احادیث
#3714
سنن ابی داؤد - Drinks
عبید بن عمیر کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ خبر دے رہی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے تو ایک روز میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے، تو اس نے آپ سے ویسے ہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا تو قرآن کریم کی آیت: «لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي» ۲؎ سے لے کر «إن تتوبا إلى الله» ۳؎ تک عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے متعلق نازل ہوئی۔ «إن تتوبا» میں خطاب عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو ہے اور «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» میں «حديثا» سے مراد آپ کا: «بل شربت عسلا» ( بلکہ میں نے شہد پیا ہے ) کہنا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا حجاج بن محمد، قال قال ابن جريج عن عطاء، انه سمع عبيد بن عمير، قال سمعت عايشة، - رضى الله عنها - زوج النبي صلى الله عليه وسلم تخبر ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يمكث عند زينب بنت جحش فيشرب عندها عسلا فتواصيت انا وحفصة ايتنا ما دخل عليها النبي صلى الله عليه وسلم فلتقل اني اجد منك ريح مغافير فدخل على احداهن فقالت له ذلك فقال " بل شربت عسلا عند زينب بنت جحش ولن اعود له " . فنزلت { لم تحرم ما احل الله لك تبتغي } الى { ان تتوبا الى الله } لعايشة وحفصة رضى الله عنهما { واذ اسر النبي الى بعض ازواجه حديثا } لقوله " بل شربت عسلا
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Drinks
- Hadith Index
- #3714
- Book Index
- 46
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari (5267) Sahih Muslim (1474)
