Loading...

Loading...
کتب
۶۷ احادیث
جابر بن زید اور عکرمہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں صرف کچی کھجور کی نبیذ کو مکروہ جانتے تھے، اور اس مذہب کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لیتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ڈرتا ہوں کہیں یہ «مزاء» نہ ہو جس سے عبدالقیس کو منع کیا گیا تھا ہشام کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے کہا: «مزاء» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: حنتم اور مزفت میں تیار کی گئی نبیذ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن جابر بن زيد، وعكرمة، انهما كانا يكرهان البسر وحده وياخذان ذلك عن ابن عباس . وقال ابن عباس اخشى ان يكون المزاء الذي نهيت عنه عبد القيس . فقلت لقتادة ما المزاء قال النبيذ في الحنتم والمزفت
دیلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، لیکن کس کے پاس آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے پاس پھر ہم نے عرض کیا: اے رسول اللہ! ہمارے یہاں انگور ہوتا ہے ہم اس کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خشک لو ہم نے عرض کیا: اس زبیب ( سوکھے ہوئے انگور ) کو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کو اسے بھگو دو، اور شام کو پی لو، اور جو شام کو بھگوؤ اسے صبح کو پی لو اور چمڑوں کے برتنوں میں اسے بھگویا کرو، مٹکوں اور گھڑوں میں نہیں کیونکہ اگر نچوڑنے میں دیر ہو گی تو وہ سرکہ ہو جائے گا ۱؎ ۔
حدثنا عيسى بن محمد، حدثنا ضمرة، عن السيباني، عن عبد الله بن الديلمي، عن ابيه، قال اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا يا رسول الله قد علمت من نحن ومن اين نحن فالى من نحن قال " الى الله والى رسوله " . فقلنا يا رسول الله ان لنا اعنابا ما نصنع بها قال " زببوها " . قلنا ما نصنع بالزبيب قال " انبذوه على غدايكم واشربوه على عشايكم وانبذوه على عشايكم واشربوه على غدايكم وانبذوه في الشنان ولا تنبذوه في القلل فانه اذا تاخر عن عصره صار خلا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایسے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کا اوپری حصہ باندھ دیا جاتا، اور اس کے نیچے کی طرف بھی منہ ہوتا، صبح میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے شام میں پیتے اور شام میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے صبح میں پیتے ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثني عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، عن يونس بن عبيد، عن الحسن، عن امه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان ينبذ لرسول الله صلى الله عليه وسلم في سقاء يوكا اعلاه وله عزلاء ينبذ غدوة فيشربه عشاء وينبذ عشاء فيشربه غدوة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کو نبیذ بھگوتی تھیں تو جب شام کا وقت ہوتا تو آپ شام کا کھانا کھانے کے بعد اسے پیتے، اور اگر کچھ بچ جاتی تو میں اسے پھینک دیتی یا اسے خالی کر دیتی، پھر آپ کے لیے رات میں نبیذ بھگوتی اور صبح ہوتی تو آپ اسے دن کا کھانا تناول فرما کر پیتے۔ وہ کہتی ہیں: مشک کو صبح و شام دھویا جاتا تھا۔ مقاتل کہتے ہیں: میرے والد ( حیان ) نے ان سے کہا: ایک دن میں دو بار؟ وہ بولیں: ہاں دو بار۔
حدثنا مسدد، حدثنا المعتمر، قال سمعت شبيب بن عبد الملك، يحدث عن مقاتل بن حيان، قال حدثتني عمتي، عمرة عن عايشة، رضى الله عنها انها كانت تنبذ للنبي صلى الله عليه وسلم غدوة فاذا كان من العشي فتعشى شرب على عشايه وان فضل شىء صببته - او فرغته - ثم تنبذ له بالليل فاذا اصبح تغدى فشرب على غدايه قالت نغسل السقاء غدوة وعشية فقال لها ابي مرتين في يوم قالت نعم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي عمر، يحيى البهراني عن ابن عباس، قال كان ينبذ للنبي صلى الله عليه وسلم الزبيب فيشربه اليوم والغد وبعد الغد الى مساء الثالثة ثم يامر به فيسقى الخدم او يهراق . قال ابو داود معنى يسقى الخدم يبادر به الفساد . قال ابو داود ابو عمر يحيى بن عبيد البهراني
عبید بن عمیر کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ خبر دے رہی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے تو ایک روز میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے، تو اس نے آپ سے ویسے ہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا تو قرآن کریم کی آیت: «لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي» ۲؎ سے لے کر «إن تتوبا إلى الله» ۳؎ تک عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے متعلق نازل ہوئی۔ «إن تتوبا» میں خطاب عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو ہے اور «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» میں «حديثا» سے مراد آپ کا: «بل شربت عسلا» ( بلکہ میں نے شہد پیا ہے ) کہنا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا حجاج بن محمد، قال قال ابن جريج عن عطاء، انه سمع عبيد بن عمير، قال سمعت عايشة، - رضى الله عنها - زوج النبي صلى الله عليه وسلم تخبر ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يمكث عند زينب بنت جحش فيشرب عندها عسلا فتواصيت انا وحفصة ايتنا ما دخل عليها النبي صلى الله عليه وسلم فلتقل اني اجد منك ريح مغافير فدخل على احداهن فقالت له ذلك فقال " بل شربت عسلا عند زينب بنت جحش ولن اعود له " . فنزلت { لم تحرم ما احل الله لك تبتغي } الى { ان تتوبا الى الله } لعايشة وحفصة رضى الله عنهما { واذ اسر النبي الى بعض ازواجه حديثا } لقوله " بل شربت عسلا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیزیں اور شہد پسند کرتے تھے، اور پھر انہوں نے اسی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بہت ناگوار لگتا کہ آپ سے کسی قسم کی بو محسوس کی جائے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ سودہ ۱؎ نے کہا: بلکہ آپ نے مغافیر کھائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا ہے، جسے حفصہ نے مجھے پلایا ہے تو میں نے کہا: شاید اس کی مکھی نے عرفط ۲؎ چاٹا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مغافیر: