Loading...

Loading...
کتب
۶۷ احادیث
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت شراب پانچ چیزوں: انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو سے بنتی تھی، اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے، اور تین باتیں ایسی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا نہ ہوں جب تک کہ آپ انہیں ہم سے اچھی طرح بیان نہ کر دیں: ایک دادا کا حصہ، دوسرے کلالہ کا معاملہ اور تیسرے سود کے کچھ مسائل۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا ابو حيان، حدثني الشعبي، عن ابن عمر، عن عمر، قال نزل تحريم الخمر يوم نزل وهي من خمسة اشياء من العنب والتمر والعسل والحنطة والشعير والخمر ما خامر العقل وثلاث وددت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يفارقنا حتى يعهد الينا فيهن عهدا ننتهي اليه الجد والكلالة وابواب من ابواب الربا
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں ہمیں واضح حکم فرما جس سے تشفی ہو جائے تو سورۃ البقرہ کی یہ آیت اتری: «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير» یعنی لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے ان میں بڑے گناہ ہیں ( سورة البقرہ: ۲۱۹ ) ۔ راوی کہتے ہیں: تو عمر رضی اللہ عنہ بلائے گئے اور یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے پھر دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے سلسلے میں صاف اور واضح حکم نازل فرما جس سے تشفی ہو سکے، تو سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» یعنی اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ ( سورة النساء: ۴۳ ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی جب اقامت کہہ دی جاتی تو آواز لگاتا: خبردار کوئی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے پھر دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں کوئی واضح اور صاف حکم نازل فرما، تو یہ آیت نازل ہوئی:«فهل أنتم منتهون» یعنی کیا اب باز آ جاؤ گے ( سورة المائدہ: ۹۱ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم باز آ گئے ۔
حدثنا عباد بن موسى الختلي، اخبرنا اسماعيل، - يعني ابن جعفر - عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عمرو، عن عمر بن الخطاب، قال لما نزل تحريم الخمر قال عمر اللهم بين لنا في الخمر بيانا شفاء فنزلت الاية التي في البقرة { يسالونك عن الخمر والميسر قل فيهما اثم كبير } الاية قال فدعي عمر فقريت عليه قال اللهم بين لنا في الخمر بيانا شفاء فنزلت الاية التي في النساء { يا ايها الذين امنوا لا تقربوا الصلاة وانتم سكارى } فكان منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اقيمت الصلاة ينادي الا لا يقربن الصلاة سكران فدعي عمر فقريت عليه فقال اللهم بين لنا في الخمر بيانا شفاء فنزلت هذه الاية { فهل انتم منتهون } قال عمر انتهينا
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر علی رضی اللہ عنہ نے مغرب پڑھائی اور سورۃ «قل يا أيها الكافرون» کی تلاوت کی اور اس میں کچھ گڈ مڈ کر دیا تو آیت: «لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو تم پڑھو نازل ہوئی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثنا عطاء بن السايب، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي بن ابي طالب، عليه السلام ان رجلا، من الانصار دعاه وعبد الرحمن بن عوف فسقاهما قبل ان تحرم الخمر فامهم علي في المغرب فقرا { قل يا ايها الكافرون } فخلط فيها فنزلت { لا تقربوا الصلاة وانتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» ( سورة النساء: ۴۳ ) اور «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس» ( سورة البقرہ: ۲۱۹ ) ان دونوں آیتوں کو سورۃ المائدہ کی آیت «إنما الخمر والميسر والأنصاب» ( سورة المائدة: ۹۰ ) نے منسوخ کر دیا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثنا علي بن حسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال { يا ايها الذين امنوا لا تقربوا الصلاة وانتم سكارى } و { يسالونك عن الخمر والميسر قل فيهما اثم كبير ومنافع للناس } نسختهما التي في المايدة { انما الخمر والميسر والانصاب } الاية
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت کے وقت میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، ہماری شراب اس روز کھجور ہی سے تیار کی گئی تھی، اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے بھی آواز لگائی تو ہم نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس، قال كنت ساقي القوم حيث حرمت الخمر في منزل ابي طلحة وما شرابنا يوميذ الا الفضيخ فدخل علينا رجل فقال ان الخمر قد حرمت ونادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا هذا منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، عن عبد العزيز بن عمر، عن ابي علقمة، مولاهم وعبد الرحمن بن عبد الله الغافقي انهما سمعا ابن عمر، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعن الله الخمر وشاربها وساقيها وبايعها ومبتاعها وعاصرها ومعتصرها وحاملها والمحمولة اليه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیموں کے سلسلے میں پوچھا جنہوں نے میراث میں شراب پائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بہا دو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا میں اس کا سرکہ نہ بنا لوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن السدي، عن ابي هبيرة، عن انس بن مالك، ان ابا طلحة، سال النبي صلى الله عليه وسلم عن ايتام ورثوا خمرا قال " اهرقها " . قال افلا اجعلها خلا قال " لا
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب انگور کی بھی ہوتی ہے، کھجور کی بھی، شہد کی بھی ہوتی ہے، گیہوں کی بھی ہوتی ہے، اور جو کی بھی ہوتی ہے ۱؎ ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا اسراييل، عن ابراهيم بن مهاجر، عن الشعبي، عن النعمان بن بشير، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من العنب خمرا وان من التمر خمرا وان من العسل خمرا وان من البر خمرا وان من الشعير خمرا
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: شراب انگور کے رس، کشمش، کھجور، گیہوں، جو اور مکئی سے بنتی ہے، اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں ۔
