Loading...

Loading...
کتب
۴۹ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی اپنی بیماری کی شکایت کرتا تو آپ اپنا لعاب مبارک لیتے پھر اسے مٹی میں لگا کر فرماتے: «تربة أرضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا بإذن ربنا» یہ ہماری زمین کی خاک ہے ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا بیمار ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے ۔
حدثنا زهير بن حرب، وعثمان بن ابي شيبة، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد ربه، - يعني ابن سعيد - عن عمرة، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول للانسان اذا اشتكى يقول بريقه ثم قال به في التراب " تربة ارضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا باذن ربنا
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، پھر لوٹ کر جب آپ کے پاس سے جانے لگے تو ایک قوم پر سے گزرے جن میں ایک شخص دیوانہ تھا زنجیر سے بندھا ہوا تھا تو اس کے گھر والے کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ کے یہ ساتھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) خیر و بھلائی لے کر آئے ہیں تو کیا آپ کے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس شخص کا علاج کریں؟ میں نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کر دیا تو وہ اچھا ہو گیا، تو ان لوگوں نے مجھے سو بکریاں دیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے صرف یہی سورت پڑھی ہے؟ ۔ ( مسدد کی ایک دوسری روایت میں: «هل إلا هذا» کے بجائے: «هل قلت غير هذا» ہے یعنی کیا تو نے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں پڑھا؟ ) میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے لو، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو ناجائز جھاڑ پھونک کی روٹی کھاتے ہیں اور تم نے تو جائز جھاڑ پھونک پر کھایا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن زكريا، قال حدثني عامر، عن خارجة بن الصلت التميمي، عن عمه، انه اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاسلم ثم اقبل راجعا من عنده فمر على قوم عندهم رجل مجنون موثق بالحديد فقال اهله انا حدثنا ان صاحبكم هذا قد جاء بخير فهل عندك شىء تداويه فرقيته بفاتحة الكتاب فبرا فاعطوني ماية شاة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقال " هل الا هذا " . وقال مسدد في موضع اخر " هل قلت غير هذا " . قلت لا . قال " خذها فلعمري لمن اكل برقية باطل لقد اكلت برقية حق
خارجہ بن صلت سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ( کچھ لوگوں پر سے ) گزرے ( ان میں ایک دیوانہ شخص تھا ) جس پر وہ صبح و شام فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے، جب سورۃ فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا تھوک جمع کر کے اس پر تھو تھو کر دیتے، پھر وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي ح، وحدثنا ابن بشار، حدثنا ابن جعفر، حدثنا شعبة، عن عبد الله بن ابي السفر، عن الشعبي، عن خارجة بن الصلت، عن عمه، انه مر - قال - فرقاه بفاتحة الكتاب ثلاثة ايام غدوة وعشية كلما ختمها جمع بزاقه ثم تفل فكانما انشط من عقال فاعطوه شييا فاتى النبي صلى الله عليه وسلم ثم ذكر معنى حديث مسدد
ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے سنا: اس نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آج رات مجھے کسی چیز نے کاٹ لیا تو رات بھر نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے؟ اس نے عرض کیا: بچھو نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اگر تم شام کو یہ دعا پڑھ لیتے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے تو ان شاءاللہ ( اللہ چاہتا تو ) وہ تم کو نقصان نہ پہنچاتا ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، قال سمعت رجلا، من اسلم قال كنت جالسا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء رجل من اصحابه فقال يا رسول الله لدغت الليلة فلم انم حتى اصبحت . قال " ماذا " . قال عقرب . قال " اما انك لو قلت حين امسيت اعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم تضرك ان شاء الله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جسے بچھو نے کاٹ لیا تھا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ یہ دعا پڑھ لیتا: «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق» میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے تو وہ نہ کاٹتا یا اسے نقصان نہ پہنچاتا ۔
حدثنا حيوة بن شريح، حدثنا بقية، حدثني الزبيدي، عن الزهري، عن طارق، - يعني ابن مخاشن - عن ابي هريرة، قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بلديغ لدغته عقرب قال فقال " لو قال اعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق لم يلدغ " . او " لم تضره
