Loading...

Loading...
کتب
۶۷ احادیث
حارث بن منصور کہتے ہیں میں نے سفیان ثوری سے سنا ان سے «داذی» ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا ہے: میری امت کے بعض لوگ شراب پئیں گے لیکن اسے دوسرے نام سے موسوم کریں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری کا کہنا ہے:«داذی» فاسقوں کی شراب ہے۔
قال ابو داود حدثنا شيخ، من اهل واسط قال حدثنا ابو منصور الحارث بن منصور، قال سمعت سفيان الثوري، وسيل، عن الداذي، فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليشربن ناس من امتي الخمر يسمونها بغير اسمها " . قال ابو داود وقال سفيان الثوري الداذي شراب الفاسقين
ابن عمر اور ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمبی، سبز رنگ کے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن ۱؎ سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا منصور بن حيان، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، وابن، عباس قالا نشهد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الدباء والحنتم والمزفت والنقير
سعید بن جبیر کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» ( مٹی کا گھڑا ) میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے تو میں ان کی یہ بات سن کر گھبرایا ہوا نکلا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: کیا آپ نے سنا نہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کیا کہتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، انہوں نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، میں نے کہا: «جر» کیا ہے؟ فرمایا: ہر وہ چیز ہے جو مٹی سے بنائی جاتی ہو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، ومسلم بن ابراهيم، - المعنى - قالا حدثنا جرير، عن يعلى، - يعني ابن حكيم - عن سعيد بن جبير، قال سمعت عبد الله بن عمر، يقول حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم نبيذ الجر فخرجت فزعا من قوله حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم نبيذ الجر فدخلت على ابن عباس فقلت اما تسمع ما يقول ابن عمر قال وما ذاك قلت قال حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم نبيذ الجر . قال صدق حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم نبيذ الجر . قلت ما الجر قال كل شىء يصنع من مدر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ۱؎ ہی میں پہنچ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ( جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں ) اللہ پر ایمان لانا اور اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے ایک کی گرہ بنائی، مسدد کہتے ہیں: آپ نے اللہ پر ایمان لانا، فرمایا، پھر اس کی تفسیر کی کہ اس کا مطلب ) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ دینا ہے، اور میں تمہیں دباء، حنتم، مزفت اور مقیر سے منع کرتا ہوں ۔ ابن عبید نے لفظ مقیر کے بجائے نقیر اور مسدد نے نقیر اور مقیر کہا، اور مزفت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومحمد بن عبيد، قالا حدثنا حماد، ح وحدثنا مسدد، حدثنا عباد بن عباد، عن ابي جمرة، قال سمعت ابن عباس، يقول - وقال مسدد عن ابن عباس، وهذا، حديث سليمان قال - قدم وفد عبد القيس على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله انا هذا الحى من ربيعة قد حال بيننا وبينك كفار مضر ولسنا نخلص اليك الا في شهر حرام فمرنا بشىء ناخذ به وندعو اليه من وراءنا . قال " امركم باربع وانهاكم عن اربع الايمان بالله وشهادة ان لا اله الا الله " . وعقد بيده واحدة . وقال مسدد الايمان بالله ثم فسرها لهم شهادة ان لا اله الا الله " وان محمدا رسول الله واقام الصلاة وايتاء الزكاة وان تودوا الخمس مما غنمتم وانهاكم عن الدباء والحنتم والمزفت والمقير " . وقال ابن عبيد النقير مكان المقير . وقال مسدد والنقير والمقير ولم يذكر المزفت . قال ابو داود ابو جمرة نصر بن عمران الضبعي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: میں تمہیں لکڑی کے برتن، تار کول ملے ہوئے برتن، سبز لاکھی گھڑے، تمبی اور کٹے ہوئے چمڑے کے برتن سے منع کرتا ہوں لیکن تم اپنے چمڑے کے برتن سے پیا کرو اور اس کا منہ باندھ کر رکھو ۔
