذ " . قالت فقلت يا سيدي والرقى صالحة فقال " لا رقية الا في نفس او حمة او لدغة " . قال ابو داود الحمة من الحيات وما يلسع
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک صرف نظر بد کے لیے یا زہریلے جانوروں کے کاٹنے کے لیے یا ایسے خون کے لیے ہے جو تھمتا نہ ہو ۔ عباس نے نظر بد کا ذکر نہیں کیا ہے یہ سلیمان بن داود کے الفاظ ہیں۔
حدثنا سليمان بن داود، حدثنا شريك، ح وحدثنا العباس العنبري، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا شريك، عن العباس بن ذريح، عن الشعبي، - قال العباس - عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا رقية الا من عين او حمة او دم يرقا " . لم يذكر العباس العين وهذا لفظ سليمان بن داود
عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے ثابت سے کہا: کیا میں تم پر دم نہ کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ضرور کیجئے، تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت اشفه شفاء لا يغادر سقما» اے اللہ! لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرمانے والے شفاء دے تو ہی شفاء دینے والا ہے نہیں کوئی شفاء دینے والا سوائے تیرے تو اسے ایسی شفاء دے جو بیماری کو باقی نہ رہنے دے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز بن صهيب، قال قال انس - يعني - لثابت الا ارقيك برقية رسول الله قال بلى . قال فقال " اللهم رب الناس مذهب الباس اشف انت الشافي لا شافي الا انت اشفه شفاء لا يغادر سقما
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عثمان کہتے ہیں: اس وقت مجھے ایسا درد ہو رہا تھا کہ لگتا تھا کہ وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا داہنا ہاتھ اس پر سات مرتبہ پھیرو اور کہو: «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد» میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس چیز کی برائی سے جو میں پاتا ہوں ۔ میں نے اسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے جو تکلیف تھی وہ دور فرما دی اس وقت سے میں برابر اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو اس کا حکم دیا کرتا ہوں۔
حدثنا عبد الله القعنبي، عن مالك، عن يزيد بن خصيفة، ان عمرو بن عبد الله بن كعب السلمي، اخبره ان نافع بن جبير اخبره عن عثمان بن ابي العاص، انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم قال عثمان وبي وجع قد كاد يهلكني قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امسحه بيمينك سبع مرات وقل اعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما اجد " . قال ففعلت ذلك فاذهب الله عز وجل ما كان بي فلم ازل امر به اهلي وغيرهم
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو بیمار ہو یا جس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے: «ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض كما رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك على هذا الوجع» ہمارے رب! جو آسمان کے اوپر ہے تیرا نام پاک ہے، تیرا ہی اختیار ہے آسمان اور زمین میں، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی رحمت زمین پر بھی نازل فرما، ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے، تو ( رب پروردگار ) ہے پاک اور اچھے لوگوں کا، اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاء میں سے ایک شفاء اس درد پر بھی نازل فرما تو وہ صحت یاب ہو جائے گا ۔
حدثنا يزيد بن خالد بن موهب الرملي، حدثنا الليث، عن زياد بن محمد، عن محمد بن كعب القرظي، عن فضالة بن عبيد، عن ابي الدرداء، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اشتكى منكم شييا او اشتكاه اخ له فليقل ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك امرك في السماء والارض كما رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الارض اغفر لنا حوبنا وخطايانا انت رب الطيبين انزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفايك على هذا الوجع فيبرا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ( خواب میں ) ڈرنے پر یہ کلمات کہنے کو سکھلاتے تھے:«أعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلموں کی اس کے غصہ سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور ان کے میرے پاس آنے سے ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے ان بیٹوں کو جو سمجھنے لگتے یہ دعا سکھاتے اور جو نہ سمجھتے تو ان کے گلے میں اسے لکھ کر لٹکا دیتے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن اسحاق، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعلمهم من الفزع كلمات " اعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وشر عباده ومن همزات الشياطين وان يحضرون " . وكان عبد الله بن عمرو يعلمهن من عقل من بنيه ومن لم يعقل كتبه فاعلقه عليه
یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں چوٹ کا ایک نشان دیکھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ چوٹ خیبر کے دن لگی تھی، لوگ کہنے لگے تھے: سلمہ رضی اللہ عنہ کو ایسی چوٹ لگی ہے ( اب بچ نہیں سکیں گے ) تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے تین بار مجھ پر دم کیا اس کے بعد سے اب تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں محسوس ہوئی۔
حدثنا احمد بن ابي سريج الرازي، اخبرنا مكي بن ابراهيم، حدثنا يزيد بن ابي عبيد، قال رايت اثر ضربة في ساق سلمة فقلت ما هذه قال اصابتني يوم خيبر فقال الناس اصيب سلمة فاتي بي رسول الله صلى الله عليه وسلم فنفث في ثلاث نفثات فما اشتكيتها حتى الساعة