حدثنا مالك بن عبد الواحد ابو غسان، حدثنا معتمر، قال قرات على الفضيل بن ميسرة عن ابي حريز، ان عامرا، حدثه ان النعمان بن بشير قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الخمر من العصير والزبيب والتمر والحنطة والشعير والذرة واني انهاكم عن كل مسكر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور سے بنتی ہے ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثني يحيى، عن ابي كثير، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الخمر من هاتين الشجرتين النخلة والعنبة " . قال ابو داود اسم ابي كثير الغبري يزيد بن عبد الرحمن بن غفيلة السحمي . وقال بعضهم اذينة والصواب غفيلة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا ( یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا ) ۔
حدثنا سليمان بن داود، ومحمد بن عيسى، - في اخرين - قالوا حدثنا حماد، - يعني ابن زيد - عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل مسكر خمر وكل مسكر حرام ومن مات وهو يشرب الخمر يدمنها لم يشربها في الاخرة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس روز کی نماز کم کر دی جائے گی، اگر اس نے اللہ سے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف کر دے گا اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے لیے یہ روا ہو جاتا ہے کہ اسے «طینہ الخبال» پلائے عرض کیا گیا: «طینہ الخبال» کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: جہنمیوں کی پیپ ہے، اور جس شخص نے کسی کمسن لڑکے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جہنمیوں کی پیپ پلائے گا ۔
حدثنا محمد بن رافع النيسابوري، حدثنا ابراهيم بن عمر الصنعاني، قال سمعت النعمان، يقول عن طاوس، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كل مخمر خمر وكل مسكر حرام ومن شرب مسكرا بخست صلاته اربعين صباحا فان تاب تاب الله عليه فان عاد الرابعة كان حقا على الله ان يسقيه من طينة الخبال " . قيل وما طينة الخبال يا رسول الله قال " صديد اهل النار ومن سقاه صغيرا لا يعرف حلاله من حرامه كان حقا على الله ان يسقيه من طينة الخبال
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔
حدثنا قتيبة، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن جعفر - عن داود بن بكر بن ابي الفرات، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما اسكر كثيره فقليله حرام
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ہر شراب جو نشہ آور ہو حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یزید بن عبدربہ جرجسی پر اس روایت کو یوں پڑھا: آپ سے محمد بن حرب نے بیان کیا انہوں نے زبیدی سے اور زبیدی نے زہری سے یہی حدیث اسی سند سے روایت کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ بتع شہد کی شراب کو کہتے ہیں، اہل یمن اسے پیتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا: «لا إله إلا الله» جرجسی کیا ہی معتبر شخص تھا، اہل حمص میں اس کی نظیر نہیں تھی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البتع فقال " كل شراب اسكر فهو حرام " . قال ابو داود قرات على يزيد بن عبد ربه الجرجسي حدثكم محمد بن حرب عن الزبيدي عن الزهري بهذا الحديث باسناده زاد والبتع نبيذ العسل كان اهل اليمن يشربونه . قال ابو داود سمعت احمد بن حنبل يقول لا اله الا الله ما كان اثبته ما كان فيهم مثله يعني في اهل حمص يعني الجرجسي
دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اس سے بچو ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے، آپ نے فرمایا: اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبدة، عن محمد، - يعني ابن اسحاق - عن يزيد بن ابي حبيب، عن مرثد بن عبد الله اليزني، عن ديلم الحميري، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله انا بارض باردة نعالج فيها عملا شديدا وانا نتخذ شرابا من هذا القمح نتقوى به على اعمالنا وعلى برد بلادنا . قال " هل يسكر " . قلت نعم . قال " فاجتنبوه " . قال قلت فان الناس غير تاركيه . قال " فان لم يتركوه فقاتلوهم
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ بتع ہے میں نے کہا: جو اور مکئی سے بھی شراب بنائی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مزر ہے پھر آپ نے فرمایا: اپنی قوم کو بتا دو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن عاصم بن كليب، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن شراب من العسل فقال " ذاك البتع " . قلت وينتبذ من الشعير والذرة . فقال " ذاك المزر " . ثم قال " اخبر قومك ان كل مسكر حرام
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوا، کوبہ ( چوسر یا ڈھولک ) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن الوليد بن عبدة، عن عبد الله بن عمرو، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الخمر والميسر والكوبة والغبيراء وقال " كل مسكر حرام " . قال ابو داود قال ابن سلام ابو عبيد الغبيراء السكركة تعمل من الذرة شراب يعمله الحبشة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز اور ہر «مفتر» ( فتور پیدا کرنے اور سستی لانے والی ) چیز سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا ابو شهاب عبد ربه بن نافع، عن الحسن بن عمرو الفقيمي، عن الحكم بن عتيبة، عن شهر بن حوشب، عن ام سلمة، قالت نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل مسكر ومفتر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز فرق ۱؎ بھر نشہ لاتی ہے اس کا ایک چلو بھی حرام ہے ۔
حدثنا مسدد، وموسى بن اسماعيل، قالا حدثنا مهدي، - يعني ابن ميمون - حدثنا ابو عثمان، - قال موسى هو عمرو بن سلم الانصاري - عن القاسم، عن عايشة، رضى الله عنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كل مسكر حرام وما اسكر منه الفرق فملء الكف منه حرام
مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے طلاء ۱؎ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے لیکن اس کا نام شراب کے علاوہ کچھ اور رکھ لیں گے ۲؎ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا معاوية بن صالح، عن حاتم بن حريث، عن مالك بن ابي مريم، قال دخل علينا عبد الرحمن بن غنم فتذاكرنا الطلاء فقال حدثني ابو مالك الاشعري، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ليشربن ناس من امتي الخمر يسمونها بغير اسمها