Loading...

Loading...
کتب
۷۰ احادیث
ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا: ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا: اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔
حدثنا محمد بن داود الاسكندراني، حدثنا زياد، - يعني ابن يونس - حدثني سليمان بن بلال، عن ربيعة، باسناد ابي مصعب ومعناه . قال سليمان فلقيت سهيلا فسالته عن هذا الحديث فقال ما اعرفه . فقلت له ان ربيعة اخبرني به عنك . قال فان كان ربيعة اخبرك عني فحدث به عن ربيعة عني
زبیب عنبری کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ۱؎ میں گرفتار کر لیا، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کر لیا، حالانکہ ہم مسلمان ہو چکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے ۲؎، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون تمہارا گواہ ہے؟ میں نے کہا: بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کر دیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے؟ میں نے کہا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہو چکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کر لو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ مجاہدین کی کوششیں بیکار ہونا برا نہ جانتا تو ہم تمہارے مال سے ایک رسی بھی نہ لیتے ۔ زبیب کہتے ہیں: مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا: اس شخص نے تو میرا توشک چھین لیا ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے ( صورت حال ) بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اسے پکڑ لاؤ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا: تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو؟ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: تو اس کی والدہ کا توشک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے اس شخص نے کہا: اللہ کے نبی! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں: تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا: جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو وہ کہتے ہیں: اس نے مجھے ( تلوار کے علاوہ ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا عمار بن شعيب بن عبد الله بن الزبيب العنبري، حدثني ابي قال، سمعت جدي الزبيب، يقول بعث نبي الله صلى الله عليه وسلم جيشا الى بني العنبر فاخذوهم بركبة من ناحية الطايف فاستاقوهم الى نبي الله صلى الله عليه وسلم فركبت فسبقتهم الى النبي صلى الله عليه وسلم فقلت السلام عليك يا نبي الله ورحمة الله وبركاته اتانا جندك فاخذونا وقد كنا اسلمنا وخضرمنا اذان النعم فلما قدم بلعنبر قال لي نبي الله صلى الله عليه وسلم " هل لكم بينة على انكم اسلمتم قبل ان توخذوا في هذه الايام " . قلت نعم . قال " من بينتك " . قلت سمرة رجل من بني العنبر ورجل اخر سماه له فشهد الرجل وابى سمرة ان يشهد فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " قد ابى ان يشهد لك فتحلف مع شاهدك الاخر " . قلت نعم . فاستحلفني فحلفت بالله لقد اسلمنا يوم كذا وكذا وخضرمنا اذان النعم . فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " اذهبوا فقاسموهم انصاف الاموال ولا تمسوا ذراريهم لولا ان الله لا يحب ضلالة العمل ما رزيناكم عقالا " . قال الزبيب فدعتني امي فقالت هذا الرجل اخذ زربيتي فانصرفت الى النبي صلى الله عليه وسلم - يعني فاخبرته - فقال لي " احبسه " . فاخذت بتلبيبه وقمت معه مكاننا ثم نظر الينا نبي الله صلى الله عليه وسلم قايمين فقال " ما تريد باسيرك " . فارسلته من يدي فقام نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال للرجل " رد على هذا زربية امه التي اخذت منها " . فقال يا نبي الله انها خرجت من يدي . قال فاختلع نبي الله صلى الله عليه وسلم سيف الرجل فاعطانيه . وقال للرجل " اذهب فزده اصعا من طعام " . قال فزادني اصعا من شعير
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔
حدثنا محمد بن منهال الضرير، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا ابن ابي عروبة، عن قتادة، عن سعيد بن ابي بردة، عن ابيه، عن جده ابي موسى الاشعري، ان رجلين، ادعيا بعيرا او دابة الى النبي صلى الله عليه وسلم ليست لواحد منهما بينة فجعله النبي صلى الله عليه وسلم بينهما
اس سند سے بھی سعید (ابن ابی عروبۃ) سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن سعيد، باسناده ومعناه