مقلہ ہے اور وہ گوند ہے، اور جرست: کے معنی چاٹنے کے ہیں، اور عرفط شہد کی مکھی کے پودوں میں سے ایک پودا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب الحلواء والعسل . فذكر بعض هذا الخبر . وكان النبي صلى الله عليه وسلم يشتد عليه ان توجد منه الريح . وفي الحديث قالت سودة بل اكلت مغافير . قال " بل شربت عسلا سقتني حفصة " . فقلت جرست نحله العرفط . قال ابو داود المغافير مقلة وهي صمغة . وجرست رعت . والعرفط نبت من نبت النحل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھا کرتے ہیں تو میں اس نبیذ کے لیے جو میں نے ایک تمبی میں بنائی تھی آپ کے روزہ نہ رکھنے کا انتظار کرتا رہا پھر میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا وہ جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس دیوار پر مار دو یہ تو اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا زيد بن واقد، عن خالد بن عبد الله بن حسين، عن ابي هريرة، قال علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصوم فتحينت فطره بنبيذ صنعته في دباء ثم اتيته به فاذا هو ينش فقال " اضرب بهذا الحايط فان هذا شراب من لا يومن بالله واليوم الاخر
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہو کر کچھ پیئے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يشرب الرجل قايما
نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا: بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن مسعر بن كدام، عن عبد الملك بن ميسرة، عن النزال بن سبرة، ان عليا، دعا بماء فشربه وهو قايم ثم قال ان رجالا يكره احدهم ان يفعل هذا وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل مثل ما رايتموني افعله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے میں منہ لگا کر پینے سے، نجاست کھانے والے جانور کی سواری سے اور جس پرندہ کو باندھ کر تیر وغیرہ سے نشانہ لگا کر مارا گیا ہو اسے کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «جلّالہ» وہ جانور ہے جو نجاست کھاتا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب من في السقاء وعن ركوب الجلالة والمجثمة . قال ابو داود الجلالة التي تاكل العذرة
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کا منہ موڑ کر پینے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن الزهري، انه سمع عبيد الله بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اختناث الاسقية
عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن ایک مشکیزہ منگوایا اور فرمایا: مشکیزے کا منہ موڑو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ سے پیا۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن عيسى بن عبد الله، - رجل من الانصار - عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا باداوة يوم احد فقال " اخنث فم الاداوة " . ثم شرب من فيها
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے، اور پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني قرة بن عبد الرحمن، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابي سعيد الخدري، انه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب من ثلمة القدح وان ينفخ في الشراب
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے، آپ نے پانی طلب کیا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے اسی پر پھینک دیا، اور کہا: میں نے اسے اس پر صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اسے منع کر چکا ہوں لیکن یہ اس سے باز نہیں آیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور دیبا پہننے سے اور سونے، چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے، اور فرمایا ہے: یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، قال كان حذيفة بالمداين فاستسقى فاتاه دهقان باناء من فضة فرماه به وقال اني لم ارمه به الا اني قد نهيته فلم ينته وان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الحرير والديباج وعن الشرب في انية الذهب والفضة وقال " هي لهم في الدنيا ولكم في الاخرة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس آئے وہ اپنے باغ کو پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی ہو تو بہتر ہے، ورنہ ہم منہ لگا کر نہر ہی سے پانی پی لیتے ہیں اس نے کہا: نہیں بلکہ میرے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی موجود ہے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يونس بن محمد، حدثني فليح، عن سعيد بن الحارث، عن جابر بن عبد الله، قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم ورجل من اصحابه على رجل من الانصار وهو يحول الماء في حايطه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان كان عندك ماء بات هذه الليلة في شن والا كرعنا " . قال بل عندي ماء بات في شن
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کے ساقی کو سب سے اخیر میں پینا چاہیئے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن ابي المختار، عن عبد الله بن ابي اوفى، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ساقي القوم اخرهم شربا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں ایک دیہاتی اور بائیں ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو ( پیالہ ) دے دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں ہو ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتي بلبن قد شيب بماء وعن يمينه اعرابي وعن يساره ابو بكر فشرب ثم اعطى الاعرابي وقال " الايمن فالايمن
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیتے تو تین سانس میں پیتے اور فرماتے: یہ خوب پیاس کو مارنے والا، ہاضم اور صحت بخش ہے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن ابي عصام، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا شرب تنفس ثلاثا وقال " هو اهنا وامرا وابرا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا ابن عيينة، عن عبد الكريم، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يتنفس في الاناء او ينفخ فيه