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور وہ عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ میں اتری، ان میں سے بعض نے آ کر کہا: ہمارے سردار کو بچھو یا سانپ نے کاٹ لیا ہے، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو انہیں فائدہ دے؟ تو ہم میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں قسم اللہ کی میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں لیکن ہم نے تم سے ضیافت کے لیے کہا تو تم نے ہماری ضیافت سے انکار کیا، اس لیے اب میں اس وقت تک جھاڑ پھونک نہیں کر سکتا جب تک تم مجھے اس کی اجرت نہیں دو گے، تو انہوں نے ان کے لیے بکریوں کا ایک ریوڑ اجرت ٹھہرائی، چنانچہ وہ آئے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کرنے لگے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو گیا گویا وہ رسی سے بندھا ہوا تھا چھوٹ گیا، پھر ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی پوری ادا کر دی، لوگوں نے کہا: اسے آپس میں تقسیم کر لو، تو جس نے جھاڑ پھونک کیا تھا وہ بولا: اس وقت تک ایسا نہ کرو جب تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اجازت نہ لے لیں، چنانچہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کہاں سے معلوم ہوا کہ یہ منتر ہے؟ تم نے بہت اچھا کیا، تم اسے آپس میں تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا بھی ایک حصہ لگانا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد الخدري، ان رهطا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم انطلقوا في سفرة سافروها فنزلوا بحى من احياء العرب فقال بعضهم ان سيدنا لدغ فهل عند احد منكم شىء ينفع صاحبنا فقال رجل من القوم نعم والله اني لارقي ولكن استضفناكم فابيتم ان تضيفونا ما انا براق حتى تجعلوا لي جعلا . فجعلوا له قطيعا من الشاء فاتاه فقرا عليه ام الكتاب ويتفل حتى برا كانما انشط من عقال . قال فاوفاهم جعلهم الذي صالحوهم عليه فقالوا اقتسموا . فقال الذي رقى لا تفعلوا حتى ناتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فنستامره . فغدوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكروا له فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اين علمتم انها رقية احسنتم اقتسموا واضربوا لي معكم بسهم
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے اور عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے تو وہ لوگ کہنے لگے: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اس شخص کے پاس سے آ رہے ہیں جو خیر و بھلائی لے کر آیا ہے تو کیا آپ کے پاس کوئی دوا یا منتر ہے؟ کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ ہے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، ہم نے کہا: ہاں، تو وہ اس پاگل کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا لے کر آئے، میں اس پر تین دن تک سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرتا رہا، وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی قید سے چھوٹ گیا ہو، پھر انہوں نے مجھے اس کی اجرت دی، میں نے کہا: میں نہیں لوں گا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: کھاؤ، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو جھوٹا منتر کر کے کھاتے ہیں تم نے تو جائز منتر کر کے کھایا ہے ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي ح، وحدثنا ابن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن عبد الله بن ابي السفر، عن الشعبي، عن خارجة بن الصلت التميمي، عن عمه، قال اقبلنا من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتينا على حى من العرب فقالوا انا انبينا انكم جيتم من عند هذا الرجل بخير فهل عندكم من دواء او رقية فان عندنا معتوها في القيود قال فقلنا نعم . قال فجاءوا بمعتوه في القيود - قال - فقرات عليه فاتحة الكتاب ثلاثة ايام غدوة وعشية كلما ختمتها اجمع بزاقي ثم اتفل فكانما نشط من عقال قال فاعطوني جعلا فقلت لا حتى اسال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " كل فلعمري من اكل برقية باطل لقد اكلت برقية حق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو آپ اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم فرماتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف بڑھ گئی تو میں اسے آپ پر پڑھ کر دم کرتی اور برکت کی امید سے آپ کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اشتكى يقرا في نفسه بالمعوذات وينفث فلما اشتد وجعه كنت اقرا عليه وامسح عليه بيده رجاء بركتها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری والدہ نے چاہا کہ میں قدرے موٹی ہو جاؤں تاکہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بھیجا جا سکے۔ مگر مجھے ان کی حسب منشا کسی چیز سے فائدہ نہ ہوا حتیٰ کہ انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجور ملا کر کھلائی تو اس سے میں خوب موٹی ہو گئی۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا نوح بن يزيد بن سيار، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن محمد بن اسحاق، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها قالت ارادت امي ان تسمني لدخولي على رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم اقبل عليها بشىء مما تريد حتى اطعمتني القثاء بالرطب فسمنت عليه كاحسن السمن