اس سند سے بھی قتادہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا همام، عن قتادة، بمعنى اسناده ان رجلين، ادعيا بعيرا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فبعث كل واحد منهما شاهدين فقسمه النبي صلى الله عليه وسلم بينهما نصفين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ۱؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند ۔
حدثنا محمد بن منهال، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا ابن ابي عروبة، عن قتادة، عن خلاس، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان رجلين، اختصما في متاع الى النبي صلى الله عليه وسلم ليس لواحد منهما بينة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " استهما على اليمين ما كان احبا ذلك او كرها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں ( اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے ) ۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين»ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، وسلمة بن شبيب، قالا حدثنا عبد الرزاق، - قال احمد قال - حدثنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا كره الاثنان اليمين او استحباها فليستهما عليها " . قال سلمة قال اخبرنا معمر وقال اذا اكره الاثنان على اليمين
سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں «في متاع» کے بجائے «في دابة» کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن الحارث، عن سعيد بن ابي عروبة، باسناد ابن منهال مثله قال في دابة وليس لهما بينة فامرهما رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يستهما على اليمين
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے میرے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ کیا ہے ( یعنی جب وہ منکر ہو اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو وہ قسم کھائے ) ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، حدثنا نافع بن عمر، عن ابن ابي مليكة، قال كتب الى ابن عباس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى باليمين على المدعى عليه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا: اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس ( یعنی مدعی کی ) کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا عطاء بن السايب، عن ابي يحيى، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال - يعني لرجل حلفه - " احلف بالله الذي لا اله الا هو ما له عندك شىء " . يعني للمدعي . قال ابو داود ابو يحيى اسمه زياد كوفي ثقة
اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ ( مشترک ) زمین تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا، میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال ہڑپ لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم» جو لوگ اللہ کا عہد و پیمان دے کر اور اپنی قسمیں کھا کر تھوڑا مال خریدتے ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ( سورة آل عمران: ۷۷ ) ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن الاشعث، قال كان بيني وبين رجل من اليهود ارض فجحدني فقدمته الى النبي صلى الله عليه وسلم قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " الك بينة " . قلت لا . قال لليهودي " احلف " . قلت يا رسول الله اذا يحلف ويذهب بمالي . فانزل الله { ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم } الى اخر الاية
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک کندی اور ایک حضرمی یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں جھگڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس ( کندی ) کے باپ نے مجھ سے میری زمین غصب کر لی ہے اور وہ زمین اس کے قبضے میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے حضرمی نے کہا: نہیں لیکن میں اس کو اس بات پر قسم دلاؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ میری زمین کو اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لیا ہے؟ تو وہ کندی قسم کے لیے آمادہ ہو گیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ( جو گزر چکی نمبر: ۳۲۴۴ ) ۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الفريابي، حدثنا الحارث بن سليمان، حدثني كردوس، عن الاشعث بن قيس، ان رجلا، من كندة ورجلا من حضرموت اختصما الى النبي صلى الله عليه وسلم في ارض من اليمن فقال الحضرمي يا رسول الله ان ارضي اغتصبنيها ابو هذا وهي في يده . قال " هل لك بينة " . قال لا ولكن احلفه والله ما يعلم انها ارضي اغتصبنيها ابوه . فتهيا الكندي يعني لليمين . وساق الحديث