حدثنا وهب بن بقية، عن نوح بن قيس، حدثنا عبد الله بن عون، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لوفد عبد القيس " انهاكم عن النقير والمقير والحنتم والدباء والمزادة المجبوبة ولكن اشرب في سقايك واوكه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وفد عبدالقیس کے واقعے کے سلسلے میں روایت ہے کہ وفد کے لوگوں نے پوچھا: ہم کس چیز میں پیئں اللہ کے نبی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان مشکیزوں کو لازم پکڑو جن کے منہ باندھ کر رکھے جاتے ہوں ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا ابان، حدثنا قتادة، عن عكرمة، وسعيد بن المسيب، عن ابن عباس، في قصة وفد عبد القيس قالوا فيم نشرب يا نبي الله فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " عليكم باسقية الادم التي يلاث على افواهها
ابوالقموص زید بن علی سے روایت ہے، کہتے ہیں مجھ سے عبدالقیس کے اس وفد میں سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ایک شخص نے بیان کیا ( عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان تھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نقیر، مزفت، دباء، اور حنتم میں مت پیو، بلکہ مشکیزوں سے پیو جس پر ڈاٹ لگا ہو، اور اگر نبیذ میں تیزی آ جائے تو پانی ڈال کر اس کی تیزی توڑ دو اگر اس کے باوجود بھی تیزی نہ جائے تو اسے بہا دو ۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن عوف، عن ابي القموص، زيد بن علي حدثني رجل، كان من الوفد الذين وفدوا الى النبي صلى الله عليه وسلم من عبد القيس يحسب عوف ان اسمه قيس بن النعمان فقال " لا تشربوا في نقير ولا مزفت ولا دباء ولا حنتم واشربوا في الجلد الموكا عليه فان اشتد فاكسروه بالماء فان اعياكم فاهريقوه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں پانی ڈال دیا کرو وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ( اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو ) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: اسے بہا دو ۱؎ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک کو حرام قرار دیا ہے یا یوں کہا: شراب، جوا، اور ڈھول ۲؎ حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ڈھول ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن علي بن بذيمة، حدثني قيس بن حبتر النهشلي، عن ابن عباس، ان وفد عبد القيس، قالوا يا رسول الله فيم نشرب قال " لا تشربوا في الدباء ولا في المزفت ولا في النقير وانتبذوا في الاسقية " . قالوا يا رسول الله فان اشتد في الاسقية قال " فصبوا عليه الماء " . قالوا يا رسول الله . فقال لهم في الثالثة او الرابعة " اهريقوه " . ثم قال " ان الله حرم على او حرم الخمر والميسر والكوبة " . قال " وكل مسكر حرام " . قال سفيان فسالت علي بن بذيمة عن الكوبة قال الطبل
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تونبی، سبز رنگ کے برتن، لکڑی کے برتن اور جو کی شراب سے منع فرمایا۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد، حدثنا اسماعيل بن سميع، حدثنا مالك بن عمير، عن علي، عليه السلام قال نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدباء والحنتم والنقير والجعة
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں تین چیزوں سے روک دیا تھا، اب میں تمہیں ان کا حکم دیتا ہوں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے ۱؎ اور میں نے تمہیں چمڑے کے علاوہ برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، لیکن اب تم ہر برتن میں پیو، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پیو، اور میں نے تمہیں تین روز کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، لیکن اب اسے بھی ( جب تک چاہو ) کھاؤ اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا معرف بن واصل، عن محارب بن دثار، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نهيتكم عن ثلاث وانا امركم بهن نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها فان في زيارتها تذكرة ونهيتكم عن الاشربة ان تشربوا الا في ظروف الادم فاشربوا في كل وعاء غير ان لا تشربوا مسكرا ونهيتكم عن لحوم الاضاحي ان تاكلوها بعد ثلاث فكلوا واستمتعوا بها في اسفاركم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تو انصار کے لوگوں نے آپ سے عرض کیا: وہ تو ہمارے لیے بہت ضروری ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب ممانعت نہیں رہی ( تمہیں ان کی اجازت ہے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن جابر بن عبد الله، قال لما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الاوعية قال قالت الانصار انه لا بد لنا . قال " فلا اذا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت، اور نقیر کے برتنوں کا ذکر کیا ۱؎ تو ایک دیہاتی نے عرض کیا: ہمارے پاس تو اور کوئی برتن ہی نہیں رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا جو حلال ہوا سے پیو ۔
