Loading...

Loading...
کتب
۶۷ احادیث
عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے حیس ۱؎ کا ذکر کیا جسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکنے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا: میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن يزيد بن خمير، عن عبد الله بن بسر، - من بني سليم - قال جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم الى ابي فنزل عليه فقدم اليه طعاما فذكر حيسا اتاه به ثم اتاه بشراب فشرب فناول من على يمينه واكل تمرا فجعل يلقي النوى على ظهر اصبعيه السبابة والوسطى فلما قام قام ابي فاخذ بلجام دابته فقال ادع الله لي . فقال " اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے، لوگ دو بھنی ہوئی گوہ دو لکڑیوں پر رکھ کر لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر تھوکا، تو خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے اس سے آپ کو گھن ( کراہت ) ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہئیے «اللهم بارك لنا فيه وأطعمنا خيرا منه» اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر کھانا کھلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور جب اسے کوئی دودھ پلائے تو اسے چاہیئے کہ یہ دعا پڑھے «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه» اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور اسے ہمیں اور دے کیونکہ دودھ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے اور پینے دونوں سے کفایت کرے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، - يعني ابن زيد - ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، - يعني ابن سلمة - عن علي بن زيد، عن عمر بن حرملة، عن ابن عباس، قال كنت في بيت ميمونة فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه خالد بن الوليد فجاءوا بضبين مشويين على ثمامتين فتبزق رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال خالد اخالك تقذره يا رسول الله قال " اجل " . ثم اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بلبن فشرب فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اكل احدكم طعاما فليقل اللهم بارك لنا فيه واطعمنا خيرا منه . واذا سقي لبنا فليقل اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه . فانه ليس شىء يجزي من الطعام والشراب الا اللبن " . قال ابو داود هذا لفظ مسدد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کرو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ بجھاؤ، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپو خواہ کسی لکڑی ہی سے ہو جسے تم اس پر چوڑائی میں رکھ دو، اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ باندھو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، اخبرني عطاء، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اغلق بابك واذكر اسم الله فان الشيطان لا يفتح بابا مغلقا واطف مصباحك واذكر اسم الله وخمر اناءك ولو بعود تعرضه عليه واذكر اسم الله واوك سقاءك واذكر اسم الله
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن یہ پوری نہیں ہے، اس میں ہے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا، نہ کسی بندھن کو کھولتا ہے اور نہ کسی برتن کے ڈھکنے کو، اور چوہیا لوگوں کا گھر جلا دیتی ہے، یا کہا ان کے گھروں کو جلا دیتی ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الخبر وليس بتمامه قال " فان الشيطان لا يفتح بابا غلقا ولا يحل وكاء ولا يكشف اناء وان الفويسقة تضرم على الناس بيتهم " . او " بيوتهم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو ( اور مسدد کی روایت میں ہے: شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو ) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور ( بچوں کو ) اچک لینے کا وقت ہے ۔
حدثنا مسدد، وفضيل بن عبد الوهاب السكري، قالا حدثنا حماد، عن كثير بن شنظير، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، رفعه قال " واكفتوا صبيانكم عند العشاء " . وقال مسدد " عند المساء " " فان للجن انتشارا وخطفة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( کوئی مضائقہ نہیں ) تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض ( چوڑان ) میں رکھ لیتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی نے کہا: «تعرضه عليه» یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن جابر، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فاستسقى فقال رجل من القوم الا نسقيك نبيذا قال " بلى " . قال فخرج الرجل يشتد فجاء بقدح فيه نبيذ فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الا خمرته ولو ان تعرض عليه عودا " . قال ابو داود قال الاصمعي تعرضه عليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سقیا کے گھروں سے میٹھا پانی لایا جاتا۔ قتیبہ کہتے ہیں: سقیا ایک چشمہ ہے جس کی مسافت مدینہ سے دو دن کی ہے۔
حدثنا سعيد بن منصور، وعبد الله بن محمد النفيلي، وقتيبة بن سعيد، قالوا حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يستعذب له الماء من بيوت السقيا . قال قتيبة عين بينها وبين المدينة يومان