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کندی سے ) فرمایا: تو تیرے لیے قسم ہے تو حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن علقمة بن وايل بن حجر الحضرمي، عن ابيه، قال جاء رجل من حضرموت ورجل من كندة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الحضرمي يا رسول الله ان هذا غلبني على ارض كانت لابي فقال الكندي هي ارضي في يدي ازرعها ليس له فيها حق . فقال النبي صلى الله عليه وسلم للحضرمي " الك بينة " . قال لا . قال " فلك يمينه " . فقال يا رسول الله انه فاجر ليس يبالي ما حلف ليس يتورع من شىء . فقال " ليس لك منه الا ذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی کہ تم لوگ زانی کے متعلق تورات میں کیا حکم پاتے ہو ۔ اور راوی نے واقعہ رجم سے متعلق پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، حدثنا رجل، من مزينة - ونحن عند سعيد بن المسيب - عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم يعني لليهود " انشدكم بالله الذي انزل التوراة على موسى ما تجدون في التوراة على من زنى " . وساق الحديث في قصة الرجم
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں ہے کہ مجھ سے مزینہ کے ایک آدمی نے جو علم کا شیدائی تھا اور اسے یاد رکھتا تھا بیان کیا ہے وہ سعید بن مسیب سے بیان کر رہا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث اسی مفہوم کی ذکر کی
حدثنا عبد العزيز بن يحيى ابو الاصبغ، حدثني محمد، - يعني ابن سلمة - عن محمد بن اسحاق، عن الزهري، بهذا الحديث وباسناده قال حدثني رجل، من مزينة ممن كان يتبع العلم ويعيه يحدث سعيد بن المسيب وساق الحديث بمعناه
عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یعنی ابن صوریا ۱؎ سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، تمہارے لیے سمندر میں راستہ بنایا، تمہارے اوپر ابر کا سایہ کیا، اور تمہارے اوپر من و سلوی نازل کیا، اور تمہاری کتاب تورات کو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا، کیا تمہاری کتاب میں رجم ( زانی کو پتھر مارنے ) کا حکم ہے؟ ابن صوریا نے کہا: آپ نے بہت بڑی چیز کا ذکر کیا ہے لہٰذا میرے لیے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن عكرمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له يعني لابن صوريا " اذكركم بالله الذي نجاكم من ال فرعون واقطعكم البحر وظلل عليكم الغمام وانزل عليكم المن والسلوى وانزل عليكم التوراة على موسى اتجدون في كتابكم الرجم " . قال ذكرتني بعظيم ولا يسعني ان اكذبك . وساق الحديث
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کیا، تو جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا واپس ہوتے ہوئے کہنے لگا: مجھے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بیوقوفی پر ملامت کرتا ہے لہٰذا زیر کی و دانائی کو لازم پکڑو، پھر جب تم مغلوب ہو جاؤ تو کہو: میرے لیے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے ۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، وموسى بن مروان الرقي، قالا حدثنا بقية بن الوليد، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن سيف، عن عوف بن مالك، انه حدثهم ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى بين رجلين . فقال المقضي عليه لما ادبر حسبي الله ونعم الوكيل . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله يلوم على العجز ولكن عليك بالكيس فاذا غلبك امر فقل حسبي الله ونعم الوكيل
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا اس کی ہتک عزتی اور سزا کو جائز کر دیتا ہے ۔ ابن مبارک کہتے ہیں: ہتک عزتی سے مراد اسے سخت سست کہنا ہے، اور سزا سے مراد اسے قید کرنا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن وبر بن ابي دليلة، عن محمد بن ميمون، عن عمرو بن الشريد، عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لى الواجد يحل عرضه وعقوبته " . قال ابن المبارك يحل عرضه يغلظ له وعقوبته يحبس له
حبیب تمیمی عنبری سے روایت ہے کہ ان کے والد نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک قرض دار کو لایا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اس کو پکڑے رہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے بنو تمیم کے بھائی تم اپنے قیدی کو کیا کرنا چاہتے ہو؟ ۔
حدثنا معاذ بن اسد، حدثنا النضر بن شميل، اخبرنا هرماس بن حبيب، - رجل من اهل البادية - عن ابيه، عن جده، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم بغريم لي فقال لي " الزمه " . ثم قال لي " يا اخا بني تميم ما تريد ان تفعل باسيرك
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک الزام میں ایک شخص کو قید میں رکھا۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم حبس رجلا في تهمة