حدثنا محمد بن جعفر بن زياد، حدثنا شريك، عن زياد بن فياض، عن ابي عياض، عن عبد الله بن عمرو، قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الاوعية الدباء والحنتم والمزفت والنقير فقال اعرابي انه لا ظروف لنا . فقال " اشربوا ما حل
شریک سے اسی سند سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نشہ آور چیز سے بچو ۔
حدثنا الحسن، - يعني ابن علي - حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا شريك، باسناده قال " اجتنبوا ما اسكر
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی اور اگر وہ چمڑے کا برتن نہیں پاتے تو پتھر کے برتن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال كان ينبذ لرسول الله صلى الله عليه وسلم في سقاء فاذا لم يجدوا سقاء نبذ له في تور من حجارة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور کو ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا، نیز کچی اور پکی کھجور ملا کر نبیذ بنا نے سے منع فرمایا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه نهى ان ينتبذ الزبيب والتمر جميعا ونهى ان ينتبذ البسر والرطب جميعا
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کشمش اور کھجور ملا کر اور پکی اور کچی کھجور ملا کر اور اسی طرح ایسی کھجور جس میں سرخی یا زردی ظاہر ہونے لگی ہو اور تازی پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا، اور آپ نے فرمایا: ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
حدثنا ابو سلمة، موسى بن اسماعيل حدثنا ابان، حدثني يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، انه نهى عن خليط الزبيب، والتمر، وعن خليط البسر، والتمر، وعن خليط الزهو، والرطب، وقال، " انتبذوا كل واحد على حدة " . قال وحدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن عن ابي قتادة عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور کو پکی ہوئی کھجور کے ساتھ اور کشمش کو کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، وحفص بن عمر النمري، قالا حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، - عن رجل، - قال حفص من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال نهى عن البلح والتمر والزبيب والتمر
کبشہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان چیزوں کے متعلق پوچھا جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کھجور کو زیادہ پکانے سے جس سے اس کی گٹھلی ضائع ہو جائے، اور کشمش کے ساتھ کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ثابت بن عمارة، حدثتني ريطة، عن كبشة بنت ابي مريم، قالت سالت ام سلمة ما كان النبي صلى الله عليه وسلم ينهى عنه قالت كان ينهانا ان نعجم النوى طبخا او نخلط الزبيب والتمر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمکش کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں کھجور ڈال دی جاتی اور جب کھجور کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں انگور ڈال دیا جاتا۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن مسعر، عن موسى بن عبد الله، عن امراة، من بني اسد عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينبذ له زبيب فيلقي فيه تمرا وتمر فيلقي فيه الزبيب
صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں میں عبدالقیس کی چند عورتوں کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، اور ہم نے آپ سے کھجور اور کشمش ملا کر ( نبیذ تیار کرنے کے سلسلے میں ) پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی کشمش لیتی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیتی، پھر اس کو ہاتھ سے مل دیتی پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلاتی۔
حدثنا زياد بن يحيى الحساني، حدثنا ابو بحر، حدثنا عتاب بن عبد العزيز الحماني، حدثتني صفية بنت عطية، قالت دخلت مع نسوة من عبد القيس على عايشة فسالناها عن التمر والزبيب فقالت كنت اخذ قبضة من تمر وقبضة من زبيب فالقيه في اناء فامرسه ثم اسقيه النبي صلى الله عليه وسلم